The Latest

وطن کی بیٹی عافیہ صدیقی پر مشکوک مقدمہ

aafia siddiquiسیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر امریکہ میں چلائے جانے والے مقدمے پر کڑی تبقید کرتے ہوئے لاہور کے لاکھوں کے اجتماع میں کہا تھا کہ عافیہ صدیقی اس وطن کی بیٹی ہے جسے ظالم امریکیوں نے قید کیا ہوا ہے ،ہم ہر مظلوم کے حامی ہیں۔ڈان اخبار نے حال ہی میں اس سلسلے میں ایک اہم مضمون لکھا ہے ملاحضہ کیجیے۔

امریکی اپیل کورٹ نے ستمبر، دو ہزار دس میں عافیہ صدیقی کو سنائی گئی چھیاسی برس قید کی سزا کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

سزا کی شدت ایک اور سوال کو جنم دیتی ہے۔ کیا جس جرم میں محترمہ صدیقی کو سزا دی گی، وہ واقعی اس مقدمے میں اتنی کڑی کی سزا کے لائقِ تھیں؟

کیا ایف بی آئی ایجنٹوں اور فوجیوں پر گولی چلانے کے ایسے جرم میں جس میں کوئی زخمی بھی نہیں ہوا تھا، عمر قید کی سزا دینا کافی نہیں ہوتا؟

سوالات اس کیس پر چھائی گہری دھند میں صرف اضافے کا سبب ہی ہوں گے۔

محترمہ عافیہ کے بنیاد پرست اسلام پسندوں کے ساتھ رابطے حقیقت میں سزا کا سبب نہیں۔ تو پھر ان کی گرفتاری، جرم اور مقدمے کی سماعت میں پریشان کُن بات کیا ہے۔

محترمہ عافیہ سن دو ہزار تین سے دو ہزار آٹھ کے درمیان کہاں تھیں؟ کیا وہ پاکستان میں تھیں یا امریکیوں کی تحویل میں تھیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر سن دو ہزار آٹھ میں ان کی گرفتاری کی اصل کہانی کیا ہے۔

اگر وہ امریکیوں کے خلاف کوئی دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کرنا چاہ رہی تھیں، یا وہ اس طرح کی کوئی منصوبہ بندی کے وقت گرفتار کی گئیں تھیں تو پھر گرفتاری کے بعد ان کے خلاف امریکی اہلکاروں پر فائرنگ کا ہی مقدمہ کیوں بنایا گیا؟

اس ساری غیر یقینی صورتِ حال میں یہی نظر آّتا ہے کہ امریکی حکومت کچھ چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ جس کی وجہ سے محترمہ عافیہ کی حراست اور ان کے مقدمے کی شفاف سماعت پر شکوک جنم لے رہے ہیں۔

جو کچھ ہوا، اس صورتِ حال میں صرف پاکستانی ‘فائر برانڈ’ کے لیے جواز مہیا ہوتا ہے کہ جنہوں نے انہیں ایک ایسی علامت کے طور پر پیش کیا کہ امریکیوں کے ساتھ جو کچھ بُرا ہوا، اس سب کی وہی ذمہ دار تھیں۔ ساتھ ہی اس شکوے کا جواب بھی کہ پاکستان امریکا کے ساتھ تعاون نہیں کررہا۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سن دو ہزار آٹھ سے پہلے، ان کے منظرِ عام پر آنے سے قبل تک، پاکستان کو ان کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں۔

چار سال گزرجانے کے باوجود متعدد سوالوں کے جوابات نہ ملنے اورعائد کی گئی فردِ جرم سے کہیں زیادہ سزا دیے جانے پر، عافیہ کیس بدستور پاکستان میں امریکا مخالف جذبات کو پروان چڑھانے کا سبب ہے۔

mwm.mashhad01علامہ آفتاب حیدر کی شھادت ملت تشیع پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا صدمہ ہے جسکے لئے ہم امام زمان علیہ الاسلام کی خدمت میں تسلیت پیش کرتے ہیں۔

یہ بات سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین مشھد حجۃ الاسلام عقیل حسین خان نے ایک ہنگامی اجلاس میں کی۔انہوں نے کہا جیسے جیسے ماہ محرم نزدیک آرہا ہے سامراجی کارندے عزاداری کو رکوانے کے لئے میدان میں آگئے ہیں۔لیکن ہم عزاداری سیدالشہداء کا تحفظ اپنے خون کا آخری قطرہ بہا نے تک کرینگے۔

انہوں نے کہا آئے روز شیعہ علماء و ذاکرین،ڈاکٹرز،انجینئرز،پروفیسرز اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو پورے پاکستان میں پلانینگ کے ساتھ شھید کیا جا رہا ھے ۔اور اس میں داخلی اور خارجی عوامل ملوث ہیں۔اور ہمارے نا اہل حکمرانوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ انہیں لوٹ کھسوٹ سے ہی فرصت نہیں ہے۔

علامہ عقیل حسین خان نے کہا آج حکومت ،عدلیہ ،فوج اور سیکورٹی کے ادارے سب اپنی ذمہ داری کو انجام نہیں دے رہے۔شیعہ دانشوروں ،اسکالرز،اور پڑھے لکھے طبقے کا قتل عام صرف شیعیان حیدر کرار کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ وطن عزیز کے ساتھ بھی کھلی دشمنی ہے۔

انہوں نے کہا پاکستان میں شیعیان علی کا قتل عام دراصل اسی امریکی اورسامراجی ایجنڈے کا حصہ ہے جو انہوں نے عراق ،افغانستان،بحرین ،سعودیہ،لبنان اور شام میں شروع کر رکھا ہے۔جسکا مقصد اسلام کو کمزور کرنا ہے۔

سیکریٹری جنرل مشھد مقدس نے کہا خدا وند کریم سے دعا ہے کہ شھیدعلامہ آفتاب حیدر کو جنت الفردوس میں جوار آئمہ علیہم السلام میں جگہ عنایت فرما

mwm.pishwarمجلس وحدت کے پی کے،کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ سیدعبدالحسین الحسینی نے کہاکہ24گھنٹوں میں ملت تشع کے 8 افرادکو بے دردی سے شہید کئے گئے جس میں علامہ افتاب حیدر جعفری اوررجیسے اہم سماجی شحصیت اورقوم کے محافظ ایس پی ہلال حیدر بھی شامل ہیں محرم کے آمد پر قوم کو 8لاشیں تحفے میں دینا شیعہ قوم کو دیوار سے لگانے کا ایک منظم شازش ہیں جسکو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائیگا۔
ہم حیران ہیں کہ پولیس اپنے ہی آفیسران کی تحفظ نہیں کر سکتی وہ عوام کی کیاتحفظ کرینگے یاوہ محرم میں لاکھوں لوگوں پرمشتمل جلوس کا کیا تحفظ کرینگے۔ اگر ان واقعات کوروکنے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے۔توان جیسے سانحات ہمیشہ رونما ہونگے اور کسی بھی قسم کے ممکنہ نقصان کے ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ ہم انتظامیہ کو باخبر کرنا چاہتے ہیں کہ محرم میں ان جیسے واقعات ناقابل برداشت ہونگے۔ ۔انہوں نے کہاکہ اگر انتظامیہ ہماری تحفظ نہیں کر سکتے توہمیں اسلحے کے لائنسس جاری کردے ہم اپنا تحفظ خود کرنے کو تیار ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ اس بات کی نشان دہی مرکزی سیکرٹری جنرل نے بھی کی ہے۔ علامہ صاحب نے شہیدعلامہ افتاب حیدر جعفری ، شہیدہلال حیدر اور دیگرافرادکی شہادت کو پرزور الفاظ میں مذمت کی۔اور مطالبہ کیاکہ ان کے قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچائے جائے

تحفظ عزاداری کانفرنس چکوال کی رپورٹ

chakwal.mwm01اگر سرزمین وطن پر حسینیت کو پروان چڑھنے دیا جاتا توآج ہمارا ملک دہشت گردی کے ناسور سے پاک ہوتا غم حسین ہماری پاکیزہ میراث ہے، کسی بھی صورت میں عزاداری کومحدود نہیں ہونے دیں گے 
امام بارگاہ سر پاک چکوال میں تحفظ عزاداری کانفرنس سے خطاب ، کانفرنس سے علامہ غلام حر شبیری، علامہ محمد اصغر عسکری ، سید ناصر عباس شیرازی، سید محسن طاہرہمدانی اورذاکر یاسر عباس نے بھی خطاب کیا
چکوال ( وحدت نیوز) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ عزاداری سید الشیداء ہماری پاکیزہ ترین میراث اور دفاع مکتب آل محمد کی فرنٹ لائن ہے ، ہم کسی بھی صورت عزاداری کو محدود نہیں ہونے دیں گے ، عزاداری یزیدان عصر کے خلاف جنگ لڑنے کا پہلا مورچہ ہے ، اگر سرزمین وطن پرحسینیت کو پروان چڑھنے دیا جاتا توآج ہمارا ملک دہشت گردی کے ناسور سے پاک ہوتا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایم ڈبلیو ایم ضلع چکوال کے زیر اہتمام امام بارگاہ سر پاک میں منعقدہ تحفظ عزاداری کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا مکتب آل محمد کا اپنا الگ سیاسی نظام ہے ، وہ نظام جو خالق کائنات نے دیا ،جسے نظام ولایت کے نام سے پہچانا جاتا ہے ،نظام ولایت اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت عظمیٰ ہے یہ نظام انسان کو تاریکیوں سے نکال کر وادی نور میں لے آتا ہے جبکہ اس کے مد مقابل شیطانی نظام تاریکیوں کے جہنم میں پہنچاتا ہے ، علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ علی ؑ جس طرح علم کا دروازہ ہیں، اسی طرح باب ولایت بھی ہیں ،علی کی ولایت توحید کی جانب لے جاتی ہے، علی ؑ کی ول؛ایت وہ قلعہ ہے کہ جس میں داخل ہونے والا انسان عذاب سے بچ جاتا ہے آج جو علیؑ کی ولایت کو نہیں مانتے امریکہ اور اسرائیل کی اطاعت کر رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ولایت علیؑ کا اقرار طاغوت سے بغاوت کا اعلان ہے ، آج ہم فقہی حوالے سے تو شیعہ ہیں ؂لیکن سیاسی حوالے سے شیعہ نہیں ، کوئی زرداری کی اطاعت کر رہا ہے ، کوئی عمران خان اور ایم کیو ایم کی ولایت کو مانتا ہے اور کوئی نواز شریف کی ولایت کا اقرار کر رہا ہے ، یہ سب شیطانی نظام سیاست ہے اور سب سے بڑا شرک ہے ،ہمارے خاندانوں کے خاندانان فرعونوں کے پیچھے چل رہے ہیں، ان سیاسی جماعتوں نے پاکستان کے پانچ کروڑ شیعیان علی کو تقسیم کر رکھا ہے انہوں نے کہا کہ غدیر کشتی نجات ہے ، ولا یت میں پوری بشریت کا وزن اٹھانے اور قرب خدا تک پہنچانے کی طاقت ہے ، ہم شہید حسینی کی بصیرت کے مالک ہیں ملت تشیع کو ولایت علی کی طرف لوٹا کر رہیں گے ان فرعونوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے، ہم کرارؑ کے ماننے والے ہیں میدان سے فرار نہیں ہوں گے۔chakwal.mwm02
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہ علامہ غلام حر شبیری نے کہا کہ منافقین میں عزت کا معیار ان کا اسلحہ ، طاقت ، غرور اور گھمنڈ ہے ، آج جہاں جہاں دہشت گردی ہو رہی ہے، کہ یہ منافقین کی کارستانی ہے ، منافقین جاہلانہ سوچ رکھتے ہیں اور کلاشنکوف سے اقتدار اور عزت حاصل کر نا چاہتے ہیں ، لیکں حسینی طاقت سے نہیں اپنے خون سے عزت حاصل کرتے ہیں ، ملت تشیع شہید پرور قوم ہے ، ہم کربلا کے وارث ہیں ، گھروں میں چھپ کر نہیں بیٹھتے میدان میں آکر باطل کا مقابلہ کرتے ہیں ، ہم اسلام کی بقا اور پاکستان کی سالمیت و استحکام کے محافظ ہیں ، قانون کے نفاذ اور عدالت کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گے اور انشاء اللہ عدالت علوی کو ایوانوں تک پہنچا کر ہی دم لیں گے ، علامہ حر شبیری نے کہا کہ آج ہمیں پاکستان کے مختلف شہروں سے شہادتوں کی خبریں مل رہی ہیں ، ہماری ملت کو آزمایا جا رہا ہے ، اگر پوری ملت بھی شہید ہو جائے تو اس کا خون کربلا کے کمسن جاہد شہزادہ علی اصغر کے مقدس خون کے ایک قطرے کا نعم البدل نہیں ، آئیں کربلا سے درس حاصل کریں ، عزادار ی مشن کربلا کی ترویج کا نام ہے اور عزاداری کے تحفظ کا ایک ہی اصول ہے اور وہ وحدت ہے ، اگر ہمارے علمائے کرام،ذاکرین ، ماتمیوں ، عزاداروں ، بانیان مجالس، امام بارگاہوں اور تنظیموں میں وحدت ہو تو ہماری ملت ایک عظیم ملت ثابت ہو سکتی ہے ۔chakwal.mwm03
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ ہم اس قوم کے فرد ہیں جس نے لبنان میں اسرائیل کوذلت آمیز شکست دے دوچار کیا ، ہمارے پاس ایک روشن نظریہ ہے ، ہم نے جابرانہ نظام کے خلاف پرچم عباس باوفا بلند کر رکھا ہے ، ہم ہر باطل کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں ، اس لیے کہ ہم کسی دنیاوی نظام کے محتاج نہیں ، ہم تمام دنیاوی نظاموں کے مقابلے میں ایک نظام رکھتے ہیں اور وہ نظام مہدویت ہے ۔ ہم نے اسی نظام کے تحت انقلاب اسلامی کی کامیابی کی شکل میں استعمار کو ایسی شکست دی کہ وہ ابھی تک اپنے زخم چاٹ رہا ہے ۔ آج ہماری سرزمین شیعیان علی کے خون سے رنگین ہے، شائد ہی کوئی دن ایسا ہو جب شیعیان علی ؑ کا خون نہ بہایا گیا ہو ، کیا ہم معمولی لوگ ہیں ؟؟ پاکستان میں ہماری تعداد پانچ کروڑ ہے ، دنیا میں ایک سو ممالک ایسے ہیں جن کی آباد ی پانچ کروڑ سے کم ہے ، ہمارے ملک میں 96 لاکھ ووٹوں سے سیاسی تبدلی رونما ہوتی ہے ، ہم پانچ کروڑ ہونے کے باوجود بے توقیر ہیں ، آخر کیوں ؟انہوں نے کہا کہ قومیں اسلحہ اور افرادی قوت سے نہیں اعتماد سے بنتی ہیں ، ہمارے پاس نظریہ ہے لیکن ہم سے اعتماد چھین لیا گیا ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ملت تشیع کو اس کا عتماد لوٹا کر اتنا منظم اور طاقتور بنا دیا جائے کہ ملک کی کوئی بھی داخلی و خارجی پالیسی شیعیان علی کے بغیر نہ بن سکے ۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے ملت تشیع کو عزت اور سربلندی سے آشنا کیا اور قوم کو اعتماد کی دولت عطا کی ۔ ہم عزاداری کی نہیں ، عزاداری ہماری حفاظت کرتی ہے ۔ عزاداری کا ہم پر حق ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم شیعیت کی آواز کو بلند کریں ، ہمارے پاس دعا و مناجات ، عزاداری اور لبیک یا حسی کا نعرہ ایسی چیزیں ہیں جو ہمیں کامیابی دلا سکتی ہیں، ، تشیع ہمارا فخر ، افتخار اور امتیاز ہے ، شیعہ ووٹ ضائع نہیں ہونا چاہیے ، تحفظ عزاداری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ۔
ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ عزاداری کا اسلام کے ساتھ ایسا تعلق ہے ، جیسا بدن کا روح سے ہوتا ہے اسلام سے عزاداری کو نکال دیا جائے تو اسلام مر جائے گا ، اس لیے آخرت میں سعادت حاصل کرنے کے لیے عزادار ی میں کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہونا چاہیے ، خواہ وہ مجلس کی شکل میں ہو ، ماتمداری کی شکل میں ہو یا نذر نیاز کی شکل میں ہو، انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہر امام ہادی ہے لیکن جو شخص امام حسین ؑ کی بارگاہ میں آ جاتا ہے وہ جلد ہدائت حاصل کرتا ہے ، کیوں کہ نبی پاک ؐ کا فرمان ہے کہ حسین ہدایت کا چراغ اور نجات کی کشتی ہے ، علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ عزاداری ہماری محتاج نہیں ہم عزاداری کے محتاج ہیں ، ایران میں عزاداری کی برکت سے ہی انقلاب آیا ،امام خمینیؒ نے کہا تھا کہ اگر محرم اور صفر نہ ہوتے تو انقلاب ناممکن تھا ،آج اگر ملت تشیع سربلند ہے تو یہ کربلا والوں کی محبت کا ثمر ہے ۔ اسلئے دشمن چاہتا ہے کہ عزاداری محدود ہو ، دشمن کو میدان سے بھگانے کے لیے عزاداری پر پہلے سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ خون سے لکھی گئی ہے ، ہم نے گردنیں کٹوائیں لیکن عزاداری پر آنچ نہیں آنے دی ، آج ذاکر ، ماتمی ،ملنگ ، علمائے کرام سب ایک ہیں ہمارے کوئی الگ الگ گروہ نہیں ہم سب علی والے ہیں اگر ہم متحد اور منظم رہیں تو دشمن میدان چھوڑنے پر مجبورر ہو جائے گا ، انہوں ے کہا کہ کراچی میں ملت تشیع کے عظیم سرمایہ علامہ آفتاب حیدر جعفری کو شہید کیا گیا ، ہم نے تحفظ ناموس رسالت ؑ کے لیے سید علی رضا تقوی کی شکل میں پہلی قربانی دے کر یزیدان عصر کو یہ پیغام دیا کہ اگر کوئی قوم یزیدان عصر کے خلاف اٹھے گی تو وہ ملت تشیع ہو گی ۔ 
کانفرنس سے ایم ڈبلیو ایم چکوال کے ضلعی سیکرٹری جنرل سید محسن طاہر ہمدانی ، ذاکر راجہ یاسر عباس ، اور ذاکر اعجاز حسین بھٹی نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں جب ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری چکوال پہنچے تو شہر سے باہر ایم ڈبلیو ایم اور آئی ایس او کے کارکنوں و عہدیداروں نے ان کا شاندار استقبال کیا اور انہیں ایک جلوس کی شکل میں امام بارگاہ سر پاک لایا گیا

karachi.mwm.aftabعلامہ آفتاب حیدر جعفری شہید اور شاہد علی مرزا شہید کے سوئم کی مناسبت سے مجلس سوئم و تعزیتی اجتماع کا انعقاد خراسان روڈ پر بعد از مغربین خانوادہ شہداء کی جانب سے کیا گیا۔ اجتماع سے خطاب مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنماؤں علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ اعجاز حسین بہشتی، علامہ حسنین عباس گردیزی، علامہ مختار امامی، جعفریہ الائنس کی جانب سے علامہ عباس کمیلی نے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر مجلس ذاکرین امامیہ پاکستان کے سربراہ علامہ نثار قلندری، علامہ جعفر رضا نقوی جبکہ دیگر علمائے کرام میں مولانا حیدر عباس عابدی، مولانا مرزا یوسف حسین، مولانا عقیل موسیٰ، مولانا اصغر حسین شہیدی اور مولانا محمد حسین کریمی کے علاوہ دیگر علمائے کرام و ذاکرین عظام بھی موجود تھے۔ سوئم کے پروگرام میں مومنین و مومنات کی بڑی تعداد شریک تھی۔

chakwal.rajaامام بارگاہ سر پاک چکوال میں تحفظ عزاداری کانفرنس سے خطاب ، کانفرنس سے علامہ غلام حر شبیری، علامہ محمد اصغر عسکری ، سید ناصر عباس شیرازی، سید محسن طاہرہمدانی اورذاکر یاسر عباس نے بھی خطاب کیا
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ عزاداری سید الشہداء ہماری پاکیزہ ترین میراث اور دفاع مکتب آل محمد کی فرنٹ لائن ہے ، ہم کسی بھی صورت عزاداری کو محدود نہیں ہونے دیں گے ، عزاداری یزیدان عصر کے خلاف جنگ لڑنے کا پہلا مورچہ ہے

faisalabad.mwm.rajaفیصل آباد میں سیاسی شخصیات اور عمائدین سے ملاقات کے دوران سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی گفتگو
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری :ہمیں اپنے آئمہ ع کی تعلیمات کا مطالعہ کرنا چاہیے ،کم ازکم نہج البلاغہ کا مطالعہ کرنا چاہیے
امام فرماتے ہیں اعرف الزمان من لم یتعجب من حوادث لایام
مولا علی ع فرماتے ہیں من عرفۃ الزمان امنۃ
اپنے زمانے اور حالات کی شناخت :ہم ایشیا میں رہتے ہیں ایشیا ہر لہذا سے امیر ہے ریسورسز سب سے زیادہ یہاں ہیں کنزومر سوسائٹی دنیا میں سب سے زیادہ ہے دنیا کی آبادی سب سے زیادہ،قدرتی زخائرسب سے زیادہ،سستی لبیرسب سے زیادہ ،پروفیشنلزسکیل یہاں سب سے زیادہ ہیں جیسے چائنہ جاپان ایران ،روس کا ایک بڑا حصہ اس حوالے سے قابل ذکر ہیں

Allama raja nasir abbas01مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیاسی سیل کی حلقہ وائز سیاسی سرگرمیوں کے تسلسل میں گذشتہ روزجھنگ کی سیاسی شخصیات اور عمائدین کے ساتھ ہوٹل فور سیزن میں ہونے والی ایک نشست میں مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ،سمیت مرکزی سیکرٹری سیاسیات ناصر شیرازی،مہمان عالم دین غلام حر شبیری اور مجلس وحدت مسلمین ضلع جھنگ کے عہدہ داران نے شرکت کی
اس نشست میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے جو گفتگو کی اس کا خلاصہ اور اہم نکات زیر میں پیش کئے جاتے ہیں
قرآن مجید میں اللہ نے میدان میں حاضر رہنے والوں کو صابر کا خطاب دیا ہے،صابر یعنی ثابت قدم۔ استقامت دیکھانے والی جماعتیں اگرچہ قلیل تھیں لیکن غالب آگئیں ،ایک ثابت قدم رہنے والا ہمت نہ ہارنے والے غالب آجاتا ہے، ،جو کام منظم ہو وہ منزل تک پہنچ جاتا ہے غیر منظم لوگ درست منصوبہ بندی نہیں کر سکتے مولا علی ع کی وصیت ہے کہ منظم رہنا اور با تقوا رہنا ۔

nasir.sherazi.01مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور جھنگ کی سیاسی شخصیات کے مابین موجودہ سیاسی مسائل اور آنے والے الیکشن کے حوالے سے ایک اہم نشست سے سیکرٹری سیاسیات مجلس وحدت مسلمین ناصر عباس شیرازی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اہل تشیع پاکستان کا چوتھائی حصہ ہیں جو دنیا کے کئی ممالک کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے ۔پاکستان میں سب سے باافتخار کیمونٹی ملت تشیع ہے لیکن ہمارے اپر ٹارگٹ کلنگ اور شیعہ کشی مسلط کی گئی اور اپنے اصل کردار سے دور رکھا گیا ۔
مسلسل شیعہ اہم شخصیات کا قتل عام جاری ہے لیکن کہاں ہیں سیاسی جماعتیں ؟کہاں ہیں وہ سیاسی شخصیات ؟کئی ملین لوگ احتجاج کریں کوئی پابندی نہیں لیکن عزاداری کے جلوسوں کے لئے پرمٹ کی بات کی جاتی ہے ۔ملک کے بنانے والے آج ملک میں یتیمی کا شکار ہیں ،ہمارے مراکز قوت میں بدامنی رکھی جارہی ہے جیسے کوئٹہ گلگت بلتستان ،کراچی وغیرہ

amin.001مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت سنگین بحرانوں کا شکار ہے، داخلی محاذ پر درپیش امن و امان کا مسئلہ تمام مسائل کی جڑ بن رہا ہے۔ اور قومی وحدت، بدگمانیوں، انتشار و افتراق کی زد میں ہے، انتخابی سیاست کے مکر و فریب نے قومی یکجہتی کا تحفظ نہیں کیا، بلکہ عوام کی آراء کو تقسیم در تقسیم کر رکھا ہے، ان حالات میں ملی یکجہتی کونسل کی ازسر نو تشکیل و تنظیم نو کا مقصد قومی وحدت کا فروغ ہے تاکہ پاکستان کو درپیش خطرات ٹال کر امن و ترقی کی راہ پر گامزن ہونے میں آسانیاں پیدا ہوں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree