The Latest

jawad hadiسابق سینیٹر اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی مرکزی شوریٰ عالی کے نومنتخب رکن علامہ سید جواد ہادی کا کہنا ہے کہ دہشتگرد کسی مذہب یا مسلک کے ترجمان نہیں، ہم ہر لحاظ سے ان سے زیادہ مضبوط ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں مختلف ملی تنظیموں کے فورم امامیہ رابطہ کونسل کے تاسیسی اجلاس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالٰی اس وقت تک کسی قوم کی حالت تبدیل نہیں کرتا، جب تک وہ خود اپنی حالت تبدیل کرنے کا ارادہ نہ کرے۔ قوم کے ہر فرد کو ذمہ دار ہونا چاہئے۔ ملت تشیع نے 14 سو سال کا انتہائی کٹھن سفر طے کیا ہے۔ ہم نے اپنے سر کٹوائے، جیلیں کاٹیں، بچے شہید کروائے، لیکن اپنے اصولی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ اگر دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم خوفزدہ ہوجائیں گے تو یہ اس کی بھول ہے۔

mwm.khawateenمجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری جنرل محترمہ سکینہ مہدوی کا اسلام ٹائمز نامی سائیڈ کو دئے گئے انٹریو سے چند اقتباسات

جس طرح خواتین دھرنوں میں اپنے مردوں کو میدان میں لے آئیں، جس طرح مختلف ریلیوں میں خواتین اپنے مردوں کو لے کر باہر آئیں۔ ہمیں سو فیصد یقین ہے کہ یہی خواتین اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے الیکشن میں بھی اپنے گھر والوں کو لے کر میدان میں اتریں گی۔ یہ ایسا وقت ہے کہ ہمارا دشمن میدان میں ہے۔ ہمیں میدان سے دشمن کو باہر نکالنے کے لیے خود میدان میں اترنا ہوگا۔ جہاں کہیں اور جس جلسے میں بھی ایسی گفتگو ہوتی ہے، پوری فضاء لبیک یاحسین علیہ السلام کے نعروں سے گونج اٹھتی ہے اور ہر قسم کے تعاون کے لیے ہماری مائیں بہنیں تیار ہیں۔ الیکشن میں انشاءاللہ ہم مجلس وحدت مسلمین کو اور جہاں کہیں ایسے امیدوار ہوں کہ جو معتدل ہوں، چاہے وہ شیعہ ہو یا غیر شیعہ ہوں، بس اسلام کا دشمن نہ ہو، پاکستان کا دشمن نہ ہو، انسانوں کا دشمن نہ ہو، ان کے علاوہ ہر کسی کو مجلس وحدت مسلمین کا شعبہ خواتین اس کی مکمل سپورٹ کرے گا۔ ہم میدان میں ثابت قدم رہیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہماری جیت اسی میں ہوگی کہ ہمارا دشمن میدان سے نکل جائے۔
ہم جلد ہی مئی میں ایک کنونشن کر رہے ہیں، جس میں ملک بھر سے فعال خواہران کو بلایا جائے گا، یہ چیز ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے اور اس پر ہم مسلسل کام کر رہے ہیں۔ انشاءاللہ بہت جلد آپ کو بہت اچھی خبریں سننے کو ملیں گی۔ شعبہ خواتین صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دے گا کہ آج بھی پاکستان کی مائیں بہنیں بی بی زینب کبریٰ کے کردار پر چلتے ہوئے اور دشمن وقت کو للکارتے ہوئے، ایوانوں کو لرزاتے ہوئے ہمیشہ اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ میدان میں رہیں گی۔

mwm electionمجلس وحدت مسلمین پاکستان نے 137امیدواروں کی اسکروٹنی کا عمل شروع کردیا جس میں اس وقت  پنجاب کے اُمیدواروں کی اسکروٹنی کا مرحلہ صوبائی سیکرٹریٹ لاہور میں جاری ہے۔ اسکروٹنی کمیٹی میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید ناصر عباس شیرازی، صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ عبدالخالق اسدی، مرکزی سیاسی سیل کے انچارج عارف حسین قنبری، ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پنجاب سید اسد عباس نقوی، صوبائی سیکرٹری سیاسیات پنجاب سید اخلاق الحسن بخاری شامل ہیں۔
سکروٹنی مرحلے کے پہلے دن ضلع سیالکوٹ، قصور، ٹوبہ ٹیک سنگھ، شیخوپورہ، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، چکوال، سرگودھا کے قومی و صوبائی اسمبلی کے اُمیدوار موجود تھے۔واضح رہے کہ اسکروٹنی کے اس عمل کو پورے ملک کے تمام امیدواروں کے حوالے سے انجام دیا جائے گا جس میں کسی بھی حلقے میں موجود امیدوار کا الیکشن میں شرکت یا عدم شرکت کا حتمی فیصلہ نیز سیٹ ایڈجسٹمنٹ جسے معاملات کو دیکھا جائے گا 

jawad.hadiممتاز اہل تشیع مذہبی اسکالر، رکنِ مرکزی شوریٰ نظارت مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور مدرسہ شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی (رہ) کے سربراہ علامہ سید محمد جواد ہادی نے کہا ہے کہ شادی بیاہ کے معاملات کو اسلامی احکامات کی روشنی میں طے کرنا چاہئے جبکہ اسلام میں جبری شادی کا تصور کہیں نہیں پایا جاتا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اسلام میں ازدواجی زندگی کی ایک خاص فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس پر زور بھی دیا گیا ہے۔ اسلام باہمی تعلقات کی تائید کرتا ہے اور شادی کو ہمارے معاشرتی نظام کی بنیاد قرار دیتا ہے۔ انہوں نے معاشرے میں پائے جانے والے اس تاثر کی نفی کی کہ جس کے تحت جبری شادی یا والدین کی رضامندی سے شادی کرنے کو ہی اسلامی تعلیمات کے مطابق جائز قرار دیا گیا ہے۔ اسلام میں شادی میں انتخابی طریقہ ہے، اس میں فیصلہ مسلط کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ والدین کی طرف سے لڑکے کو لڑکی پر اور نہ ہی کسی لڑکی کو والدین یا کسی اور کی طرف سے لڑکے پر مسلط کرنے کی اجازت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں جبری شادی کا تصور عام ہے۔ قرض نادہندگی، خاندانی رقابتوں اور مختلف قسم کی جاہلانہ اور غیر اسلامی خاندانی رسومات کے تحت بچوں کی شادی کر دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ مسلم فیملی لاء آرڈیننس 1961ء میں شادی کے لئے موزوں عمر کا تعین کئے جانے کے باوجود کم عمری میں شادیاں کر دی جاتی ہیں، جبکہ اسلام ان فرسودہ روایات کی قطعی تائید نہیں کرتا۔ علامہ سید محمد جواد ہادی نے کہا کہ انتخاب کے لئے لڑکا، لڑکی کو اور لڑکی، لڑکے کو دیکھے اور والدین بھی ان کی صحیح رہنمائی کریں اور کسی کو بھی شادی کے لئے مجبور نہ کیا جائے۔ ازدواجی زندگی کے لئے سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی آزادانہ طور پر مگر والدین کی رہنمائی میں شریک حیات کا انتخاب کریں۔

اسلام میں شادی کے مزید احکامات کے حوالے سے علامہ سید محمد جواد ہادی کا کہنا ہے کہ انتخاب کے لئے لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے کو دیکھنا اور ایک دوسرے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ لہذا اگر کوئی لڑکا اور لڑکی شادی کرنے کی غرض سے ایک دوسرے کو دیکھیں تو اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ علامہ سید جواد ہادی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کی بہترین تربیت کے حوالے سے والدین کو اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقہ سے ادا کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان کی ذات میں کچھ چیزیں اور کچھ احساسات و جذبات فطری ہیں۔ ان خواہشات اور جذبات کو ترتیب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ خواہشات اور جذبات ایسے ہیں جو عمر کے ایک خاص حصے میں عروج پر پہنچ جاتے ہیں، اسلام میں انسان کی اس فطری خواہش کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اعتدال میں رکھنے کے لئے کہا گیا ہے، انہیں دبانے کے لئے نہیں کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانی کا دور اکثر بچوں کیلئے بڑا مشکل اور جذباتی دور ہوتا ہے۔ اس دور میں اکثر بچوں اور بچیوں میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں مناسب معلومات نہیں ہوتی۔ ان حالات میں صحت اور صفائی کی بنیادی ضروریات کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پورا کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ والدین کی جانب سے معلومات کی فراہمی نہ ہونے کے باعث اکثر بچے اور بچیاں دیگر ذرائع تک پہنچتے ہیں، جس میں بسا اوقات بچوں کا نقصان ہو جاتا ہے۔ علامہ سید محمد جواد ہادی کا کہنا ہے کہ اگر آپ ایسے قوانین بنائیں کہ بچوں کو زبردستی روکا جائے یا ان پر زبردستی کی جائے، یہ اس کا علاج نہیں ہے۔ اسلام نے اس کے جو قانونی طریقے بتائے ہیں، ان کے تحت قانونی راستوں سے اعتدال کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

جوانوں کو انحراف سے کيسے محفوظ رکھیں

jawanجس طرح لوگوں کو جسماني لحاظ سے سالم اور پاک رکھنے کيلئے کئي ايک پيشگي اقدامات کي ضرورت ہوتي ہے اسي طرح ان کو فکري اور اعتقادي آلودگيوں سے پاکسازي اور محفوظ رکھنے کيلئے بھي پيشگي اقدامات کے طور پر معاشرے ميں علمي اور ثقافتي تدابير کواسطرح مرتب کرنے کي ضرورت ہے کہ جوانوں اور نوجوانوں کيلئے ايک پاک ، سالم اور فکري آلودگيوں سے دور ماحول ميسر ہو-
اس مقصد کے پيش نظر علمي اور ثقافتي امور کے ذمہ دار افراداور والدين پريہ ذمہ داري عايد ہوتي ہے کہ وہ اپنے تعليمي اور تربيتي پروگراموں کو اس انداز ميں چلائيں کہ معاشرے سے فکري اور اعتقادي کج رويوں ميں مبتلا يا اسکي زد ميں موجود افراد کي نشاندہي کرکے انہيں ثقافتي يلغار کے حملوں سے محفوظ کرنے کيلئے اقدامات کريں تاکہ دوسرے ان بيماريوں ميں مبتلاء نہ ہو-
اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ وہ کونسے طريقے ہيں جن کے ذريعے ہم جوانوں کو ان آلودگيوں سے محفوظ رکھ سکتے ہيں ؟
اس سوال کا جواب يہ ہے کہ يہ طريقے زمان و مکان، سن و شخصيت اور ماحول کے مختلف ہونے کے ساتھ مختلف ہو سکتے ہيں ليکن ہم يہاں پر صرف عمومي طور پر چند ايک طريقہ کار کي طرف اشارہ کرتے ہيں -
1 – معرفت اور ديني اعتقادات کا استحکام؛
انسان عموما فکري اور اعتقادي کجروي ميں اس وقت گرفتار ہوتاہے جب اسکے ديني اعتقادات مستحکم اور ريشہ دار نہ ہو - جب اعتقادات دلائل اور برہان پر مبني نہ ہو اور اندھي تقليد کے طور پر کسي چيز پر اعتقاد رکھے تو تھوڑي بہت شبہ اندازي اور اعتراضات کے سامنے سر تسليم خم کرتے ہوئے فکري اور اعتقادي انحراف کا شکار ہو جاتاہے-پس فکري انحراف کے عوامل و اسباب ميں سے بنيادي اور اہم ترين عامل اعتقادات کا سطحي اور کمزور ہوناہے لہذا ضرورت اس امر کي ہے کہ جوانوں اور نوجوانوں کے ديني اور مذہبي اعتقادات جو کہ انسان کي فطرت ميں رچي بسي ہےکو مظبوط جڑوں پر استوار کريں تاکہ دشمن کے غلط پروپيگنڈوں سے ان کے ثابت قدمي ميں لرزش نہ آنے پائيں- اس مقصد کيلئے والدين اور ذمہ دار افراد کو چاہئے کہ تعليمي اور تربيتي امورکو اسطرح مرتب کريں کہ جوانوں کي فطري حس خدا شناسي کو پھلنے پھولنے کيلئے زمينہ ہموار ہو -
2 – مذہبي اماکن ميں جوانوں کي حاضري کيلئے زمينہ سازي:
جوانوں کي مساجد اور ديگر مذہبي اماکن ميں حاضري سے ان ميں منعقدہ روح پرور ديني اور مذہبي پروگرام انہيں ديني اور مذہبي امو ر ميں دلچسپي کا باعث بناديتا ہے اور انہيں خدا کے ساتھ انس و محبت پيدا کرنے ميں نہايت اہم کردار ادا کرتا ہےاور آہستہ آہستہ انہيں اچھائي اور خوبيوں سے آراستہ کرتا ہے- جس طرح اماکن فساد و فحشاء انہيں خدا سے دور کرکے شيطان کے دام ميں پھنسا ديتے ہيں اسي لئے اسلام نے نہ صرف فساد و فحشاء سے دور رہنے کا حکم ديا ہے بلکہ ايسے مقامات پر حاضري سے بھي منع فرماياہے جہاں فسق و فجور انجام پاتے ہيں-
3 – اچھي اور معياري کتابوں کے مطالعے پر آمادہ کرنا:
ممکن ہے کچھ جوان اور نوجوان دشمنوں کي پروپيگنڈے ميں آکر ديني مسائل سے آگاہي سے بے نيازي احساس کريں اور کتابوں کے مطالعے کيلئے کوئي انگيزہ نہ رکہيں - اس صورت ميں والدين اور ذمہ دار افراد کا وظيفہ بنتاہے کہ ان غلط افکار کو انکے ذہنوں سے نکال باہر کريں اور انہيں معياري کتب کے مطالعے کيلئے زمينہ فراہم کريں اور کتابوں کے مطالعے کے فوايد سے آگاہ کرکے انہيں اس اہم کام پر آمادہ کريں-
4 – مذہبي اور مناسب تفريحي پروگراموں کا انعقاد:
مذہبي نشتوں جيسے احکام ديني کا بيان اور سياسي و اجتماعي مسائل کا صحيح تجزيہ اور تحليل اور دعا و مناجات کے پروگراموں کا انعقاد جوانوں ميں معنوي افکار کے فروغ کيلئے انتہاي ضروري اور اہم ہے - ان پروگراموں کو حد المقدور جذاب اور متنوع بنانا چاہئے تاکہ نوجوانوں کي دالچسپي ميں اضافہ کاباعث بنے، اس مقصد کيلئے ان پروگراموں کے ساتھ ادبي اور ہنري محافل کا انعقاد اور معياري فلموں اور ڈراموں کي نمايش سے ليکر ديگر مناسب تفريحي پروگراموں سے مدد لے سکتے ہيں -

mwm woman lhr 012لاہور ( ) مجلس وحدت مسلمین حلقہ پی پی 151کے یونین کونسل خواتین کوارڈینٹر کا اجلاس صوبائی سیکر ٹریٹ میں مجلس وحدت مسلمین لاہور کے نامزد اْمیدوار حلقہ پی پی 151 سید اسد عباس شاہ کے زیر صدارت منعقد ہوا۔جس میں حلقے کے تمام یونین کونسل سے خواتین ذمہ داران نے بھر پور شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل خواتین ونگ خانم سکینہ مہدوی اور خانم ہما تقوی نے کہا کہ حلقہ 151میںخوایین کے ووٹ کاسٹنگ کو موثر بنانے کیلئے تمام یونین کونسل کی ذمہ دار خواتین گھر گھر آگاہی مہم چلائیں گی اور خواتین میں ووٹ کی اہمیت اور آگاہی کیلئے 21اپریل کو شعبہ خواتین ایک بھر پور کونشن منعقد کرائیگی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے نامزد اْمیدوار برائے حلقہ پی پی151 سیداسد عباس شاہ نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں ہماری مائیں،بہنیں یہ ثابت کریں گی کہ ملت جعفریہ کی خواتین کردار زینبی ادا کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں

00 imamiوحدت نیوز: مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کے زیر اہتمام پولیٹیکل ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم پاکستان سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مختار امامی کا کہنا تھا کہ

mwmraja sab wilayat faqihمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے تنظیمی و تربیتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے سابق مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ آج ملت تشیع سرزمین پاکستان پر مایوسی کے عالم میں نہیں ہے۔ ہمارا دشمن چاہتا تھا کہ ہم تنہا رہ جائیں لیکن ہم نے اپنے دشمن کو رسوا کر دیا۔ وہ ہمیں لاچار و کمزور قوم بنانا چاہتا تھا۔ ہمارا دشمن اس عصر کی یزیدیت ہے۔ لیکن آج ہمارے دشمن نے محسوس کیا ہے کہ واقعاً ہم کربلائی اور حسینی قوم ہیں۔ ہمارا دشمن ہمیں ہمارے سیاسی و اجتماعی نظریئے سے منقطع کرنا چاہتا تھا۔ غیبت کبریٰ کے حوالے سے وہ ہماری مرکزیت ختم کرناچاہتا ہے۔

شہید عارف حسین الحسینی نے کہا تھا کہ میں اپنی جان و مال قربان کردوں گا لیکن نظریہ ولایت فقیہ سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ نظریہ ولایت فقیہ ہمیں امام زمانہ (ع) کے نظام سے متصل کرتا ہے۔ ہمیں فرعونی و یزیدی نظام سے محفوظ رکھتا ہے۔ نظریہ ولایت فقیہ وہ خدائی قلعہ ہے جو فرعونی و یزیدی قیادتوں سے نجات دلاتا ہے۔ سید مقاومت سید حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم نظریہ ولایت فقیہ سے متصل ہیں۔ جو اس نظام کاقائل نہ ہوگا وہ کرپٹ سیاسی جماعتوں شامل ہوگا اور انہیں ووٹ دے گااور فاسد اور ظالم سیاستدانوں کی ولایت میں چلا جائے گا۔ اس نظام کے بغیر معاشرہ ایسے ریوڑ کی مانند ہے جس کا کوئی نگہبان نہ ہو اور بھیڑیئے اسے چیر پھاڑ کھائیں۔

mwm new sg 7aprilعلامہ ناصر عباس جعفری کو آئندہ تین سال کیلئے دوبارہ مجلس وحدت مسلمین کا سیکرٹری جنرل منتخب کر لیا گیا ہے۔ دو روزہ تربیتی و تنظیمی کنونشن کے آخری روز نئے سیکرٹری جنرل کا انتخاب عمل میں لایا گیا، جس میں مرکزی شوریٰ نے کثرت رائے سے ایک بار پھر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس جعفری کو آئندہ تین سال کیلئے میرکارواں منتخب کر لیا۔ اس موقع پر ملک بھر سے آئے ہوئے کارکنان اور علمائے کرام کی بڑی تعداد نے علامہ ناصر عباس جعفری کا استقبال کیا اور انہیں سیکرٹری جنرل منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر لبیک یاحسین علیہ السلام اور قدم بڑھاؤ راجہ ناصر ہم تمہارے ساتھ ہیں، حق کا ناصر سچ کا ناصر جیسے نعرے بھی لگائے گئے، جبکہ علماء اور کارکنوں کی طرف سے علامہ ناصر عباس پر پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کی گئیں۔ نئے سیکرٹری جنرل  کا اعلان  علامہ شیخ حسن صلاح الدین نے کیا جبکہ ممتاز عالم دین و سربراہ شوریٰ عالی علامہ حیدرعلی جوادی نے حلف لیا۔ اس سے قبل شوریٰ عالی کی طرف سے علامہ سید جواد ہادی کو انتخابی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا، جنہوں نے سیکرٹری جنرل کیلئے علامہ ناصر عباس جعفری، علامہ سید حسنین گردیزی اور علامہ محمد امین شہیدی کے تین نام بطور امیدوار پیش کئے۔ انتخابی رزلٹ کے مطابق علامہ ناصر عباس جعفری نے95فیصد ووٹ حاصل کئے

mwm 1hasanzafrآئندہ کسی بھی کرپٹ، مفاد پرست اور نااہل سیاستدان کو پارلیمنٹ میں پہنچنے نہیں دیں گےمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے دو روزہ انٹرا پارٹی الیکشن کے پہلے دن کے سیشن کے موقع پرپارٹی ذمہ داران سے خطاب
اسلام آباد( ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا دو روزہ انٹرا پارٹی الیکشن( مرکزی تنظیمی و تربیتی کنونشن) مسجد و امام بارگاہ الصادق میں شروع ہوگیا ہے۔ کنونشن کے پہلے روز گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے سیکرٹری جنرلز نے کارکردگی رپورٹس پیش کیں۔ اس موقع پر پاکستان بھر سے مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی شوریٰ عالی کے اراکین نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ سید حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ آئندہ کسی بھی کرپٹ، مفاد پرست اور نااہل سیاستدان کو پارلیمنٹ میں پہنچنے نہیں دیں گے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree