وحدت نیوز(اورکزئی ایجنسی) مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے ایک وفد کے ہمراہ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ بنگش کا تین روزہ دورہ کیا، اس موقع پر انہوں نے عوام اور سیاسی و مذہبی رہنماوں سے ملاقاتیں، اجتماعات اور نشستوں سے خطاب اور مختلف دیہات کے دورہ جات کئے، مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی شوریٰ عالی کے رکن علامہ اقبال حسین بہشتی، صوبہ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل علامہ سید سبطین حسینی اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ ارشاد علی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری دورہ کے پہلے مرحلہ میں کوہاٹ پہنچے، اس کے بعد اورکزئی ایجنسی گئے اور پھر ہنگو کا دورہ کیا۔

دورہ کویاٹ:
دورہ کوہاٹ کے موقع پر انہوں نے سابق چیف جسٹس اور وحدت کونسل کے صدر سید ابن علی سے ملاقات کی، انہوں نے وفد کے ہمراہ استرزئی پایاں میں انصارالحسین کے مرکزی آفس کا دورہ کیا اور عمائدین سے ملاقات کی، استرزئی پایاں میں ہی علامہ ناصر عباس جعفری نے سابق صوبائی وزیر خوراک اور علاقہ کی معروف سیاسی شخصیت سید قلب حسن کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی اور مقامی کونسلرز، چیئرمین اور ممبران حضرات سے خصوصی گفتگو کی۔ بعدازاں انہوں نے علامہ باقر منتظری پرنسیپل جامعہ القائم لبنتات کے گهر پر ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت و فاتحہ خوانی کی۔ کوہاٹ کے علاقہ کچی خیل میں مقامی عوام کی جانب سے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے استقبال کیلئے ریلی نکالی گئی۔ اس کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری جماران پہچنے، جہاں بچوں سمیت عوام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، انہوں نے جماران میں دفاع وطن کانفرنس سے خطاب کیا، اس موقع پر دیگر مقررین میں علامہ سبطین حسینی اور علامہ ارشاد علی اور دیگر بھی شامل تھے۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وفد کے ہمراہ گاوں حسن خیل کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے عوام سے ملاقاتوں کے علاوہ ایم ڈبلیو ایم کے شعبہ خیر العمل کے زیر اہتمام چلنے والے سلائی سنٹر کا دورہ کیا، اس موقع پر انہوں نے طالبات سے گفتگو اور ہاتھ سے بنی چیزوں کا مشاہدہ کیا، انہوں نے بچیوں کی سلائی اور کشیدہ کاری کو سراہا، پھر وہ میر اصغر میلہ گاوں پہنچے، جہاں شهداء کے گهر پر فاتحہ خوانی کی۔ کوہاٹ کے علاقہ مرائی پہنچنے پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے عوام سے ملاقات کی، اس موقع پر امامیہ علماء کونسل کے صوبائی صدر علامہ خورشید انور جوادی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ علامہ ناصر عباس نے یہاں عوام سے خصوصی خطاب کیا، مرائی میں انہوں نے خیرالعمل فاونڈیشن کے تحت چلنے والے سلائی سنٹر کا بھی دورہ کیا، علامہ ناصر عباس نے مرئی پایاں میں علاقہ عوام سے ملاقات اور خطاب کیا، اس کے علاوہ انہوں نے کوہاٹ ہی کے علاقہ کیزار بانڈہ کا دورہ کیا، جہاں ایک تربیتی نشست سے خصوصی خطاب کیا۔

دورہ اورکزئی ایجنسی:
کوہاٹ کے تفصیلی دورہ کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اورکزئی ایجنسی پہنچے، جہاں ان کا عوام نے بھرپور استقبال کیا، علامہ ناصر عباس جعفری نے مسجد زہراء (س) میں عوام کے اجتماع سے خطاب کیا، اس موقع پر علامہ خورشید انور جوادی اور علامہ سبطین حسینی نے بھی خطاب کیا،  علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اورکزئی ایجنسی کے علاقہ انڈخیل میں شهید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی شهادت سے چند ماہ قبل ان کے ہاتهوں سے بنائی جانے والی مسجد کی زیارت کی، اس موقع پر علامہ اقبال بہشتی، علامہ سبطین حسینی، علامہ ارشاد علی اور علامہ خورشید انور جوادی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

دورہ ہنگو:
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بعدازاں ضلع ہنگو کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جامعہ العسکریہ میں طلاب اور اساتذہ کرام سے ملاقات کی، انہوں نے جامعہ العسکریہ کے بانی علامہ جواد حسین کی قبر پر فاتحہ خوانی بھی کی، اس موقع پر مدرسہ کے پرنسپل علامہ خورشید انور جوادی بھی موجود تهے، بعدازاں انہوں نے چند روز قبل وفات پانے والے جامعہ العسکریہ کے مدزس علامہ منصف علی مطاہری کے گهر پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری دورہ ہنگو کے دوران پاسکلے گئے، جہاں عوام نے ان کا بھرپور استقبال کیا، انہوں نے مسجد امام الزماں (عج) میں علاقہ عوام سے ملاقات اور خصوصی خطاب بھی کیا، علاقہ بنگش کے دورہ کے موقع پر مجلس وحدت مسلمین کی مقامی قیادت بھی ان کے ہمراہ رہی، دورہ ہنگو کے بعد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سرزمین شہداء پاراچنار کے تین روزہ دورہ پر روانہ ہوگئے۔

وحدت نیوز (قم) مجلس وحدت مسلمین قم کے آفس میں شعبہ اطلاعات اور سیاسیات کی دونشستیں ہوئیں جن میں تنظیمی فعالیت اور علمی دورہ جات کا جائزہ لیا گیا۔بعد ازاں دونوں شعبہ جات کی کمبائن میٹنگ ہوئی جس میں مشترکہ قومی مسائل خصوصاً تفتان روٹ پر سرکاری اہلکاروں کی لوٹ مار اور تہران ایمبیسی کے متعصب عملے کے حوالے سے اہم نکات زیرِ بحث لائے گئے۔

اس موقع پر کمبائن ایکشن کمیٹی میں بھی توسیع کی گئی اور سیکرٹری جنرل حجۃالاسلام گلزار احمد جعفری نے کہا کہ تہران میں قائم پاکستان ایمبیسی ، طالب علموں کو پاکستانی ہونے کی سزا دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ طالب علموں کو  ازیت دینا پاکستان ایمبیسی کا ایجنڈا ہے اورتہران میں قائم پاکستان ایمبیسی عرصہ دراز سے اس ایجنڈے پر کام کررہی ہے۔

اس موقع پر سیکرٹری سیاسیات عاشق حسین آئی آر نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں بھرپور قانونی جنگ لڑیں گے اور پاکستان ایمبیسی میں موجود ملک دشمن عناصر کی کارستانیوں پر قطعاً خاموش نہیں رہیں گے۔کمبائن کمیٹی نے پاکستان ایمبیسی میں موجود بد اخلاق عملے کے خلاف تہران ایمبیسی کے سامنے مظاہرے کی تجویز بھی دی ہے۔

ایکشن کمیٹی نے جمع شدہ شواہد کی روشنی میں کہا ہے کہ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے طالب علموں کو کئی مرتبہ قم سے تہران کے چکر لگوائے جاتے ہیں۔

اراکین اجلاس نے اپنی آرا میں کہا ہے کہ  پاکستان ایمبیسی کے اہلکاروں کے معاندانہ رویے سے لگتا ہے کہ   ایمبیسی میں ملک دشمن عناصر اپنا کام دکھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علمائے کرام اورطالب علموں کے ساتھ معاندانہ رویہ قانونا  جرم اور شرعاً حرام ہے۔انہوں نے کہا کہ ظلم سہنا اور ظلم برداشت کرنا بھی ظالم کی مدد اور حمایت ہی ہے لہذا ہم  ایمبیسی کے بد اخلاق عملے کے خلاف  قانونی جنگ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ایوانوں میں بھرپور آواز اٹھائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ  اگراعلیٰ حکام نے اس مسئلے کے حل پر توجہ نہ دی توطالب علموں کے ساتھ   اس غیر انسانی،غیر اخلاقی اور غیر قانونی رویے پر   مظاہرے کرنے کے لئےدنیا بھر کی طالب علم تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کو لیٹر جاری کریں گے۔

یاد رہے کہ اگلے چند روز اس حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔ ایم ڈبلیو ایم قم شعبہ میڈیا کے پروگرام کوارڈینیٹر ابراہیم بلتی نے کہا ہے کہ اگر دینی طالب علموں کو تنگ کرنے اور ستانے کاسلسلہ مکمل طور پر بند نہ کیا گیا تو ایم  ڈبلیو ایم قم نے راست اقدام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) حاسد کو زندہ سمجھنا خود زندگی کے ساتھ مذاق ہے،حاسد کیا کرتا ہے؟! وہ پہلے مرحلے میں مدّمقابل جیسا بننے کی کوشش کرتا ہے، جب نہیں بن پاتا تو پھر مدّمقابل کو گرانے کی سعی کرتا ہے، جب اس میں بھی ناکام ہو جاتا ہے تو پھر مدّمقابل کو مختلف حیلوں اور مفید مشوروں کے ساتھ میدان سے ہٹانے کی جدوجہد کرتا ہے، جب اس تگ و دو میں بھی ناکام ہوجائے تو پھر مدّمقابل کی غیبت اور کردار کشی پر اتر آتا ہے۔ جب کھل کر غیبت اور کردار کشی بھی نہ کرسکے تو پھر اشارے کنائے میں ہی غیبت پر گزارہ کرتا ہے۔ اگر اس سے بھی اس کے حسد کی آگ نہ ٹھنڈی ہو تو پھر وہ اس انداز سے تعریف کرتا ہے کہ جس سے اس کے ارد گرد کے لوگ غیبت کرنے میں اس کی ہمنوائی کریں۔اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود بھی حاسد خود اپنی ہی نظروں میں شکست خوردہ اور مرا ہوا ہوتا ہے۔

 جس طرح ایک شخص کو دوسرے سے حسد ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک قوم اور ایک تنظیم کو بھی بعض اوقات دوسری سے حسد ہو جاتا ہے۔
 قومی اور تنظیمی حاسد بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

 اربابِ دانش بخوبی جانتے ہیں کہ اقوام افراد سے اور تنظیمیں ممبران سے تشکیل پاتی ہیں۔ اقوام میں افراد کی شمولیّت کسی حد تک اجباری اور کسی حد تک اختیاری ہوتی ہے، جبکہ تنظیموں میں شمولیّت فقط اختیاری ہوتی ہے۔

اقوام میں اجباری شمولیّت کی مثال یہ ہے کہ جو شخص بھی یہودی خاندان میں متولد ہوتا ہے، وہ بہر صورت یہودی قوم کا فرد ہی متصور ہوگا۔ اب اقوام میں اختیاری شمولیت کی مثال یہ ہے کہ ایک یہودی کلمہ طیّبہ پڑھ کر اپنی سابقہ یہودی قومیّت سے دستبردار ہو جاتا ہے اور اختیاری طور پر ملت اسلامیہ کا فرد بن جاتا ہے۔

سیاسی نظریات کے مطابق تنظیمی ممبر شپ کے لئے ایسا نہیں ہوتا کہ ہر شخص جس خاندان میں پیدا ہو وہ موروثی طور پر اپنے ابا و اجداد کی پارٹی کاممبر بھی ہو۔ پارٹی کا ممبر بننے کے لئے اسے فارم پُر کرنے پڑتے ہیں اور مختلف تربیتی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ جس طرح ایک وقت میں ایک قوم کے اندر مختلف تنظیمیں ہوسکتی ہیں، اسی طرح ایک تنظیم کے اندر بھی مختلف اقوام کے لوگ بھی ہوسکتے ہیں۔ جس طرح اقوام کی تشکیل رنگ، نسل، مذہب، علاقے، خاندان یا دین پر ہوتی ہے، اسی طرح تنظیموں کا انحصار بھی مذکورہ عناصر میں سے کسی ایک پر ہوتا ہے۔

 عام طور پر اقوام اپنی مشکلات کے حل کے لئے تنظیموں کو وجود میں لاتی ہیں۔ اس حقیقت سے کسی طور بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جس طرح افراد زندگی اور موت کے عمل سے گزرتے ہیں، اسی طرح اقوام اور تنظیموں کو بھی زندگی اور موت سے واسطہ پڑتا ہے۔

 قرآن مجید کی نگاہ میں بہت سارے لوگ بظاہر کھانے پینے، حرکت اور افزائش نسل کرنے کے باوجود مردہ ہیں، اسی طرح بہت سارے لوگ بظاہر جن کا کھانا پینا، حرکت کرنا اور افزائش نسل کا سلسلہ متوقف ہو جاتا ہے وہ زندہ ہیں اور قرآن مجید انہیں شہید کے لقب سے یاد کرتا ہے۔

 افراد کی مانند اقوام اور تنظیمیں بھی دو طرح کی ہیں، کچھ زندہ ہیں اور کچھ مردہ۔ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں جس طرح افراد کی ظاہری حرکت زندگی کا معیار نہیں ہے، اسی طرح اقوام اور تنظیموں کی ظاہری حرکت اور فعالیت بھی زندگی کی غماض نہیں ہے۔ حرکت کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ حرکت کی سمت کیا ہے، چونکہ یہ ممکن ہے کہ ایک شخص زندگی کی آغوش میں بیٹھا ہوا ہو، لیکن موت کی طرف حرکت کر رہا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص موت کے سائے میں جی رہا ہو، لیکن زندگی کی طرف گامزن ہو۔

عبداللہ ابن ابیّ جیسے بہت سارے لوگ بظاہر پیغمبر اسلام (ص) کے پرچمِ حیات کے زیرِ سایہ زندگی گزار رہے تھے، لیکن ان کی حرکت کی سمت ہلاکت و بدبختی تھی۔ اسی طرح سلمان و ابوذر جیسے لوگ ظہورِ اسلام سے پہلے ہلاکت و بد بختی کے سائے میں جی رہے تھے، لیکن ان کی حرکت کا رخ حقیقی زندگی کی طرف تھا۔ بظاہر دونوں طرف حرکت تھی، اسی حرکت نے عبداللہ ابن ابیّ کو ہلاکت تک پہنچا دیا اور اسی حرکت نے سلمان (ر) و ابوذر (ر) کو حیاتِ ابدی سے ہمکنار کیا۔ اسی طرح تنظیموں کی زندگی میں بھی فقط ظاہری حرکت اور فعالیّت معیار نہیں ہے، بلکہ حرکت کی سمت کو دیکھنا ضروری ہے۔ یہ ہمارے دور کی بات ہے کہ طالبان نے بہت زیادہ فعالیت کی، لیکن اس کے باوجود طالبان مرگئے، اس لئے کہ ان کی حرکت کی سمت غلط تھی، لیکن حزب اللہ سربلند ہے، اس لئے کہ حزب اللہ کی حرکت کی سمت نظریات کی طرف ہے۔ طالبان کے نظریات سعودی عرب اور امریکہ سے درآمد شدہ تھے، چنانچہ ریاض وواشنگٹن کی پالیسی بدلتے  ہی ان کی نظریاتی موت بھی واقع ہوگئی۔

 یاد رکھئے! جھوٹ، ظلم و تشدد اور دھونس دھاندلی سے تنظیموں کو کبھی بھی زندہ نہیں رکھا جاسکتا۔ اب طالبان کی محبت کا دم بھرنے والے دھڑوں کو یہ نوشتہ دیوار ضرور پڑھ لینا چاہیے کہ حاسد کی مانند مردہ تنظیمیں بھی اپنے ہی ممبران کی نظروں میں مری ہوئی ہوتی ہیں۔ جہاں پر تنظیموں کی نظریاتی موت واقع ہوجائے، وہاں پر ان کے تابوت اٹھانے سے وہ زندہ نہیں ہو جایا کرتیں۔

 ہمیں یہ کبھی بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ملت اسلامیہ کے افراد اور تنظیموں کی اساس ان کے عقائد اور نظریات پر قائم ہے۔ اسلامی تنظیموں کی زندگی میں ان کے نظریات اس قطب نما کی مانند ہیں، جس سے سمت معلوم کی جاتی ہے۔ اگر کسی ملی تنظیم کی سمت مشخص نہ ہو اور حرکت نظر آئے تو اس کے ناخداوں کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنی سمت درست معیّن کریں اور پھر حرکت کریں۔ بصورتِ دیگر وہ جتنی حرکت کرتے جائیں گے، اتنے ہی منزل سے دور ہوتے جائیں گے۔

جو طاقت تنظیم کی حرکت کو کنٹرول کرتی ہے اور تنظیم کو نظریات کی سمت پر کاربند رکھتی ہے، وہ اس کے تربیّت یافتہ ممبران ہوتے ہیں۔ اگر کسی تنظیم میں تربیّت کا عمل رک جائے یا کھوکھلا ہوجائے تو وہ بھنور میں گھومنے والی اس کشتی کی مانند ہوتی ہے، جو جتنی تیزی سے حرکت کرتی ہے، اتنی ہی ہلاکت سے قریب ہوتی جاتی ہے۔

 کسی بھی تنظیم کے ممبران کس حد تک تربیّت یافتہ ہیں، اس کا اندازہ ان کی جلوتوں سے یعنی نعروں اور سیمیناروں سے نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کا پتہ ان کی خلوتوں سے چلتا ہے۔ جس تنظیم کے ممبران کی خلوتیں نظریات سے عاری ہوں، ان کی جلوتیں بھی عارضی اور کھوکھلی ہوتی ہیں۔ جب کسی تنظیم کے پرچم کو تھامنے والے افراد کی خلوتوں میں رشک کی جگہ حسد، حوصلہ افزائی کی جگہ حوصلہ شکنی، تعریف کی جگہ تمسخر، تکمیل کی جگہ تنقید، تدبر کی جگہ تمسخر، خلوص کی جگہ ریا اور محنت کی جگہ ہنسی مذاق لے لے تو اس تنظیم کی فعالیّت اور حرکت کو زندگی کی علامت سمجھنا یہ خود زندگی کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہے۔

 ہماری ملّی تنظیموں کو ہر موڑ پر اس حقیقت کو مدّنظر رکھنا چاہیے کہ نظریات پر سمجھوتے کا نتیجہ تنظیموں کی موت کی صورت میں نکلا کرتا ہے۔ تنظیمیں نعروں سے نہیں بلکہ نظریات سے زندہ رہا کرتی ہیں اور نظریات کی پاسداری صرف اور صرف تربیّت شدہ ممبران ہی کرتے ہیں۔ جہاں پر تنظیموں میں ممبران کی نظریاتی تربیّت کا عمل رک جائے، وہاں پر تنظیموں کو مرنے اور کھوکھلا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ غیر تربیّت یافتہ افراد تنظیموں کو دیمک کی طرح چاٹتے ہیں اور پھندے کی مانند تنظیموں کے گلے میں اٹک جاتے ہیں۔

تنظیموں میں تربیّت کا عمل کسی صورت بھی نہیں رکنا چاہیے چونکہ تربیّت ایسی کیمیا ہے جو زندگی کی لکیر اور خون کی تاثیر کو بھی بدل دیتی ہے۔

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔نذر حافی
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے رہنماء اور بلوچستان اسمبلی کے رکن آغا رضا رضوی نے علمدار روڈ میں جاری اپنے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔انکا کہنا تھا کہ عوام کی خدمت میرا فرض ہے۔ جس کام کیلئے منتخب ہوا ہوں وہی کام کر رہاہوں ،افواہوں سے ہماری حوصلہ شکنی کی ناکام کوشش ہمارے سیاسی مخالفین کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے اور وہ جھوٹے پروپیگینڈوں سے ہمارا نام خراب کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ ایم پی اے آغا رضا نے علمدار روڈ محلہ بیت الاحزان کے نو تعمیر شدہ کمیونٹی ہال کا دورہ کیا،ان کے ہمراہ ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ ڈویڑن کے سیکریٹری جنرل جناب عباس علی، کونسلر کربلائی رجب علی، پولیٹیکل کونسل کے ارکان حاجی کریم، کاظم علی، آفس سیکریٹری حاجی ناصر علی ، سیکریٹری فلاح و بہبود امان اللہ سمیت علاقے کے معتبرین بھی موجود تھے۔ علاقے کے عوام نے ایم پی اے آغا رضا کے خدمت کو سراہا اور کہا کہ انہیں چند اور مسائل در پیش ہیں ۔ علاقے کے لوگوں نے ایم ڈبلیو ایم کے نمائندوں پر پورے عزم اور بھروسے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مسائل دریافت کرنے اورہماری خدمت کیلئے ایم پی اے آغا رضا کے شکر گزار ہے ۔ایسی عوامی نمائندگی کی مثال اس سے پہلے دور حکومت میں کبھی پیش نہیں کی گئی تھی۔ محلہ بیت الاحزان میں تعمیر کردہ یہ کمیونٹی ہال تین منزلہ عمارت پر مشتمل ہے، کمیونٹی ہال بنانے کا مقصد علاقے کے عوام کے مسائل کم کرنا ہے اور اسے عوام کے سہولیات کو مد نظر رکھتے ہوئے شادی بیاہ ، فاتحہ خوانی اور دیگر فلاحی کاموں ، درس قرآن، کمپیوٹر کلاسز،ٹیوشن سینٹرز ، خواتین کی سلائی کڑھائی اور دیگر مثبت سرگرمیوں کیلئے بنایا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیاکہ یہ کمیونٹی ہال کارگل کے ایک شہید فدا حسین کے نام سے منسوب کیا گیا ہے ، یہ کمیونٹی ہال اپنے تکمیل کے آخری مراحل تک پہنچ چکا ہے اور اسے جلد مکمل کرکے علاقے کے عوام کیلئے کھول دیا جائے گا، اور جلد ہی عوام کو اضافی خرچوں سے چھٹکارا مل جائے گا۔ بیان کے آخر میں کہا گیا کہ یہ علاقہ خاصہ دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے اور علاقے کے لوگوں کی اکثریت غریب و مزدور طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔اسی لئے یہ کمیونٹی ہال علاقے کے سماجی مسائل یعنی شادی بیاہ اور فاتحہ خوانی وغیرہ کے اخراجات میں کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے، اور عوام کیلئے مزید سہولیات کے منصوبے بھی جلد تکمیل پذیر ہونگے۔

وحدت نیوز (گلگت) گلگت سکردو روڈ کی تعمیر میں حکومتی خلوص نظر نہیں آرہا ہے جس طرح پیپلز پارٹی کی حکومت پورے پانچ سال تک عوام کو بیوقوف بناتی رہی اسی طرح نواز لیگی حکومت بھی محض اخباری بیانات کے ذریعے ٹرخانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔سکردو کے کہ عوام جب تک حکمرانوں کا جینا دوبھر نہیں کرینگے تب تلک گلگت سکردو روڈ کی تعمیر ممکن نہیں۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ گلگت سکردو روڈ انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے اور اس روڈ پر سفر انتہائی خطرناک ہوچکا ہے کئی دلخراش حادثات رونما ہونے کے باوجود اس روڈ کی تعمیر کو مختلف حیلے بہانوں سے روڑے اٹکانے کی حکومتی پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ایک طرف حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے بلند بانگ دعوے کررہی ہے اور دوسری طرف دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو سرکرنے کی غرض سے آنے والے غیر ملکی سیاحوں کو کن دشوار گزار راستوں سے گزرنا پڑتا ہے اس کا حکومت کو کئی احساس ہی نہیں۔سیاحت کے علاوہ دفاعی طور پر بھی اس روڈ کی انتہائی اہمیت ہے دنیا کے بلند ترین محاذ جنگ سیاچن میں دشمن کو ناکوں چنے چبوانے پر مجبور کرنے والے پاک فوج کے جوانوں کو بھی اسی روڈ سے گزرنا پڑ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی آج کل کے بہانے تراشتے ہوئے اپنا وقت گزار دیا اور اب موجودہ حکومت بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غیر ضروری تاخیرے حربوں سے کام لے رہی ہے۔ملک کے دو وزرائے اعظم جناب یوسف رضا گیلانی اور جناب نواز شریف نے عوام سے گلگت سکردو روڈ کی تعمیر کے وعدے کئے لیکن آج تک گلگت بلتستان کے عوام سے کئے گئے وعدے وفا نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی حلقوں میں اخلاص ہو تو ہر رکاوٹ دور ہوسکتی ہے لیکن اگر حکومت مخلص نہ ہو تو بہانے تو تراش لئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اہم ترین روڈ کی تعمیر میں تاخیری حربوں سے ایک طرف علاقے کی معیشت پر کاری ضرب لگ جاتی ہے تو دوسری طرف قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع سے ناقابل تلافی نقصان ہورہا ہے اور اب مزید تاخیر ناقابل برداشت ہے اور عوام کو سڑکوں پر آنا ہی پڑے گا وعدوں پر یقین کرنے کا دور ختم ہوگیا ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ عالمی امن شدید خطرات سے دوچار ہے۔امریکہ اور اس کے حواری اپنی طاقت کے بل بوتے پرامت مسلمہ کو تباہی سے دوچار کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔پوری دنیا میں صرف مسلم ممالک ہی انتشار کا شکار ہیں ،امت مسلم کی تنزلی یہود ونصاریٰ کا اولین ایجنڈا ہے۔ہماری دانستہ غٖفلت ہمیں اپنے آئندہ نسلوں کا مجرم بنا دے گی۔مسلم حکمران دانشمندی اور بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے دوست نما دشمن کی پہچان پیدا کریں۔انہوں نے روس اور چین سمیت دیگر غیر متنازعہ قوتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی امن کے قیام کے لیے اپنا مخلصانہ کردار ادا کریں۔غیر یقینی کی موجودہ فضا کسی بھی ملک کے لیے سازگار نہیں۔مسلم ممالک کے مابین تصادم کی چھوٹی سی راہ عالمی جنگ کا راستہ ہموار کرنے کے لیے کافی ہے ۔مغربی استعمار مسلم ممالک میں لگی ہوئی آگ کا تماش بین بننے کی بجائے اس بجھانے میں کردار ادا کرے۔انہوں نے دمشق کے نواحی علاقے سیدہ زینبؑ اور حمص میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں سو سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ شام میں رسول اللہ ﷺ کی نواسی کا روضہ مبارک ہے۔ یہ شیعہ سنی تمام مسلمانوں کے متبرک ہے۔ داعش نامی ابلیسی قوتوں مسلمانوں اور ان کے مقدسات کی دشمن ہیں۔ان عناصر کی سرکوبی امت مسلمہ کے تمام مسالک کی شرعی ذمہ داری ہے۔مسلمان حکمران شام میں داعش کے خاتمے میں وہاں کی حکومت کے ساتھ عسکری تعاون کریں تاکہ ان مذموم عناصر کو شکست فاش ہو جو اسلام کے ررشن چہرے کو بدنما ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree