The Latest

وحدت نیوز(حیدرآباد) مجلس وحدت مسلمین ضلع حیدرآباد کے ترجمان علامہ گل حسن مرتضوی کی سربراہی میں یوم القدس کے حوالے سے آئی ایس او ڈویژن حیدرآباد اور اصغریہ آرگنائیزیشن حیدرآباد کے رہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد حیدرآباد پریس کلب پر کیا گیا۔ جس میں مولانا سید ذوالفقار کاظمی، ایڈووکیٹ رحمان رضا عباسی، مولانا ملازم حسین، مولانا عمران علی دستی، فرمان حیدر بھٹی، سید قیصر رضوی اور انتظار مہدی زرداری نے شرکت کی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت اور ظلم و جبر دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے، اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کی تمام حدیں پار کرچکا ہے، مسلمانوں کی نسل کشی کرتے وقت تمام انسانی اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے، معصوم بچوں جوانوں اور بوڑھوں کو بےدردی سے قتل کیا جا رہا ہے، انہیں اسیر کیا جا رہا ہے یہاں تک کہ عورت کی عزت اور حرمت کو پامال کرتے ہوئے ظلم کی تمام حدود کو پار کردیا گیا ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ اسلامی دنیا کے بہادر اور نڈر لیڈر امام خمینی رح نے اسرائیل کو ناسور قرار دیتے ہوئے مظلوم فلسطین اور مسجد اقصیٰ قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی کی خاطر ہر سال ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس منانے کا اعلان کیا، دنیا کے تمام مسلمان یوم القدس کے دن اپنے اپنے گھروں سے نکلیں گے اور ریلیوں کی شکل میں اسرائیل کی نابودی اور قدس کی آزادی کے لئے اپنی آواز بلند کریں گے، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی امام خمینی رح کے اس حکم پر ہر شہر سے لوگ فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کے حق میں اور اسرائیلی مظالم کیخلاف نکلیں گے، جبکہ حیدرآباد میں قدم گاہ مولا علی علیہ السلام سے تحریک آزادی القدس کے بینر تلے احتجاجی ریلی نکالی جائیگی جو گل سینٹر چوک پر اختتام پذیر ہوگی، جس میں مختلف تنظیمی رہنما و شخصیات شرکاء سے خطاب فرمائیں گی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین کی یکساں نصاب پر ملت جعفریہ کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ایک وفد نے آج صبح وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین سے وفاقی وزارت تعلیم کے دفتر میں ملاقات کی اور انہیں یکساں قومی نصاب پر ملت جعفریہ کے تحفظات سے آگاہ کیا۔

وفد نے وفاقی وزیر کی توجہ خاص طور پر آئین میں دی گئی مذہبی آزادیوں کی طرف دلوائی اور بتایا کہ آئین پاکستان بچوں کو ایسی مذہبی تعلیم اور ہدایات سے تحفظ فراہم کرتا ہے جن کا تعلق ان کے مذہب سے نہ ہو۔ وفد نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ ایک مسلک کا فہمِ دین زبردستی سب بچوں کو پڑھانے سے ملک میں قائم مذہبی رواداری متاثر ہوگی اور حوالے سے اہل تشیع میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

وفد نے مطالبہ کیا کہ یکساں قومی نصاب کو تمام مکاتب فکر کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے اور اصلاحات کے بغیر نصاب کا نفاذ فوری طور پر روکا جائے۔ وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ سابقہ وزیر تعلیم نے تحفظات دور کروانے کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن افسوس کے ساتھ محکمہ نصابیات کی طرف سے اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی۔

وفاقی وزیر تعلیم نے نصاب پر اہلِ تشیع کے تحفظات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا وہ جلد نصاب کے مسئلے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس کررہے جس میں اہل تشیع کے نمائندوں کو بھی بلایا جائے گا اور تمام تر خدشات کو دور کیا جائے گا۔ علاؤہ ازیں وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین نے وفاقی سیکرٹری تعلیم ناہید درانی کو ہدایات جاری کیں کہ فوری طور پر وزارت تعلیم اور محکمہ نصابیات کی تکنیکی ٹیم اور نصاب کے ورکنگ گروپ کا اہل تشیع نمائندوں خصوصاً مجلس وحدت المسلمین کے نمائندوں کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس بلایا اور یکساں قومی نصاب پر اہل تشیع کے تحفظات کو دور کرنے کی تفصیلات طے کی جائیں۔

ایم ڈبلیو ایم وفد کی طرف سے وفاقی وزیر کو یکساں قومی نصاب پر ملت جعفریہ کے تفصیلی تحفظات تحریری شکل میں بھی دئیے گئے۔ایم ڈبلیو ایم کے وفد میں مرکزی ترجمان اور اصلاح نصاب کمیٹی کے کنوینئر علامہ مقصود علی ڈومکی، سید ابنِ حسن بخاری، آصف رضا ایڈووکیٹ، مولانا ضیغم عباس اور شمس الدین کامل شریک تھے۔میٹنگ میں وفاقی وزیر تعلیم کے علاوہ  وفاقی سیکرٹری تعلیم ناہید درانی بھی شریک تھیں۔

وحدت نیوز(سکردو) ممبر گلگت بلتستان کونسل و ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان شیخ احمد علی نوری نے جامعہ کراچی میں دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

ممبر گلگت بلتستان کونسل نے کہا کہ جامعہ کراچی واقعہ افسوسناک ہے، دھماکے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ناخوشگوار واقعات کا مقصد پاک چین دوستی کو متاثر کرنا ہے۔ چینی شہریوں کی ہر صورت تحفظ یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا گو ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے چینی اساتذہ کو نشانہ بنائے جانے پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے اسے پاکستان اور چین کے برادرانہ تعلقات خراب کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک دشمن قوتیں ارض پاک کے امن کو تباہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ہمیں ان عناصر سے چوکنا رہنا ہو گا جو ملکی سالمیت و بقا کے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت چکائی ہے۔عالمی استکباری طاقتیں اس خطے کو عدم استحکام کا شکار رکھنا چاہتی ہیں۔اگر ان کا راستہ نہ روکا گیا تو مادر وطن کی سالمیت و بقا کے لیے مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کسی نئی آزمائش کا قطعی متحمل نہیں ہے۔امریکہ کی مداخلت کا مکمل خاتمہ ہمارے پرامن مستقبل کی ضمانت ہے بصورت دیگر اسی طرح کے بھیانک واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چینی اساتذہ پر حملے کے ذمہ داران عبرتناک سزاؤں کے مستحق ہیں۔انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں عالمی یوم القدس کی مناسبت سے جمعتہ الوداع کے دن ملک بھر میں قبلہ اول کی آزادی اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکحہتی کرتے ہوئے فرزندان پاکستان صدائے احتجاج بلند کریں گے اور القدس کے عنوان سے آج ایم ڈبلیو ایم مرکزی سیکرٹریٹ سمیت  تمام صوبائی دفاتر میں بھی پریس کانفرنسسز کا انعقاد کیا جائے گا۔

وحدت نیوز(کوئٹہ)ملی یکجہتی کونسل بلوچستان کے زیراہتمام مدرسہ خاتم النبیین (ص) کوئٹہ میں یکجہتی فلسطین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ مغربی سامراج انسانیت کا دشمن ہے۔ 39 ملکی اتحاد گذشتہ سات سال سے امریکہ کی چھتری تلے کام کر رہا ہے۔ مسلم اتحاد کے نام پر یمن میں خونریزی کی جا رہی ہے۔ مختلف ممالک میں موجود ہمارے سفارت خانوں کو  فلسطین کی آزادی پر واضح موقف اختیار کرنا چاہیئے۔ ہمیں مسئلہ فلسطین اور کشمیر پر عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنا ہوگا۔ مسئلہ فلسطین ظالم اور مظلوم کا مسئلہ ہے۔ دنیا میں کہیں بھی ظلم ہو بحیثیت مسلمان احتجاج ہمارا فرض ہے۔

تحریک اسلامی کے صوبائی رہنماء سید رضا اخلاقی نے کہا کہ مسئلہ فلسطین پر ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ایک ہیں، اسرائیل ملت اسلامیہ کو کمزور کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اسرائیل کو خطہ میں پلانٹ کیا گیا۔ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ہماری حکومت موثر کردار ادا نہیں کر رہی۔ ہم فلسطین کاز کی خاطر اپنی جان دینے کیلئے بھی تیار ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر قانون آغا رضا نے کہا کہ پوری دنیا کے مسلمان فلسطین کی آزادی کیلئے اسرائیل کے خلاف مشترکہ جدوجہد کریں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے عرب اور غیر عرب مسلم ممالک تاریخی غلطی کے مرتکب ہیں۔ پاکستانی عوام شیطان بزرگ امریکہ اور غاصب اسرائیل سے شدید نفرت کرتے ہیں۔

فلسطین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی رہنماء مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمٰن نے کہا کہ کشمیر و فلسطین میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جا رہی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اسرائیل کو امریکہ و برطانیہ کی ناجائز اولاد قرار دیا تھا۔ ہمارے حکمران  اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خواب نہ دیکھیں، عوام اسے کبھی قبول نہیں کرے گی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے شیخ ولایت حسین جعفری کا کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ عالم اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ امام خمینی نے ایران میں اسرائیل کا سفارتخانہ یاسر عرفات کو دیا۔ مسئلہ فلسطین کا حل عملی جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں۔ یہود و نصاریٰ نے دنیا پر قبضہ کرنے سازش کی۔ فلسطین، شام، لبنان، ایران، پاکستان کے خلاف عالمی استعماری طاقتیں سازش کر رہی ہیں۔ چند عرب ممالک حکمران اپنی بقاء کا ضامن اسرائیل کو سمجھ رہے ہیں۔ خطے میں گریٹر اسرائیل کی سازش ناکام ہوگئی۔ لبنان اور شام سے جنگی شکست کے بعد اب اسرائیل کی سازشیں ناکام ہو رہی ہیں۔

یکجہتی فلسطین کانفرنس میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے مشترکہ قرارداد پیش کی۔ جس میں کہا گیا کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے۔ اسرائیل فلسطین پر قائم کی جانے والی صہیونیوں کی ایک ناجائز اور غاصب ریاست ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سے تجدید عہد کرتے ہوئے فلسطین کاز اور قبلہ اوّل بیت المقدس کی بازیابی کے لئے تحریک آزادی فلسطین و قدس کی حمایت جاری رکھیں گے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ حیات ہے اور فلسطین عالم اسلام کا قلب ہے۔ کشمیر و فلسطین میں جاری صہیونی اور بھارتی ظلم و بربریت کے خلاف فلسطینی و کشمیری عوام کی انسانی و اسلامی بنیادوں پر حمایت جاری رکھی جائے گی۔ قرارداد میں کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کا بھی اعلان کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ امریکی سرپرستی میں عرب ممالک اور اسرائیل کے مابین طے کردہ "ابراہیمی معاہدہ" فلسطین اور عرب دنیا کے لئے زہر قاتل ہے۔ عرب دنیا کے ساتھ اسرائیل کے دوستانہ تعلقات نہ صرف فلسطین بلکہ پوری مسلم اُمّہ کے ساتھ خیانت ہیں۔ بحرین، مصر، مراکش، متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کا امریکی و صہیونی وزرائے خارجہ کے ہمراہ فلسطینیوں کے قاتل صہیونی وزیراعظم بن گوریون کی قبر پر حاضری سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

ہم اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ مخصوص عرب اور غیر عرب ریاستوں کی جانب سے پاکستان پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لئے دباؤ کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کیا گیا اور کہا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے والے ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فی الفور اپنے اقدام پر نظرثانی کریں اور اسرائیل کے ساتھ تمام سفارتی و تجارتی تعلقات کو منقطع کریں۔ حکومت پاکستان ملک میں اسرائیلی لابنگ کرنے والے عناصر کی بیخ کنی کرنے کے لئے حکمت عملی وضع کرے۔ فلسطینی علاقہ غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کیا جائے۔ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کے دوہرے معیار کی مذمت کرتے ہیں۔ فلسطین و کشمیر کے ساتھ ساتھ یمن، افغانستان، عراق، لیبیا اور دیگر مقامات پر عالمی اداروں کی بے حسی استعماری قوتوں کے حوصلہ کا باعث بن رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت عالمی ادارے فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل کے منصفانہ حل میں ناکام ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کی مزاحمت کاری کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو ملک بھر میں یوم القدس کے طور پر سرکاری سطح پر منایا جائے۔

وحدت نیوز(لاہور) شاعر مشرق علامہ اقبال کے اشعار کے تناظر میں فلسطینی قوم حریت پسند اور مجاہدانہ فکر و عمل کی حامل قوم ھے فلسطینی عوام ایک طویل عرصہ سے  غاصب صیہونی طاقتوں کے مقابلے میں اپنی سرزمین کا دفاع کر رہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین و رکن پنجاب اسمبلی محترمہ سیدہ زہرا نقوی نے فلسطین فاونڈیشن پاکستان لاہور چیپٹر کے زیر اہتمام منعقدہ القدس مرکز و محور کانفرنس سے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ ہمارے فلسطینی بہن بھائی یقین کی منزل پر فائز ہیں جن کی فکر آزاد ہے جو ہمیشہ سے سرزمین مقدس کی خاطر جدوجہد کرتے دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے باطل کے سامنے کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے، انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود بے شمار مسائل کا شکار ہے جن میں ایک مسئلہ ملکی خودمختاری کا بھی شامل ہے جب ہم اپنے مسائل میں گھرے رہیں گے تو فلسطین یا کشمیر کے مسئلے پر ایک توانا آواز کیسے اٹھا سکیں گے۔

 انہوں نے کہا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے مفادات اور پارٹیز سے بالاتر ہو کر غلامانہ طرز فکر سے رہائی حاصل کریں ملکی خومختاری اور سالمیت پر کسی طور سمجھوتہ نہ کریں اور وہ فکر اپنائیں جو علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے ہم تک پہنچائ مسئلہ فلسطین اور قبلہ اول کے تحفظ کے لیے امت مسلمہ اقبال کی خواب کی تعبیر بنتے ہوے ایک طاقت بن کر ابھرے قبلہ اول دنیا بھر کے مسلمانوں کا دوسرا حرم ہے لہذا جمعتہ الوداع یوم القدس پر تمام لوگ گھروں سے نکلیں اور قبلہ اول کی آزادی ، مظلومین فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور غاصب صیہونی فورسز امریکہ و اسرائیل سے اظہار بیزاری کریں۔

 کانفرنس سے نائب سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ احمد اقبال رضوی، پاکستان مسلم لیگ نواز سے اراکین پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ، آغا علی حیدر ،جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ ،  بیرسٹر عامر رہنما پیپلز پارٹی ،فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم ,سربراہ منہاج القرآن ڈاکٹر محمد حسین آزاد، ملی یکجہتی کونسل کے جاوید قصوری سمیت صحافی مرتضیٰ ڈار ،مفتی جاوید نوری عظیم بھٹ ،سید شہزاد روشن گیلانی اور پاکستان میں مقیم فلسطینی طلباء نے خطاب کیا۔

وحدت نیوز(کوئٹہ)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے مدرسہ خاتم النبیین کوئٹہ میں ہفتہ نزول قرآن کریم کی مناسبت پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماہ مبارک رمضان بہار قرآن کا مہینہ ہے۔ اس مبارک مہینے میں ہمیں قرآن کریم کی تلاوت اور قرآن فہمی پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ 23 تا 27 رمضان المبارک کو قائد شہید علامہ سید عارف الحسینی نے ہفتہ نزول قرآن کریم کا عنوان دیا تھا۔ اس لئے ہمیں ہفتہ نزول قرآن کریم کی مناسبت سے تلاوت قرآن مجید اور قرآن فہمی کی خصوصی تقریبات منعقد کرنی چاہئے۔

 انہوں نے کہا کہ شب قدر نزول قرآن کریم کی رات ہے۔ اسی لئے یہ ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ شبہائے قدر اور رمضان المبارک کا آخری عشرہ عبادت الٰہی سے مخصوص ہے۔ اعتکاف سنت موکدہ ہے۔  ہمارے معاشرے میں سنت اعتکاف کا احیاء ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں کو قرآنی افکار و تعلیمات سے مزین ہونا چاہئے، جبکہ ہماری نوجوان نسل کو قرآن کریم سے اپنا تعلق بڑھانا چاہئے۔ افسوس کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں قرآن محجور ہے اور امت مسلمہ تارک قرآن ہونے کے سبب در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے۔ قرآن و اہل بیت سے تمسک ہی امت مسلمہ کو عزت و سربلندی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام  فلسطین، کشمیر  اور یمن کے مظلومین سے حمایت کے لیے منعقدہ  القدس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ اسرائیل  عالمی سرمایہ دارانہ نظام اورکیمونزم کی ایجاد ہے۔انقلاب ایران کے بعد امام خمینی ؒ نے جمعۃ الوداع کے موقع پرپوری دنیا کے اندریوم القدس منانے کااعلان اس وقت کیا جب عالمی قوتیں اسرائیل کو ایک اٹل حقیقت منوانے پر تلی ہوئی تھیں۔اسرائیل کے خلاف عوامی مزاحمت نے اسرائیل کوشکست فاش سے دوچارکیا۔

امام خمینیؒ کی حمایت صرف زبانی نہیں تھی بلکہ غلیلوں سے لڑنے والی قوم کی جدیدٹیکنالوجی سکھائی گئی۔یہی وجہ ہے کہ آج وسعت پسندانہ عزائم کی تکمیل کے خواب دیکھنے والا اسرائیل اس وقت اپنے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ شہید سلیمانی شہید راہ القدس ہیں جنہوں نے اسرائیل کے سارے منصوبوں کو خاک میں ملایا ہے۔اسرائیل کی کشتی میں سوراخ ہو چکا ہے جس کوئی اس پر سوار ہو گا اس کا ڈوب جانایقینی ہے۔جن قوتوں نے داعش کا راستہ روکا انہوں نے اسلام کی جنگ لڑی ہے۔عالمی استکباری طاقتوں کے خلاف مزاحمت کا سارا کریڈٹ رہبر انقلاب اور ان کے ساتھیوں کو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کا دشمن  ہے اوراسے توڑناچاہتا ہے۔امریکہ و اسرائیل دو شیطان ہیں۔مختلف ریاستوں میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے یہ دہشت گردوں کو داخل کراتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ذاتی مفادات سے  مادر وطن  عزیز تر ہے۔پاکستان کے داخلی معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پاکستان کے اندر داعش کی راہ ہموارکرنے کی کوشش ناکام بنائی جائے گی۔ شیعہ سنی مل کر ملک دشمنوں کا مقابلہ کریں گے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام فلسطین، کشمیراوریمن کے مظلومین سے حمایت کے لیے منعقدہ  القدس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ القدس کا مسئلہ تمام مسلمانوں کے دل کے قریب ہے۔مسجد اقصی پر صیہونیوں کے حملے تسلسل سے جاری ہیں لیکن موجودہ امپورتڈ حکومت کی جانب سے ایک بار بھی مذمت نہیں کی گی جو افسوسناک ہے۔یوم القدس امام خمینی کی  طرف سے امت مسلمہ کو بیدار کرنے کی بہترین کوشش تھی۔تمام مسلمانوں کا یہ اخلاقی فریضہ ہے کہ مظلومین  سے اظہار یکجہتی کے لیے اس دن گھروں سے نکلیں۔ان مسلم حکمرانوں پر حیرانگی ہوتی  ہے جوایک غاصب ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں۔مسلمان ممالک کو تقسیم کرنے کی سازش میں امریکہ اور مغرب شریک ہیں۔فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر اب پوری دنیا میں آواز بلند ہونی شروع ہو گئی ہے۔تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے جب بھی اپنے حق میں خاموشی اختیار کی اسلام دشمن طاقتوں نے ان کے حقوق غصب کرلیے۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں توہین رسالت کی جاتی ہے۔مسلمانوں کی حمایت میں ہمیں مل کر آوازاٹھانا ہو گی۔افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگائے جانے کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بھارت میں باحجاب طالبات کی راہ میں رکاوٹ بننے والی حکومت کے خلاف خاموش کیوں ہیں۔اس دوہرے معیار کے خلاف امت مسلمہ کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔اسرائیل کے دہشت گردانہ  عزائم اور نیوکلیر پروگرام پر عالمی طاقتوں کا سکوت بہت سارے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔القدس کی آزادی کو اب  دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔امریکہ کے کندھے پر سوار ہو کر اسرائیل زیادہ دیر تک اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑسکے گا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی نے کہا ہے کہ فلسطینی دنیا کی وہ واحد قوم ہے جنہیں منظم انداز میں  ان کی اپنی ریاست سے بے دخل کیا جارہا ہے۔مقامی افراد سے ان مہاجرین کی تعدا وہاں زیادہ ہے جنہیں سماجی شماریات میں ردوبدل کی غرض سے بسایاجارہاہے ۔انسانی بنیادوں اور اسلامی نکتہ نظر سے ہمیں مظلومین کے لیے ہمیں آواز بلند کرنی چاہئے۔قیام پاکستان کی جدوجہد میں ایک نظریہ کارفرما تھا۔بانی پاکستان نے برصغیر میں سب سے پہلے یوم فلسطین منایا۔فلسطین کی آزادی کا مطلب غاصب ریاست اسرائیل کی دخل اندازی کا مکمل خاتمہ ہے۔ایک وقت تھا جب گریٹراسرائیل کی بات کی جاتی تھی لیکن آج اسرائیل اپنی بقا کے لیے فکر مند ہے۔فلسطینی اپنی جدوجہد اور قربانیوں کی بدولت اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں شکست  ناممکن ہے۔

البصیرہ ٹرسٹ کے چیئرمین سید ثاقب اکبر نے کہا کہ فلسطین کے مظلومین کی حمایت میں علامہ اقبال اور قائد اعظم نے ہمیشہ ٹھوس موقف اختیار کیا۔قائد اعظم کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا وہ اٹل موقف ہے جس  سے انحراف بانی پاکستان کے نظریے کے منافی ہو گا۔

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامدرضا نے کہا کہ نئی نسل میں مسلہ کشمیر و فلسطین کو اس طرح اجاگرنہیں کیا گیا جس طرح کیاجاناچاہئے۔اس موضوع کونصاب کا حصہ ہونا چاہئے۔انہوں نے یوم کشمیر و فلسطین کو سرکاری سطح پرمنانے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ جب مسلم حکمرانوں کے  مفادات اوران کے اثاثے امریکہ میں ہوں گے تو وہ امریکہ کے خلاف بولنے کی جرات نہیں کر سکیں گے۔جن کالعدم جماعتوں اور ان کے سہولت کارون کے خلاف ہمیں دستاویزی ثبوت دییے جاتے رہے آج انہیں اقتدار کے حصہ بنا دیا گیاہے۔جنہیں کل تک غدار کہا جاتا تھا آج  انہیں وزارتیں دی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں سزائیں تو ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں۔انصاف و قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہو گا۔

جماعت  اہل  حرم کے سربراہ گلزار احمد نعمیی نے کہا کہ القدس مسلکی مسئلہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کا باہمی مسئلہ ہے۔فلسطین مسلمانوں میں اکثریت اہل سنت مکتبہ فکر کی ہے۔تاہم ان کے لیے پوری دنیا میں آوازبلند کرنے والے اہل تشیع ہیں۔فلسطینیوں کے حقوق کا سب سے بڑا علمبدار ایران ہے۔عالمی استعماری طاقتوں کے خلاف سنی ریاستوں نے کوئی مزاحمتی کردار ادا نہیں کیا۔یہ کتنا بڑاالمیہ اوربدقسمتی ہے کہ بڑی اسلامی طاقتیں اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے نام کو بدل کر پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر و فلسطین رکھا جاناچاہئے۔فلسطین کے مسئلہ کو لوگوں کے ذہنوں سے محو ہوتا دیکھ کر امام خمینی ؒ کا ہر سال یوم القدس منانے کا اعلان لائق ستائش ہے۔مسئلہ فلسطین محض مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی پامالی کا ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔کسی ریاست کی اپنی آبادی کا پناہ گزین کے طورپرزندگی بسر کرنا افسوسناک ہے۔فلسطین پر اگر ہمارا موقف کمزور ہوا تو پھر کشمیر پر بھی ہماری رائے جاندار نہیں رہے گی۔

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اعجاز چوہدری نے کہا کہ توحید پر ایمان رکھنے والے کسی استکباری قوت سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔اس وقت حقیقی آزادی و خودمختاری کے لیے سامراجی قوتوں کو مسترد کرنے کا بہترین موقع ہے۔

سینئرصحافی و کالم نگار مظہر برلاس نے کہا کہ وقتی مفاد ات کے لیے اسلام اور ضمیر کا سودا کرنے والوں میں اور لشکر یزید میں کوئی فرق نہیں۔فلسطین کے مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر مسلمان حکمرانوں کے دین پر شک ہونے لگتا ہے۔اس دور میں حقیقی رہنماحسن نصر اللہ جیسے لوگ ہیں جنہیں نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ جھکایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہاجو غلامی رگوں میں سرایت کر جائے وہ نسلوں میں منتقل ہوتی جاتی ہے۔کسی بھی ریاست کے غدار کسی بھی صورت معافی کے مستحق نہیں۔شیعہ علمائے پاکستان کے صدر سید حسنین گردیزی نے کہا کہ امام خمینی ؒ نے فلسطینین مسلمانوں کے حق میں مدلل انداز میں آواز بلند کی ہے۔مسلمانوں کی بیداری یہ  ظاہر کرتی ہے کہ  القدس بہت جلد آزاد ہونے والا ہے۔پاکستان عوامی تحریک کے قاضی شفیق نے کہا کہ فلسطین کی آزادی ایک اٹل حقیقت ہے جسے ہم سب دیکھیں گے۔اسلامی نظریہ پر قائم ہونے والی ریاست پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ اسے آج تک کوئی ایسی قیادت میسرنہیں آئی جو عالمی استکباری قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔کانفرنس کے اختتام پر کشمیر و فلسطین کے مظلومین کی حمایت میں قرارداد بھی پیش کی گئی۔

وحدت نیوز(سکردو) حلقہ دو سکردو میں گرلز ڈگری کالج کا خواب تعبیر کی جانب گامزن! خدا کے لطف و کرم سے حلقہ دو سکردو میں گرلز ڈگری کالج کا خواب کی تعبیر مل چکی ہے۔ اکیس کروڑ روپےکی لاگت سے بننے والے کالج کا الحمد اللہ باقاعدہ ٹینڈر بھی مکمل ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر زراعت گلگت بلتستان و صوبائی رہنما مجلس وحدت مسلمین محمد کاظم میثم نے عمائدین کے ہمراہ سائیڈ سلیکشن کا عمل بھی مکمل کیا۔ جس کے تحت گمبہ سکردو اور شگری کلان کے درمیان زمین دینے کےلئے عوام راضی ہوگئے۔

 وزیر زراعت نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی پر عوام کا شکریہ ادا کیا اور یقین دہانی کرائی کہ اس ادارہ کے بننے کے بعد نہ صرف گرلز کالج سکردو کا بوجھ کم ہوگا بلکہ حلقے کی طالبات کے لیے گھر کی دہلیز پر تعلیم کی فراہمی یقینی ہوگی۔ اس موقع پر اہلیان علاقہ نے گرلز ڈگری کالج کے قیام کو انقلابی اقدام قرار دیا اور کم وقت میں طالبات کی اعلی تعلیم کے فروغ غیرمعمولی اقدام پر ان کا اور پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔

Page 8 of 1221

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree