وحدت نیوز (اسلام آباد) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے وفد کے ہمراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری سے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے۔ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین، غلام سرور جبکہ ایم ڈبلیو ایم سیکریٹری سیاسیات ناصر عباس شیرازی بھی موجود تھے۔ ملاقات میں طرفین کی جانب سے اتفاق کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان انڈراسٹیڈینگ اصولوں کی بنیاد پر ہو گی۔ دہشتگری کی مخالفت،آپریشن ضرب عضب کی حمایت، فرقہ واریت اور تکفیریت کے خاتمے اور ملک کے استحکام سمیت آزاد خارجہ پالیسی کے معاملے پر دونوں جماعتیں اکھٹی ہوں گی۔ دونوں جماعتوں نے یمن میں فوج بھیجنے کی مخالفت کی اور پاکستان کے ثالثی اور مفاہمت کا کردار ادا کرنے کی ضرورت پر ضرور دیا۔ دونوں جماعتوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ حرمین شریفین کو اس وقت کوئی خطرہ نہیں بلکہ یہ ایک علاقائی مسئلہ ہے جسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں جماعتوں نے اس بات پر اصولی اتفاق کیا کہ ملک کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ملکر چلا جائے۔دونوں جماعتوں نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں ایک ساتھ چلنے پر بھی اتفاق کیا۔

 

بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ایم ڈبلیوایم اور تحریک انصاف مستقبل میں ایک ساتھ چلیں گے، حکمران ذاتی تعلقات کو ملکی مفاد پر ترجیح دے رہے ہیں، یمن کے معاملے پر کسی سے رائے نہیں لی گئی، حرم مبارک کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں، پاکستان کو یمن کی جنگ میں فریق نہیں بننا چاہیئے، پاکستان کو یمن کے معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یمن کی جنگ میں فریق نہیں بننا چاہیئے، یمن میں جارحیت سے انسانی جانوں کا ضیاع ہورہا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کی یمن کے معاملے پر پوزیشن واضح نہیں، پاکستانی وفد ریاض بھیجنا خوش آئند ہے تاہم وفد واپس آکر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے، شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یمن کا معاملہ جنگ سے نہیں بات چت سے حل ہونا چاہیئے۔ شاہ محمود قریشی نے این اے 246 میں ضمنی انتخابات رینجرز کی نگرانی میں کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔

وحدت نیوز (کراچی)  سندھ حکومت کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اگر 22 نکاتی معاہدے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو شہداء کمیٹی تمام امن پسند قوتوں کے ساتھ مل کر حکمرانوں کے خلاف سخت احتجاجی تحریک چلائے گی۔ ان خیالات کا اظہار شہداء کمیٹی شکارپور کے چیئرمین علامہ مقصود علی ڈومکی نے کراچی پریس کلب میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج وطن عزیز دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے جس کا سبب ماضی میں حکمرانوں کی غلط پالیسیاں ہیں، سابق آمر جنرل ضیاء الحق کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ آج دہشت گردی، بم دھماکوں اور خود کش حملوں کی صورت میں قوم کے سامنے ہے، کہ جس دہشتگردی سے نہ تو پاکستان کے عوام محفوظ ہیں اور نہ ہی پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور ادارے اور حد تو یہ ہو چکی ہے کہ ہمارے اسکولوں کو بھی دہشت گرد ی کا نشانہ بنایا جا رہاہے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ ریاستی ادارے اور حکمران دہشت گردی کی آگ بجھانے کے لئے ملک گیر آپریشن کرتے اور دہشت گردوں اور دہشت گردوں کے سرپرست عناصر کا قلع قمع کرتے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ایسا نہیں ہوا، بلکہ حکمران طبقہ ایک مرتبہ پھر ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کے بجائے انہی غلطیوں کو دوبارہ دہرانے کے سنگین اقدامات کرنے کی کوشش کر رہاہے اور اب یمن کے معاملے میں سعودی عربیہ کی جانب سے شروع کی جانے والی جارحیت میں براہ راست حصہ بننے کی غلطی کے لئے ماحوال سازگار بنایا جا رہاہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو قتل کرنے کیلئے کرائے کا قاتل بننے کی تیاریاں نہ کی جائیں اور پاکستان کی افواج کو غیر ملکی جنگ جو کہ امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے پر کی جا رہی ہے اس جنگ سے دور رکھا جائے، سانحہ شکار پور سندھ کی تاریخ بلکہ پاکستان کی تاریخ میں المناک سانحہ ہے اور جس کا سبب یہ تھا کہ گذشتہ چند سالوں سے اس ضلع میں اور سندھ کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپس اور مراکز کی فعالیت تھی، ریاستی ادارے دہشت گردی کے تربیتی مراکز اور ان کے معاونین کے خلاف کاروائی کی بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان بھر کے عوام، بالخصوص سندھ کے بہادر بیٹوں نے دہشت گردی کے اس المناک واقعے کے بعد دہشت گردی اور مذہبی جنونیت کے خلاف جس موثر رد عمل کا اظہار کیا و ہ بھی قابل ستائش ہے۔

 

علامہ مقصود ڈومکی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امن پسند قوتیں متحد ہوکر دہشت گردوں کو عبرتناک شکست دے سکتی ہیں، شہداء کمیٹی نے وزیر اعلیٰ سندھ ہاؤس کراچی کی طرف کئے گئے لانگ مارچ کے بعد ظلم اور دہشت گردی کے خلاف اپنی جد وجہد کو ختم نہیں کیا بلکہ جاری رکھا ہے، اس حوالے سے شہداء کمیٹی شکارپور کے چیئرمین کی حیثیت سے میں پاکستان کی تمام محب وطن قوتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں مل کر ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے 19 اپریل کو دہشت گردی کے خلاف ہونے والے عوامی ریفرنڈم میں شریک ہوں اور دہشت گردی کی خلاف مشترکہ جد وجہد میں شریک ہوں۔ 19 فروری کو سندھ حکومت کے ساتھ شہداء کمیٹی کے مذاکرات کے نتیجہ میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن اور کالعدم دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سدباب بنیادی نکتہ طے پایا تھا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سندھ حکومت معاہدے پر عمل درآمد میں سست رفتاری اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ ایسے نا اہل افراد سے باز پرس کیوں نہیں کرتے کہ جن کے سبب تاحال شہداء کمیٹی کے ساتھ کئے جانے والے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا جا سکا ہے، ہم سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ معاہدے کے تحت کئے جانے والے وعدوں پر فی الفور عملدرآمد کو یقینی بنائے اور سست روی اور کام کو روکنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے، بصورت دیگر احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہاں آپ کی توجہ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے بیان کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ رکن صوبائی اسمبلی کے اس بیان کی روشنی میں تحقیقات کریں کہ کیا واقعی بعض سیاسی رہنماؤں کے دہشت گردوں سے تعلقات ہیں؟ عوام اس بارے میں حقائق جاننا چاہتے ہیں۔ شہداء کمیٹی شکار پور نے فیصلہ کیا ہے کہ مورخہ 19 اپریل کو دہشت گردی کے خلاف عوامی ریفرنڈم کا دن منایا جائے گا، اس سلسلے میں رابطہ مہم شروع کر دی گئی، تاہم اس حوالے سے سول سوسائٹی، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما، قوم پرست رہنماؤں، اقلیتی رہنماؤں اور اکابرین سے روابط کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم آخر میں سندھ حکومت کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اگر 22 نکاتی معاہدے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو شہداء کمیٹی تمام امن پسند قوتوں کے ساتھ مل کر حکمرانوں کے خلاف سخت احتجاجی تحریک چلائے گی، لہذٰا اس سے قبل کے عوام سڑکوں پر اتر آئیں حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور فی الفور اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے میڈ یا سیل سے جا ری کردہ بیان میں ڈویژنل ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ ولایت حسین جعفری نے کہا ہےکہ آل سعود کے پٹھو عرب حکمران فلسطین سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے خطر ہ ہے یمن میں عرب ممالک کی جانب سے جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں ،پاکستانی عوام مظلوم یمنی عوام کے ساتھ ہیں،یمن میں عرب مما لک کے حملے میں شہید ہونے والے بے گناہ عوام معصوم بچوں کی شہادت کی جتنی مذمت کیجائے کم ہے آرمی چیف سعودی نواز حکومت پر سعودی احسانات کے بدلے میں افواج پاکستان کو اس جنگ میں دھکیلنے کی سا زش کوناکام بنا دے ،نواز حکومت نے سعودی مرا عا ت خود لیں ملکی عوام اور افواج پاکستان 1999 میں مفت تیل لے کر القا عدہ ، طالبان ،داعش کی صورت میں دہشت گر دی کی بھا ری قیمت اب چکا رہی ہے ، مشر قی وسطیٰ میں اپنی ہی لگا ئی جانے والی آگ میں سعودی عرب خود جل رہا ہے ، با د شاہت کے دن گنے جا چکے ہیں ، مشر ق وسطیٰ میں عوامی بیدا ری ان ظالم با د شا ہوں سے اقتدار چھین لے گی ، یمن میں اسلامی حکومت کے خلاف نواز حکومت کی جا نب سے یکطر فہ سعودی حکومت کی مدد کا فیصلہ کر لینا ایوان زرین و ایوان با لا سمیت ملکی عوام سے غد اری ہے ، مجلس وحدت مسلمین عرب لیگ ، او آئی سی سمیت اقوام متحد ہ سے مطا لبہ کر تی ہے کہ وہ یمن میں سعودی عرب سمیت دیگر مما لک کے فضائی حملوں کے خلاف نو ٹس لیتے ہوئے سر حدی قوانین کی خلاف ورزی کے تحت سعودی عرب کے خلاف جنگی جر ائم کا مقد مہ قائم کیا جائے ،سا تھ ہی ساتھ چیف جسٹس آف پاکستان و چیف آف آرمی اسٹاف جنر ل راحیل شریف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ نواز حکومت کے یکطر فہ احسا نات کا بدلہ چکانے کا حصہ نہ بنیں اور رائے عامہ کا خیال رکھتے ہوئے ایسے کسی فیصلے پر افواج پاکستان کو کسی بھی پرائی جنگ کا حصہ نہ بنایا جائے ۔

وحدت نیوز (گلگت) دنیا کی کوئی طاقت یمنی انقلاب کا راستہ روکنے کی ہمت نہیں رکھتی۔نواز حکومت یمن کے خلاف امریکی سعودی اتحاد میں شامل ہوکر بے نقاب ہوچکی ہے۔ یمن کے عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک میں جو چاہے اصلاحات لائیں اور اپنے حکمرانوں کے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں یہ یمن کے عوام کا بنیادی حق ہے۔ مسلم لیگ نواز نے خود کو عرب تکفیری اتحاد میں شامل کرکے ثابت کردیا کہ ان کے عزائم کیا ہیں۔ ملک کے کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کو اعتماد میں لئے بغیر اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کیلئے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگادیا ہے جو کہ ملک سے غداری کے مترادف ہے۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ شیخ نیئر عباس مصطفوی اور ڈویژنل سیکرٹری جنرل علامہ محمد بلال سمائری نے وحدت ہاؤس میں ڈویژنل اور صوبائی عہدیداروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

 

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اقتدار میں لانے میں انہی تکفیری قوتوں کا عمل دخل رہا ہے ،پاکستان میں انتہا پسندی کو فروغ دینے میں انہی عرب ممالک کا ہاتھ ہے جو آج یمن کے خلاف جارحیت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ نواز نے اقتدار تک پہنچنے کیلئے انتہا پسندوں کے سرغنوں کو استعمال کرکے ایسا ماحول بنایا کہ دیگر جماعتیں کھل کر الیکشن کمپین نہ کرسکے اور حکمران جماعت دھاندلی کے ذریعے اقتدار تک پہنچ گئی۔انہوں نے کہا کہ آج یہی جماعت اقتدار سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو فتنہ و فساد کی آگ میں دھکیل کر پاکستان کی سالمیت کو داؤ پر لگانا چاہتی ہے جبکہ نواز حکومت کی اس احمقانہ فیصلے کے خلاف تمام جماعتوں نے آواز بلند کی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائیگی کہ وہ اپنے ذاتی تعلقات اور مفادات کیلئے ملک کو خطرات کی طرف دھکیل دے۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے بیگناہ شہریوں پر بمباری ایک ظلم عظیم ہے اور مجلس وحدت مسلمین اس ظلم و بربریت کے خلاف ہر سطح پر احتجاج کرے گی اور سعودی عرب کے ذریعے دنیا میں ایک مخصوص سوچ کو مسلط کرنے کی نواز لیگ کی خواہشات کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن جائینگے۔

وحدت نیوز (مشہد مقدس) مجلس وحدت مسلمین شعبہ مشہد مقدس کے سیکریٹری جنرل  حجۃ الاسلام عقیل حسین خان نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی تمام بدبختیوں کی وجہ سعودی حکمران ہیں،اس وقت  دنیائے اسلام میں   تفرقہ اور  فساد کی جڑ سعودی عرب کے فاسق و فاجر  اور امریکہ  اسرائیل کے پٹھو اور اسرائیل کی حمایت میں مسلمانوں سے برسرپیکار ہیں ۔کیونکہ انہوں نے آج تک مسلمانوں کو تکفیریت اور انتشار کے علاوہ کچھ نہیں دیا   ۔جبکہ امریکہ اسرائیل کی خوشنودی کے لئے شام عراق لبنان فلسطین یمن کے خلاف علی الاعلان محاذ کھول رکھے ہیں لیکن انہوں نے بیت المقدس کی آزادی کے لئے آج تک   کچھ نہیں کیا بلکہ اسکے برعکس اسرائیل سے ساز باز کے زریعے حزب اللہ ،شام ،لبنان ،حماس کو ہمیشہ کمزور کرنےکی کوشش کی ہے۔

 

انہوں  نے کہا کہ اب  دینائے اسلام کے سامنے سعودی حکمرانوں کا ابلیسی چہرہ واضح ہو چکا ہے کیونکہ کل انہوں نے مصر میں اخوان المسلمین کی عوامی حکومت کو گرانے کے لئے اربوں ڈالر ز خرچ کر کے ایک ڈکٹیٹر کو مسلط کیا،جبکہ عراق شام لبنان   کی عوامی حکومتوں کو گرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اب یمن کے مظلوم عوام پر بارود برسایا جا رہا ہے۔اور اسکا انجام بھی انشاءاللہ بہت جلد سعودی بادشاہت کا خاتمہ ہے کیونکہ ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

 

علامہ عقیل حسین خان نے پاکستانی حکمرانوں کو بھی متنبہ  کیا کہ کسی بھی صورت میں یمن کی  جنگ کا حصہ نہ بنیں کیونکہ یہ جنگ سعودیہ نے شروع کی ہے  اور خود وہی اسکا نتیجہ  بھی بھگتے گا،جبکہ افغانستان میں امریکی جنگ  کا ہم حصہ بنے جسکا خمیازہ ابھی تک  پاکستانی عوام بھگت رہی  ۔اور اب کسی صورت میں پاکستان کے غیور عوام پاکستانی حکومت کو یہ غلطی دہرانے کی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔

وحدت نیوز (بیروت) حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے یمن کے مظلوم عوام پر سعودی عرب کے وحشیانہ اور ظالمانہ ہوائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ایک گولی بھی فلسطینیوں کواپنے دفاع کے لئے نہیں دی،جبکہ دہشت گردوں کو شام و عراق میں بڑے پیمانےپر ہتھیار فراہم کررہا ہے اور یمن کے نہتے عوام کے خلاف بزدل سعودیوں نے دوسرے عرب اور غیر عرب ممالک سے فوجی مدد طلب کرلی ، سعودیوں نے یہی فوجی مدد اسرائيل کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں کیوں طلب نہیں کی ؟

 

المنار کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے یمن کے مظلوم عوام پر سعودی عرب کے وحشیانہ اور ظالمانہ ہوائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ایک گولی بھی فلسطینیوں کواپنے دفاع کے لئے نہیں دی،جبکہ دہشت گردوں کو شام و عراق بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کررہا ہے اور یمن کے نہتے عوام کے خلاف بزدل سعودیوں نے دوسرے عرب اور غیر عرب ممالک سے فوجی مدد طلب کرلی ، سعودیوں نے یہی فوجی مدد اسرائيل کے خلاف کیوں طلب نہیں کی کیونکہ سعودی عرب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کا نوکر اور غلام ہے۔

 

حزب اللہ کے سربراہ نے ایران کی خطے میں مداخلت پر مبنی عربی اور مغربی پروپیگنڈے کی طرف اشارہ رکتے ہوئے کہا کہ ایران کی کسی بھی عرب ملک میں کوئی مداخلت نہیں ہے ایران حزب اللہ کی مدد کررہا ہے لیکن اپنے خیالات حزب اللہ پر مسلط نہیں کررہا ہے حزب اللہ کی مدد صرف لبنان کے دفاع تک ہے شام میں ایران کی مداخلت کے بارے میں خبریں بے بنیاد ہیں شام میں ایران کے چند فوجی مشیر شامی حکومت کی دعوت پر ہیں اسی طرح عراق میں ایران کے چند فوجی مشیر جن کی تعداد 50 سے زیادہ نہیں ہوگی وہ بھی عراقی حکومت کی دعوت پر عراق میں موجود ہیں ۔ ایران کا یمن میں کوئی وجود نہیں ہے امریکہ اور سعودی عرب ایران کے بارے میں قوموں میں خوف و ہراس پیدا کرکے علاقہ میں عدم استحکام پیدا کررہے ہیں ایران فلسطینیوں کی مدد انسانی بنیادوں پر کررہا ہے ایران لبنان ، شام،اور رعاق کی مدد انسانی بنیادوں پر کررہا ہے ایران کے پاس اپنی وسیع و عریض سرزمین ہے اسے کسی دوسرے کی کوئی ضرورت نہیں۔

 

سید حسن نصر اللہ نے حماس کے ایک وفد کے حوالے سے کہا کہ حماس کے ایک وفد نے سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کے ساتھ ملاقات کی اور اس ملاقات میں سعود الفیصل نے حماس کے ارکان پر زوردیا کہ وہ ایران کے ساتھ رابطہ ختم کردیں حماس نے کہا کہ ٹھیک ہے جو ہماری مدد ایران کرتا ہے وہ آپ کریں تو ہم ایران سے رابطہ ختم کردیں گے سعود الفیصل نےکہا کہ ایران کیا مدد کرتا ہے حماس کے ارکان نے کہا کہ ایران ہمیں اسرائیل کے مقابلے میں فوجی مہارتوں سے آگاہ کرتا ہے ہمیں ٹریننگ دیتا ہے ہمیں ہتھیار فراہم کرتا ہے ہمیں اسرائیل کے خلاف مضبوط کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ سعودی عرب ہمیں اسرائیل کے خلاف مسلح کرے ہم ایران کے ساتھ رابطہ ختم کردیں گے تو سعودی وزير خارجہ نے کہا کہ ہم اسرائیل کے خلاف حماس کی مدد نہیں کرسکتے۔

 

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ امن پسند اور مظلوم قومیں ایران کے ساتھ اس لئے ہیں کہ ایران مظلوموں کی حمایت کرتا ہے ایران ظالموں اور مستکبروں کے ساتھ نہیں ہے۔

 

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ سعودی عرب نے ایران کے خلاف جنگ میں 200 ارب ڈالر صدام کو دیئے اور پھرعراق پر حملے کے سلسلے میں امریکہ کی بھر پور مدد کی اور صدام کو اپنے راستے سے ہٹا دیا۔ حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ یہ سعودی عرب ہے جو عرب ممالک میں بے جا مداخلت کررہا ہے شام میں سعودی عرب کی مداخلت ، عراق میں سعودی عرب کی مداخلت، یمن میں سعودی عرب کی مداخلت ، بحرین میں سعودی عرب کی مداخلت سب پر واضح اور نمایاں ہے، سعودی عرب نے مصر میں مداخلت کرکے مصر کے جمہوری صدر محمد مرسی کو جیل بھجوادیا ، مصر میں سعودی عرب کی مداخلت لیبیا میں سعودی عرب کی مداخلت سب پر عیاں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ شام کے مسئلہ میں سعودی عرب ، ترکی اور قطر سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور تینوں ممالک خطے میں امریکی مفادات کے لئے کام کررہے ہیں۔

 

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ آل سعود حکام کب تک امریکہ اور اسرائیل کی خدمت کرتے رہیں گے آخر ایک دن انھیں اپنے سنگين اور ہولناک جرائم کا حساب دینا پڑےگا ۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ آل سعود یمن پر وحشیانہ بمباری روک دیں ورنہ اس کے سنگين نتائج برآمد ہوں گے ۔ آل سعود بزدل ہیں اسی لئے انھوں نے مصر، اردن، پاکستان اور دیگر ممالک سے مدد طلب کی ہے انھوں نے کہا کہ سعودیوں میں اور یمنیوں میں بہت بڑا فرق ہے سعودی مشرک ہیں جو مصر اور دیگر ممالک سے مدد مانگ رہے ہیں جبکہ یمنی موحد ہیں جو صرف اللہ تعالی سے مدد مانگ رہے ہیں اور اللہ تعالی کے سوا ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں۔اگر سعودیوں نے بہیمانہ کارروائياں بند نہ کیں تو پورے خطے میں آگ لگ جائے گی جس کی ذمہ داری سعودی عرب حکومت پر عائد ہوگی اور اس جنگ میں اللہ تعالی کی مدد اور نصرت یمنیوں کے ساتھ رہے گی۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree