وحدت نیوز (نجف اشرف) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کےاعلیٰ سطحی وفد کی سیکرٹری امور خارجہ ڈاکٹرعلامہ شفقت شیرازی کی سربراہی میں عراقی پارلیمینٹ کے ڈپٹی اسپیکرڈاکٹرشیخ حمام حمودی سے ملاقات نجف  میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماوں کے درمیان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بات چیت ہوئی اور یمن میں سعودی جارحیت پر تشویش ظاہر کی گئی اوراس جارحیت کو یمنی عوام کے ارادوں پر حملے کے مترادف سمجھا گیا۔ علاوہ ازیں سربراہ امور خارجہ نے شیخ حمام حمودی کو پاکستان میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی فعالیت اور کردار کی تفاصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ملت پاکستان اس وقت بیدار ہے اوردشمنوں کے مقابلے میں باہمی وحدت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آج پاکستان میں شیعہ سنی ایک ہی پلیٹ فارم پر نظرآتے ہیں اور جس کی وجہ سے پاکستان میں ہونے والے فیصلوں پر اثر ہوتا ہے۔ جس کی مثال حالیہ سعودی عرب کی فوج طلبی پر پاکستانی پارلیمنٹ کی ثالثی کی قرارداد ہے۔ اب حکمران اپنی مرضی اور ذاتی تعلقات کی بنا پر پاکستان کے مستقبل کے فیصلے نہیں کر سکتے۔ عراقی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے اس قراداد کو سراہا اور خوش آئند قرار دیا۔ اورایم ڈبلیوایم کے کردار کو سراہاتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت تبدیلی کے موڑ پر ہے لہذا پاکستان میں بھی تبدیلی کے خواہاں طبقات کو یکجا ہوکرکام کرنا چاہیے۔ ملاقات میں مرکزی سیکرٹری سیاسیات ناصرعباس شیرازی و دیگر برادران بھی تھے۔

وحدت نیوز (پاراچنار) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ذیلی شعبہ وحدت اسکاوٹس کے مرکزی مسئول تنصیرشہیدی نے پاراچنار کا دورہ کیا، اس موقع پر انہوں نے مختلف نشستوں کے دوران اسکاوٹنگ کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی، انہوں نے انصار الحسین پاراچنار کے دفتر کا دورہ کیا، اور انصار الحسین کے رہنماوں کیساتھ ملاقات کی۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم پاراچنار کے سیکرٹری جنرل ریاض حسین بنگش بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ملاقات کے دوران پاراچنار میں اسکاوٹنگ کے فروغ کے لئے مل کر کام کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا گیا۔ علاوہ ازیں تنصیر شہیدی نے گورنمنٹ شهید اسرا ہائی سکول پارا چنار اور علی بپلک ماڈل سکول کا بھی دورہ کیا، اور طلبہ کو اسکاوٹنگ کی اہمیت سے روشناس کرایا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے سالانہ تنظیمی کنونشن سے خطاب کرتے ہوِئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکریٹری تبلیغات علامہ اعجاز حسین بہشتی کا کہنا تھا کہ انقلاب مہدویت اور عالمی نظام عدالت کے قیام میں یمن کے مسلمانوں کا کردار احادیث و روایت میں واضح ہے اور متعدد روایت میں یہ بات آئی ہے کہ امام زمانہ کے ظہور اور ان کے انقلاب میں یمن کا خاص کردار ہوگا۔یمن کی تاریخ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوکہنا تھا، اویس قرنی جیسی عظیم صحابی رسول جو بعد میں امیر المومنین کی رکاب میں شہید ہوئے ان کا تعلق بھی یمن سے تھا۔ یمن اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ سے اسلامی سربراہان اور انقلابیوں کا مرکز رہا ہے۔

 

امیر المومنین علی ابی طالب ع کی یمن میں آمد اور پیام رسول اللہ ص پہنچانے کے بعد پورے یمن نے علی کے ہاتھ میں بیعت کی اور اسلالم کے دائرے میں داخل ہوئے۔علامہ اعجاز کا مزید کہنا تھا کہ آج یمن کے مظلم اور غریب عوام اپنے جائز اور انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کر رہے تھے کہ سعودی اور اس کے اتحادیوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہو ئے نہتے اور معصوم عوام کا قتل عام کیا۔ اس صورت حال میں حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ سعوی مظالم میں شامل ہونے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کری۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے متحدہ عرب امارات کے ریاستی وزیر خارجہ ڈاکٹر انور محمود گرگاش کے اس بیان پر کڑی تنقید کی ہے جس میں انہوں نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ یمن کے مسئلہ پر مبہم موقف کی پاکستان کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کہا کہ اگر کوئی ملک پاکستان کو اپنی کالونی سمجھتا ہے تو وہ قطعی مغالطے میں ہے۔پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اورزمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر اپنے فیصلے کرتا ہے کسی دوسرے ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔انہوں نے کہا کہ یو اے ای کے وزیر خارجہ کا بیان حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ انہیں اب اپنے دوست دشمن کی شناخت کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیئے۔پاکستان میں کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کر کے خلیجی ریاستوں نے اپنی دہشت گردی کے مراکز کو مضبوط کر رکھا تھا۔ ضرب عضب اور دہشت گردی کے خلاف جامع آپریشن کے بعد یہ طاقتیں سخت مایوسی کا شکار ہیں اور انہیں اپنے مذموم ارادوں میں ناکامی واضح دکھائی دے رہی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یو اے ای کے سفیر کو بلا کر وزیر خارجہ کے اس بیان کی سخت الفاظ میں سرزنش کی جائے اور اسے پاکستان کے خلاف اس طرح کے نازیبا اور دھمکی آمیز بیان واپس لینے اور معافی مانگنے پر زور دیا جائے۔

وحدت نیوز (پشاور) مجلس وحدت مسلمین کے ذیلی شعبہ وحدت اسکاوٹس کے مرکزی سیکرٹری تنصیر حیدر شہیدی نے پشاور کا دورہ کیا اور ایک نشست کے دوران سید احمد شیرازی کو وحدت اسکاوٹس پشاور کا لیڈر منتخب کرلیا گیا، ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی آفس میں منعقدہ اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے تنصیر حیدر شہیدی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں نوجوانوں کو اسکاؤٹنگ کی عالمی تحریک سے مربوط ره کر پاکستان میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں تنصیر حیدر شہیدی نے ڈپٹی سیکرٹری فاٹا بوائے اسکاؤٹ ایسوسی ایشن اعوان حسین سے ملاقات کی، اس موقع پر تحائف کا تبادلہ ہوا اور اسکاوٹنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا، ڈپٹی سیکرٹری فاٹا بوائے اسکاؤٹ ایسوسی ایشن اعوان حسین کی جانب سے تنصیر حیدر کو فاٹا بوائے اسکاؤٹ ایسوسی ایشن کا اسکارف بھی پہنایا گیا۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) کسی بھی ریاست میں طبقہ بندی کی جتنی بھی تقسیم ہو مگر وہ ان دو تقسیموں سے مبرا نہیں ہو سکتی ایک حاکم اور ایک محکوم ،عوام اور خاصان۔ اس تقسیم میں آرزوءں تمناؤں کی تقسیم اور جدائی میں بھی اسقدرتضاد ہے جس قدر طبقے میں جدائی ہے جس کی وجہ دونوں طبقوں کے ترجیحات اور مفادات ہیں جو کچھ حکمران چاہتے ہیں وہ کسی صورت عوام کے مفاد میں نہیں ہوتا اور جو عوام کی چا ہتیں اور ترجیحات ہوتی ہیں وہ کسی صورت حکمرانوں کے مفادمیں نہیں ہوتی حالانکہ اس مشکل کا حل اہل دانش نے جمہوریت کی صورت میں نکالا مگر شاید موجودہ دور میں جمہوریت بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں بری طرح بے بس اور ناکام دکھائی دیتی ہے فقط جمہوریت اپنے نظام کے اندر اتنی صلاحیت نہیں رکھتی کہ ایسے پیچیدہ مسائل کا حل پیش کرے اور کچھ جمہوریت کو ایسے غیر جمہوریت پسند افراد کے ہاتھوں کا کھلونا بنادیا گیا ہے کہ جتنی صلاحیت اس نظام میں ہے وہ بھی مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی جمہوری لطیفہ نہیں ہوسکتا کہ ایک جمہوری پارٹی کا سربراہ یہ کہتا ہوا نظر آئے کہ سعودی عرب جمہوریت بچانے کی کوشش کررہاہے جو قبیلہ اپنے ملک کے اندر تو جمہوریت کو داخل ہونے نہ دے وہ دوسرے ممالک میں جمہوریت بچاتاپھرے جبکہ حقیقت میں وہ اپنے اقتدار کے طول کی خاطر فرعون کی طرح بچوں کا قتل عام کررہاہے ! یہ ایساہی ہے کہ جیسے پاکستان کے حکمران کہیں کہ ہم سعودی عرب کی ہرحال میں حفاظت کریں گے اور اس پر کوئی آنچ نہ آنے دیں گے جبکہ ان کے اپنے ملک میں بچوں کے اسکول اور بڑوں کی مساجد تک محفوظ نہ ہوں اوروہ دوسروں کے ملک کی حفاظت کے لئے اسمبلیوں کے اجلاس بلاتا پھرے شاید اس موقع کے لئے ہی غالب نے کہا تھا " کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالب ، شرم تم کو مگر نہیں آتی "۔

 

اور یہ سب اس لئے ہے کہ ہم نے ماضی قریب میں بھی دیکھا کہ یہی سب سیاستدان اور قانوندان ہم آواز ہوکر اسی اسمبلی میں جوائینٹ سیشن بلاکر سعودی پٹھو حکمران کو اسی جمہوریت کے نام پر بچانے کے لئے جمع ہوئے تھے اور آئین کے تقدس اور تحفظ کا بہانہ بھی گھڑ لیا تھا اور اب تومعاملہ کسی پٹھو کا نہیں بلکہ خود آقا کا ہے تو پھر وہی اسمبلی اور پھر وہی جمہوری ڈرامہ اور جھوٹی دوستی کا بھرم اور کعبہ اور حرم کے تقدس اور حفاظت کا بہانہ، نہ عوام کا مفاد نہ ملکی آبرو کی پرواہ بس غلامی اور غلامانہ آداب کی بجاآوری، جبکہ ان سب جمہوریت کے محافظوں کے ناک کے نیچے گلگت میں جمہوری اور آئینی حق استعمال کرنے والوں کے خلاف دہشتگری ایکٹ کے تحت ایف آئی آر کاٹی جارہی ہیں اور وہ اسمبلی میں تماشائی بنے بیٹھے ہیں کیوں کہ گلگت والوں نے ان اسمبلی والوں کے آقا سعودی کو للکارا ہے اس لئے ان کا جرم بھی بڑا ہے اور ان کا حامی بھی اسمبلی میں کوئی نہیں کیوں کہ سب آقا کے ہاتھ بکے ہوئے ہیں۔

 

بین الاقوامی جائزہ لینے کے بعد پتہ چلتاہے کہ یہ مسائل تمام جمہوری ممالک میں پیش آرہے ہیں چاہے وہ ملک یورپی ہو یا ایشیائی اس سے پتہ چلتا ہے کہ جمہوریت خود اپنے وجود میں کتنی کامل ہے اور اس کی بقاء کے لئے کن رہنما اصولوں کی ضرورت ہے بحرحال جب بھی کسی نااہل حکمران گروہ کو خطرہ لاحق ہو تا ہے تواس نے ہمیشہ ایسے ہی بہانے کئے ہیں کہ اسلام کو خطرہ ہے یا پھر اب کہا جا رہا ہے کہ کعبہ کو خطرہ ہےلیکن ہم نے دیکھا کہ نہ خطرہ اسلام کو تھا نہ اب کعبہ کو ہے بلکہ خطر ے میں ہمیشہ یہ قابض حکمران رہے ہیں البتہ یہ خطرہ کبھی بڑھ جاتا ہے کبھی ٹل جاتا ہے۔ ایک بات ہمیشہ دیکھی گئی ہے کہ حکمران طبقے نے ہمیشہ عوامی امنگوں کا خون کرکے اپنے جیسے حکمرانوں کو بچا تو لیا ہے مگر وقت آنے پر ان کو عوام نے بھی تاریخ ساز سبق دیاہے صد افسوس کہ اس حکمران طبقے نے کبھی بھی ماضی سے سبق نہیں لیا ۔

 

تاریخی اعتبار سے دیکھنا پڑے گا کہ کعبہ اور مسجدنبوی کو کس نے نقصان پہنچایا ہے یا منہدم کیا اور دور حاضر میں کون کعبہ اور حرم رسول ؐ کو معاذاللہ مظہر شرک قرار دے کر مسمار کرنے کا اعلان کرچکا ہے اور کون ایسے اعلان کرنے والوں کے ہم رکاب ہوکر کسی ملک کے بے گناہ شہریوں پر حملہ آور ہوا ہے اور کون حرمین کے بارے میں اس قدر جسارت کرنے کے باوجود خاموش رہا کیوں اس وقت سعودی حکمران داعش پر حملہ آور نہیں ہوئے کیوں اس وقت کعبہ اور حرم رسول ؐ کی حرمت اور حفاظت کی خاطر نوازشریف نے جوائینٹ سیشن کا اجلاس طلب نہیں کیا ،کیوں سعودی حکمرانوں نے پاکستان سے فوجی امداد طلب نہیں کی اور اب کیوں اسرائیل، القائدہ ،داعش ، سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک ملکر یمن پر حملہ آور ہوئے ہیں ،کیا اس کے پیچھے حرمین کے خلاف کوئی گہری سازش تو نہیں غور سے جائزہ لیا جائے تو دشمن اپنا کام کر چکا ہے گلی گلی جنگ اور خون خرابہ کرنے کے مکمل اسباب فراہم کئے جا چکے ہیں اور پوری دنیا کو ایک اور ورلڈ وار میں جھونکا جا چکا ہے حرمین پر حملہ کر چکے ہیں لیکن اس دور کے ولی صفت انسانوں نے اس جنگ کو ناکام بنانے اور دنیا کو پرامن رکھنے کی سعی کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہ آگ ماند پڑتی دکھائی دے رہی ہے اور دشمن ناکام ہوتا نظر آرہاہے۔

 

لیکن عوام کو اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھنی پڑے گی پروپیگنڈا اور حقائق کو گہرائی اور سنجیدگی سے دیکھنا پڑے گا دوست اور دشمن کی پہچان کرنی پڑے گی بہروپیوں کے اصل چہروں کو پہچاننا ہوگا کعبہ کی دیواروں سے بت اللہ کے رسول ؐ نے ہٹادیئے مگر بت پرستوں نے کعبہ کی دیواروں پر اپنے نام کی تختی لگا کرپھر بت پرستی کی ابتداء کردی ہے اب معمولی سی غلطی کی گنجائش نہیں ہے نام اور ظاہر کے دھوکے سے بچنا پڑے گا ورنہ کہیں دوست کے روپ میں دشمن اپنا وار نہ کرجائے اور جس کو بچانے کی ہم سب آرزو کر رہے ہیں اپنی لڑائی میں کہیں اسے ہی نہ کھودیں کیوں کہ دشمن اعلان کے ساتھ ساتھ اتحادبھی کرچکا ہے اور وہ ہماری غفلت کا ہی فائدہ اٹھائے گا اور ہم دشمن کے بجائے اپنے دوست ہی کو نہ ختم کربیٹھیں کیوں کہ دشمن بزدل اور کمزور ہے لیکن وہ ہمیں آپس میں لڑاکر اپنی کمزوری کو طاقت میں بدلنا چاہتا ہے اور ہمارے ڈر کو اپنی بھادری بنالے گا۔

 

آج پاکستان کی عوام سعودی سازشوں کو پہچان چکے ہیں اور مختلف ذرائع سے اپنا موقف واضع طور پر دے چکے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اسمبلیوں میں بیٹھے نا اہل سیاستدان دو دن تک جوائینٹ سیشن کا اجلاس کرکے بھی کوئی واضع اور ٹھوس موقف اختیار نہ کر سکے اور اس سیشن میں ہم نے دیکھا کہ بڑے بڑے مسائل پر لمبی لمبی تقریریں کرنے والے قانوندانوں ،سیاستدانوں کے منہ پر تالے لگے ہوئےتھے اور بڑے بڑے مولویوں کی بھی گھگھی بندھی ہوئی تھی جس سے ان کی اہلیت مزید کھل کر سامنے آچکی ہے اور عوامی اور حکمرانی سوچ میں تضاد واضع نظر آرہاہے جس سے اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے نمائیندوں کو حاصل عوامی مینڈیٹ کا جھوٹا پول بھی کھل گیاہے۔

 


تحریر : عبداللہ مطہری

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree