وحدت نیوز (گلگت) گلگت بلتستان کے عوام مصیبت میں گرفتار ہیں اور حکومتی وزراء فوٹو سیشن میں مصروف ہیں۔صوبائی حکومت آفت زدہ عوام کو کسی قسم کا ریلیف دینے میں ناکام ہوچکی ہے ،جو حکومت عوام کو آٹا مہیا نہیں کرسکتی انہیں اقتدار میں بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں۔

مجلس وحدت مسلمین کے رکن گلگت بلتستان کاچو امتیاز حیدر خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام علاقوں کا آپس میں رابطہ منقطع ہوچکا ہے ،علاقے میں اشیائے خوردونوش کی قلت پید اہوچکی ہے حکومتی وزراء عوام کو ریلیف پہنچانے کی بجائے فوٹو سیشن میں مصروف ہیں۔بلند بانگ دعوے کرنے والی حکومت کی کارکردگی کا پول کھل چکا ہے ،گوداموں میں موجود گندم کو حکومت اپنے پیاروں میں تقسیم کررہی ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت میں آٹے کی عدم فراہمی سے ہوٹلز بند ہوچکے ہیں اورلوگوں کے گھروں میں فاقے شروع ہوچکے ہیں جبکہ حکمرانوں کے مال مویشی بھی دانہ دار آٹے سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علاقے کے پانی کی سپلائی کے بیشتر چینلز تباہ ہوچکے ہیں جن کی مرمت میں حکومت بے بس تماشائی بنی بیٹھی ہے،متاثریں کھلے آسمان تلے ریلیف کے منتظر ہیں لیکن حکومت کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہے۔علاقے میں اندھیروں کے راج سے طلباء و طالبات سخت اذیت میں مبتلا ہوچکے ہیں اور عین امتحانات کے دنوں میں لائٹ نہ ہونے سے ان کی پڑھائی سخت متاثر ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے علاقے میں قحط اور بحران پیدا ہوچکا ہے اور اس حکومت میں قدرتی آفات اور بحرانوں پر قابو پانے کی صلاحیت ہی موجود نہیں اگر حکومت کی یہی کارکردگی رہی تو آئندہ دنوں میں اس سے بڑا بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔انہوں نے پاک فوج کے ذمہ داروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس مصیبت کی گھڑی میں حکومتی اقدامات پر قطعاً اعتماد نہ کریں اور علاقے میں کسی بڑے بحران پیدا ہونے سے قبل امدادی کاروائیوں کا آغاز کریں اس لئے کہ علاقے کے عوام پاک فوج سے ہی امیدیں وابستہ کئے بیٹھے ہیں۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے میڈیا سیل سے جاری بیان میں ڈویژنل رہنما غلام حسین نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کی وجہ سے پاکستان سمیت دُنیا کے مختلف ملکوں میں سیاسی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ جہاں کے حکمران یا سیاستدان اور اُن کے قریبی رشتہ داروں کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے۔ پاکستان میں وزیر اعظم اور اُن کی حکومت پر پانامہ لیکس کی وجہ سے جو سیاسی دباؤ بڑھا ہے، اس سے ان کا نکلتا آسان نہیں ہوگا۔ وزیر اعظم نواز شریف جس سیاسی بحران سے دوچار ہے ان کی بین الاقوامی نوعیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں عوام اور دیگر سیاسی جماعتیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ وزیر اعظم دیگر ملکوں کے حکمرانوں کی طرح اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کریں اور استعفیٰ دیں۔ سب سے ذیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ لوگوں کا اعتماد ان حکمرانوں اور سیاست دانوں پر ختم ہورہا ہے بلکہ سیاست ایک ادار ے کے طور پرتباہ ہو رہی ہے۔ ملک میں اس وقت ایسی قدآور سیاست دان نہیں ہے۔ جس کا دامن بھی صاف ہو اور وہ لوگوں کا حقیقی ہیرو بھی ہو، قائداعظم کی رحلت کے بعد اس طرح کی صورتحال پیدا ہوئی ہے، لیکن اس لوگوں کو کوئی لیڈر اب نظر نہیں آتا جو انہیں اچھے خواب دیکھنے کا جواز فراہم کر سکے ہمارے حکمرانوں اور با اثر خاندانوں نے قوم سے مال چھپایا، ٹیکس چوری کی کرپشن کی یا پھر ناجائر ذرائعے سے دولت جمع کی، حضرت علی ؑ کے اس قول سے دولت کے معاملے میں فارمولا بڑا آسان ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں ’’ جب کبھی جہاں کہیں دولت کے انبار دیکھو تو سمجھ لو کہیں گڑبڑ ضرور ہوئی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ابھی تک احتجاج کا صرف سوچ رہی ہے۔ جبکہ دُنیا کے اکثر ممالک میں تو احتجاج اس حد تک ہوتی ہے کہ استعفوں کی جھڑی لگی ہوئی ہے۔ باقی ملکوں میں احتجاج ہو رہا ہے۔ بہت سے ملکوں میں تحقیقات کے دروازے کھل چکے ہیں۔ مگر ایک ہمارا پیارا ملک پاکستان ہے جہاں ابھی تک نہ تو کوئی تحقیقات کے دروازے کھول سکا ہے، صرف مطالبات ہو رہے ہیں۔ اس وقت حالت کا تقاضا یہ ہے کہ قومی دولت لئنے والون کا احتساب متعلقہ ریاستی اداروں کی آئین وقانونی ذمہ داری اور قومی فریضہ ہے۔ یہ کام بنیادی طور پر تین ریاستی اداروں نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کا ہی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ بطور ادارہ ان کا اپنا احتساب مطلوب ہے کیونکہ ان اداروں میں جاری کرپشن زبان زد عام ہے۔

وحدت نیوز(چناری) مجلس وحدت مسلمین کا مشاورتی سلسلہ ، ریاستی و مرکزی قیادت حلقہ پانچ پہنچ گئی، عمائدین کی میٹنگ ، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ، ریاستی سیکرٹری جنرل علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی ، ریاستی سیکرٹری سیاسیات سید محسن رضا سبزواری ایڈووکیٹ و دیگر نے زعماء سے خطاب کیا ، تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں و کشمیر کا آمدہ الیکشن 2016کے حوالے سے مشاورتی سلسلہ عروج پر، مرکزی و ریاستی قیادت نے حلقہ پانچ کا رخ کر لیا، ایک گرینڈ میٹنگ کا انعقاد ، جس میں حلقہ پانچ کے زعماء و عمائدین نے شرکت کی، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید ناصر عباس شیرازی ایڈووکیٹ نے کہا کہ حلقہ پانچ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، یہاں کی محرومیوں پر بات کریں گے ، یہ حلقہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے خصوصی نوعیت رکھتا ہے، یہاں کے لوگ بارڈر پر رہتے ہیں ، ان نے خطے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں ، لیکن دیکھا جائے تو سڑکوں کی حالت ناقابل بیان ہے، ایک بارش ہو جائے تو یہ حلقہ یہاں کے باسی دارالحکومت سے کٹ جاتے ہیں ، ہم سوال کرتے ہیں حکمرانوں سے کہ اس طرح کے اقدامات سے اُس پار کیا پیغام جائے گا، انشاء اللہ ہم آواز اٹھائیں گے ، کہ یہاں کے لوگوں کو کیوں ووٹ لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے، اور اب باشعور عوام آزمائے ہوئے چہروں کو دوبارہ نہیں آزمائے گی، مجلس وحدت مسلمین کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ہر محروم و مظلوم کی جماعت ہے ، یہ عوام کی جماعت ہے ، یہ جہاں ظلم ہو گا ، وہاں ڈٹ کے کھڑے ہو جانے والی جماعت ہے ، کراچی سے کشمیر تک ایک چین بنانا چاہتے ہیں جہاں ہم مظلوم و محروموں کو ایک لڑی میں پرو کر ایک طاقت میں تبدیل کر سکے ، جب ہم ایک طاقت بن جائیں گے تو کوئی بھی نہ تو ہمیں دبا سکتا ہے ، نہ خرید سکتا ہے ، نہ جھکا سکتا ہے۔

ریاستی سیکرٹری جنرل علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی نے کہا کہ حلقہ پانچ میں کئی بار بہت سے بڑوں بڑوں کو آزمایا گیا مگر انہوں نے علاقے کے حقوق کی ترجمانی نہیں کی، اپوزیشن لیڈر جو کہ یہاں سے ہیں ، ایک دفعہ وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں ، مزید ایک دفعہ وزیراعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں ، بتائیں کہ کہاں اور کب انہوں نے ہٹیاں بالا کے عوام کی بات کی ، کب علاقے کے مسائل پر بات کی؟ صحت ، تعلیم ،روزگار جیسے مسائل کے لیے تو وقت نہ تھا، مگر کسے الیکشن میں اترنا ہے، کسے ٹکٹ دینا ہے صرف اسی واویلے کو سنتے آرہے ہیں ۔ مجلس وحدت مسلمین بات کرے گی ، حکومت و اپوزیشن کی گٹھ جوڑ پر آواز اٹھائے گی ۔ عوام کے حقوق کی ترجمان ثابت ہو گی۔ عوام ساتھ دیں انشاء اللہ مایوس نہیں کریں گے۔سیکرٹری سیاسیات سید محسن رضا سبزواری ایڈووکیٹ نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین عوامی جماعت ہے ، عوامی مشاورت سے ہی اگلا قدم اٹھائے گی ، ہم ڈرائینگ روم کی سیاست نہیں کرتے ہم عوامی حلقوں میں بیٹھ کر عوام سے فیصلے کرواتے اور خود اُن پر عمل کرتے ہیں ، عوام کا جو بھی فیصلہ ہو گا ہم ساتھ ہیں ۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) مجلس وحدت مسلمین کا ملک گیر سالانہ تنظیمی کنونشن اس اعتبارسے خاصی اہمیت کا حامل رہاکہ تین سال بعدمرکزی سیکرٹری جنرل کی نشست پر انتخاب کا مرحلہ بھی اسی دوران طے کیا جانا تھا۔جماعت کے منشور کے مطابق ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ کو مرکزی سیکرٹری جنرل کہا جاتا ہے۔انتخابی عمل سے قبل مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری اپنی آئینی مدت کے اختتام پر عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔علامہ ناصر اس سے قبل دو بار منتخب ہو چکے ہیں۔کنونشن کی آخری نشست میں شیعہ سنی علما کی موجودگی نے باہمی احترام اور رواداری کی پر رشک فضا قائم کی ہوئی تھی۔میڈیا کے دوستوں اور مبصرین کی موجودگی میں رائے شماری کا عمل شروع ہوا۔ ووٹنگ کے اختتام کے بعد شوری عالی کے اراکین جو کہ انتخابی عمل کے نگران بھی تھے نے گنتی شروع کی۔بزرگ عالم دین علامہ شیخ صلاح الدین نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری بھاری اکثریت سے مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب ہو گئے ہیں۔اس اعلان پر حاضرین کھڑے ہو کر نومنتخب سیکرٹری جنرل کو بھرپور نعروں کی صورت میں خراج تحسین پیش کیا۔

علامہ ناصر عباس جعفری ایم ڈبلیو ایم کے بانیان میں سے ہیں۔پارہ چنار،گلگت بلتستان، کراچی ،کوئٹہ اور ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے نہ تھمنے والے واقعات پر مذہبی جماعتوں کے سکوت کے ردعمل میں مجلس وحدت مسلمین کا قیام عمل میں آیا۔اس جماعت کے اولین اہداف میں ملکی ترقی و استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں،دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کی طرف سے موثر حکمت عملی طے نہ ہونے تک آئینی جدوجہد اور اتحاد بین المسالک کے لیے عملی کوششوں کا آغاز ہے۔علامہ ناصر عباس نے روز اول سے یہ واضح کر رکھا تھا کہ ہم ظالم کے مخالف ہیں چاہے وہ کوئی ہم مذہب ہی کیوں نہ ہو اور مظلوم کے حامی ہیں چاہے وہ کوئی غیر مذہب ہی ہو۔ یہ نعرہ علامہ نا صر عباس کی مقبولیت کا باعث بنا۔مجلس وحدت مسلمین نے مختلف قومی اور عالمی ایشوز پر جوٹھوس موقف اختیار کیا اسے اگر اس وقت حکومت کی طرف سے پذیرائی نہیں بھی ملی تو بھی بعد کے حالات اور وقت نے یہ ثابت کیا کہ اس سیاسی و مذہبی جماعت کی پالیسی قوم و ملک کے حقیقی مفاد میں تھی۔طالبان کے خلاف طاقت کے استعمال سے قبل مجلس وحدت مسلمین کے علاوہ ملک کی تقریباََ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں طالبان سے مذاکرات کی حامی تھیں ۔ایم ڈبلیو ایم نے واضح طور پر حکومت سے مطالبہ کیا یہ مذموم عناصر پاکستان کے امن و استحکام کے دشمن ہیں۔ان کے ہاتھ ساٹھ ہزار سے زائد پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ان کے ساتھ رعایت برتنا اپنوں کے خون کے ساتھ غداری ہو گی۔مذاکرات کا طویل راگ الاپنے کے بعد بھی طالبان کو رام نہ کیا جا سکا تو پھر ان کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کیا گیا۔اگر اس آپریشن کی راہ میں مصلحت اور سیاسی دباو اثر انداز نہ ہوتا پاکستان کی بہت ساری قد آور شخصیات اور دیگر افراد دہشت گردی کی بھینٹ نہ چڑھتے۔

اسی طرح یمن اور سعودی عرب کے مختلف تنازعات میں پاکستانی فوج کومدد کی غرض سے بھیجنے کے فیصلے کے خلاف ایم ڈبلیو ایم نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی موجودہ داخلی صورتحال اس کی قطعی متحمل نہیں۔ ہماری افواج اس وقت لاتعداداندرونی و بیرونی خطرات سے دوچار ہے۔ہمیں بہت سارے دیگر محاذوں پر دشمن کی سازشوں کا سامنا ہے۔ایسی صورتحال میں پاک فوج کوکسی دوسرے کی لڑائی میں دھکیلنا دانشمندی نہیں۔بعد ازاں ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اسی موقف کو دہرایا۔وطن کی داخلی صورتحال کی ابتری میں ان قوتوں کا بڑا عمل دخل رہا ہے جو دین کے نام پر تفرقہ پھیلانے میں مصروف ہیں۔یہی قوتیں طے شدہ ایجنڈے کو کامیاب بنانے کے لیے دہشت گردی کی راہ ہموار کرتی ہیں۔مجلس وحدت مسلمین نے ان عناصر کو شکست دینے کے لیے ملک میں شیعہ سنی اتحاد کی عملی بنیاد ڈالی۔دہشت گردی اور حکومت کی غیر منصفانہ پالیسیوں کے خلاف سنی جماعتوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کی گئی۔سانحہ ماڈل ٹاون لاہور میں پاکستانی عوامی تحریک کے بے گناہ کارکنوں کی پولیس کے ہاتھوں شہادت پر ایف آئی آرنہ کرنے کے خلاف جب دھرنے کا اعلان ہو تو علامہ ناصر عباس نے مظلوم کی حمایت کی پالیسی کو مقدم رکھا اور علامہ طاہر القادری کے ہم قدم رہے۔ پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے تین ماہ سے زائد عرصے پر محیط طویل ترین دھرنے میں مجلس وحدت مسلمین کی نمائندگی نے شیعہ سنی اتحاد کی ایک انمٹ تاریخ رقم کی۔2013محرم الحرام کے دوران راولپنڈی میں پیش آنے والا سانحہ راجہ بازار میں کچھ شر پسند کی جانب سے پنڈی میں تفرقہ بازی کی آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔جسے اس وقت ایم ڈبلیو ایم کی مدبر قیادت نے سنی علما کے ساتھ مل کر ناکام بنا دیا۔

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا نے میڈیا کے ہر فورم پر یہ آوازبلند کی کہ ملت تشیع ایک پر امن قوم ہے۔کچھ منفی عناصر ہمیں آپس میں دست گریبان کرنا چاہتے ہیں۔شیعہ سنی وحدت کے ہتھیار سے راولپنڈی میں بدامنی پیدا کرنے والوں کے عزائم خاک میں ملا دیے گئے۔علامہ ناصر عباس ہر سال ربیع الاول کے موقعہ پر تمام صوبائی و ضلع عہدیدران کو ہدایات جاری کرتے ہیں کہ وہ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر اپنے اپنے علاقوں میں سٹیج بنوائیں اور نعتیہ مقابلوں کا انعقاد کریں۔گزشتہ سال ماہ ربیع الاول کو مذہبی جوش و ولولے سے منانے کے لیے مجلس وحدت مسلمین کی طرف سے ملک بھر میں تیس سو سے زائد سٹیج سجائے گا۔ شیعہ سنی وحدت کی یہ عمدہ مثال اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی۔علامہ ناصر عباس نے سہ بارہ سیکرٹری جنرل منتخب ہونے کے بعد خطاب میں پاکستان کی حفاظت کو واجب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس وطن کے باوفا بیٹے ہیں۔ہم اس پر کبھی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ قوم و ملت کی سربلندی اور وطن کے استحکام کے لیے میری جدوجہد بلا خوف خطر جاری رہے گی۔کوئی بھی حکمران ہمیں ہمارے اصولی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔انہوں نے کہاپاکستان سمیت دنیا بھر میں بلا تخصیص مسلک و مذہب دو گروہ ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آرا ہیں۔ایک گروہ مظلومین کا اور دوسرا ظالمین کا۔ہمیں آپ ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑا دیکھیں گے۔پاکستان کے پاک وجود کو داعش سمیت کسی بھی دہشت گرد طاقت کے نجس وجود سے آلودہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وطن عزیز کو اس وقت لاتعداد چینلجز کا سامنا ہے۔نفرتیں پھیلا کر قوم کو تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے تاکہ پاکستان قوم متحد نہ ہو سکے۔ہمیں اپنے اتحاد و اخوت کے عملی اظہار سے ان ناپاک ارادوں کو خاک میں ملانا ہو گا۔

حکمران عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بجائے آئے روز گرتی ہوئی لاشوں کے تماش بین بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرز، پروفیسرز ،ہونہار طلبہ اور علم کی روشنیاں بکھیرنے والوں سے زندگیاں چھینی جا رہی ہیں۔ہمارے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے اور دوسری طرف نیشنل ایکشن پلان کے نام پر ہمارے ہی لوگوں کے خلاف مقدمات بھی درج ہو رہے ہیں۔ قانون انصاف کو طاقت کے زور پر پامال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد جتنا بڑا مجرم ہے اتنا ہی بڑا مجرم اس کا سہولت کار بھی ہے۔ دونوں ملک کے امن و سکون اور انسانیت کے دشمن ہیں۔وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ان مذموم عناصر کے سختی سے کچلنا ہو گا۔عالمی استکباری قوتیں پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتیں۔ان کے حلقہ اثر سے آزادی ہی حقیقی آزادی سمجھی جائے گی۔یہ طاقتیں قائد و اقبال کے اسلامی پاکستان کو مسلکی پاکستان کی شکل دینا چاہتے ہیں تاکہ تصادم کی راہ ہموار ہو ۔اس ملک میں بسنے والے سنی ، شیعہ ،عیسائی، ہندو اور دیگر تمام مکاتب فکر کو مذہب و مسلک کی بنیاد سے آزاد ہو کر برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ملک میں موجود سیاستدانوں، فوج، بیورکریسی اور عدلیہ سمیت سب کو اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے قومی ترقی و خوشحالی کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حقوق دے جائیں۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے جہادی گروہوں کو پالنے کی ضرورت نہیں اگر جنگ کرنی ہے تو تو عوام کو آواز دی جائے ۔ملک کے باوفابیٹے ایک آواز پر میدان میں موجود ہوں گے۔پاک ایران مضبوط تعلقات کے سٹریٹجک کونسل تشکیل دی جائے جسے میں دونوں ممالک کے لوگ شامل ہوں تاکہ غلط فہمیوں کو تقویت نہ مل سکے اورمتنازعہ معاملات کا احسن انداز میں حل نکالا جا سکے۔پاک ایران کے مضبوط تعلقات خطے کے استحکام میں بہترین کر دار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق کے حصول کے لیے آئینی جدوجہد جاری رہے گی۔جو لوگ ریاست میں مسلح جدوجہد کے قائل ہیں وہ غدار ہیں۔مقاصد کے حصول کے لیے آئین و قانون کی پابندی ہمارا طرہ امتیا ز رہا ہے۔پاکستان میں مہذب احتجاج کی روایت ہم نے ڈالی ہے۔پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ حکمران صرف کرپٹ ہی نہیں بلکہ اخلاقی قدروں سے بھی عاری ہیں۔ہم اس کرپشن کے خلاف پورے عزم اور نئے ولولے سے آگے بڑھیں گے۔


تحریر۔۔۔۔۔سید نادِعلی کاظمی

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری سیاسیات ناصرعباس شیرازی نے کہا ہے کہ بحیثیت تشیع اجتماعی فرائض ادا کئے بغیر ہم اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا نہیں ہوسکتے۔ ہمارے مکتب کے مطابق حضرت علی علیہ السلام سیاسی و مذہبی دونوں حوالوں سے امام ہیں۔ جب تک تشیع پاکستان کی تمام طاقتیں یکجا نہ ہوں گی، کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتے۔ ایک تشکل کی صورت میں اکٹھے ہو کر ہی ملت تشیع کی خاطر بہتر انداز میں کام کیا جاسکتا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم قوم کو اکٹھا کرکے سیاسی طاقت بنانا چاہتی ہے۔ ملت کے لئے کئی طرح کے نظریات پیش کئے گئے، ایک یہ ہے کہ ہم اس پورے سسٹم سے قطع تعلق ہو جائیں، اس فکر پر عمل کرکے ہم بدترین حکمرانوں کو خود پر مسلط کرنے کے ذمہ دار ہوں گے، دوسرا یہ ہے کہ ہم مختلف سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دیں، جس کا تجربہ ہم نے گذشتہ کئی دہائیوں میں کیا، کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل سکا۔

ناصر عباس شیرازی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ سے لیکر ڈی آئی خان اور پاراچنار کے لوگ بتا سکتے ہیں کہ گذشتہ چھیاسٹھ سال تک ہم ان پارٹیوں میں رہے، یہ ہمیں اپنی جیب کا ووٹ سمجھنے لگیں، قوم کو جائز حق نہ مل سکا۔ اور سیاسی غلام بنا کر رکھ دیا گیا، جس کے اثرات ہماری نسلوں کے اذہان پر منتقل ہوتے چلے گئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایک نومولود کو بھی نام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے شہید قائد کی فکر کو جاری رکھتے ہوئے، قوم کو سیاسی شناخت دی، ایم ڈبلیو ایم پہلا قدم ہے۔ سیاسی پارٹیاں جان چکی ہیں کہ تشیع کے حقوق کی وارث جماعت میدان عمل میں کود چکی ہے۔ ہمیں اب سیاسی جماعتوں کو باور کرانا ہوگا کہ پورے ملک میں پھیلا ہوا مومنین کا ووٹ ملت تشیع کا ووٹ بینک ہے، جس کا ملت تشیع کو فائدہ ہونا چاہیے۔ شہید قائد چاہتے تھے کہ اس پاک وطن کی خارجہ، داخلہ اور دیگر پالیسیز پر تشیع کا کردار موجود ہو۔ اس ملک کی تقدیر کے فیصلے ملت تشیع کی رضا مندی کے ساتھ ہوں۔ وہ ملت جو اپنے ملک میں اپنی شناخت پیدا نہ کرسکے، امام زمانہ (عجل) کی نصرت کی جانب کیسے قدم بڑھائے گی۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے میڈیا سیل سے جاری شدہ بیان میں کونسلررجب علی نے عوام کو قانون کا احترام اور اسکی پاسداری کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کا احترام ہر خاص و عام پر فرض ہے،اسکی پاسداری ملک کے نظام کو بحال رکھ سکتی ہے اور ان بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد سے ہی ہمیں بدنظمی اور دیگر مسائل سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ قانون کی نظر میں سب برابرہے ،یعنی ہم سب کو قانون پر عمل کرنا ہوگا، چاہے کوئی وزیر ہو مشیر ہو یا کوئی عام آدمی، کسی کو قانون شکنی کی اجازت نہیں دے سکتے بلکہ وفاقی اور صوبائی وزراء پر ذمہ داریاں دوسروں کی نسبت زیادہ عائد ہیں۔ وزراء اور اعلیٰ افسران قانون کا احترام کرے تاکہ عوام کو خود بخود قانون کی اہمیت کا احساس ہوجائے، قانون کا احترام ہر شہری اپنے منتخب کردہ نمائندے کو دیکھ کر سیکھ سکتا ہے۔ جب عوام کو اس بات کا احساس ہوگا کہ وزراء بھی قانون شکنی سے گریز کرتے ہیں تو عوام بھی ان باتوں کا خیال رکھیں گے۔

انہوں نے مزید کہ ہمیں آئے روز سینکڑوں مسائل کا سامنا اس لئے کرنا پڑتا ہے کہ عوام پوری طرح قانون کا احترام نہیں کرتے اور یہ سب اسباب بنتے ہیں شہر کے نظم و ضبط کی پامالی کا، اسکی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ عوام شہر کے بیشتر قوانین سے غافل ہے اور انہیں کوئی قانون سکھانے والا ہے ہی نہیں۔بیان میں کہا گیا کہ نظم و ضبط کسی معاشرے کی مہذب ہونے کی دلیل ہے اور اسی سے عوام کے شعور کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، ترقی یافتہ ممالک پر ایک نظر ڈالی جائے تو وہاں کا ہر فرد قانون سمجھتا اور اس پر عمل کرتا ہے اگر ہم اپنا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کرانا چاہتے ہیں تو نظم و ضبط کی بحالی پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ بیان کے آخر میں کہا گیا کہ رکشوں کے کرایوں میں کمی کیلئے قانون بنایا گیا ہے اور ٹھیک اسی طرح اشیائے خورد و نوش کو بھی عوام کیلئے سستے دام تک پہنچانے کیلئے قانون بنایا گیا ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ یہ سب قوانین صرف کاغذ کے صفحوں تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے ان چیزوں پر کوئی عمل نہیں کر رہا اور نہ ہی کوئی اقدام اٹھایا جا رہا ہے۔جو لوگ اپنی ذاتی گاڑیوں پر سفر کرتے ہیں ان کا رکشوں کے کرایوں سے تعلق نہیں، دال چاول کے قیمتوں میں کمی یا اضافے سے شاید اعلیٰ افسران پر کوئی اثر نہ پڑے مگر غریب عوام کو ریلیف پہنچانے کی خاطر ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree