وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور مجلس علمائے شیعہ پاکستان کے زیر اہتمام نشتر پارک میں منعقدہ عظیم الشان استحکام پاکستان وامام مہدی عج کانفرنس سے خطاب کے دوران سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے سال معرفت امام زمان عج کا اعلان کیا،امام زمانہ عج کےحوالے سے نہضت ظہور امام کا آغاز کیا جائے گا،سفیران ظہور نور وہ خواتین و حضرات جو کہ گھر گھر جاکرلوگوں کو آمادہ ظہور کریں گے،اس سال امام زمانہ کیلئےشاعر، مصنفین، مئولفین ، خطباء امام مہدی عج کی زات اقدس پر لکھیں اور پڑھیں ،آئمہ جمعہ ومبلغین اسی پر خطبات دیں ،مجلس وحدت مسلمین اور دیگر تنظیمات امام مہدی کی شخصیت کی مناسبت سےسیمینار،کانفرنس اور خصوصی اجتماعات منعقد کریں اور مجالس ومحافل میں بھی زکر امام زمانہ عج کثرت سے کریں،اہل سنت بھائیوں کےساتھ عقیدہ مہدویت پر مشترکہ کانفرنسز کا اہتمام کیا جائے،دینی اجتماعات ،نماز ہائے پنجگانہ اور انفرادی عبادات میں دعائے عہد کی باکثرت تلاوت کی جائے،زیادہ سے زیادہ زیارت عاشورہ، تلاوت قرآن اور صلوات کا ہدیہ امام کی خدمت پیش کریں ،محققین امام زمانہ عج کےحوالے سے تحقیقی مقالےلکھیں اور عوام اور خواص تک پہنچائیں۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین اور مجلس علمائے شیعہ پاکستان کے زیر اہتمام نشتر پارک کراچی میں منعقدہ عظیم الشان استحکام پاکستان وامام مہدی عج کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئےایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ حسن ظفرنقوی نے کہا کہ عوا م اپنے حقوق کے لیئے کھڑے ہوجائیں اور اپنے ووٹ کی طاقت سے پاکستان دشمن ، کرپٹ اور باطل قوتوں کو شکست دیں ، انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے اپنے ووٹ کا سیاسی شعور کے ساتھ استعمال کیا تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا انہوں نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر متدین نیک اور عوامی خدمت کا حقیقی جذبہ اور مظاہرہ دیکھنا ہے تو کوئٹہ سے منتخب مجلس وحدت مسلمین کے نمائندے آغا محمد رضا کی کارکردگی کا جائزہ لیں جنہوں نے کس طرح ترقیاتی بجٹ کا بہتر اور موثر استعمال کیا ہے۔

وحدت نیوز(کراچی) نشتر پارک کراچی میں مجلس وحدت مسلمین اور مجلس علمائے شیعہ پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ عظیم الشان استحکام پاکستان وامام مہدی عج کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کی  شوری عالی کے رکن علامہ امین شہیدی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے استحکام پاکستان کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے، اس اجتماع کا مقصد جہاں دنیا کویہ بتانا ہے ہم امام مہدی کے حقیقی سپاہی ہیں وہیں یہ بتانا ہے کہ ہمیں پاکستان کا استحکام ہر قیمت پر عزیز ہے، ہم دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ ملک ہمارا ہے اور اس کے حقیقی وارث ہیں، آج دشمن امام سے لڑنے کے لیے تیار ہے لیکن مسلمان بیدار نہیں ہے، آج کا اجتماع اہل اسلام ، اہل ایمان، اہل کلمہ اور مظلوموں کا ہے، 39ممالک کے سعودی اتحاد کے پیچھے امریکہ، اسرائیل اور یورپ کا ہاتھ ہے، دنیا بھر میں شیعہ ، سنی ، بریلوی، دیوبندی ، شافعی، مالکی مسالک کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے فرزند مہدی عج نے آنا ہے اور دنیا کو عدل وانصاف سے پر کرنا ہے، امام مہدی عج سے جنگ کے خواہش مند پہلے امام کے غلاموں کا مقابلہ کرنے کی ہمت پیداکرلیں جو کہ دنیا بھر سے اپنی حواریوں کو ریالوں کے بل بوتے پر جمع کررکے ہیں ۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین اور مجلس علمائے شیعہ پاکستان کے زیر اہتمام نشتر پارک کراچی میں منعقدہ عظیم الشان استحکام پاکستان وامام مہدی عج کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئےمجلس علمائے شیعہ پاکستان کے مرکزی صدر علامہ مرزا یوسف حسین نےکہا کہ موجودہ حکومت اور ریاستی اداروں کی شیعہ دشمنی اپنے عروج پر ہے، علمائے کرام ، جوانوں اور اور قومی خدمات میں مصروف عمل شخصیات کا اغوا قابل مذمت اقدام ہے، عزاداری سید الشہداءکے خلاف ریاستی پابندیاں بنیادی شہری حقوق سے متصادم ہیں، انہوں نے کہا کہ مجلس علمائے شیعہ پاکستان امریکی قیادت میں تشکیل کردہ سعودی اسرائیلی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کی خون کے آخری قطرے تک مخالفت جارہ رکھے گی۔

حکومت کی شیعہ دشمنی اور پولیس کی دشمنی جاری ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ عزاداری اور امام بارگاہوں
کے خلاف کسی بھی حکومتی اقدام کی بھرپور مخالفت کریں گے ،

وحدت نیوز(آرٹیکل) وطن عزیز پاکستان اس وقت داخلی طور پر شدید ترین بحرانوں میں گھرا ہوا ہے. یہ سرزمین پاک شہدا ملت کی امانت ، ہمارے آباء و اجداد کی انتھک جدوجہد کا ثمر اور ہماری آنے اولی نسلوں کا مستقبل ہے. اس لئے جہاں حکمرانوں کی زمہ داری ہے کہ وہ اس کی سلامتی وحفاظت اور تعمیر وترقی کو اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہوئے اور اپنے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ہر قسم کی قربانی دیں وہاں عوام کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ بھی بیداری اور احساس زمہ داری کے ساتھ اسکو بحرانوں سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں.

باقی تمام مسائل اور مشکلات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعلقات اور روابط کے تناظر میں ہمارے درمیان داخلی طور پر مزید دوریاں اور دراڑیں پیدا کرنے کی سازش پر بھی کام ہو رہا ہے. اور بالخصوص خطے کے مسائل اور بحرانوں اور جاری جنگوں میں پاکستان کی خاطر نہیں بلکہ دوسروں کی خاطر ہمیں ان جنگوں کا ایندھن بنانے کی کوششیں ہو رہی ہے. ہمیں جان لینا چاہیے کہ جب بھی پاکستان پر کوئی برا وقت آیا ہماری خاطر کوئی بھی دوست ملک سر زمین پاکستان پر آکر نہیں لڑے گا. ممکن ہے کوئی دوست ملک ہماری مالی یا اخلاقی مدد کر دے لیکن خون ہماری قوم کو ہی دینا پڑے گا. اور ماضی کی جنگیں اسکی واضح مثال ہیں.  اگر آج ہمارے کسی برادر ملک پر کسی حملہ کیا ہے اور وہ وہ حملہ آور ہمارے دشمنوں میں سے ہے تو ہمیں بھی انکی مالی اور  اخلاقی انکی مدد کرنی چاہیئے. اور اگر جنگ کسی بھی وجہ سے ہمارے برادر ممالک کے ما بین چھڑ چکی ہے. تو اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید ہمیں حکم دیتا ہے " کہ اگر مومنین کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ہمیں صلح کروانی چاہیئے. اور جس نے زیادتی کرتے ہوئے ہمارے ایک بھائی نے دوسرے پر حملہ کیا ہے تو ہمیں اس حملہ آور کو روکنا چاہیے. حتی کہ وہ حکم خدا کی طرف لوٹ آئے. اور جب وہ رک جائے تو ہمیں عدالت وانصاف سے انکے ما بین صلح کروانی چاہیے. " القران
مگر افسوس ہے کہ ایک طرف تو ہم خود بحرانوں کا شکار ہیں اور دوسری طرف ہمارے حکمران ذاتی مصلحتوں کی خاطر اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں. جس کی واضح مثال پارلیمنٹ کے فیصلے کے بر خلاف اور قومی مفاد کو داو پر لگا کر اس فرقہ ورانہ بین الاقوامی فوجی اتحاد کی فقط شمولیت ہی نہیں بلکہ سربراہی قبول کرنا ہے. اور اس اتحاد کی جانب بڑھنے والا ہمارا ہر قدم جہاں ہماری بدنامی کا سبب بنے گا وھاں ہماری فوج بھی اندر سے کمزور ہوگی.

امت مسلمہ پر ماضی میں بھی مختلف دور گزرے اور نشیب وفراز آئے .عصر حاضر کی تاریخ میں جب سے سرزمین مقدس فلسطین پر صہیونی ریاست کی بنیاد عالمی استکباری قوتوں کے تعاون سے رکھی گئی اس وقت سے لیکر آج تک جنگوں نے اس خطے میں گھر کر لیا ہے. اسرائیل کے خلاف ابتداء میں پوری مسلم امۃ متحد تھی. اور یہ فلسطین کا مسئلہ او آئی سی کی تاسیس کا سبب بنا.  جس کے ایک ابتدائی اجلاس کی میزبانی ستر کی دھائی میں پاکستان نے کی اور تمام اسلامی ممالک کے سربراہان اس بین الاقوامی سطح کی کانفرس میں شرکت کے لئے پاکستان آئے. حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام نے مسئلہ فلسطین کو ایک مسلمان ملک ہونے اور مسلم امت میں دوسرا بڑا اسلامی ملک ہونے کے ناطے اپنا ذاتی مسئلہ قرار دیا. اسرائیل کے خلاف جنگوں میں ہماری مسلح افواج نے شرکت کی  اور بالخصوص ہمارے پائلٹوں نے یکے بعد دیگرے اسرائیلی طیارے گرا کر تمغے حاصل کئے اور جہان اسلام میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا.

دوسری طرف مغربی مداخلت اور پریشر میں بعض عرب ممالک کے سربراہان نے امت اسلامیہ کے اس مرکزی قضیہ سے خیانت کی اور سفارتی تعلقات قائم کر لئے.  جن پر پوری امت اسلامیہ نے لعنت کی اور انہیں خائن قرار دیا. لیکن پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہونے کے ناطے اپنے اصولی موقف پر ڈٹا رہا. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دشمن نے امت اسلامیہ میں ایک نیا فتنہ کھڑا کیا. جب ایران میں اس خطے کے سب سے زیادہ امریکی مفادات کی حفاظت کرنے والے شہنشاہ کے خلاف ایرانی عوام نے قیام کیا.  جس کے نتیجے میں اسلامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا. اور اس امریکی واسرائیلی ایجنٹ کے اقتدار کا سورج غروب ہوا. اور تہران میں سالہا سال سے قائم اسرائیلی سفارتخانے کو بند کرکے اسے فلسطینی سفارت خانے میں تبدیل کیا . اور اسرائیل کے پرچم کی جگہ تہران میں فلسطین کا پرچم لہرایا. امریکہ اور اسرائیل اسے کب برداشت کر سکتے تھے انھوں نے اس انقلاب کو ختم کرنے اور اس حکومت کو گرانے پر کام شروع کر دیا.

امریکہ اور غرب نے اس اسلامی انقلاب سے انتقام کے طور پر  فتنوں کا آغاز کیا. اور عرب وعجم کے فتنہ کو ہوا دی اور ہمسایہ عرب ملک کے ذریعے ایران پر جنگ مسلط کی. پاکستان نے حکیمانہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے اپنے تعلقات تمام اسلامی ممالک سے قائم رکھے. آخر کا یہ فتنہ اپنے منطقی انجام کو پہنچا. لیکن مسلمانوں کی توجہ امت اسلامیہ کے مشترکہ دشمن  اسرائیل کی طرف کم ہوئی. اور اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کرتا رھا یہاں تک کہ 80% فلسطین پر قابض ہوگیا. فلسطینی مجبور ہوکر ہجرت کرتے رہے اور یہودیوں کی آباد کاری ہوتی رہی. اور مسئلہ فلسطین سکڑتا گیا. پہلے امت اسلامیہ کا مشترکہ مسئلہ تھا پھر اسے عرب اسرائیل کا رنگ دینے پر کام ہوا. جتنا جتنا مسلمان اور عرب پسپائی کرتے رھے اتنا ہی اسرائیل بڑھتا رھا. اس کے بعد اسے مشرق وسطی تک محدود کردینے پر کام ہوا. لیکن پاکستان اپنے موقف پر قائم رھا گو امریکہ وغرب کی خوشنودی اور رضایت کے لئے کچھ سیاستدان اور حکمرانوں شکست خوردہ ذہنیت کے ترجمان بنتے رہے.

عرب وعجم فتنہ کی ناکامی اور 2006 اسرائیل حزب اللہ جنگ میں اسرائیل کے ذلیل ہونے اور حزب اللہ کی کامیابی کے بعد شیعی ہلال  کو خطرے کا بہانہ بنا کر 2011 سے اسلامی دنیا میں ایک نئے فتنوں کو ہوا دی اور شیعہ سنی جنگ کے ذریعے ہر مسلمان گھر میں اس فتنے کی آگ بھڑکانے اور پھیلانے پر کام شروع کیا. لیکن اس کے ماوراء انکا مقصد اسرائیل کو محفوظ کرنا اور پوری امت اسلامیہ کو اسکے قدموں میں جھکانا تھا. تاکہ کمزوری وناتوانی اور خوف وہراس کی حالت میں وہ اپنے اپنے ملکوں میں اسرائیلی سفارت خانے کھولنے اور تعلقات بنانے میں سبقت لیں. امریکی تباہ کن ہتھیاروں اور پورے خطے میں پھیلے ہوئے فوجی اڈوں کے ڈر اور اقتدار وریال و ڈالرز کے لالچ میں سعودی عرب کے ذریعے سنی ممالک کے فوجی اتحاد بنانے کا اعلان ہوا. اور یکے بعد دیگرے مسلم ممالک کی حمایت اور ہمدردیاں خریدی گئیں. اور پھر اسکا پہلا اجتماع 20 مئی 2017 کو ریاض میں ہوا جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرانپ نے کی. اور 50 کے قریب اسلامی ممالک کے سربراہان نے اسلام کے موضوع پر ایک امریکی غیر مسلم صہیونی کا خطاب ہی نہیں سنا بلکہ عملی طور پر اسکی ولایت و سربراہی وسرپرستی میں شیعہ سنی جنگ ہی نہیں بلکہ خاموش حمایت سے اسرائیل کی اس خطے پر سرداری قبول کی. جس کا اظہار سعودیہ کے دورہ کے دوسرے دن اسرائیل پہنچ کر امریکی صدر نے فاتحانہ انداز سے کیا اور کہا کہ اب سارے مسلمان ممالک اسرائیل سے سفارتی طور پر تعلقات بنانے کے لئے تیار ہیں. اور اس طرح انکے حساب سے قانونی طور پر اسرائیل کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل ہو گیا.  اور اب اگر کسی شیعی یا سنی ملک یا تنظیم نے اسرائیل کی مخالفت کی یا اس کے وجود کے  لئے خطرہ  بنا تو اسرائیل کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں.  کیونکہ اسکے نئے اتحادی اور امریکہ کے بقول سنی ممالک کا اسلامی اتحاد ان دہشتگردوں سے نپٹنے کے لئے جدید ترین امریکی و مغربی اسلحہ کے ساتھ تیار ہے جس کے سربراہ پاکستانی جنسیت کے حامل سابق فوجی جنرل راحیل شریف ہیں.

تحریر۔۔۔  ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین اور مجلس علمائے شیعہ کے زیر اہتمام نشتر پارک کراچی میں منعقدہ عظیم الشان استحکام پاکستان وامام مہدی عج کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے کہا کہ آج کا دن ایک تاریخی دن ہے ۔ آج ہمیں ہمیشہ کی طرح حقائق کی روشنی میں یہ دیکھنا ہے کہ ہم نے آج تک کیا انجام دیا ہے ؟ مجلس کہاں تھی اور آج کہاں کھڑی ہے ۔ ہم اللہ تعالیٰ اور آئمہ اطہار علیہم السلام کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمیں اس پاکیزہ اور مقدس کام کے لئے منتخب کیا ہے ۔ آج ہم سب جس میدان میں حاضر ہیں یہ سب کے سب منتظرین امام مہدی عجج ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے حاضر ہوئے ہیں ۔ ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ امام علیہ السلام نے ہمیں اس مشن کے لئے چن لیا ہے ۔ آج ہم سب ناامیدی نے نکل چکے ہیں وہ ناامیدی جو قائد شہید ؒ کے بعد قوم پر وارد ہوئی اور پوری قوم اس ناامیدی اور بے بسی کا شکار ہوئی ۔وہ دور پوری ملت کے لئے دہشت گردی ،ٹارگٹ کلنگ اور حق سے محرومی سے زیادہ سخت تھا ۔ لیکن کیا کرتے جس گھر کو آگ لگ جائے کھر کے چراغ سے اس کا حال ایسا نہ ہو تو کیسا ہو  ۔ بالآخر قائد وحدت اور ان کے مخلص ساتھیوں نے یہ بھانپ لیا کہ اب کچھ نہیں ہو گا ۔ اب ہمیں خود میدان میں حاضر ہو کر اپنا حق لینا ہو گا ۔ ہم قائداعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے فرزند ہیں ہمارئے ابائواجداد نے اس وطن کو بچایا تھا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے ۔ان شاء اللہ

اے برادران عزیز  و خواہران گرامی انتظاراور اخلاص کا ہرگز یہ مفہوم نہیں کہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور صرف دعا کرتے رہیں ۔ یقیناً دعائوں کا اثر ہوتا ہے لیکن اس کی شرط عمل اور کردار ہے جیسے نماز بغیر شرط وضو کے قبول نہیں اسی طرح عمل کے بغیر دعابے معنی ہو جاتی ہے۔عالمی حکومت الہی کے لئے وطن عزیز میں پہلا قدم یہ تھا کہ مجلس وحدت مسلمین نے تشیع پاکستان کو سیاسی بصیر بنایا اور ملت کو سیاسی تشخص دیا وقت کی نزاکت اور حساسیت کو بھی درک کرلیں ۔آج آپ نے اپنے ذمہ داری نبھا دی ہے اللہ تعالی بحق اہلبیت ؑ آپ کے اس عمل کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔

آپ اور ہم سب کے قائد وحدت نے اپنے کندھے پر جو ذمہ داری اٹھائی ہے ہم سب نے ملکر ان کا ساتھ دینا ہے اور ان کی آواز سے ایسے ہی ہم آہنگ رہنا ہے جیسے آج آپ نے ثابت کیا ہے ۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان تشکیل سے لیکر آج تک پور ی نہ صرف ملت تشیع بلکہ ہر مظلوم کی آواز بن کر میدان میں حاضر ہے اور رہے گی ۔ آج ملت میں جتنی وحدت ہم دیکھ رہے ہیں اتنی کبھی نہ تھی مجلس وحدت مسلمین کی تشکیل جس دور میں ہوئی وہ دور ایسا تھا کہ وحدت بین مومنین بھی ختم ہو رہی تھی ۔ لیکن آج الحمد للہ وطن عزیز میں شیعہ وسنی ملکر ایک ہی ہدف کے سمت گامزن ہیں اور امام زمان عجج تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کے لئے منتظر ہیں ۔

 آج ملت کی بیداری اور آگاہی مجلس وحدت کی بدولت ہے ۔ مجلس نے قوم کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے ۔ آپ نے دیکھا کہ کوئٹہ کے اندر مسلمانوں کو ذبح کیا جا رہا تھا اور حکومت وقت دشمنوں کے ساتھ ملی ہوئی تھی ۔ مجلس نے عوام کو بیدار کیا اور اپناحق لینا سیکھایا 48 گھنٹے کے اندر اندر بلوچستان کی مضبوط فرعونی حکومت کا خاتمہ عوامی طاقت اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی صالح قائدین کی بدولت ممکن ہوا  ۔ آپ نے دیکھا کہ شکار پور کہ کے شہداء کے لانگ مارچ جب سندھ میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ لانگ مارچ ہو سکے گا ۔ مجلس وحدت کے قائدین نے لیڈ کیا اور لانگ مارچ کرکے عوام کو ان کا حق دلایا ۔ڈیرہ اسماعیل خان جہاں لوگ اپنے شہداء کی لاشوں کو دفنانے کے لئے ڈرتے تھے لوگ گھروں سے نکلے اور شہر کی اہم شاہرائیوں پر دھرنا دیا اور اپنا حق لیا ،گلگت بلتستان کی زمینوں پر حکومت قابض ہو چکی تھی ۔ عوامی بیداری پیدا کی گئی اور نامیدی کے بت کو توڑا گیا بالآخر وہ زمینیں بھی مالکان واپس ملیں ۔ پارا چنار میں شہدا ء کے لواحقین کو دبایا جا رہا تھا کہ خاموش ہو جائیں مگر مجلس وحدت نے حکومتی دبائو کو مسترد کردیا اور عوام کو ان کا حق دلایا ۔

انہوں نے مزید کہاکہ یہ سارے کام مقدس مآب بننے سے نہیں بلکہ عوامی جذبے اور وحدت سے ممکن ہیں ۔ اور میدان میں حاضر رہنے قوم کوثمرات نصیب ہوتے ہیں ۔ پورے ملک میں زائرین کے مسائل کے لئے کوئی آواز اٹھانے کے لئے تیار نہ تھا ۔ قائد وحدت نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پر خطر سفر کا آغاز کیا اور راتیں زائرین کے ساتھ باڈر پر گزاریں اور اس طریقے سے زائرین کے مسائل کو حل کیا ،اسی وطن عزیز میں مومنین تقیہ کرتے اور علم حضرت عباس(ع) کوگھروں سے اس لئے اتارلیتے تھے کہ کہیں ٹارگٹ کلنگ کا شکار نہ ہوجائیں ۔ مجلس وحدت نے دشمن کی اس ناپاک حرکت کو نہ صرف خاموش کیا بلکہ دشمن خود چھپ رہا ہے ،ملک میں دہشت گردی بڑھ رہی تھی اور شیعہ و سنی حتی کہ غیر مسلم بھی ان غدار دشمنوں سے محفوظ نہ تھے ۔ مجلس وحدت نے دبائو بڑھایا اور آفر کی کہ اگر آپ نے اس دہشت گردی کے خلاف کچھ نہیں کرنا تو ہم آگے بڑتے ہیں ۔ جس کی بدولت نیشنل ایکشن پلان شروع ہوا ۔ بھر ضرب عذب اور ردالفساد کا آغاز کیا گیا ۔ہم آج بھی وطن عزیز کے دفاع کے لئے پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

مجلس نے کئی شعبوں میں ملت کے لئے گران بہا خدمات انجام دی ہیں جن میں سے چند ایک کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں
 ۱ ۔ ملک بھر میں  ۸۰  کے قریب مساجد و امام بار گاہ کی تعمیر کی گئی۔
۲ ۔ ملک بھر میں  ۱۷  کے قریب عوام کے لئے ڈسپنسریز بنائی گئی ہیں ۔
۳ ۔ پورے ملک میں  ۸۵۰  کے قریب ایتام پروجیکٹس شروع کیے گئے ہیں ۔
۴ ۔ ملک بھر میں ۵۰۰ کے قریب ہینڈ پمپس لگائے گئے ہیں ۔
۵ ۔ شمالی علاقہ جات میں پہاڑوں کو کاٹ کر واٹر چینل بنائے گئے ہیں ۔
۶ ۔ تھر کے علاقے میں ۶ سے ۷ پروجیکٹ پر کام ہو رہا ہے
۷ ۔ کراچی میں ایک یتیم خانہ بن چکا ہے
۸ ۔ ملک بھر میں۹۰کے قریب اجتماعی شادیوں کے پروگرام منعقد کیے گئے ہیں ۔
۹ ۔ واٹر بورنگ پروجیکٹس پر کام شروع ہے ۔ ۶ پروجیکٹس مکمل ہو چکے ہیں باقی پر کام جاری ہے ۔
۱۰ ۔ہر ماہ راشن کی تقسیم اور اس سال ماہ مبارک رمضان میں نادار گھروں میں راشن کی تقسیم کا کام شروع ہو گا ۔
۱۱۔سیلاب زدگان کے لئے گھروں کی تعمیر زلزلہ زدگان کے لئے مالی مدد جیسے کام بھی مجلس وحدت مسلمیں نے خیرالعمل فائونڈیشن کے تحت انجام دئیے ہیں ۔
۱۲۔ ڈیرہ غازی خان ، گلگت ، لیہ میں سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لئے گھروں کی تعمیر اور کالونیوں کی تعمیر شروع کی گئی تھی ۔ان میں سے کچھ پروجیکٹس مکمل اور کچھ پر کام جاری ہے ۔ اس وقت تک قریب ۳۸۵ گھر مکمل کیئے جا چکے ہیں اور ان کی چابیاں مالکوں کو دی گئی ہیں ۔ اس کے علاوہ سلائی کڑھائی کے ووکیشنل سینٹر بھی ملک میں نادار خواتین کے لئے کھولے گئے ہیں ۔ اسی طرح بہت سے دیگر کام چونکہ وقت کی کمی درپیش ہے لہذا اس پر اکتفا کرتا ہوں ۔ آخر میں اتنا کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مجلس وحدت مسلمین آپ کی اپنی جماعت ہے ۔ آپ آئیں اپنے لئے اور دوسروں کے لئے کچھ کر کے جائیں اسی سے حضرت امام عصر عجج ہم سے راضی و خوشنود ہو نگے ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree