وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے رکن شوریٰ عالی و ممبر بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا کے تعاون سے جرنلسٹ پریمئر لیگ کرکٹ ٹی ٹوئنٹی  میچ گلستان ٹاون کرکٹ گراونڈ میں کھیلا گیا۔اس شاندار میچ کے مہمان خصوصی ایم پی اے آغا رضا صاحب تھے۔ مہمان خصوصی کے ہمراہ ایم ڈبلیو ایم کے کونسلر کربلائی رجب علی اور آفس سیکریٹری جناب حاجی ناصر علی بھی موجود تھے۔معزز مہمانان گرامی نے کھلاڑیوں سے بالمشافہ ملاقات کی اوران کی حوصلہ افزائی بھی کی، پہلے روز کے  میچ میں ایگلز بمقابلہ ٹائیگرز الیون مدمقابل رہے،واضح رہے کہ الیکٹرونک  میڈیا کے مختلف چینلزسے تعلق رکھنے والے اسٹاف ممبرز اس ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) علامہ سید احمد اقبال رضوی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل، سید اسدعباس نقوی مرکزی سیکریٹری امورسیاسیات اور نثارعلی فیضی مرکزی سیکریٹری تعلیم نامزدکردیئے گئے ہیں، مرکزی میڈیاسیل سے جاری بیان کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے آئندہ تین سال 19-2016کیلئے اپنی کابینہ میں تین افراد کی شمولیت کا باقائدہ اعلان کردیا ہے، پہلے مرحلے میں تین شعبہ جات کے مرکزی سیکریٹریز کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے جن میں علامہ احمد اقبال رضوی، اسدعباس نقوی اورنثارعلی فیضی شامل ہیں باقی شعبہ جات کے سیکریٹریزکے ناموں کا جلد اعلان متوقع ہے، کابینہ کی تکمیل کے بعد تمام اراکین کابینہ کی حلف برداری کی تقریب منعقد کی جائے گی۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے تین سالہ پارٹی سیشن مکمل ہونے پر انٹرا پارٹی الیکشن کل(اتوار 24مارچ) بنام ،،پیام وحدت کنونشن ،،قومی مرکز شاہ جمال لاہور میں منعقد ہو گا،سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ عبدالخالق اسدی اپنے صوبائی کابینہ سمیت عہدے سے سبکدوش ہونگے،نئے سیکرٹری جنرل پنجاب کے لئے صوبائی شوریٰ کا اجلاس 9 بجے اور پولنگ کا آغاز 11 بجے ہوگا،3:30 بجے نئے سیکرٹری جنرل پنجاب کا اعلان ہوگا ،سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سمیت دیگر اہم شخصیات اس موقع پر موجود ہونگے،سربراہ ایم ڈبلیو ایم پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نو منتخب سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پنجاب سے انکے عہدے کا حلف لیں گے،بعد ازاں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نو منتخب سیکرٹری جنرل پنجاب اور دیگر رہنماوں کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کریں گے۔

وحدت نیوز (کراچی) شہر قائد میں گرمی کی شدت میں اضافہ شہریوں کے لئے امتحان سے کم نہیں، گرمی سے بلبلائے شہریوں پر لوڈشیڈنگ اور واجبات کی عدم ادائیگی کا بہانہ بناکر اذیت دی جارہی ہے،ایک شہری کی بھی جان کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ دار کے الیکٹرک انتظامیہ ہو گی، جعفرطیارسوسائٹی میں نان پیمنٹ کی آڑ میں بجلی بندش کی مذمت کرتے ہیں ، ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے پولیٹیکل سیکریٹری سید علی حسین نقوی نے وحدت ہاؤس ملیر کے دورے کے موقع پر ضلعی سیکریٹری جنرل احسن عباس رضوی اور انکی کابینہ کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہاکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے ہیٹ اسٹروک الرٹ جاری ہوجانے کے باوجود کے الیکٹرک انتظامیہ شہریوں کو کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کررہی ، شہر کے مختلف علاقوں میں معمول کے مطابق لوڈشیڈنگ جاری ہے ،جبکہ گذشتہ سال ہیٹ اسٹروک کے نتیجے میں شہر قائد کے ہزاروں شہری اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے، گوکہ یہ قدرتی عمل تھا لیکن اس قدرتی آفت پر کے الیکٹرک انتظامیہ نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے نتیجے میں سونے پر سہاگے کا کام کیااور شدید گرمی اور اوپر سے لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی چیخیں نکال دی تھی، گذشتہ برس کے اس سنگین سانحے سے سبق حاصل کرنے کے بجائے کے الیکٹرک انتظامیہ اسی روش پر کاربند ہے ، جو کہ مزید سانحات کو جنم دینے کی ایک مذموم سازش معلوم ہوتی ہے، علی حسین نقوی نے کے الیکٹرک انتظامیہ کی جانب سے جعفرطیارسوسائٹی فیڈر کی واجبات کی عدم ادائیگی کا بہانہ بناکربندش کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ انتظامیہ ہو ش کے ناخن لے 50فیصد سے زائد بلنگ کے باوجود بجلی کاٹنا غیر اخلاقی فعل ہے، ہیٹ اسٹروک اور بجلی بندش کے باعث ہونے والے کسی بھی جانی ومالی نقصان کی ذمہ داری کے الیکٹرک انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

وحدت نیوز (ہٹیاں بالا) سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان آزاد جموں و کشمیر علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی نے کہا ہے کہ ذاتِ مشکل کشا حضرت علی انسانیت کے لیے اسوہ کامل ہے، حضرت علی امام اول ایسی ہستی کہ ولادت ہوئی تو کعبہ میں شہادت ہوئی تو مسجد میں ، استعمار کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ علی ابن ابی طالب سے ہی ملتا ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم ولادت حضرت علی کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ حضرت علی کی ذات مبارکہ اسوہ کامل ہے ۔ علم میں ،شجاعت میں ، سخاوت میں، دیانت میں ، امیری میں ، غریبی میں ، دوستی میں ، صلہ رحمی میں ، دنیاوی معاملات میں ، دینی و اُخروی معاملات میں اگر کسی کو آئیڈل بنانا ہے تو عالم اسلام ذاتِ مبارکہ مشکل کی جانب رخ کرے ، آج کل کے تمام مسائل و مشکلات کا حل مشکل کشاء کی طرف رجوع میں ہے، حضرت علی نے نصرت پیغمبر میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، جنگ و جدل میں جان ہتھیلی پر رکھ خدا و رسول ؐ کی خاطر میدان میں اترتے اور دشمنوں کو چیر ڈالتے ۔ اسی لیئے تو آج بھی علی کے چاہنے والے استعمار کے سامنے سینہ سپر ہیں ، جو بھی علی والا ہے ظالم کے مقابلے میں مظلوم کا حامی و مدد گار ہو گا، ظالم کے لیے سخت مظلوم کا دست و بازو ہو گا، علی کے فضائل و مناقب کا سمندر سیاہی بن اور سارے درخت قلم بن کر احاطہ نہیں کر سکتے ، علی وہ بلند شخصیت کہ ہر دور میں ہر حال میں باوجود ظلم و جبر کے ذکر علی آج بھی اسی طرح جاری ہے کہ جیسے آج سے چودہ سو سال قبل فرشتے بھی ندا دیتے آتے تھے کہ کوئی جوان نہیں علی جیسا ، کوئی تلوار نہیں علی کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ذولفقار جیسی، علامہ تصور جوادی نے کہا کہ آج کے یوم کی مناسبت سے عالم اسلام کو پیغام ہے کہ علی کی طرح نبی ؐ سے محبت کرو ، جو نبی ؐ نے کہا اس پر ایک ہو جاؤ، ظلم و جبر کے خلاف علم بغاوت بلند کرو ، اپنے اتحاد و اتفاق سے علی والے بن کر استعمار و طاغوت کو شکست فاش دے دو، اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے

وحدت نیوز (آرٹیکل) رواں سال اگر شرمین عبید چنائی نے آسکر جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا تو ہمارے حکمران اور کر کٹ ٹیم بھی کسی سے پیچھے نہ رہ سکی۔ ٹیم نے انڈیا سے ہارنے کا ریکارڑ بر قرار رکھا تو دوسری جانب حکمران طبقہ کرپشن میں بازی لے گیا۔ ہم اور ہمارا ملک خوش نسیب ہے کہ ہمارے وزیر اعظم نے انتہک محنت سے پاناما لیکس کی ٹاپ ٹن شخصیات میں اپنا نام درج کرایا۔

پاناما لیکس نے ساری دنیا میں ہنگامہ خیز انکشافات سے تہلکہ مچایا ہوا ہے دنیا بھر کی مشہور سیاسی و سماجی شخصیات کا کچا چٹھا کھول کے رکھ دیا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔

اس کے علاوہ وزرا، جج صاحبان ناجانے کن کن لوگوں کا نام شامل ہیں جن کی اپنی ایک فہرست ہے ان سب کو شرم سے چلو بھر پانی میں ڈوب مر جانا چاہیے خصوصا حکمرانوں کو جن کا یہ دعوی ہوتا ہے کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، ملک کی آئین و قانون کی پاسداری کرتے ہیں، عوامی حقوق کا خیال رکھتیں ہیں اور بھاری مینڈیٹ سے یہ ایوانوں میں آتے ہیں فرض کریں اگر یہ بھاری مینڈیٹ سے منتخب ہوئے ہیں اور جمہوریت اور آئین و پاکستان کا ان کو اتنا ہی خیال ہے بلکہ ان کو اگر اپنی عزت کا ہی خیال ہے تو چاہیے کہ وہ مستعفیٰ ہوں یا کم سے کم اس کیس کی تحقیقات ہونے تک کنارہ کشی اختیار کریں جب تک اس معاملہ کا کوئی راہ حل نہیں نکلتا یا اس کیس کا شفاف تحقیقات مکمل نہیں ہوتا، لیکن سب اپنی غلطیاں تسلیم کرنے کے بجائےصفائیاں دینے میں مصروف ہے ۔

ہمارے حکمران اور عوام یہ بات بہ خوبی جانتے ہیں کہ پاناما پیپر ز نے تو کچھ ہی شخصیات اور خاندان کا زکر کیا ہے، پاناما لیکس نے ڈاکومنٹس کی تعداد میں اب تک کی تمام لیکس کے رکارڑ توڑے ہیں لیکن اگر تحقیقاتی ٹیم صرف پاکستان میں کرپشن اور لوٹ مار کی تحقیقات کرے تو پاناما کو بھی پیچھے چھوڑ دیں۔

پاکستانی عوام کے لئے پاناما لیکس کوئی نئی بات نہیں ہے یہاں کا ہر بچہ بچہ جانتا ہے کہ چپڑاسی سے لیکر اوپر تک کرپٹ ہیں، کسی اچھے ڈاکٹر سے روجوع کرنا ہو، یونی ورسٹی ،کالج اسکول میں داخلہ کرانا ہو،روزگار کی تلاش ہوچاہے وہ حکومتی ہو یا سول ادارے، بینک میں بل جمع کرانا ہو، امتحان میں نقل کرانا ہو، جعلی ڈگری نکلوانی ہو، ٹھپہ مارنا ہو غرض کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام کروانا ہو تو کرپشن، رشوت اور سفارش کے بل بوتے پر سب کچھ ممکن ہیں۔

ہمارے ملک کا یہ حال ہے کہ ہر تیسرا فرد غربت کا شکار ہے، بیروزگاری کی شرح پڑے لکھے لوگوں میں زیادہ ہے،اسکول نہ جانے والے صرف پانچ سے نو سال کے عمر کے بچوں کی تعداد ۶۸ لاکھ ہیں، صحت کا تو کوئی پرسانے حال نہیں ہے اور ۶۵ ارب دس کروڈ ڈالر کا مقروض ہے۔ پھر بھی ہمارے حکمرانوں کو اس ملک کے باشندوں پر رحم نہیں آتا۔

ان حکمرانوں اور کرپٹ لوگوں کو عوام اور پاکستان پر رحم نہیں ہے تو ان کو اپنے آپ پر رحم کرنا چاہیے کہ روز قیامت وہ ان آف شور کمپنیوں کا حساب کتاب کہاں سے دیں گے، غریب عوام کے لوٹے ہوئے پیسوں کا حساب کہاں سے دیں گے، بے روزگاری سے تنگ آکر خودکشی کرنے والوں کا حساب کہاں سے دیں گے؟؟ کیا ان حکمرانوں اور کرپٹ لوگوں کو ان غریب عوام کے بارے میں خیال نہیں آتا؟ کم سے کم لوٹے ہوئے پیسوں کو ملک سے باہر تو نہ لے جائیں اگر ان کی سرمایہ کاری پاکستان میں ہی کریں تو لاکھوں لوگوں کو روزگار مل سکتا ہے لاکھوں فاقوں سے بچ سکتے ہیں، پاکستان کا ہر بچہ تعلیم یافتہ اور ملک مستحکم ہو سکتا ہے پاکستان کی ترقی ہو سکتی ہے۔ ستم ظریفی کی حد ہے کہ یہ کرپٹ لوگ اپنے آپ کو سب سے زیادہ محب وطن اور عوامی نمائندہ تسلیم کرتے ہیں اور پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان ان ہی نام و نہاد حکمرانوں سے پہنچا ہے۔

ان سب کا یہ مقصد یا مفہوم نہیں کے پاکستان لاوارث ہے یا یہاں کوئی قانون آئین نہیں الحمد اللہ ہمارے یہاں آئین بھی ہیں قانون بھی ہے صرف ان پر عمل درآمد کی ضرورت ہے جس دن ہم سب اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا شروع کریں اور اپنے اپنے زمہ داریوں کا احساس کرنا شروع کریں اور اپنی غلطیوں کا احساس کریں، یا کم سے کم اپنی زاتی زندگیوں کو سکون سے گزارنے کے لئے اصول و قانون کا احترام اور ان پر عمل کرنا شروع کریں تو پھر لوٹ مار، غربت، تعلیم، صحت تمام تر مشکلات حل ہو سکتیں ہیں۔ چھوٹی سی مثال اگر ہم کسی سگنل پر کھڑے ہوں اور اشارہ بتی لال ہوں تو ہمیں روکنا چاہیے سگنل پر روکنے کے دو اہم فائدے ہیں ایک زاتی اور ایک اجتماعی۔ زاتی فائدہ یہ ہے کہ ہم کسی بھی ممکنہ حادثہ سے بچ سکتے ہیں اور اجتماعی یہ کہ حکومتی اصول و قوانین کی پاسداری یعنی کہ قانون پر عمل اور ملک کی قانون کا احترام۔ قانون پر عمل کرنے سے زاتی بھی فائدہ ہوا اور اجتماعی بھی اسی طرح ہر محکمہ میں انسان اپنے فرض کو احسن طریقہ سے نبھاے تو ملک کو درپیش مسائل چند سالوں میں ختم ہو سکتے ہیں۔ ویسے تو ملک کے اندر ہزاروں اسکینڈلز، ہزاروں کیس عدالتوں میں التوا کا شکار ہیں جو کھبی سیاسی نظر ہوتی ہے تو کبھی مزہبی اور کبھی شخصی بھر حال اب پاناما پیپز نے دنیا کو ہلا کر دکھ دیا ہے، آئس لینڈ کے وزیر اعظم نے بھی اسعفیٰ دے دیا ہے اور برطانوں وزیراعظم کی کرسی کو بھی خطرہ ہے، ادھر ہمارے وزیر اعظم صاحب نے بھی بوکھلاہٹ میں اپنی صفائی پیش کی ہےاور اس وقت وہ بیمار بھی ہوئے ہیں اور لندن جانے کی تیاریاں ہو رہی ہے لیکن یہ نہیں معلوم وہ علاج اپنا کرائیں گے یا پاناما پیپر کا۔ لیکن اس وقت یہ انتہائی خوش آئین بات ہے کہ پاناما پیپرز پر تمام اپوزیشن ارکان بھی متفق ہیں تو قانون نافظ کرنے والے اداروں اور ان کیسیس کے ذمہ دار اداروں کو چاہیے کہ وہ اس کیس کی شفاف طریقہ سے تحقیقات کروائیں اور اس لسٹ میں موجود تمام لوگوں کو عدالت کے کٹھرے میں کھڑا کریں اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ان لوٹیروں کے خلاف متحد ہوں اور ان پر نظر رکھیں کہی دوسرے کیسوں کی طرح کچھ دن بعد یہ کیس بھی فائلوں تلے دب نہ جائے۔


تحریر۔۔۔۔۔۔ناصررینگچن

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree