The Latest

باقر العلومؑ کی علمی تحریک

وحدت نیوز(مقالہ)سنہ 94 ہجری سے 114 ہجری تک کا زمانہ فقہی مسالک کی ظہور پذیری اور تفسیر قرآن کے سلسلہ میں نقل حدیث کے عروج کا زمانہ ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس دور میں بنی امیہ کی سلطنت زوال کی طرف سرکنے لگی تھی اور کافی حد تک کمزور ہو چکی تھی۔ اس زمانے میں اموی بزرگوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی زوروں پر تھی۔ اہل سنت کے علماء میں سے شہاب زہری، مکحول، ہشام بن عروہ وغیرہ جیسے افراد نقل حدیث کا اہتمام کرتے تھے اور فتویٰ دیتے تھے۔ اور بعض دوسرے افراد اپنے عقائد کی ترویج میں مصروف تھے؛ جن میں خوارج، مرجئہ، کیسانیہ اور غالی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
امام باقرؑ نے اس دور میں وسیع علمی تحریک کی بنیاد رکھی جو آپ کے فرزند ارجمند امام ابو عبداللہ جعفر بن محمد صادقؑ کے دور میں عروج کو پہنچی۔ آپ علم، زہد اور فضیلت میں اپنے دور کے ہاشمی بزرگوں میں سر فہرست تھے اور علم دین، سنت، علوم قرآن سیرت اور فنون اخلاق و آداب جیسے موضوعات میں جس قدر حدیثیں اور روایات آپ سے منقول ہیں وہ امام حسن اور امام حسین کے کسی بھی دوسرے فرزند سے نقل نہيں ہوئی ہیں۔[1)
شیعہ فقہی احکام ـ اگر چہ ـ اس وقت تک صرف اذان، تقیہ، نماز میت وغیرہ جیسے مسائل کی حد تک واضح ہوچکے تھے لیکن امام باقرؑ کے ظہور کے ساتھ اس سلسلے میں نہایت اہم قدم اٹھائے گئے اور ایک قابل تحسین علمی و ثقافتی تحریک شیعیان آل رسولؐ کے درمیان شروع ہوئی۔ اسی زمانے میں اہل تَشَیُّع نے ـ فقہ، تفسیر اور اخلاق پر مشتمل ـ فرہنگ کی تدوین کا کام شروع کیا۔[2]
امام باقرؑ نے اصحاب قیاس کی دلیلوں کو شدت سے ردّ کردیا۔3] اور دیگر منحرف اسلامی فرقوں کے خلاف بھی سخت موقف اپنایا اور یوں مختلف موضوعات میں اہل بیتؑ کے صحیح اعتقادی دائرے کو واضح اور الگ کرنے کی (کامیاب) کوشش کی۔ آپ نے خوارج کے بارے میں فرمایا: "خوارج نے اپنی جہالت کے بموجب عرصہ حیات اپنے لئے تنک کردیا ہے، دین اس سے کہیں زیادہ نرم و ملائم اور لچکدار ہے جو وہ سمجھتے ہیں۔[4]
امام باقرؑ کی علمی شہرت ـ نہ صرف حجاز میں بلکہ ـ حتی کہ عراق اور خراسان تک بھی پہنچ چکی تھی؛ چنانچہ راوی کہتا ہے: میں نے دیکھا کہ خراسان کے باشندوں نے آپ کے گرد حلقہ بنا رکھا ہے اور اپنے علمی سوالات آپ سے پوچھ رہے ہیں۔[5]
اگلی سطور میں اختصار کے ساتھ مختلف موضوعات (علم و سائنس کے شعبوں) میں امامؑ کی علمی میراث کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے:

تفسیر
امامؑ نے اپنے اوقات کا ایک حصہ تفسیری موضوعات و مباحث کے لئے مختص کر رکھا تھا اور تفسیری حلقہ تشکیل دے کر علماء اور عام لوگوں کے سوالات و اعتراضات کا جواب دیتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ امام باقرؑ نے تفسیر قرآن میں ایک کتاب بھی تصنیف کی تھی جس کی طرف محمد بن اسحق ندیم نے اپنی کتاب الفہرست میں بھی اشارہ کیا ہے۔ [6]
امامؑ قرآن کی شناخت و معرفت کو اہل بیت تک محدود سمجھتے تھے کیونکہ وہ محکمات کو متشابہات اور ناسخ و منسوخ سے تمیز دینے کی قوت رکھتے ہیں؛ اور ایسی خصوصیت اہل بیتؑ کے سوا کے پاس بھی نہيں پائی جاسکتی۔ اسی بنا پر آپ نے فرمایا ہے: کوئی بھی چیز تفسیر قرآن کی مانند لوگوں کی عقل سے دور نہيں ہے؛ کیونکہ ایک آیت کا آغاز متصل ہے ایک مسئلے کے بارے میں، اور یہ کلامِ متصل کئی وجوہ کی طرف لوٹایا جاتا ہے"۔[7]

حدیث
امام باقرؑ نے احادیث نبوی کو خاص شکل میں توجہ اور اہمیت دی تھی حتی کہ جابر بن یزید جعفی نے آپ سے رسول اللہؐ کی ستر ہزار حدیثیں نقل کی ہیں؛ جیسا کہ ابان بن تغلب اور دوسرے شاگردوں نے اس عظیم ورثے میں سے بڑے مجموعے نقل کئے ہیں۔
امامؑ نے صرف نقل حدیث اور ترویج حدیث ہی پر اکتفا نہيں کیا بلکہ اپنے اصحاب کو فہمِ حدیث اور ان کے معانی کے سمجھنے کے اہتمام کرنے کی پر بھی ترغیب دلائی ہے۔ مثلا آپ نے فرمایا ہے:

ہمارے پیروکاروں کے مراتب کو احادیث اہل بیت نقل کرنے اور ان کی معرفت و ادراک کی سطح دیکھ کر پہچانو، اور معرفت در حقیقت روایت کو پہچاننے کا نام ہے اور یہی درایۃالحدیث ہے، اور روایت کی درایت و فہم کے ذریعے مؤمن ایمان کے اعلی درجات پر فائز ہوجاتا ہے۔[8]
کلام
امام باقرؑ کے زمانے میں مناسب مواقع فراہم ہوئے، حکمرانوں کی طرف سے دباؤ اور نگرانی میں کمی آئی اور یوں مختلف عقائد و افکار کے ظاہر و نمایاں ہونے کے اسباب فراہم ہوئے اور یہی آزاد فضا بھی معاشرے میں انحرافی افکار کے وجود میں آنے کا سبب بنی۔ ان حالات میں امامؑ کو درست اور حقیقی شیعہ عقائد کی تشریح، باطل عقائد کی تردید کے ساتھ ساتھ متعلقہ شبہات و اعتراضات کا جواب بھی دینا پڑ رہا تھا؛ چنانچہ آپؑ ان امور کے تناظر میں ہی کلامی (و اعتقادی) مباحث کا اہتمام کرتے تھے؛ "ذات پرودگار کی حقیقت کے ادراک سے عقل انسانی کی عاجزی" [9] اور "واجب الوجود کی ازلیت"[10] وغیرہ ان ہی مباحث میں سے ہیں۔

امامؑ کی دیگر مواریث بھی ہم تک پہنچی ہیں جیسے فقہی میراث[11] اور تاریخی میراث [12] وغیرہ۔

امامؑ کے مناظرات
امام باقرؑ کی علمی سرگرمیون میں مختلف موضوعات پر مختلف افراد کے ساتھ مناظرات بھی شامل تھے۔ آپ کے بعض مناظرات کی فہرست کچھ یوں ہے:

عیسائی عالم (Bishop) کے ساتھ امام باقرؑ کا مناظرہ
حسن بصری کے ساتھ امام محمد باقرؑ کا مناظرہ
ہشام بن عبدالملک کے ساتھ امام محمد باقرؑ کا مناظرہ
محمد منکدر کے ساتھ امام محمد باقرؑ کا مناظرہ
نافع بن ازرق کے ساتھ امام محمد باقرؑ کا مناظرہ
عبداللہ بن معمّر لیثی امام محمد باقرؑ کا مناظرہ
قتادہ بن دعامہ کے ساتھ امام محمد باقرؑ کا مناظرہ
اسرائیلیات کے خلاف جدوجہد
رسول اللہ کا امام باقر کو سلام
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
ایک دفعہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری (رحمۃاللہ علیہ) کو دیکھا اور انہيں سلام کیا؛ انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا اور پوچھا:

تم کَون ہو؟ - یہ وہ زمانہ تھا جب جابر نابینا ہوچکے تھے۔
میں نے کہا: میں محمد بن علی بن الحسین ہوں۔
کہا: بیٹا میرے قریب آؤ۔
پس میں ان کے قریب گیا اور انھوں نے میرے ہاتھ کا بوسہ لیا اور میرے پاؤں کا بوسہ لینے کے لئے جھک گئے لیکن میں نے انہیں روک لیا۔
اس کے بعد جابر نے کہا: بے شک رسول اللہؐ تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔
میں نے کہا: و علی رسول اللہ السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ؛ لیکن یہ کیسے اے جابر!
جابر نے کہا: ایک دفعہ میں آپؐ کی خدمت میں حاضر تھا جب آپ ؐ نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: اے جابر! مجھے امید ہے کہ تم لمبی عمر پاؤ حتی کہ میرے فرزندوں میں سے ایک مرد کو دیکھ لو جس کا نام محمد بن علی بن الحسین ہوگا، اور اللہ تعالی اس کو نور اور حکمت بخشے گا۔ پس میری طرف سے اس کو سلام پہنچانا۔
یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۲۸۹۔
اس زمانے میں اسلامی معاشرے کے اندر سرگرم اور معاشرتی تہذیب و ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کرنے والے گروہوں میں سے ایک گروہ یہودیوں کا گروہ تھا۔ بعض یہودی احبار جو بظاہر مسلمان ہوگئے تھے اور بعض وہ جو اپنے دین پر ثابت قدم تھے، اسلامی معاشروں میں پھیل گئے تھے اور مسلمانوں کے ایک سادہ لوح طبقے کی علمی مرجعیت کے حامل تھے۔ یہود اور اسلامی معاشرے میں ان کے القائات اور تبلیغات کے خلاف علمی جدوجہد اور انبیاء کے بارے میں یہودیوں کی بنائی ہوئی جھوٹی حدیثوں اور انبیاء کا چہرہ مخدوش کرنے والے مسائل کی تردید امام محمد باقرؑ کی علمی تحریک میں خاص طور پر نمایاں ہے۔ یہاں ہم بعض نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
زرارہ نقل کرتے ہیں: میں امام باقرؑ کی خدمت میں بیٹھا تھا اور امامؑ نے، جو کعبہ کی طرف رخ کرکے بیٹھے تھے، کہا: "بیت اللہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے"۔ اسی حال میں عاصم بن عمر نامی شخص بھی امامؑ کے پاس آیا اور کہا: "کعب الاحبار کہتا ہے: إنّ الكعبة تَسْجُدُ لبیت المقدس فی كلِّ غَداة (ترجمہ: "کعبہ ہر صبح بیت المقدس کی طرف سجدہ کرتا ہے"۔

امام نے فرمایا: کعب الاحبار کے اس قول کے بارے میں تمہاری اپنی رائے کیا ہے؟
عاصم نے کہا: کعب کی بات صحیح ہے۔
امام باقرؑ نے فرمایا: "كذبتَ و كذبَ كعب الأحبار معك"۔ (ترجمہ: تم بھی جھوٹ بول رہے ہو اور کعب الاحبار بھی جھوٹ بول رہا ہے)۔ اس کے بعد امامؑ شدید غضب کی حالت میں فرمایا: "ما خَلَقَ اللهُ عَزَّوَجلَّ بُقْعَةً فِى الاَرْضِ اَحَبَّ اِلَیْهِ مِنْها۔۔۔ (ترجمہ: خداوند متعال نے زمین پر کوئی بھی بقعہ (یعنی ممتاز
قطعۂ ارضی) پیدا نہیں کیا جو اس کے نزدیک اس کعبہ سے زیادہ محبوب ہو)۔(13)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع ،ماخذ:
شیخ مفید، وہی ماخذ۔ 507۔
 ضحی الاسلام، ج1، ص386؛ دراسات و بحوث فی التاریخ و الاسلام، ج1، صص57_56 بحوالہ از جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعه، ص295۔
 شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج18، ص39۔
 شیخ طوسی، التهذیب، ج1، ص241؛ به نقل از جعفریان، وہی ماخذ، ص299۔
 کلینی، وہی، ج6، ص266 و مجلسی، بحار الانوار، ج46، ص357۔
 ابن ندیم، الفهرست، ص59 و شریف القرشی، باقر، حیاة الامام المحمد الباقر، ج1، ص174۔
 گروه مولفان، پیشوایان هدایت، ص320۔
 شریف القرشی، باقر، ایضا، ص140و141۔
 ۔کلینی، وہی ماخذ، ج1، ص82۔
 کلینی، وہی ماخذ ج1، صص88-89۔
 مؤلفین کی ایک جماعت، پیشوایان ہدایت ج7، ص341 تا 347۔
 مؤلفین کی ایک جماعت، پیشوایان هدایت ج7 ص330تا 334۔
 مجلسی، بحار الانوار، ج46، ص354۔
 مجلسی، بحار ج11، ص83
 علی محمد علی دخیل، ائمتنا ج1، ص347
 مناقب، ابن شہر آشوب، ج4، ص211
 باقرکے لغوی معنی شقّ کرنے، کھولنے، وسیع کرنے، چیرنے اور پھاڑنے [تشریح کرنے] والے کے ہیں، لوئیس معلوف، المنجد في اللغۃ، الطبعۃ ثالث وثلاثون، مطبوعہ دارالمشرق بیروت۔ لبنان 1986۔
 ابن حجر، الصواعق المحرقہ، ص201۔
 سبط ابن الجوزی، تذکرة الخواص، ص337؛ علی بن عیسی الاربلی، کشف الغمة، ج2، ص329۔
 ذهبی، سیر اعلام النبلاء، ج4، ص402۔


ترتیب: محمدجان حیدری
اقتباس: شیعہ ویکی پیڈیا

وحدت نیوز(سکردو ) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے رہنماؤں صوبائی صدر آغا علی رضوی،رکن کونسل شیخ احمد علی نوری،وزیر زراعت کاظم میثم،معاون خصوصی الیاس صدیقی،رکن اسمبلی شیخ اکبر رجائی اور کنیز فاطمہ نے قائد ملت جعفریہ استور سید عاشق حسین کی زوجہ محترمہ اور رکن جی بی کونسل سید شبیہ الحسنین کی والدہ کے سانحہ ارتحال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحومہ کی بخشش، مغفرت اور بلندی درجات کیلئے دعا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور جملہ سوگوراران کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

انہوں نے کہا کہ دکھ کے اس گھڑی میں غم زدہ خاندان سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ مرحومہ کی وفات حجت الاسلام و المسلمین سید عاشق حسین،رکن جی بی کونسل سید شبیہ الحسنین اور ان کے خاندان کیلئے نا قابل تلافی نقصان ہے۔مجلس وحدت مسلمین ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ رہنماؤں نے مرحومہ کی مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔

وحدت نیوز(سکردو)مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے زیر اہتمام علماء و مشائخ کانفرنس صوبائی سیکرٹریٹ سکردو میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں بلتستان بھر سے کثیر تعداد میں علمائے کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس میں خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا اور رہبر کبیر امام خمینی ؒ کے یوم ولادت باسعات کے حوالے سے ہدیہ تبریک پیش کیا گیا اور شہید آغا ضیاء الدین رضوی کی دینی خدمات کو سراہا گیا۔

کانفرنس سے حجۃ الالسلام سید مصطفی شاہ الموسوی، علامہ شیخ سجاد حسین مفتی اور ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی صدر آغا سید علی رضوی نے خطاب کیا۔
ان علما نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس عظیم کانفرنس کا مقصد علمائے کرام کا آپس میں مل بیٹھ کر مختلف امور کو زیر غور لانا ہے۔ کانفرنس میں معاشرے میں تربیت کی ضرورت کے پیش نظر تمام محلہ جات کی سطح پر تربیتی پروگراموں کے انعقاد پر زور دیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ معاشرے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا اہتمام نہ ہونے کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہو رہا ہے، چنانچہ علماء کا فرض ہے کہ وہ نئی نسل کی تربیت کے لئے اپنے آپ کو وقف کریں تاکہ ہمارا اسلامی معاشرہ بگاڑ سے بچ سکے۔ عوام غلط افواہوں کی وجہ سے حقائق سے دور ہو جاتے ہیں، ایسے میں افواہوں کی بجائے اصل حقائق کی طرف عوام کی توجہ مبذول کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔علمائے کرام کو چاہئے کہ ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر معاشرتی اصلاح کی کوششیں تیز کریں، عوام کی توقعات علما سے وابستہ ہیں لہذا انہیں عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر تمام علمائے کرام نے متفقہ طورپر ایک قرارداد منظور کی۔

قراداد میں کہا گیا کہ ہم قومی اسمبلی  سے پاس ہونے والی فوجداری ترمیمی بل 2021 کو مسترد کرتے ہیں اور ریاست کے ذمہ داران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے کسی بھی بل کو منظور کرکے قانون کا حصہ نہ بننے دیا جائے۔ جس سے ملکی ہم آہنگی اور رواداری کی فضا زہر آلود ہو قرارداد میں کہا گیا کہ مقامی لوگوں کے جذبہ حب الوطنی اور خطے کی مخصوص صورتحال کے تناظر میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین از حد ضروری ہے۔ گلگت بلتستان میں کوئی زمین خالصہ سرکار نہیں۔ یہاں کی ایک ایک انچ زمین عوام کی ملکیت ہے۔ لہٰذا زمینوں کو مقامی لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔

آئینی و بنیادی حقوق سے محروم گلگت بلتستان  کے عوام کو میسر واحد سبسڈی گندم سبسڈی ہے، جسے بار بار کم کرنا، سالانہ ترقیاتی بجٹ پہ کٹ لگانا اور پی ایس ڈی پی پروجیکٹ کے فنڈز کو روکنا علاقے کے عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہیں۔ لہٰذا انہیں فی الفور بحال کیاجائے۔ ہم سیاحت کے فروغ کے لئے کئے جانے والے ہر مثبت اقدام کو سراہتے ہیں لیکن سیاحت کے فروغ کے نام پر غیر شرعی و  غیر اخلاقی پروگراموں کو فروغ دینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی حکومت لینڈ ریفارمز ایکٹ اور فنانس بل پر انجمن تاجران کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر جلد از جلد عمل درآمد کرے۔

وحدت نیوز(کوہاٹ)متنازعہ فوجداری ترمیمی بل 2021ء کے حوالے سے کچہ پکہ مرکز کے مقام پر مجلس علماء شیعہ پاکستان کے مرکزی صدر علامہ سید حسنین عباس گردیزی،مرکزی سیکرٹری تبلیغات مجلس علماء شیعہ پاکستان علامہ سید ثمر نقوی، صدر مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخواہ علامہ جہانزیب جعفری،علامہ خورشید انور جوادی و دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید حسنین عباس گردیزی نے کہا ہے کہ ہم قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے متنازعہ فوجداری ترمیمی بل 2021ء کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور ریاست کے ذمہ داران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے کسی بھی بل کو منظور کر کے قانون کا حصہ بننے سے روکا جائے جس سے ملکی بھائی چارے، مذھبی ہم آہنگی اور رواداری کی مجموعی فضا زہر آلود ہو لہذا اس بل کو ایوانِ بالا سینیٹ سے ہرگز منظور نہ کیا جائے بصورت دیگر ملت جعفریہ پاکستان ہر فورم اور سطح پر احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

علامہ خورشید انور جوادی نے کہا کہ ملک میں دن بدن سیاسی و معاشی عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے وہاں آس فرقہ وارانہ بل کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لانچ کر کے سماجی آمن و اماں کو بھی تہہ وبالا کرنے کی گھناؤنی حرکت کی گئی ہے جس کے معاشرے کے لیے مہلک نتائج برآمد ہوں گے۔

علامہ جہانزیب جعفری نے کہا کہ بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کسی روڈ کنارے لگے ڈھابے یا چھپر ہوٹل کے بھی کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں جن کی پاسداری کی جاتی ہے لیکن دوسری طرف ہمارے قانون ساز اداروں میں وضع کردہ ضابطہ اخلاق اور اصولوں پر کوئی عمل پیرا نہیں ہو رہا جس کی تازہ مثال قومی اسمبلی سے منظور کروایا گیا مسلکی بنیادوں پر مشتمل فوجداری ترمیمی ایکٹ جسے چوروں کی طرح جلد بازی میں منظور کروایا گیا اور اس حساس نوعیت کے بل پر کسی قسم کی کوئی توجہ یا نقظہ اعتراض نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی بحث کی گئی ہے جو کہ انتہائی تشویشناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے جس ہم مذمت کرتے ہیں اور اسے سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

وحدت نیوز(راولپنڈی)مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع راولپنڈی کے نئے میر کارواں کے انتخاب کے لئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے دستورِ کے مطابق وحدت ویلفئیر سنٹر ڈھوک رتہ راولپنڈی میں ووٹنگ کی گئی،ضلعی کابینہ کی طرف سے دو نام دئیے گئے ان میں سئنیر نائب صدر راولپنڈی الشیخ مولانا غلام محمد عابدی قمی ، اور عزاداری کونسل کے سربراہ مولانا سید اعوان علی شاہ شیرازی کا نام تجویز کیا گیا۔

 تحصیل کے نمائندوں کیطرف سے ایم ڈبلیو ایم ٹیکسلا سٹی سے سید وقار حیدر بخاری صاحب کا نام تجویز کیا گیا۔ بعد ازاں مرحلہ ووٹنگ، اکثریت نے مولانا سید اعوان علی شاہ شیرازی صاحب کو راولپنڈی کا ضلعی صدر منتخب کیا ۔

وحدت نیوز(ملتان)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تنظیم علامہ مقصود علی ڈومکی نے ملتان میں حضرت شاہ شمس تبریز کے مزار پر حاضری دی اور مزار پر پھول نچھاور کئے۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم ضلع ملتان کے نومنتخب ضلعی صدر علامہ وسیم عباس معصومی اور سابقہ صوبائی سیکرٹری سیاسیات انجینئرمہر سخاوت علی سیال ان کے ہمراہ تھے۔ دربار حضرت شاہ شمس تبریز کے سجادہ نشین مخدوم سید عون رضا شمسی نے درگاہ آنے پر پھولوں کے ہار پہنا کر معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔ اس موقع پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے مخدوم سید عون رضا شمسی کو اپنی کتاب اھل بیت علیھم السلام کا علمی مقام امت اسلامی کے اتحاد کا محور کا تحفہ پیش کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ مزارات اولیا سے تعلق رکھنے والے مشائخِ عظام کا قومی معاملات میں اہم کردار بنتا ہے انہیں قومی معاملات میں سرگرم کردار ادا کرنا چاہیئے۔ متنازعہ نصاب تعلیم سے لے کر تکفیری گروہ کے متنازعہ بل تک ہمیں ملت کے خلاف ہونے والی ہر سازش پر نظر رکھنی چاہیے اور اسے ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کروڑوں شہری حضرت شاہ شمس تبریز سے بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں ان کی فارسی شاعری کا مجموعہ چھپنا چاہیے۔ شمسی سادات نے ملک کے مختلف علاقوں میں مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج کے لئے جو کردار ادا کیا وہ لائق ستائش ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مخدوم سید عون عباس شمسی نے کہا کہ حضرت شاہ شمس تبریز کا دربار آل محمد کے عاشقوں کا محور ہے، محکمہ اوقاف کی جانب سے دربار سے وابستہ املاک میں منفی مداخلت افسوسناک ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے آسمان امامت و ولایت کے پانچویں درخشاں ستارے فرزند رسولۖ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے پر مسرت موقع پراپنے تہنیتی پیغام میںکہا کہ حجت دوراں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف، مقام معظم رہبری اور اہلبیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کی خدمت میں ہدیہ تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں۔ آپ نے تشنگانِ حق و معرفت کو ہمیشہ توحید و انسانیت کا درس دیا اور علم و دانش کے وہ چشمے جاری کیئے کہ آپ کا لقب ہی باقر العلوم یعنی علم کا سینہ شگاف کرنے والا پڑ گیا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)سویڈن میں قرآن مجید کے نسخے کی بے حرمتی کرنے کی شدید مذمت کرتا ہوں مسلم دنیا کے جذبات کو مجروح کرنا انتہائی مجرمانہ عمل ہے جس کی آزادی اظہار کی آڑ میں قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی ان خیالات کا اظہار چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجا ناصر عباس عرف جعفری نے میڈیا سیل کو جاری اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو مہذب کہنے والی نام نہاد مغربی دنیا کا مکروہ چہرہ اس طرح کی قبیح حرکتوں سے پوری دنیا پر عیاں ہو جانا چاہیے،  قرآن مجید کی بے حرمتی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کسی طور پر بھی انسانی اقدار کا پاس نہیں ہے اور اسلام فوبیا کا مرض مغربی ممالک میں بڑھتا جا رہا ہے جس پر مسلمانوں سمیت ہر باضمیر انسان کا دل دکھی اور تشویش میں مبتلا ہے اور اس اشتعال انگیز حرکت پر مسلم ورلڈ سے سخت ردعمل کا آنا فطری عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین کی ہرگز اجازت نہیں دیتا جس سے کسی کے مذہبی جذبات مجروع ہوں اور دل آزاری ہو مگر دلی دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مغربی معاشرے میں اس مجرمانہ عمل کو یکے بعد دیگرے دوہرایا جاتا ہے لیکن اس پر انسانی حقوق اور عالمی امن کے نام پر نوبل پرائز دینے والے اداروں کا دوہرا معیار قابل مذمت ہے متعلقہ حکومتیں بھی اس مجرمانہ عمل میں ملوث افراد کو سزا نہیں دیتی ہیں جن کی بدولت آئے روز مغربی ممالک میں مسلمانوں کے مقدسات کی بے حرمتی کے واقعات کا رونما ہونا معمول بنتا جا رہا ہے۔

وحدت نیوز(پشاور)مجلس وحدت مسلمین خیبرپختونخواہ کےجنرل سیکریٹری شبیر حسین ساجدی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سویڈن میں قران مجید کی بے حرمتی مسلم دشمنی کی ذلیل ترین اور پست ترین مثال ہے ۔ مسلمانوں کی دل ازاری کے ساتھ کیا پیغام دیا ہے دنیا کو ۔ مقدسات کے تقدس کے تحفظ کیلیے بنایے گیے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں ۔ انسانیت کی تذلیل کردہ واقعہ پر سویڈن کی مذمت کرتے ہیں ۔ ایسے واقعات کا راستہ نہ روکا گیا دنیا جہنم بن جائےگی ۔

انہوں نے کہا کہ  دنیا بھر میں اسلام کے خلاف پروپیگنڈا اور سرمایہ اگر مسلمانوں کے ترقی پر لگا دیتے تو شاید کہیں بھوک افلاس اور ظلم نہ ہوتی ۔ اگر ہمارے مسلمان ممالک کاسہ لیس و غلام نہ ہوتے تو آج قران کے بے حرمتی کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتے ۔ آج مسلمان ممالک کا ایک مضبوط اتحاد ہوتا۔ ایک کرنسی ہوتی ۔ ایک فوج ہوتی۔ ایک قوم بنتے ۔ شیعہ سنی دیوبندی وہابی نہ ہوتے ۔ اچھے اور خوبصورت کردار کے لوگ حکمران ہوتے ۔ کسی سپاہ ، لشکر ، چودھری پیر ملا کی ضروت نہیں تھی ۔ خوشحالی ہوتی ،  ترقی ہوتی ، سکون ہوتا ، امن ہوتا ۔ مگر افسوس ہم ایسے نہیں ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب بھی وقت گیا نہیں بسم اللہ کریں غلامی کا طوق گلے سے اتار پھینکیں ،یک ہوجائیں، اسلامی بلاک وقت کی پکار ہے لیکن پہلے اپنے ملک سے تعصب و ناانصافی ظلم و ستم لوٹ مار تو بند کرواو ۔ اللہ والا معاشرے کا قیام رسول اعظم کے فرمودات کے روشنی میں حکمرانی کا ابتدا کریں ۔ اہل بیت ع کوان کا جائز مقام دیں ۔ معاشرے میں متنازعہ فوجداری بل جیسے قوانین بننے کے سوچ کو کچل دیں ۔ مذہبی ہم اہنگی کےلئے ایسے غیر سنجیدہ اقدامات کی حوصلہ شکنی واجب ہیں ۔تب ہم سویڈن جیسے شرمناک حادثوں پر درعمل دے سکیں گے ۔

وحدت نیوز(سکھر)مجلس وحدت مسلمین ضلع سکھر کے صدر برادر محسن سجاد اتراء ایڈووکیٹ کی زیر صدارت سیکٹر کندھرا کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کثرت رائے سے برادر دیدار پیرزادہ سیکٹر کندھرا کے صدر منتخب ہوئے، برادر محسن سجاد اتراء ایڈووکیٹ صدر مجلس وحدت مسلمین ضلع سکھر نے نومنتخب صدر سے حلف لیا۔

 اس موقع پر ضلعی صدر کا تمام یونٹس کے صدور و کابینہ سے تفصیلی ملاقات اور یونٹس کی تنظیم نو اور دیگر یونٹس کے قیام پر گفتگو ہوئی اور مشاورت کے بعد برادر محبوب شیخ کو سیکٹر کندھرا کے جنرل سیکرٹری کے طور پر نامزدگی کی گئی۔

اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع سکھر کے صدر محسن سجاد اتراء ایڈووکیٹ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری بابر حسین ابڑو، ضلعی سیکریٹری صحت محمد عمر ملک، سمیت مجلس وحدت مسلمین کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

Page 6 of 1309

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree