وحدت نیوز(قم) مجلس وحدت مسلمین قم کے زیر انتظام مدرسہ امام خمینی ؒ میں ایک احتجاجی نشست منعقد ہوئی۔جس میں سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم قم حجۃ الاسلام گلزار احمد جعفری نے مختلف ممالک کے طلاب کرام کو پاکستان میں تکفیری ٹولوں کی کاروائیوں سے آگاہ کیا ۔انہوں نے اس موقع پر  حکومت پاکستان کی مجرمانہ خاموشی کی بھرپور مذمت  بھی کی اور مختلف ممالک کے طلاب سے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ناصر عباس جعفری کی بھرپور اخلاقی مدد کرنے کی اپیل کی۔

وحدت نیوز (کراچی) ملک میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے اعلان پر جمعہ کے روز ملک گیر’’یوم احتجاج‘‘ یوم شہداء منایا گیا۔اس سلسلے میں صوبائی دارلحکومت کراچی میں بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرے وریلیاں نکالی گئیں۔مظاہرین دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات اورملت تشیع کو ملک بھر میں انتقام کو نشانہ بنانے پر ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔جمعہ اجتماعات میں شہداء کے ایصال ثواب اور وطن عزیز کے استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔مجلس وحدت مسلمین کراچی کی جانب سے بعدنماز جمعہ مرکزی احتجاجی مظاہرہ جامع مصطفی عباس ٹاون کے باہر ہوا اور ابولحسن اصفہانی روڈ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں رہنما مولانا باقر زیدی ،علامہ مبشر حسن ،علی حسین نقوی ،اور مولاناعلی انورسمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنان نے بڑی تعداد موجود تھی مظاہرین نے لبیک یا حسین ،شیعہ و سنی اتحاد سمیت ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی ٹارگٹ کلنگ پر وفاقی اور خیبر پختون خواہ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔ابولحسن اصفانی روڈپر مظاہرین سے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا کہ دہشتگردی ،کرپشن ،لاقانونیت کے خلاف اسلام آباد میں سربراہ وحدت مسلمین سے اظہار یکجہتی کیلئے احتجاجی سلسلہ جاری رہے گا پاکستان کسی مخصوص مسلک کی جاگیر نہیں ملت جعفریہ کوگزشتہ تین دہائیوں سے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا کیا جارہا ہے۔اس ملک میں سب سے پہلے ہم نے ملک دشمن اسلام طالبان اور کالعدم جماعتوں کے خلاف آواز بلند کی اور آج ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والے طبقے کو دانستہ طور پر دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تاکہ انہیں ملک کے مقتدر ظالم حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا موقعہ نہ مل سکے۔،مقررین کا کہنا تھا کہ نواز حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دے رانا ثنا اللہ سمیت ریاستی اداروں میں موجود تکفیری سوچ رکھنے والے ہمار ے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں اور دوسری جانب ملک دشمن عناصر کیلئے بنائے جانے والا نیشنل ایکشن پلان کا میں غلط استعمال کیا جا رہا ہے بے گناہ افراد پرمقدمات قائم کئے جارہے ہیں ۔

 مقررین نے وفاقی حکومت چیف جسٹس آف پاکستان اور جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا وہ ڈیرہ اسماعیل خان،پاراچنار،پشاور،کوئٹہ ،اور کراچی میں خرم ذکی کے قتل کا از خود نوٹس لیں عدلیہ اپنا کردار ادا کرے ،ڈیرہ اسماعیل خان دو وکلاء کے قتل کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے۔لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے تحت جن علماء و ذاکرین پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ اسلامی ریاست میں جو رویہ ہمارے ساتھ اپنایا جا رہا ہے یہ تو امریکہ ،برطانیہ جیسے غیر اسلامی ممالک میں بھی نہیں ہوتا۔پنجاب میں قائم تمام مقدمات کا خاتمہ ، تکفیری گروہوں کے خلاف ملک گیر آپریشن اور پارہ چنار میں پولٹیکل انتظامیہ کی بربریت کا شکار ہونے والے چار شہدا کی شفاف تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیشن کا قائم ہیں۔ آٹھ روز گزرجانے کے بعد حکومت کی طرف سے کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہ آئی اور یونہی بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا تو پھر ہم اپنے اس خاموش احتجاج کو ملک گیر عوامی احتجاج کی شکل میں تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ علامہ ناصر عباس جعفری کی بھوک ہرتال کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں اظہار یکجہتی کے طور پر بھوک ہرتالی کیمپ لگائے جا چکے ہیں۔ اس حوالے سے خلاف علامتی بھوک ہرتالی کیمپ ساتھوے روز بھی جاری ہے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام سربراہ ایم ڈبلیو ایم علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بھوک ہڑتال تحریک کو نو دن مکمل ہونے پر اظہار یکجہتی کے لئے ،مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی جانب سے خراسان سے نمائش چورنگی تک ریلی نکالی گئی جس میں خواتین اور بچون نے بڑی تعداد کی شرکت،مظاہریں ہاتھوں میں ملک میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ کیخلاف پلے کارڈ تھامے حکومت کیخلاف نعرے لگاتے رہے،علمائے کرام ،ذاکرین،سول سوسائٹی اور مختلف مکاتب فکر کے رہنماوں کی شرکت،مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا علی انور، علی حسین نقوی ،مولانا صادق تقوی  اور ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین مرکزی رہنما خانم زہرا نقوی کا کہنا تھا کہ ملک میں نہ رکنے والی شیعہ نسل کشی کیخلاف ہم پرامن طور پر میدان میں نکل چکے ہیں انشااللہ ہماری یہ تحریک ظالموں کو انجام تک پہنچانے تک جاری رہیگی،ملت جعفریہ گذشتہ نو دنوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں سراپا احتجاج ہیں،ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بے حس حکمرانوں اور ریاستی اداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی،ہم انصاف لئے بغیر گھروں کو نہیں لوٹیں گے،اور ہم اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی بے حسی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ملت جعفریہ کیخلاف ان کاروایوں میں شریک ہیں،ہمیں حق لینے کے لئے جان کی قربانی بھی دینی پڑے تو ہم اس کے لئے تیار ہیں،لیکن اپنے اوپر ہونے والے ظلم و بربریت پر خاموش نہیں رہیں گے۔

خانم زہرا نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکمران سن لیں ہم مزید ظلم سہنے کے لئے تیار نہیں،ہمارے ہزاروں شہداء کے قاتلوں کی سرپرستی چھوڑ دیں،اور مصلحت پسندی کے خول سے باہر نکلیں،ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس سے ہم بخوبی واقف ہیں،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بھوک ہڑتال اور احتجاج مظلوم پاکستانیوں کو انصاف دلانے کے لئے ہیں،ہم نے پرامن احتجاج کرکے شدت پسندی کیخلاف علم بغاوت بلند کی ہے اور است منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے،قوم ہمارے احتجاجی تحریکوں سے بخوبی واقف ہیں،خانم زہرا نجفی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانیوں کا قتل عام کرنے والے درندہ سفت دہشت گردوں کو ماضی میں بدقسمتی سے ہمارے ریاستی اداروں کی مکمل سرپرستی حاصل رہی جس کا خمیازہ آج قوم بھگت رہی ہے،بدترین آمر جنرل ضیاء کے پالے یہ دہشت گرد آج قائد اور اقبال کے پاکستان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں،اقتدار کی نشت میں دھت آمروں نے اپنی کرسی بچانے کے لئے ایسے درندوں کو پالا آج پاکستان میں کوئی مکتبہ فکر و مذاہب کے لوگ محفوظ نہیں،آپریشن ضرب عضب کے نام پر قوم کو بیووقوف بنایا جارہا ہے،پاکستان میں ملت جعفریہ کی نسل کشی میں انہی عناصر کا کلیدی کردار ہے جو کبھی ریاستی اداروں کے منظور نظر تھے،آج علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی احتجاجی تحری کی حمایت میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے پاکستانی سڑکوں پر موجود ہیں،ہم مزید لاشیں اٹھانے کے متحمل نہیں،انشاللہ ہم اپنے مطالبات کی منظوری تک سڑکوں پر رہیں گے اور اپنے پر امن جدوجہد کو جاری رکھیں گے ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اپنے اعلی سطح وفد کے ہمراد مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے اظہار یکجہتی کیلے ایم ڈبلیو ایم کے احتجاجی بھوک ھڑتالی کیمپ میں تشریف لائے۔جہاں دونوں جماعتوں کے مرکزی رہنماوں کے درمیان مجلس وحدت کے مطالبات اور ملکی صورتحال پہ بات چیت ہوئی۔مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے عمران خان کو بتایا کہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران ہمارے سینکڑوں افراد کو شہید کیا جا چکا ہے۔ مختلف شعبوں کے ماہرین کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور آپ کی حکومت کی طرف سے شیعہ کلنگز میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف کوئی مثبت کاروائی نہیں کی جا رہی۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس ہمراہ پریس بریفنگ میں کہا کہ مذہب کے نام پر کسی مخصوص مسلک کو ٹارگٹ کرنا ظلم و نا انصافی کی انتہا ہے۔میں خیبر پختوانخواہ میں ہونے والے ان واقعات کی مذمت کرتاہوں اور آپ کے تحفظات دور کرنے کا یقین دلاتا ہوں۔ہم اس معاملے کو اپیکس کمیٹی میں بھی لے کر جائیں گے۔مجھے ان معاملات سے لاعلم رکھا گیا ہے۔

 

انہوں نے کہا ہماری جماعت کے وزیر شہدا کے گھروں میں جا کر تعزیت کریں گے اس کے ساتھ ساتھ ایم ڈبلیو ایم سے مستقل رابطہ رکھا جائے گا تاکہ دونوں جماعتوں کے درمیان بہترین تعلقات برقرار رہیں۔ انھوں نے گذشتہ 10 سالوں میں خیبر پختونخواہ میں ھونے والے شیعہ نسل کشی کے واقعات پہ افسوس کا اظہار کیا اور قاتلوں کی گرفتاری کے لیے اپنی جماعت کے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔۔ اس موقعہ پر علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ جس طرح سورن سنگھ کے قتل میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اسی طرح ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان اور سانحہ پارہ چنارملوث دہشت گردوں سمیت صوبے بھر میں ملت تشیع کے خلاف ہونے والے واقعات کے ذمہ داران کو فوری گرفتار کیا جائے۔ایک سوال کے جواب میں علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم عمران خان کی یہاں آمد کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن میری بھوک ہرتال تب تک جاری رہے گی جب تک میرے مطالبات پر عمل درآمد شروع نہیں ہو جاتا۔ ملت تشیع کے خلاف وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے مظالم کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔جب تک یہ نون لیگ ہمارے مطالبات نہیں کرتی تب تک ہمارا احتجاج ختم نہیں ہو گا۔ ہمارا پاس واپسی کا واحد آپشن ہمارے مطالبات کی من و عن منظوری ہے۔ مزید مظالم برداشت نہیں کر سکتے۔ جب تک میری قوم کی سلامتی و تحفظ کے لیے عملی اقدامات نہیں ہوں گے تب تک میری بھوک ہرتال جاری رہے گی چاہے میری روح پرواز کر جائے۔ میرے بچے میرے ساتھی میرے مشن کوآگے بڑھائیں گے۔

وحدت نیوز (ظفرآباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان آزاد کشمیر سنٹرل پریس کلب کے باہر علامتی بھوک ہڑتال کیمپ لگا لیا ، ملک بھر میں جاری منظم شیعہ نسل کشی ، پارہ چنار ، ڈیرہ اسماعیل خان میں، صحافی ، پروفیسرز اور پروفیشنلز کے قتل عام کے خلاف اور قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے اظہار یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا گیا ، سینئر ممبر اسلامی نظریاتی کونسل آزاد کشمیر علامہ مفتی کفایت حسین نقوی ، سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر علامہ سید تصور نقوی الجوادی کی قیادت میں کیمپ کا انعقاد کیا گیا ، کیمپ میں بعد نماز مغرب شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں ،شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مفتی سید کفایت حسین نقوی نے کہا کہ ہم علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کو سلام پیش کرتے ہیں ، ان کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں ، ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی پر حکومتوں کی مجرمانہ خاموشی کا نتیجہ ہے ، ہم مارے جاتے رہیں اور کوئی پوچھتے والا نہ ہو ایسا اب نہیں ہو سکتا ، ہم بھرپور اور پرامن احتجاج جاری رکھیں گے اس وقت تک ہم یہ کیمپ جاری رکھیں گے جب تک علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نہیں اٹھتے۔

علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی نے کہا قائد وحدت سے اظہار یکجہتی کے لیے ہم یہاں موجود ہیں ، شیعہ اس ملک کے شہری ہیں انہیں تحفظ فراہم کرنا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے ، انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین ظالموں کا پیچھا کرتی رہے گی ، جب تک کہ ظالم اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا ، ظالموں کو پتا ہونا چاہیے کہ ہم حسینی ہیں ، اور حسینی اپنا سر تو کٹا سکتا ہے مگر جھکا نہیں سکتا ، ہم میدان میں موجود رہیں گے ، جب تک ہمارے مرکزی کیمپ کے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہم بھی یہاں موجود رہیں گے ، شہداء کا خون رنگ لائے گا ، ظالم خون کے سیلاب میں بہہ جائے گا ، مجلس کے کارکنان و قائدین مقاومت جاری رکھیں گے۔کیمپ میں پیپلز پارٹی کے رہنما شوکت جاوید میر، سید شجاعت کاظمی،امیدوار اسمبلی سید فخر عباس پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے رہنما پیر سید مہر بخاری ، عام آدمی پارٹی کے سینئر نائب صدر راجہ زاہد مصدق، معروف اہلسنت عالم دین مولانا لیاقت حسین ، مولانا بدر و دیگر تشریف لائے اور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے نیشنل پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طے شدہ سازش کے تحت فوج کے امیج کو خراب کیا جا رہا۔انہوں نے آرمی چیف جنرل راحیل سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان سے لے کر پارہ چنار تک ملک کے باوقار عسکری ادارے سے ایسی کالی بھیڑوں کا خاتمہ کیا جائے جو افواج پاک کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں۔انہیں نے کہا کہ پارہ چنار میں تین بے گناہ افراد کو سر میں گولیاں مارنے والے کمانڈنٹ ،ایف سی و لیویز اہلکاروں کو فوری گرفتار کر کے تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے ۔مختلف اداروں میں موجود داعش مائنڈ سیٹ وطن عزیز کے عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔دشمن غیر محسوس طریقے سے اپنی جنگ سرحدوں کے اندر لے آیاہے۔وطن عزیزکے اندر موجود ملک دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کو ذاتی تعلقات اور بیرونی دباو سے بالاتر ہو کر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا ملک کے مختلف علاقوں میں محرومیوں کے احساس کا خاتمہ ملک کی سالمیت و بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ گلگت بلتستان پاکستان کا سر ہیں جواپنے آئینی حقوق اور شناخت کے حصول کے لیے گزشتہ 68 سالوں سے گدائی کر رہے ہیں۔ان لوگوں کو حقوق دینے کی بجائے مسلک اور قوم کی بنیاد پر گروہوں میں تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے تاکہ انہیں کمزور کیا جا سکے۔ان کی زمینوں پر ناجائز قبضے کیے جا رہے ہیں۔گلگت بلتستان محب وطن لوگوں کی سرزمین ہیں یہاں کے لوگوں میں مادر وطن سے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس طرح کرم ایجنسی وہ واحد ایجنسی ہے جہاں سے فوج کے خلاف کبھی آواز بلند نہیں ہوئی۔یہاں آج بھی سبز ہلالی پرچم لہرا ہے۔یہاں کے غیور باسیوں نے طالبان کے نجس قدموں سے اس سرزمین کو آلودہ نہیں ہونے دیا۔ریاستی اداروں نے یہاں کے مکینوں پر زمین تنگ کر نا شروع کر دی ہے۔کرم ایجنسی کے باسیوں کی ہزاروں کنال زمین پر ریاستی سرپرستی میں قبضہ مشتعل کرنے کی ایک سوچی سمجھی اور دانستہ کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کو قائد و اقبال کا پاکستان چاہیے ۔پشاور ،ڈئی آئی خان، ہنگو اور کوہاٹ سمیٹ خیبرپختونخواہ کے بیشتر علاقوں میں آئے روز ملت تشیع کے ساتھ ظلم و بربریت کی المناک مثالیں رقم کی جا رہی ہیں۔ ہمارے پروفیشنلز، وکلا، اساتذہ اور مختلف شعبوں کے ماہرین کو کی ٹارگٹ کلنگز جاری ہے۔لیکن یہاں کی حکومت کو پانامہ لیکس والے کھیل سے فرصت نہیں ۔عمران خان کی حکومت نے آج تک مذمت کے دو بول نہیں بولے۔پی ٹی آئی کو اس لاپروائی پر معافی مانگنا ہو گی۔اس وقت حکومتی سطح پر ایک ایسے میکانزم کی تشکیل کی اشد ضرورت ہے جس میں غیر جانبدار لوگ شامل ہوں تاکہ نا انصافیوں کو راستہ روکا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں عزاداری کو محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہزاروں افراد پر محض اس لیے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں کہ انہوں نے مجلس آدھا گھنٹہ دیر سے ختم کیوں کی ۔اسی طرح اہلسنت برادران پر درود و سلام پڑھنے پر پرچے کاٹے گئے ہیں جو سراسر زیادتی اور انتقامی کاروائی ہے۔پنجاب حکومت کو ایسی تمام ظالمانہ ایف آئی آر واپس لینا ہوں گی۔خرم ذکی جو کہ ایک محب وطن اور تکفیری فکر کا مخالف تھا اس کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ میں اس وقت تک یہاں سے نہیں ہلوں گا جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔نماز جمعہ کے اس اجتماع میں ہزاروں کی تعداد میں افراد شریک تھے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree