اصول حکومت

وحدت نیوز (آرٹیکل)عصر حاضر میں دنیا بھر میں خصوصا وطن عزیز پاکستان میں حکومتی اور انتظامی امور میں خامیاں ہی خامیاں نظر آتی ہیں جن کی وجہ سے رعایا اور عوام میں روز بہ روز فاصلہ بڑھ رہا ہے،کرپشن لوٹ مار،غربت بیروزگاری، ظلم ناانصافی کی حدیں پار کردی گئی ہیں آخر کیا وجہ ہے کہ دنیا میں عدل و انصاف قائم نہیں ہے؟ کیا ہمارے پاس اصول و قوانین موجود نہیں؟ کیا ہمارے پاس کوئی رہنما شخصیت موجود نہیں ہے؟ کیا ساری خامیاں اور غلطیاں ہمارے اندر موجود ہیں؟۔۔۔ہمارے پاس اصول و قانون بھی موجود ہے، اور ہمارے ماضی میں بھی ایسی رہنما شخصیتیں بھی موجود ہیں جن کی اصولوں کی اگر ہم پیروی کریں تو ایک کامیاب حکومت کا قیام ممکن ہو سکتا ہے۔ ہمارے پاس ہدایت کے لئے سب سے بہترین اصول اور قانون قرآن و سنت کی صورت میں موجود ہیں ، زرا ہم اپنے گریبان میں جھانکے توساری خامیاں اور کمزوریاں ہمارے اندر موجود ہیں، ہم علم حاصل نہیں کرتے کرتے بھی ہیں تو زاتی فائدہ اور مقاصد کے لئے، ساری دنیا اسلام کے اصولوں اور قوانین کو اپنے لئے مشعل راہ سمجھتی ہے مگر مسلمان صرف لفاظی میں مشغول ہے اسی لئے ہم ہر میدان میں سب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔۔ آج کے موجودہ حالات اور واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے کوشش کی ہے کہ حضرت علی ؑ کا وہ خط بیان کروں جو آپ نے مالک اشتر کو لکھا اور ان کو مصر کا والی بنایا اور انہیں حکومتی اور انتظامی امور میں بہترین اصول نصیحت فرمائے، اگر ہمارے حکمران صرف اس خط پر عمل کریں تو دنیا میں بہترین اور مثالی حکومت قائم ہو سکتی ہے، اس خط سے چند حکومتی،فوجی اور عدلیہ کے بارے میں رہنما اصول قارئین کی نظر کر رہاہوں۔
"خبردار! کبھی اللہ کے ساتھ اس کی عظمت میں نہ ٹکراواور اس کی شان و جبر سے ملنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ اللہ ہر جبارو سرکش کو نیچا دکھا تا ہے اور ہر مغرور کے سر کو جھکا دیتا ہے، اپنی زات کے بارے میں اور اپنے خاص عزیزوں اور رعا یا میں سے اپنے دل پسند افراد کے معاملے میں حقوق اللہ اور حقوق الناس کے متعلق بھی انصاف کرنا، کیونکیہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ظالم ٹھہرو گے اور جو خڈا کے بندوں پر ظلم کرتا ہے اور جس کا وہ حریف و دشمن ہو ا اس کی ہر دلیل کو کچل دے گا، اور وہ اللہ سے بر سر پیکار رہے گا، یہاں تک کہ بازآئے اور توبہ کرلے اور اللہ کی نعمتوں کو سلب کرنے والی اس کی عقوبتوں کو جلد بلاوا دینے والی کوئی چیز اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ ظلم پر باقی رہا جائے کیونکہ اللہ مظلوموں کی پکار سنتا ہے اور ظالموں کے لئے موقع موقع کا منتظر رہتا ہے، تمھیں سب طریقوں سے زیادہ وہ طریقہ پسند ہونا چاہئے جو حق کے اعتبار سے بہترین، انصاف کے لحاظ سے سب کو شامل اور رعایا کے زیادہ سے زیادہ افراد کی مرضی کے مطابق ہو کیونکہ عوام کی نارضگی خواص کی رضا مندی کو بے اثر بنادیتی ہے اور خواص کی نارضگی عوام کی رضا مندی کے ہوتے ہوئے نظرانداز کی جاسکتی ہے۔
اور تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ رعایا میں کئی طبقے ہوتے ہیں جن کی سودو بہبود ایک دوسرے سے وابستہ ہوتی ہیں اور وہ ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہوسکتے۔
ٓ ٓ)اس مقام پر امیر المومنینؑ نے سماج کو نو حصوں میں تقسیم کی اہے اور سب کے خصوصیات،فرائض،اہمیت اور ذمہ داریوں کا تذکرہ فرمایا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ کسی کا کام دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا لہذا ہر ایک کافرض ہے کہ دوسرے کی مد د کرے تاکہ سماج کی مکمل اصلاح ہو سکے اور معاشرہ چین اور سکون کی زندگی گزار سکے ورنہ اس کے بغیر سماج تباہ و بر باد ہوجائے گا اور اس کی ذمہ داری تمام طبقات پر یکساں طور پر عائد ہوگی، میں یہاں فوج اور عدلیہ کے بارے میں حضرت علی ؑ نے کیا فرمایا یہ بیان کروں گا۔(
امام فرماتے ہیں فوج کا سردار اس کو بناناا جو اپنے اللہ کا اور اپنے رسول کا تمہارے امام کا سب سے زیادہ خیر خواہ ہو، سب سے زیادہ پاک دامن ہو، اور بردباری میں نمایاں ہو، جلد غصہ میں نہ آجاتا ہو، عذر معذرت پر مطمن ہوجاتا ہو، کمزوروں پر رحم کھاتا ہو اور طاقتوروں کے سامنے اکڑ جاتا ہو، نہ بدخوئی اسے جوش میں لے آتی ہو اور نہ پست ہمتی اسے بٹھا دیتی ہو، پھر ایسا ہونا چاہیے کہ تم بلند خاندان نیک گھرانے اور عمدہ روایات رکھنے والوں اور ہمت و شجاعت اور جو دو سخاوت کے مالکوں سے اپنا رابط و ضبط بڑھاؤ کیونکہ یہی لوگ بزرگیوں کا سرمایہ اور نیکیوں کا سر چشمہ ہوتے ہیں ، پھر ان کے حالات کی اس طرح دیکھ بھال کرنا، جس طرح ماں باپ اپنی اولاد کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اگر ان کے ساتھ کوئی ایسا سلوک کرو کہ جو ان کی تقویت کا سبب ہو تو اُسے بڑا نہ سمجھنا اور اپنے کسی معمولی سلوک کو بھی غیر اہم نہ سمجھ لینا کیونکہ اس حسن سلوک سے ان کی خیر خواہی کا جزبہ اُبھرے گا اور حسن اعتماد میں اضافہ ہوگا اور اس خیال سے کہ تم نے ان کی بڑی ضرورتوں کو پورا کر دیا ہے کہیں انکی چھوٹی ضرورتوں سے آنکھ بند نہ کر لینا۔
(سوچئے ملک کا کروڑوں کا دفاعی بجٹ اور دفاع پر خرچ ہونیوالا بے حساب سرمایہ اسی قابل ہے کہ اسے انتہائی بے دردی سے برباد کردیا جائے اور اسکی ذمہ داری غیر ذمہ دار قسم کے افراد کے حوالہ کردی جائے جو ملک کو اپنے خواہشات کی راہ پر چلا نا چاہتے ہوں۔)
حکمرانوں کے لیے سب سے بڑی آنکھوں کی ٹھنڈک اس میں ہے کہ شہروں میں عدل و انصاف برقرار رہے اور رعایا کی محبت ظاہر ہوتی رہے اور ان کی محبت اسی وقت ظاہر ہوا کرتی ہے کہ جب ان کے دلوں میں میل نہ ہو اور ان کی خیر خواہی اسی صورت میں ثابت ہوتی ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کے گرد حفاظت کے لئے گھیر ا ڈالے رہیں ان کا اقتدار سر پڑا بوجھ نہ سمجھیں اور ان کی حکومت کے خاتمہ کے لئے گھڑیاں گنیں لہذا ان کی اُمیدوں میں وسعت و کشائش رکھنا انہیں اچھے لفظوں سے سراہتے رہنا اور ان کارناموں کا ذکر کرتے رہنا کہ ان کے اچھے کارناموں کا ذکر بہادروں کو جوش میں لے آتا ہے اور پست ہمتوں کو ابھارتا ہے، انشااللہ جو شخص جس کارنامہ کو انجام دے اُسے پہچانتے رہنا اور ایک کارنامہ دوسرے کی طرف منسوب نہ کر دینا اور اس کی حسن کارکردگی کا صلہ دینے میں کمی نہ کرنا اور کھبی ایسا نہ کرنا کہ کسی شخص کی بلندی ورفعت کی وجہ سے اُس کے معمولی کام کو بڑا سمجھ لو اور کسی کے بڑے کام کو اس کے خود پست ہونے کہ وجہ سے معمولی قرار دے لو۔؂
پھر یہ کہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لئیایسے شخص کو منتخب کرو جو تمہارے نزدیک تمہاری رعایا میں سب سے بہتر ہو، جو واقعات کی پیچیدگیوں سے ضیق و تنگی میں نہ پڑجاتا ہو، اور نہ جھگڑا کرنے والوں کے رویہ سے غصہ میں آتا ہو، نہ اپنے کسی غلط نقطہ نظر پر اڑتا رہتا ہو، نہ حق کو پہچان کر اس کے اختیار کرنے میں طبیعت پر بار محسوس کرتا ہو، نہ اس کا نفس ذاتی طمع پر جھک پڑتا ہو اور نہ بغیر پوری طرح چھان بین کئے ہوئے سرسری طور پر کسی معاملہ کو سمجھ لینے پر اکتفا کرتا ہو، شک و شبہ کے موقعہ پر قدم روک لیتا ہو اور دلیل و حجت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہو، فریقین کی بخشابخشی سے اکتانہ جاتا ہو، معاملات کی تحقیق میں بڑے صبر و ضبط سے کام لیتا ہو اور جب حقیقت آئینہ ہوجاتی ہو، تو بے دھڑک فیصلہ کردیتا ہو وہ ایسا ہو جسے سراہنا مغرور نہ بنائے اور تاننا جنبہ داردی پر آبادہ نہ کردے، اگرچہ ایسے لوگ کم ہی ملتے ہیں، پھر یہ کہ خود ان کے فیصلوں کا بار بار جائزہ لیتے رہنا، دل کھول کر انہیں اتنا دینا کہ جو اُن کے ہر عزر کو غیر مسمع بنادے اور لوگوں کی انہیں کوئی احتیاج نہ رہے، اپنے ہاں انہیں باعزت مرتبہ پر رکھو کہ تمہارے دربار رس لوگ انہیں ضرر پہنچانے کا کوئی خیال نہ کر سکیں، تاکہ وہ تمہارے التفات کی وجہ سے لوگ کی سازش سے محفوظ رہیں اس بارے میں انتہائی بالغ نظری سے کام لینا، کیونکہ (اس سے پہلے) یہ دین بد کرداروں کے پنجے میں اسیر رہ چکا ہے جس میں نفسانی خواہشوں کی کار فرمائی تھی اور اسے دنیا طلبی کا ایک ذریعہ بنالیا گیاتھا۔
پھر اپنے عہدہ داروں کے بارے میں نظر رکھنا ان کو خوب آزمائش کے بعد منصب دینا کبھی صرف رعایت اور اجانبداری کی بنا پر انہیں منصب عطا نہ کرنا، اس لئے کہ یہ باتیں ناانصافی اور بے ایمانی کا سر چشمہ ہیں اور ایسے لوگوں کو منتخب کرنا جو آزمودہ و غیرت مند ہوں، ایسے خاندانوں میں سے جو اچھے ہوں اور جن کی خدمات اسلام کے سلسلہ میں پہلے سے ہوں کیونکہ ایسے لوگ بلند اخلاق اور بے داغ عزت والے ہوتے ہیں۔ حرص و طمع کی طرف کم جھکتے ہیں اور عواقب و نتائج پر زیادہ نظر رکھتے ہیں، پھر ان کی تنخواہوں کا معیار بلند رکھنا، کیونکہ اس سے انہیں اپنے نفوس کے درست رکھنے میں مدد ملے گی اور اس مال سے بے نیاز رہیں گے، جو اُن ہاتھوں میں بطور امانت ہوگا، اس کے بعد بھی وہ تمہارے حکم کی خلاف ورزی یا امانت میں رخنہ اندازی کریں، تو تمہاری حجت ان پر قائم ہوگی، پھر ان کے کاموں کو دیکھنے بھالتے رہتا اور سچے اور وفادار مخبروں کو ان پر چھوڑ دینا کیونکہ خفیہ طور پر ان کے امور کی نگرانی انہیں امانت کے برتنے اور رعیت کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کی باعث ہوگی، خائن و مددگاروں سے اپنا بچاو کرتے رہنا اگر ان میں سے کوئی خیانت کی طرف ہاتھ بڑھائے اور متفقہ طور پر جاسوسوں کی اطلاعات تم تک پہنچ جائیں، تو شہادت کیلئے بس اسے کافی سمجھنا اسے جسمانی طور پر سزا دینا اور جو کچھ اس نے اپنے عہدہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سمیٹا ہے(کرپشن)، اسے واپس لینا اور اسے ذلت کی منزل پر کھڑا کردینا اور خیانت کی رسوائیوں کے ساتھ اسے روشناس کرانا اور ننگ و رسوائی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دینا۔"

تحریر۔۔۔۔ناصررینگچن

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے رہنماور بلوچستان اسمبلی کے رکن آغا رضا نے کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتی ہے، ہم شکریہ کے مستحق نہیں، خدمت ہمارا نصب العین ہے، ہم عوامی نمائندے ہیں اور عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں مجلس وحدت مسلمین کے ایم پی اے آغا رضا نے مظفر کالونی کا دورہ کیا اور اپنے ترقیاتی کام کا جائزہ لیا، ایم پی اے آغا رضا کی جانب سے مظفر کالونی میں ٹائلز لگوائے جا رہے ہیں اور کام اپنی تکمیل تک بھی پہنچ چکا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے کونسلر کربلائی رجب علی،سیکریٹری اسپورٹس ضیا الدین اور دیگر نمائندے بھی آغا رضا صاحب کے ہمراہ تھے۔ آغا رضا کی آمد پر محلہ مکینوں نے بے حد خوشی کا اظہار کیا اور آغا رضا کے ساتھ علاقہ مکینوں نے بھی گلیوں کا دورہ کیا۔ آغا رضا صاحب نے علاقے کے معززین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سال کا پہلا کام انہی کے علاقے سے شروع کیا گیا ہے اور اسی طرح یہ کام آگے بڑھے گا اورپورے پی بی 2 کے گلیوں کو ٹائلز لگوائے جائیں گے۔ اس پر علاقہ مکینوں نے اطمنان کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے پہلے گلیوں کی حالت بے حد خستہ حال تھی اور کسی کو یہاں کی کوئی فکر ہی نہیں رہتی تھی، علاقہ مکینوں کو اپنی مدد آپ کے تحت یہاں کا کام کروانا پڑتا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ ہمارے علاقے کا کوئی نمائندہ ہے ہی نہیں۔ ہمارے علاقے کو مکمل طور پر نظر انداز کر لیا گیا تھا اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی ایم پی اے نے اس علاقے کا دورہ کیا ہے اور ہمارے مسائل سنے ہیں۔ علاقہ مکینوں نے اپنے مزید مسائل آغا رضا صاحب کے خدمت میں پیش کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ ان مسائل کو بھی حل کرا لیا جائے، آغا رضا نے کہا کہ یہ میرا فرض ہے کہ تمام علاقوں کے عوام کے مسائل حل کرو ، میرا جتنا حق پی بی 2 کے دیگر علاقوں پر ہے اتنا ہی حق یہاں بھی ہے ۔ علاقہ مکینوں نے کہا کہ آغا رضا نے یہاں تشریف لاکر ہمیں احساس محرومی سے نجات دلایا ہے، ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہمارے علاقے میں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح کام ہو رہا ہے اور ہم سب محلے والے بھی آغا صاحب کے پروجیکٹس میں انکے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے۔ آغا رضا نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتی ہے، ہم نے ہمیشہ بغیر کسی لسانی ، قومی یا مذہبی تفریق کے ، تمام افراد کی خدمت کی ہے اور آئیندہ بھی ہم ایسے ہی خدمت کرتے رہیں گے۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے دہشت گردی کے واقعہ میں سول سوسائٹی کے رہنما اور ممتاز صحافی خرم ذکی کے قتل پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے کالعدم مذہبی جماعتوں کی کاروائی قرار دیا ہے. شہید خرم ذکی کے جلوس جنازہ میں شرکت کے دوران انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ھوئے کہا کہ خرم ذکی کو ملک دشمن تکفیری گروہ کے خلاف آواز بلند کرنے کی سزادی گی ہے.خرم ذکی ایک نڈر اور سچائی پسند محب وطن پاکستانی تھے. انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں. حکومت امن وامان کے قیام اور عوام کو تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے.اس سے قبل گزشتہ ماہ کراچی میں جمعہ نماز کی ادائیگی کے بعد گھر جانے والے جامعہ کراچی کے گولڈ میڈلسٹ ہاشم رضوی کو بھی سفاک دہشتگردوں کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے قاتل تاحال نہیں پکڑے گئے. علامہ ناصر عباس جعفری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خرم ذکی کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے.

 

انہوں نے صحافی برادری اور سول سوسائٹی کے اراکین سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس مظلومانہ شہادت کے مرتکب دہشت گردوں کے خلاف ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کریں افواج پاکستان اور حکومت کالعدم دہشتگردی جماعتوں اور سہولت کاروں کے خلاف ملک گیر آپریشن کا اعلان کریں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک بار بھی پشاور، ڈیرہ اسماعیل خاں اور کراچی میں پروفیشنلز وکلاء ، اساتذہ اور صحافیوں کا سلسلہ وار قتل پاکستان میں سعودی عمل دخل اور دہشتگردوں کی معاونت کا ثبوت ھے۔یہ بیرونی مداخلت ملک میں عدم استحکام پھیلانے کی سازش ہے۔انتہا پسند عناصر شیعہ پروفیشنلز کو مسلسل ٹارگٹ کا نشانہ بنا کر ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کو سرعام چیلنج کر رہے ہیں۔ٹارگٹ کلنگ کی پہ در پہ واردتوں یہ اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مذموم عناصر کے ناپاک ارادوں کے سامنے پسپا ئی اختیار کر چکے ہیں۔ہم پاکستان کے محب وطن شہری ہیں اور قانون و آئین کی پاسداری کو اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں یہی آئین ریاست کو پابند بناتا ہے کہ وہ ہر شہری کی بلا امتیاز تحفط کو یقینی بنائے۔علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ہے خرم ذکی کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ایسے عناصر کو جب تک نشان عبرت نہیں بنایا جاتا تب تک ملک میں ایسا واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔

 

دریں اثناء سماجی رہنما خرم زکی کی ٹارگٹ کلنگ پرعلامہ ناصر عباس،نو منتخب صوبائی رہنما علامہ مقصود ڈومکی،علامہ مختار امامی،علامہ علی انور جعفری،علی حسین نقوی نے سماجی رہنما خرم زکی کے قتل مذمت کی اور انچولی مسجد و امام بارگاہ میں اہل خانہ سے تعزیت کی اور انچولی سے سی ایم ہاؤس جلوس جنازہ میں شامل رہے ،وزیر اعلیٰ ہاؤس پر شرکاء نے علامتی دھرنا دیا جہاں سماجی رہنما کے قتل کے خلاف مظاہرین کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے وفاقی صوبائی حکومت سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔مطاہرین سے خطا ب میں ایم ڈبلیو ایم پولیٹیکل سیکرٹری علی حسین نقوی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی تازہ لہر وفاقی حکومت کی دہشت گرد عناصر کے خلاف نرمی برتنے کا نتیجہ ہے شہر قائد دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں پولیس ،رینجرز کی کار کردگی پر سوالیہ نشان ہے حکومت وقانون نافذ کرنے والے ادارے بتائیں کے وہ جن مجرموں کے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں انہوں نے سماجی رہنما خرم زکی کے قتل کو قومی نقصان قرار دیا اور ان کے قتل میں ملوث دہشتگردوں کی جلد از جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔


دریں اثناء معروف سماجی رہنما خرم زکی کی نماز جنازہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے ادا کی گئی نماز جنازہ علامہ ناظر عباس تقوی نے بڑھائیں نماز جنازہ میں سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی بعد اذاں جنازے کوسوگواروں کی بڑی تعداد کے ہمرہ جلوس کی شکل میں شاہرائے فیصل ڈرگ روڈ ،ملیر ہالٹ ،موڈل کالونی کینٹ روڈ سے سپر ہائی وے وادی حسین قبرستان میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں جسد خاکی کو سپرد خاک کیا گیا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین اسلا م آباداور آئی ایس او کے زیر اہتمام ممتاز صحافی و سول سوسائٹی کے رہنما خرم ذکی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں چار مایہ ناز پروفیشنلز کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ ہواجس میں بڑی تعداد میں سول سوسائٹی کے اراکین سمیت دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ اعجاز بہشتی نے ان واقعات کی شدید مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر نے قانون نافذ کرنے والے عناصر کو بے بس کر رکھا ہے۔ملک میں آئے روز مختلف شعبوں کے ماہرین کا قتل عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ ملک دشمن دہشت گرد طاقتیں وطن عزیز کو اقوام عالم کے سامنے ایک ایسی ریاست ثابت کرنے پر تُلی ہوئی ہیں جہاں قانون و انصاف کی بجائے ظلم و بربریت کی حکمرانی ہے۔موجودہ حکومت کی بے حسی اس امر کی دلالت کرتی ہے کہ حکمرانوں کو عوام کے جان و مال کے تحفظ سے کوئی غرض نہیں۔حکومت کی تمام تر توجہ آف شور کمپنیوں اور اپنے اثاثہ جات میں اضافے کی طرف مرکوز ہے۔وزیر اعظم نوازشریف ملک کے نا اہل ترین حکمران ہیں۔ملک کی قابل قدر ماہرین کے قتل پر وزیر اعظم نے دانستہ نظر انداز کی پالسی اپنا رکھی ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا خرم ذکی ایسے محب وطن شخص کا نام ہے جس نے ملک دشمن عناصر کو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارا۔کالعدم جماعتوں اور ملکی دشمن سرگرمیوں میں ملوث شخصیات کے خلاف اس بے باک جرات اظہار پر مذموم عناصر نے ایک محب وطن نوجوان کو موت کی نیند سلا دیا۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت بے گناہ افراد کی پکڑ ڈھکر کی جا رہی ہے جب کہ دوسری طرف کالعدم جماعتوں کے سربراہوں کو حکومت کی طرف سے سیکورٹی ملی ہوئی ہے۔یہی دوہرا معیار دہشت گردی کے خلاف حکومتی منافقت کا کھلم کھلا اظہار ہے۔انہوں نے آرمی چیف اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ ضرب عضب کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں تو پورے ملک میں ان عناصر کے خلاف نہ صرف ملٹری آپریشن کا آغاز کریں بلکہ ان تمام افراد کو فوری گرفتار کیا جائے جن کے ملک دشمن سر گرمیوں میں ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں اور وہ آئین پاکستان کی سرعام تضحیک کرتے ہیں۔ مظاہرے سے آئی ایس او کے ڈویژنل صدر اکبر موسوی ،سول سوسائٹی کی رہنما فرزانہ باری، مجلس وحدت مسلمین اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل ظہیر نقوی اور سول سوسائٹی کے اراکین نے بھی خطاب کیا۔مظاہرے کے اختتام پر تمام مظاہرین پُر امن طور پر منتشر ہو گئے۔

وحدت نیوز(فیصل آباد) پاکستان میں مسلسل دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے گزشتہ روز کراچی میں خرم ذکی اوراُس سے ایک روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں 2 ایڈووکیٹس اور 2 اساتذہ کا قتل اس کا حصہ ہے ان وارداتوں نے ایک بار پھر ضربِ عضب پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے پاکستانی ادارے کہاں ہیں آخراس ظلم وستم کے لئے مصلحت پسندی کیوں کی جارہی ہے ،دوسری طرف نیشنل ایکشن پلان کوصرف مخالفین کے لئے سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، ہم اس کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے ہم ان بہمانہ قتلوں کی بھر پور مذمت کرتے ہیں اور لواحقین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پانامہ لیکس سے نکلنے کے لئے اس قسم کی ڈائی ورشن استعمال نہ کرے۔ ان خیالات کا اظہار علامہ احسان علی جعفری سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع فیصل آباد نے امین پوربازار میں ایک احتجاجی مظاہرے میں کیا ۔مظاہرے میں ملک دُشمن طاقتوں کے خلاف خوب نعرہ بازی کی گئی اوردہشت گردی کی مکمل خاتمہ کے لئے پاکستان کے مخلص اداروں سے مکمل تعاون کرنے کا اعادہ کیاگیا عوام  کی کثیر تعداد اس احتجاجی مظاہرے میں شریک تھی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد /کراچی/ لاہور/ کوئٹہ/ ملتان /پشاور/فیصل آباد) ڈیرہ اسماعیل خان میں چار شیعہ وکلاءاور اساتذہ کے بیہمانہ قتل عام کےخلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی اپیل پر ملک بھر میں بعد نماز جمعہ یوم احتجاج منایا گیا، اس حوالے سے کراچی، لاہور، کوئٹہ،ملتان، فیصل آباد اور پشاور سمیت ملک کے مختلف چھوٹے بڑےشہروں ، قصبوں اور دیہاتوں میں ریلیاں نکالی گئیں اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیئے گئے، کراچی میں مرکزی احتجاجی مظاہرہ خوجہ مسجد کھارادرکے باہر منعقد کیا گیا، جس سے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے خطاب کیا،شرکائے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا  کہ ڈی آئی خان اور پشاور میں روزانہ دہشتگردی کے واقعات ریاستی اداروں سمیت صوبائی حکومت کی نا اہلی ہے،جب تک فوجی اور شیعہ پاکستانیوں کے قاتلوں میں تفریق ختم نہیں ہوتی دہشت گردی جاری رہے گی، افواج پاکستان اور حکومت کالعدم دہشتگردی جماعتوں اور سہولت کاروں کے خلاف ملک گیر آپریشن کا اعلان کریں،خوجہ مسجد کھارادر کے سامنے ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے ڈیرہ اسماعیل خان سمیت ملک بھر میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے رہنماوں کا کہنا تھا کہ شیعہ وکلاء و اساتذہ کا قتل ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی ظاہر کرتا ہے ۔

علامہ احمد اقبال کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی تازہ لہر وفاقی حکومت کی دہشت گرد عناصر کے خلاف نرمی برتنے کا نتیجہ ہے ڈی آئی خان249 پشاور میں روزانہ دہشتگردی کے واقعات ریاستی اداروں سمیت صوبائی حکومت کی نا اہلی ہے. افواج پاکستان اور حکومت کالعدم دہشتگردی جماعتوں اور سہولت کاروں کے خلاف ملک گیر آپریشن کا اعلان کریں تاکہ دہشت گردی کو جڑ سے اوکھاڑا جائے احتجاجی مظاہرے میں رہنما مولانا احسان دانش. علامہ مبشر حسن.علامہ صادق جعفری ،ناصرحسینی ،رضوان پنجوانی،شبیر حسین سمیت مظاہرین کی بڑی تعداد موجود تھی احتجاجی مظاہرے میں شیعہ مسلمانوں کے قتل کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں ملت جعفریہ کے 4 بیگناہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کیخلاف مجلس وحدت مسلمین لاہور اور آئی ایس او لاہور ڈویژن کے زیراہتمام لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات و رکن شوریٰ عالی سید اسد عباس نقوی کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے بنایا گیا ہے، ملک بھر خصوصاََ خیبر پختونخواہ میں ہماری نسل کشی جاری ہے، تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ملت جعفریہ کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے، چودھری نثار بتائیں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کامیابی کے نتائج یہ ہیں کہ آئے دن شیعیان حیدر کررار کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان دوسرا وزیرستان بن چکا ہے، تکفیری مدارس دہشتگردوں کی پناہ گاہ بن چکے ہیں، دہشتگردوں کے سیاسی سرپرست ملک میں خانہ جنگی کے درپے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی پراکسی وار کو پاکستان میں امپورٹ کرنے کی خواہشمند دہشت گردوں کی سرپرست جماعتیں ملکی سلامتی کیخلاف گھناونی سازشوں میں مصروف ہیں، ملکی سلامتی کے ادارے ہوش کے ناخن لیں۔ سید اسد عباس نقوی کا کہنا تھا کہ ہمیں فوجی عدالتوں کے قیام کے باوجود ہمیں انصاف نہیں مل رہا، آخر ان عدالتوں میں ہمارے کیسسز کو کیوں نہیں بھیجا جاتا؟ عوام سوچنے پر مجبور ہیں، آئے دن ہماری نسل کشی اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہمارے لئے زمین تنگ کی جا رہی ہے، ہم اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے، ہم آرمی چیف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے شہداء کے وارثوں کو انصاف دلایا جائے، یاد رکھیں حکومت کفر سے تو باقی رہ سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں۔ آئی ایس او کے مرکزی نائب صدر سرفراز نقوی نے کہا کہ قومی مفاد میں تحمل کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے، ہمیں قومی مفاد اور ملکی سلامتی عزیز ہے، اگر ملت تشیع سڑکوں پر آ گئی تو حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا، دنیا ہمارے احتجاج کی تاریخ سے خوب واقف ہے۔

آئی ایس او کے ڈویژنل جنرل سیکریٹری علی زیدی نے کہاکہ ملت تشیع پاکستان کی تاریخ خون سے سرخ ہے، ہم نے ہمیشہ صبر و استقامت سے ظالمین کا سامنا کیا ہے، سینکڑوں شہدا کے لاشے اٹھائے لیکن قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا، ملت جعفریہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، حکومت دہشتگردی کیخلاف سنجیدہ کارروائی کرے۔ مقررین نے کہا کہ ملت تشیع نے ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کے فروغ کیلئے عملی اقدمات کئے ہیں، دن دیہاڑے حکومتی اہلکاروں کی موجودگی میں شیعہ ہونے کی بنا پر ٹارگٹ کیا جانا حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، صوبہ خیبر پختونخوا میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات حکومتی نااہلی کا واضع ثبوت ہیں، اگر حکومت نے سنجیدگی سے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا ہوتا تو ایسے واقعات رونما نہ ہوتے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ دہشتگرد اور ان کے سہولت کاروں کو عبرت ناک سزا دی جائے، ان دہشتگردوں کے ہاتھوں پاکستان کے تمام طبقات متاثر ہوئے ہیں، واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد پاکستان کی سرزمین پر ناسور ہیں، ان کے خاتمہ میں ہی پاکستان کی بقا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان میں چار شیعہ نوجوانوں کے قتل کے خلاف ملک کے دیگر شہروں کی طرح ملتان میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت مجلس وحدت مسلمین ملتان کے سیکرٹری جنرل علامہ قاضی نادر حسین علوی اور امام بارگاہ یونین ملتان کے صدر مخدوم اسد عباس بخاری نے کی۔ علامہ قاضی نادر حسین علوی نے شیعہ نسل کشی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کالعدم جماعتوں اور سہولت کاروں کے خلاف ملک گیر آپریشن سمیت قاتلوں کی جلد از جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پشاور اور ڈی آئی خان میں حالیہ دہشگردی کے واقعات نے وفاقی و صوبائی حکومت سمیت ریاستی ارداروں کے دہشتگردی کی روک تھام کیلئے کئے جانے والے کاسمیٹک انتظامات کی قلعی کھول دی ہے ایک بار پھر ملک بھر میں شیعہ نسل کشی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب قاتلوں کی عدم گرفتاری ملت جعفریہ کیلئے باعث تشویش اور قابل مذمت ہے۔

خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت صوبے میں امن وامان کے حوالے سے اقدامات میں ناکام ہو چکی ہے، پشاور سمیت صوبے بھر میں آئے روز دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مخدوم اسد عباس بخاری کا کہنا تھا کہ ہمیں ملک میں بغاوت پر مجبور کیا جا رہا ہے ہمیں اس سرزمین سے بہت پیار ہے، ہم نے ایک دن میں سینکڑوں لاشے اُٹھائے ہیں لیکن ملک کے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا لیکن اس ملک میں جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں وہی پولیس کی سیکیورٹی میں پھرتے ہیں۔ ملک میں جاری شیعہ نسل کشی کی اس لہر نے نیشنل ایکشن پلان پر سوالیہ نشان اُٹھا دیے ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح آفتاب احمد کے قتل کی تحقیقات کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اسی طرح ان بے گناہ شیعہ مسلمانوں کے قتل کی تحقیقات کے احکامات جاری کیے جائیں۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے وفاقی و خیبر پختونخواہ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویثرن کی جانب سے ڈیرہ اسماعیل خان میں چار شیعہ پروفیشنلزکے قتل کے خلاف بعد نماز جمعہ مسجدو امام بارگاہ کلان میکانگی روڈ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مظاہرین کی بڑی تعداد موجود تھی، احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں ایم ڈبلیوایم کے رکن شوری عالی علامہ سید ہاشم موسوی اورسیکرٹری جنرل کوئٹہ ڈویژن عباس علی نے شیعہ نسل کشی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کالعدم جماعتوں اور سہولت کاروں کے خلاف ملک گیر آپریشن سمیت قاتلوں کی جلد از جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔

علامہ ہاشم موسوی نے مظاہرین سے خطاب میں کہنا تھا کہ پشاور اور ڈی اآئی خان میں حالیہ دہشگردی کے واقعات نے وفاقی و صوبائی حکومت سمیت ریاستی ارداروں کے دہشتگردی کی روک تھام کیلئے کئے جانے والے کاسمیٹک انتظامات کی قلعی کھول دی ہے ایک بار پھر ملک بھر میں شیعہ نسل کشی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب قاتلوں کی عدم گرفتاری ملت جعفریہ کیلئے باعث تشویش اور قابل مذمت ہے.احتجاجی مظاہرے میں شامل شرکاء نے وفاقی و خیبر پختونخواہ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی.علامہ ہاشم موسوی نے شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اظہار کیا اور شہداء کے بلندی درجات کیلئے دعا کرائی.

دھوبی کھاٹ  فیصل آباد میں ایم ڈبلیوایم ضلع فیصل آباد کے تحت احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے  ضلعی سیکریٹری جنرل علامہ احسان علی جعفری صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواحکومت کالعدم تکفیری دہشت گردوں کو لگام ڈالنے میں یکسرناکام نظر آرہی ہے، ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور اہل تشیع کی  مقتل گاہ بن چکے ہیں لیکن تحریک انصاف کی حکومت شیعہ حیدرکرار ؑ کی جان و مال کے تحفظ کیلئے کوئی اقدام بروئے کار نہیں لارہی۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree