The Latest

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے تنظیمی رہنماؤں پر مشتمل وفد کی مرکزی سیکریٹری تربیت حجت الاسلام والمسلمین جناب ڈاکٹر محمد یونس صاحب کی رہائش گاہ آمد اور ملاقات ۔اس ملاقات میں جی بی میں جاری تربیتی اموراور آئندہ کے پروگراموں کے سلسلے میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر گلگت میں تربیتی کمیٹی کی تشکیل دی گئی ہے اور جی بی تربیتی کاؤنسل کو مزید فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا ۔ گلگت بلتستان میں تمام تربیتی و تنظیمی امور زیر غور آئے اور ان پر سیر حاصل گفتگو کے علاوہ باہمی مشاورت کی گئی ۔

گلگت بلتستان کے صوبائی سیکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین جناب سید علی رضوی اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین جناب نیئر مصطفوی سے ملاقات کرکے یہ سارے تربیتی اور تنظیمی امور کو ان دونوں بزرگان کے سامنے پیش کیا جائے گا اور ان کی باقاعدہ منظوری لی جائے گی ۔ ان شاءاللہ

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ جمہوری ادوار میں بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کرنا افسوس ناک عمل ہے۔ بلدیاتی انتخابات کو جمہوریت کی نرسری کہنے والے بلدیاتی انتخابات سے خائف کیوں ہیں۔ بلدیاتی ادارے جمہوریت کا حسن ہیں لہذا وفاقی اور صوبائی حکومتيں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کا شیڈول نہ دینا سوالیہ نشان ہے۔پی ٹی آئی نے اپنے منشور میں با اختیار بلدیاتی نمائندوں کا اعلان کیا مگر عملی طور پر بلدیاتی انتخابات کے لئے کہیں پر بھی سنجیدگی نظر نہیں آتی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے جلد بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سطح کے انتخابات میں آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے مطابق صالح اور باکردار لوگوں کو عوامی نمائندگی کا حق دیا جائے۔ کرپٹ اور غیر صالح نمائندے کبھی ملک و قوم کی خدمت نہیں کر سکتے۔

در این اثناء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام محب وطن ہیں انہیں اس ملک میں برابر کا شہری تسلیم کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مناسب نمائندگی دی جائے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) بلتستان کے نامور عالم دین، عظیم محقق و اسکالر، بے مثال دانشور، زبردست خطیب، اتحاد امت مسلمہ کے داعی حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر غلام محمد فخرالدین اپنے خالق حقیقی سے عشق اور راز و نیاز کرتے ہوئے مقدس سرزمین میں لبیک اللہم لبیک کا ورد کرتے ہوئے شہید ہوگئے، لیکن ہزاروں سوگوار آنکھوں کو ہمیشہ کے لئے پر نم چھوڑ گئے۔ ہماری یہ عادت ہے کہ ہمیں کسی قیمتی چیز کے چھن جانے کے بعد ہی اس کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس کے بعد ہی ہم افسوس کرتے ہیں۔ جب وہ اس دنیا میں تھے تو ہم نے ان کے علوم سے کما حقہ استفادہ کرنے کی کوشش نہیں کی، صرف الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہم نے ان سے استفادہ کیا، لیکن کسی علمی نشست، سیمنار، کانفرنس اور محافل و مجالس میں کما حقہ اس علوم کے سمندر سے کبھی استفادہ کرنے کی کوشش نہیں کی، یہاں تک کہ محافل و مجالس میں اس عظیم اور مظلوم سخنور کو خطابت کے لئے جگہ دینے سے بھی کتراتے تھے اور محفل میں ان کے ہوتے ہوئے بھی کوئی عام ملاّ اور خطیب خطابت کرتے نظر آتے تھے، لیکن ان کی شہادت کے بعد  جب منبر خالی ہوا، میدان خطابت خالی ہوا، تب ہم خواب غفلت سے بیدار ہوئے اور یہ احساس ہوا کہ ہم کس عظیم سرمایہ اور نعمت خداوندہ سے محروم ہوگئے ہیں۔

ہزاروں کے اجتماع میں فصیحانہ علمی گفتگو کرنے والی عظیم شخصیت، جو ایران میں طلاب ہند و پاکستان کی نمائندگی کرتی تھی، جو آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہے، جب وہ اس دنیا میں تھے تو ہم انہیں عام ملاّ سمجھ بیٹھے، لیکن آج جب وہ ہم سے دور ہوئے تو سب، یہاں تک کہ ان کے مخالف افراد بھی افسوس کرتے اور آنسو بہاتے ہوئے نظر آتے ہیں، لیکن اس کا کیا فائدہ۔۔ آج ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی انمول ہستیوں کو اس دنیا میں ہی پہچان لیں، ان سے کماحقہ استفادہ کریں  اور ان کی قدر کریں۔ اس دانشمند علاّم کی رحلت سے معاشرے میں ایک ایسا بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے، جسے پر کرنا فی الحال ناممکن ہے۔ اس فداکار شخصیت کا وجود پاکستان بالاخص بلتستان کے عوام کے لئے باعث عزت و افتخار تھا، جو زندگی میں اپنے ضیاء باریوں سے علاقے کو روشن کرتے رہے، اپنی نورانی تبلیغات سے مردہ روحوں کو زندگی بخشتی رہے اور جہالت کی تاریکیوں کو اپنے علم کی شمع فروازں سے منور کرتے رہے۔

علامہ شیخ فخر الدین تقویٰ، پرہیزگاری اور شوکت بیان میں اپنی نظیر آپ تھے۔ گلشن علم دین کا یہ سدا بہار پھلدار درخت جلد ہی خزان کو جا پہنچا اور اس کے بیش قیمت ایمان افروز پھل سے اہل علم محروم ہوگئے۔ جس طرح علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا: {اذا مات العالم انثلم بموته فی الاسلام ثلمة لاتسد الی یوم القیامة} جب عالم مرجاتا ہے تو اسلام میں ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جو قیامت تک پر نہیں ہوسکتا۔ آپ ہمیشہ معارف اہل بیت علیہم السلام کو پہنچانے کے لئے ایک کامیاب مبلغ بن کر لوگوں کی رہنمائی کرتے رہتے تھے، اسی لئے وہ پاکستان اور بلتستان تبلیغ کے لئے جاتے اور لوگوں کے ساتھ اس طرح سے گھل مل جاتے  تھے کہ بلتستان کے مختلف علاقوں کے لوگ ان کی عالمانہ اور مجاہدانہ زندگی کی وجہ سے ان کے عاشق ہو جاتے تھے اور پروانہ وار ان کے ارد گرد جمع ہو جاتے  تھے۔ جب ان کی شہادت کی خبر سنی تو طلاب اور ہزاروں مرد و زن دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے، یہی ایک عالم باعمل سے عشق کی نشانی ہے۔

جوانی کے اس پرخطر اور پر تلاطم دور میں جہاں گناہوں سے بچنا ہر انسان کی بس کی بات نہیں ہوتی، آپ تعلیم و تربیت اور ملت کی خدمت کی خاطر ایک اچھی تنظیم کے ساتھ وابستہ ہوگئے اور روحانی تربیت حاصل کرتے رہے، اکثر و بیشتر اوقات علماء کے ساتھ گزارتے رہے اور یوں جوانی کے ایام میں ہی شہر آل محمد قم المقدسہ میں قدم رکھا۔ آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز اپنے آبائی گاؤں قمراہ سے کیا، پھر ہائی سکول سکردو سے میٹرک اور کالج سے ایف اے مکمل کیا۔ بچپن سے ہی علم دوستی اور بے نظیر خطابت کی بنا پر آپ آخوند کی صفت سے متصف تھے۔ آپ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلتستان ڈویژن کے صدر اور تحریک جعفریہ کے فعال رکن کی حیثیت سے بھی مکتب تشیع  کے لئے خدمات سرانجام دے چکے ہیں، جبکہ شہادت کے ایام تک مجلس وحدت مسلمین شعبہ قم کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

آپ نے حوزہ علمیہ قم اور المصطفٰی اسلامک یونیورسٹی سے کم ترین وقت میں وہ مقام حاصل کیا، جو عام طلاب ساری زندگی میں حاصل نہیں کرسکتے۔ عام طلاب صرف ایک ہی میدان میں کامیاب ہوسکتے ہیں، لیکن آپ مختلف میدانوں میں کامیاب و کامران تھے، اسی لئے آپ کا شمار المصطفٰی  اسلامک یونیورسٹی اور حوزہ علمیہ قم کے نخبگان میں  ہوتا تھا۔ آپ شروع ہی سے اسلامی آداب کے پابند، محنتی اور عظیم شخصیت کے مالک تھے، آپ کا شمار کم عرصے میں زیادہ علوم حاصل کرنے والے محنتی اور دیانتدار طلاب میں ہوا کرتا تھا، جس کے باعث انہوں نے رواں سال 28 جنوری کو المصطفٰی اسلامک یونیورسٹی قم سے اعلٰی نمبروں کے ساتھ پی ایچ ڈی مکمل کر لی۔ شاید آپ  جانتے تھے کہ آپ نے جلد ہی اس دنیا سے ابدی منزل کی طرف جانا ہے، اس لئے ہر سفر کو جلدی طے کیا۔ آپ نے مختلف آیات عظام سے روحانی و عرفانی فیوضات حاصل کئے۔ آپ کو علم اصول، فقہ، حدیث، رجال، فلسفہ، کلام، ادبیات عرب اور علوم قرآن و تفاسیر میں مکمل مہارت حاصل تھی۔ آپ حصول علم کے ساتھ ساتھ ، باطنی اور عرفانی کمالات کی طرف توجہ رکھتے تھے۔ آپ ولایت فقیہ، انقلاب اسلامی اور فکر امام خمینی (رہ) کے مبانی پر تبحر رکھتے تھے اور ولایت فقیہ اور نہج البلاغہ کی تدریس کیا کرتے تھے۔

قومی اور اجتماعی میدان میں بھی زمانہ طالب علمی سے لے کر جام شہادت نوش کرنے تک بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہر میدان میں اپنی علمی اور سیاسی بصیرت کی وجہ سے کامیاب رہے۔ مذہبی امور کے عشق میں جیل کی مشکلات بھی سہیں، لیکن صبر و استقامت کا پہاڑ بن کر رہے۔ اللہ تعالٰی نے ان کے اندر فصاحت و بلاغت اور دلیل و منطق کے ذریعے مسائل کو بیان کرنے کی ایک خاص مہارت ودیعت کر رکھی تھی، جس کی وجہ سے وہ لوگوں کو جلد ہی قائل کر لیتے تھے۔ سانحہ چلاس، سانحہ لولوسر، سانحہ کوہستان، سانحہ کوئٹہ، سانحہ عباس ٹاؤن وغیرہ میں شہید فخرالدین ظلم کے خلاف آواز حق بلند کرنے میں پیش پیش رہے۔ جب قم المقدسہ میں ہم نے سانحہ چلاس کے شہداء کے لئے مجلس ترحیم رکھی تو خطابت کا فریضہ آپ نے سنبھال لیا اور اپنے فن  خطابت کے ذریعے مجلس ترحیم کو ایک احتجاجی جلسہ کی شکل میں تبدیل کر دیا، جو اپنی جگہ بے مثال اور بےنظیر مجلس ترحیم میں تبدیل ہوگئی۔

مسئلہ فلسطین، عراق، بحرین، یمن اور ایران عراق جنگ، اسی طرح عالم اسلام کے اہم مسائل پر کڑی نظر رکھتے تھے اور ہمیشہ حق کا برملا اور ببانگ دہل اعلان کرتے تھے۔ شہید ضیاء الدین کے نصاب کی تحریک میں بھی آپ نے حصہ لیا اور پورے گلگت بلتستان کا دورہ کرکے عوام کو اصل حقائق سے روشناس کرایا، گرچہ نصاب کی اس تحریک میں بھی میں بلتستان کے بزرگ علماء و زعماء خاموش  رہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے طلاب آپ کی تقاریر اور دروس سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ جس طرح پاکستان اور بلتستان کے عوام ان کی مدبرانہ، عالمانہ اور مبارزانہ زندگی کی وجہ سے ان کے  عاشق تھے۔ آپ دوست و دشمن، موافق و مخالف سب کے سامنے محکم اور مضبوط دلائل کے ساتھ گفتگو کیا کرتے تھے۔ حوزہ علمیہ قم میں جب کبھی طلاب کسی ادارے یا شخصیت سے ملاقات کا پروگرام بناتے تو اس وفد میں آپ کو ضرور شامل کرتے تھے۔ آپ طلاب پاکستان بالاخص طلاب بلتستان کی پہچان بن گئے تھے۔ طلاب کی مشکلات حل کرنے کے لئے پیش پیش تھے۔ اگر ایک نیا طالب علم بھی آپ کو کسی جگہ جانے کے لئے کہتا تو دریغ نہیں کرتے تھے۔

آپ حصول علم کے ساتھ ساتھ سال کا زیادہ عرصہ تبلیغ دین میں گزارتے تھے اور مسلسل کئی سالوں سے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کر رہے تھے، لیکن اس سال دعائے عرفہ کی تلاوت، مناسک حج اور زیارت بیت اللہ کے بعد دس ذی الحجہ کو آل سعود، نسل یہود کی لاقانونیت اور ان کے ناپاک عزائم کے نتیجہ میں ملت مظلوم تشیع، عزاداران سیدالشہداء علیہ السلام اور تمام عاشقان ولایت کو علمی و فکری طور پر مغموم کرکے ومن یهاجر الی اللہ ورسولہ ...... کا مصداق بن گے۔ بقول حشمت کمال الہامی صاحب:
تعزیت کیسے کریں ہم پیش ملت کے حضور
جن کی فرقت تا ابد ہے ایک درد لا دواء
اب کہاں سے لائیں ہم پاکیزہ اس کردار کو
دین و وحدت کے لئے تھی منفرد جن کی ادا

حج کے سفر سے پہلے جب گھر والوں اور قریبی دوستوں نے انہیں اس سال حج پر جانے سے روکا تو انہوں نے یہ جملہ کہا کہ اگر موت کا وقت آپہنچا ہے تو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سفر کریں یا نہ کریں موت مقرر شدہ چیز ہے۔ اس کلام سے مجھے حضرت علی اکبر علیہ السلام کا وہ جملہ یاد آتا ہے، جسے آپ نے والد بزرگوار سے فرمایا تھا: اگر ہم حق پر ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے کہ موت ہم پر آ پڑے یا ہم موت پر، لیکن آپ بڑے خوش قسمت تھے، دو تین ماہ دینی اور تبلغی میدانوں میں محو عمل رہنے کے بعد، مقدس اور پاکیزہ ترین جگہوں کی زیارت کرنے اور دعائے عرفہ کی تلاوت کرنے کے بعد پاک و پاکیزہ ہو کر حکم الہی پر لبیک اللہم لبیک کہتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے۔ سانحہ منیٰ کے بعد سے آپ کی شہادت کی خبر آنے تک قم المقدسہ، مشہد مقدس، نجف اشرف اور پورے پاکستان بالخصوص گلگت بلتستان میں جگہ جگہ پر محافل دعائیہ کا سلسلہ جاری رہا، لیکن جب یکم محرم الحرام کو ان کی شہادت کی خبر سنی تو ہر جگہ صف ماتم بچھ گئی اور ہر طرف ایک کہرام مچ گیا۔ ہر ایک اس عظیم خدائی نعمت سے محروم ہونے پر اشک بہا رہا تھا، لیکن خدا کو یہی منظور تھا کہ اس کا بندہ حالت احرام میں تمام گناہوں سے پاک و پاکیزہ ہو کر اس سے آ ملے۔

بقول شاعر:
ذاکر فرش عزا علم کا محور نہ رہا
دین و ملت کا وہ انمول مقدر نہ رہا
مثل مسلّمؑ گیا جو پیش خدا غربت میں
راہ حق کا وہ مجاہد، وہ دلاور نہ رہا
حالت حج میں شہادت کا شرف جس کو ملا
ہائے قسمت وہ مقدر کا سکندر نہ رہا
جس نے منبر سے خطابت کو نیا رخ بخشا
اب وہ میدان خطابت کا غصنفر نہ رہا
جس کی قدموں کو سدا فتح و ظفر نے چوما
دار فانی میں وہی شخص مظفر نہ رہا
اہل بیت عصمت و طہارت سے عشق و محبت ان کے پاک اور خالص دل میں بھری ہوئی تھی۔ ساری زندگی غم حسین علیہ السلام میں اشک بہاتے رہے اور مظلوم کربلا کے مصائب بیان کرتے رہے اور یوں سالار شہیدان کے سامنے سرخرو ہوئے۔ شاید برسوں تک ہم ان کو بھلا نہ سکیں، کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: [موت قبیلۃ ایسر من موت عالم] ایک قبیلے کی موت ایک عالم کی موت سے تحمل کرنے میں آسان تر ہے۔ [کنز العمال ۲۸۸۵۸]

شہید مظلوم منٰی، پاسدار ولایت فقیہ اور پاکستان و بلتستان میں فکر ولایت فقیہ کو عام کرنے والے ایک حقیقی مجاہد اور باعمل عالم تھے۔ وہ نہ صرف عوام کے لئے بلکہ حوزہ علمیہ میں موجود علماء اور طلاب کے لئے بھی نمونہ عمل اور اسوہ تھے۔ استاد محترم آیت اللہ غلام عباس رئیسی نے ایک بڑی محفل میں، جب شیخ صاحب زندہ تھے تو ان کے بارے میں فرمایا تھا: ان کا شمار پاکستان کے  ایک درجہ کے علماء میں ہوتا ہے اور یہ شخصیت تمام طلاب کے لئے نمونہ عمل اور اسوہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر اس شہید کی شہادت کی خبر یکم محرم الحرام کو نہ پہنچتی تو شاید پسماندگان میں اتنا بڑا سانحہ سہنے کی طاقت نہ ہوتی، لیکن شاید یہ شہید کہ اپنی دعا ہوگی کہ انہوں نے خداوند متعال سے دعا کی ہوگی کہ میری جدائی کا غم شاید میرے گھر والوں کو برداشت نہ ہو، اس لئے اس غم کو  غم حسین علیہ السلام سے ملا دے۔ یوں بیس دن تک متضاد خبریں آنے کے بعد  یکم محرم الحرام  کو ان کی شہادت کی خبر آپہنچی۔

ان کی شہادت کی خبر سنتے ہی طلاب، قم المقدسہ میں ان کے گھر تعزیت کے لئے جوق در جوق پہنچ گئے۔ المصطفٰی اسلامک یونیورسٹی کے سربراہ اور قم المقدسہ کے امام جمعہ حضرت آیت اللہ اعرافی {دامت برکاتہ } بھی آپ کے گھر تشریف لائے اور یوں اظہار خیال فرمایا: ہمارے برادر عزیز جناب ڈاکٹر فخرالدین درحقیقت حوزیہ علمیہ قم کے بارز ثمرات میں سے تھے، آپ علمی، فکری اور اجتماعی حوالے سے نابغہ روزگار اور جامع شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی شہادت سے ملت اسلامیہ ایک عظیم مجاہد، مبارز، زمان شناس اور بابصیرت عالم دین سے محروم ہوئی ہے۔ ان کی اولاد ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور ہم ان کی تعلیم و تربیت میں کسی قسم کی کوتائی نہیں کریں گے۔ آخر میں اس عظیم ہستی کی شہادت کی مناسبت سے تمام عاشقان ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام اور ان کے پسماندگان  کی خدمت میں تبریک و تسلیت عرض کرتا ہوں۔
شہادت مبارک و گوارا باد اے فخر ملت۔۔۔۔
موت آئے بھلا تجھ کو کیسے
تو، تو زندہ ہے تا صبح محشر
اے مفکر، اے معلم، اے مجاہد
حشر تک تجھ کو بھولے ہم نہ شاید۔۔۔
والسلام علیہ یوم یموت و یوم یبعث حیا

وحدت نیوز(اٹک) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین اٹک و آئی ایس اوطالبات قاسم سلیمانی یونٹ کی جانب سے معرکہ سیف القدس پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر محترمہ عابدہ بتول نے اپنے خطاب میں کہا اسلام کی کسی نشانی پر حرف آئے تو کوئی مسلک نہیں دیکھا جاتا کیونکہ یہ فرقے ہم نے بنائے ہیں حقیقت میں رسول اللہ ؐ فرماتے ہیں تم ایک واحد امت ہو۔

 ان کا کہنا تھا امام حسین ابن علی ع نے جو دو راستے بتائے مزاحمت اور مقاومت ان کو اختیار کر کے ہی ستمگروں کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے بیت المقدس کی آزادی کے دن قریب ہیں۔ انہوں نے کہا فلسطینی عوام نے اسرائیلی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کا غرور خاک میں ملا دیا ۔

پروگرام میں آئی ایس او طالبات کی جانب سے شہداۓ فلسطین کو اشعار کی صورت میں خراج تحسین پیش کیا جبکہ ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کی مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات زینب بنت الھدی اور محترمہ صائمہ زہرا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، پروگرام میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی خواہران اور الہدی سنٹرکے عہدیداران نے شرکت کی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع بھکر کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل برادرملازم حسین خان اس دنیا سے رخصت ہو گئے،ان کی نماز جنازہ رات 8:30 بجے پیر اصحاب میں ادا کی جائے گی،احباب سے تدفین کے بعد سورہ فاتحہ اور نماز وحشت قبر کی اپیل ہے۔

ملازم حسین خان کے انتقال پرملال پر سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصرعباس جعفری، علامہ سید احمد اقبال رضوی، ناصرشیرازی، جنوبی پنجاب کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ سید اقتدار حسین نقوی سمیت دیگر مرکزی و صوبائی قائدین نے دلی رنج وغم اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

قائدین نے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ خدا وند متعال مرحوم کے گناہان کبیرہ وصغیرہ کو معاف فرمائے اور انہیں جوار آئمہ معصومین ؑ میں محشور فرمائے ۔ ہم مرحوم کے اہل خانہ کے غم میں  برابر کے شریک ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کا ریاست آزاد جموں کشمیر کے عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان، سربراہ ایم ڈبلیو ایم علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی زیر صدارت کمیٹی برائے انتخابات 2021ریاست آزاد جموں کشمیر کے ایک اہم اجلاس میں کیے جانے والے اس فیصلے کی اکثریت رائے سے منظوری دی گئی ہے۔

 اجلاس میں ریاستی امور کے حوالے سے طویل گفت و شنید کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جو پاکستان میں ملت مظلوم کے سیاسی استحکام اور وقار کے لیے بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔اپنی قوم کی ہر سطح پر نمائندگی ہماری اولین ترجیح رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے قومی، صوبائی ، بلدیاتی اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں ہم نے کبھی میدان خالی نہیں چھوڑا اور شبانہ روز کاوشوں سے اپنی سیاسی اہلیت کو ثابت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے متوقع انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ اصولی اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔مجلس وحدت مسلمین کے اتحاد و اخوت کے منشور کو تمام مکاتب فکر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسے جماعت کو مختلف مکاتب فکر میں یکساں مقبولیت حاصلِ ہے۔

آزاد کشمیر کے انتخابات کےحوالے سے حکمت عملی کو ترتیب دینے کے لئے ایم ڈبلیو ایم کے شعبہ سیاسیات کو بھی خصوصی ہدایات جاری کردی گئیں۔ مجلس وحدت مسلمین ریاست آزاد جموں کشمیر کے سیکرٹری جنرل علامہ تصور جوادی اور پارلیمانی کمیٹی کے اراکین نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابات میں بہترین نتائج کے حصول کے لیے اپنی تمام تر کاوشوں کو بروئے کار لائیں گے۔

وحدت نیوز(گلگت) مجلس وحدت مسلمین وومن یوتھ ونگ کی اراکین نے سینئر رہنماؤں سے امور شعبہ جوان میں خصوصی تربیتی پروگرامات کے حوالے سے بات چیت کی اور گلگت میں ہونے والی سیاسی اور ثقافتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پروگرامات کو تشکیل دیے جانے کے حوالے سے بریف کیا ۔

اس موقع پرایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عارف حسین قنبری کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا قیام جن حالات میں ہوا  اس وقت شیعہ بہت کمزور ہو چکے تھے آج ہماری طاقت سیاسی پلیٹ فارم ہے اور اس سے دور رہ کے ہم اپنے اصل ہدف تک نہیں پہنچ سکتے ۔انہوں نے آئی ایس او کی سینئر خواہران کو مجلس وحدت مسلمین میں شمولیت پر خوش آمدید کہا ۔

ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری یوتھ محترمہ سائرہ ابراہیم نے کہا کہ شعبہ جوان  ایک وسیع شعبہ ہے جس میں مختلف انداز سے کام کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت نوجوانوں کی سیاسی اور نظریاتی تربیت کی جانی چاہیے ۔انہوں نے کہا کے آج آئی ایس او کی سینئر ارکین کی ملت کی خدمت کے لیے ایم ڈبلیو ایم میں شمولیت قابل تحسین ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہاہے کہ ڈاکو کلچر کے ہاتھوں سندھ کا امن و امان خراب ہو چکا ہے۔ چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتیں پولیس اور حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ شکار پور کے علاقے میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد کی شہادت محکمہ پولیس کی صلاحیت اور پولیس افسران کی پلاننگ پر سوالیہ نشان ہے۔ جدید دور میں میں بھی اگر پولیس ڈاکوؤں کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی تو پولیس کے ذمہ دار افسران کی کارکردگی اور صلاحیت سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد چور ڈکیت اور امن دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس کو جدید انداز سے تربیت اور وسائل کی ضرورت ہے۔ کرپشن زدہ محکمہ پولیس کی بکتر بند گاڑیوں میں بیٹھے اھلکار غیر محفوظ ہیں۔انہوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ ڈاکوؤں کے پاس جدید اور بھاری اسلحہ کیسے پہنچتا ہے جبکہ پولیس کے پاس بھی اتنا بھاری اسلحہ موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پولیس کے ان جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے قیام امن کے لئے سماج دشمن ڈاکوؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکو راج کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے اور اس آپریشن میں پاک فوج اور رینجرز کا تعاون حاصل کیا جائے۔

وحدت نیوز(کراچی ) مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر کے سیکرٹری جنرل احسن عباس رضوی کا کہنا تھا کہ موثر بلدیاتی نظام کے فقدان کے سبب شہری مشکلات کا شکار ہیں۔حکمرانوں کی نیک نیتی عوامی مسائل کے حل میں شامل نہیں۔شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر پانی، بجلی،سیوریج  سمیت دیگر مسائل عوامی پریشانی ومشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ شہریوں کو بلدیاتی نظام کے بغیر لاوارثوں کے عالم میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں آوارہ کتوں کی بہتات نے عوام کو خوف و حراس میں مبتلا کیا ہوا ہے اگر انتظامیہ ان کو مار نہیں سکتی تو پکڑ کر شہر سے باہر کسی مقام پر بند کردے۔

انہوں نے کہا شہری حکومت ضلع ملیر پر خصوصی توجہ دے ضلع ملیر میں صفائی ستھرائی کی بدترین حالت،آوارہ کتوں کی بہتات نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ ضلع ملیر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر تعفن اور بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں لیکن انتظامیہ خواب غفلت میں ہے۔انہوں نے کہا کہ کتے کے کاٹے سے متاثرہ شہری ویکسین کی تلاش میں اسپتالوں میں در در کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں جب کورونا ویکسین لگوانے کیلئے حکومت ایڑی چوٹی کا زور لگا سکتی ہے کتا مار دوا اور کتے کے کاٹے کی ویکسین کا انتظام کیوں نہیں کرسکتی؟؟

سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور آوارہ کتوں کے خاتمے کے احکامات جاری کیئے جائیں اور بلدیاتی انتخابات کا حکم نامہ جاری کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اور اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی ہی مسائل کے حل کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

وحدت نیوز(کوٹ ادو)فلسطینی مسلمانوں پر جاری صیہونی بربریت اور جارحیت کے خلاف اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں مجلس وحدت مسلمین تحصیل کوٹ ادو کے زیراہتمام یکجہتی فلسطین ریلی کا اہتمام کیا گیا، ریلی کالی پُل سے پریس کلب تک نکالی گئی، ریلی میں مجلس وحدت مسلمین کےعلاوہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، شیعہ علماء کونسل، جمعیت علمائے اسلام(ف)، انجمن تاجران کے رہنمائوں اور عہدیداران نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکا نے ہاتھوں میں اسرائیل کے مظالم کے خلاف پلے کارڈز اور پینافلیکس اٹھا رکھے تھے، احتجاجی ریلی کے شرکا نے اسرائیل مردہ باد کے نعرے بھی لگائے۔

 ریلی سے مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی رہنما طاہر خورشید، شیعہ علماء کونسل کے رہنما مولانا احسان اللہ اتحادی، تحریک بیداری اُمت مصطفی(ص) کے رہنما ملازم حسین خان، جامعہ دارالزہراء کے پرنسپل مولانا سجاد حسین کاظمی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا حزیفہ شاکر، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما محمد شمشیر حیدر، جامعة الشیعہ کوٹ ادو کے نمائندے مولانا حسن رضا نے خطاب کیا۔

 رہنمائوں نے اپنے خطابات میں اُمت مسلمہ سے فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کا مطالبہ کیا، رہنمائوں نے کہا کہ قبلہ اول بیت المقدس کی حرمت خانہ کعبہ سے کم نہیں، ہمیں اپنے شعائراللہ کی حفاظت کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا۔

Page 10 of 1131

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree