وحدت نیوز (آرٹیکل) عوامی طاقت کا کوئی متبادل نہیں، خصوصا عوام اگر خدا پر توکل کریں تو وہ اپنی تقدیر کے خود مالک ہیں، عوامی طاقت کو اُس وقت نقصان پہنچتا ہے جب  حکومتی فرعون مذہبی دجالوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرتے ہیں، سادہ لوح عوام مذہبی دجالوں کی  جوشیلی تقریروں اورباتوں میں بہہ جاتے ہیں ۔

یہ ہمارے ہی دور کی بات ہے ، جب ایران میں عوام نے بادشاہ کے خلاف قیام کیا تھا، ایران کا بادشاہ  ایک شیعہ ڈکٹیٹر تھا، ایران صدیوں سےشیعت کا قدیمی مرکز  چلا آرہاتھا، ایران میں اس وقت بھی اہلِ تشیع کے مجتہد اورمراجع کرام تھے۔

ایران کا بادشاہ لوگوں کو یہ بھی یقین دلاتا تھا کہ وہ ان کا مذہبی پیشوا بھی ہے اور اس کے ہمراہ کشف و کرامات کا سلسلہ بھی ہے۔  ایرانی بادشاہ کو مغرب ، امریکہ   اور اسرائیل کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔

ایران کی داخلی حالت یہ تھی کہ ایک طرف تو بادشاہ پچیس ہزار سالہ شہنشاہیت کا جشن مناتا تھا ، اور دنیا میں سب سے طاقتور بادشاہ یہی شہنشاہِ ایران تھااور دوسری طرف عوام نالیوں اور کچرے سے روٹی کے ٹکٹرے چن کر چبانے پر مجبور تھے۔

بہر حال ۱۹۷۹ میں ہر طرف سے مایوس ہوکر ایرانی  عوام نے خدا پر توکل کر کے بادشاہ کے خلاف قیام کیا، یہ آمریت کے خلاف جمہوریت کا قیام تھا، یہ بادشاہت کے خلاف انسانیت کا انقلاب تھا، یہ حیوانیت کے خلاف عقل و شعور کی آواز تھی ۔

جس وقت ایران کے مضبوط ترین بادشاہ کے خلاف یہ عوامی و جمہوری انقلاب رونما ہوا تو منطقے میں ہر طرف آمریت کا دور دورہ تھا، پاکستان میں ضیاالحق کی آمریت، عراق میں صدام کی استبدادیت اور عرب ریاستوں میں ایک سے بڑھ کر ایک ڈکٹیٹر براجمان تھا۔ ایران کا عوامی انقلاب  خطے کی تمام ریاستوں  کے عوام کے کے لئے  یہ پیغام تھا کہ عوامی  اور الٰہی طاقت کو کوئی بادشاہت نہیں دبا سکتی۔ ایرانی بادشاہ کا تخت الٹنے سے یہ ثابت ہوگیا تھا کہ جب عوام کے سامنے شہنشاہِ ایران نہیں ٹھہر سکتا تو پھر کسی اور بادشاہ میں اتنی طاقت کہاں ہے کہ وہ عوامی انقلاب کا مقابلہ کر سکے۔

ایرانی عوام کے اس  انقلابی پیغام کو دبانے اور ایران تک محدود کرنے کے لئے  دنیا  کے  ڈکٹیٹروں نے مذہبی دجالوں کو اکٹھا کیا اور یہ پروپیگنڈہ کیا کہ ایران کا انقلاب شیعہ انقلاب ہے۔ لہذا کافر کافر شیعہ کافر۔

سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا انقلاب سے پہلے ایران کوئی حنفی، حنبلی ، شافعی یا سُنّی ملک تھا، انقلاب سے پہلے بھی تو ایران ایک شیعہ ریاست تھی، ایرانی عوام کی اکثریت، مجتہدین، مراکز ، تہذیب و ثقافت حتیٰ کہ بادشاہ بھی شیعہ تھا۔ اس سے پہلے تو کسی نے کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ نہیں لگایا تھا۔

 ارباب دانش سوچیں اور فکر کریں کہ ۱۹۷۹ میں  ایرانی عوام سے ایسا کیا گناہ  سرزد ہو گیا تھا کہ اس کے بعد ہر طرف شیعہ کے کفر پر تقریریں ہونے لگیں، لٹریچر چھپنے لگا، چودہ سو سالہ پرانے مسائل کو اچھالا جانے لگا،پروپیگنڈے ، جھوٹ اور افترا پردازی کی انتہا کی گئی  حتی کہ ۲۰۱۷ میں بھی راولپنڈی میں ایک فرقے نے خود اپنے ہی مدرسے کو آگ لگا کر اور اپنے ہی افراد کو قتل کر کے اس کا الزام اہل تشیع پر لگایا۔

 کیوں آخر کیوں!؟ اس درجے تک ضد ، بغض اور حسد کرنے کی وجہ کیا ہے؟

اس قدر جھوٹ، اس قدر افترا پردازی ، اس قدر پروپیگنڈہ آخر کیوں!؟

وجہ صرف اور صرف اتنی سی ہے کہ اگر ایران کے انقلاب کو شیعہ کہہ کر اہل سنت کو اہل تشیع سے دور نہ کیا جاتا تو ایرانی عوام کی دیکھا دیکھی  دنیا کی ساری ریاستوں کے مسلمان،اپنے اوپر مسلط  آمروں کے خلاف قیام کرنے لگتے اور یوں مسلمانوں پر مسلط بادشاہتیں دم توڑنے لگتیں۔

آمریت کے خلاف  ایرانی عوام کی جدوجہد  کو چھپانے لئے عراق کے ڈکٹیٹر صدام نے دیگر آمروں کی ایما پر ایران پر حملہ کیا اور عرب ریاستوں کے ساتھ مل کر دنیا کو یہ تاثر دیا کہ یہ شیعہ اور سنی کی جنگ ہے ۔

آج وقت نے  ثابت کر دیا ہے کہ یہ شیعہ اور سنی کی جنگ نہیں تھی بلکہ آمریت اور جمہوریت کا ٹکراو تھا، شعور اور تعصب کی لڑائی تھی،  اور بادشاہت و بیداری کا معرکہ تھا۔

وقت کا پہیہ گردش میں رہا، مورخ کا قلم چلتا رہا، تاریخ کے اوراق پلٹتے رہے، چہروں سے نقاب الٹتے رہے، مذہبی دجا ل اپنے ڈکٹیٹروں سمیت جہنم کا ایندھن بن گئے، جھوٹ بولنے والے اور پروپیگنڈہ کرنے والے دنیا کے سامنے بے نقاب ہوتےگئے، ان چند سالوں میں  اگر کچھ باقی رہا تو صرف اور صرف حق اور سچ باقی رہا۔۔۔!

وہ  عوامی شعور اور جمہوری انقلاب جسے شیعہ کہہ کر  ایران میں محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اس نے تونس سے بھی سر نکالا ، اس نے مصر میں بھی دستک دی، اس نے عراق کو بھی ہلایا ، اس نے قطر کو بھی جھنجوڑا اورآج  وہ  سعودی عرب پر بھی خوف طاری کئے ہوئے ہے۔

آج ہر منطقے ، ہر ریاست اور ہر علاقے کے مسلمان اپنے اوپر مسلط بادشاہت سے بیزار ہیں، آج مسلم دنیا کے ڈکٹیٹر تو شہنشاہِ ایران کی طرح امریکہ و اسرائیل کے تلوئے چاٹ رہے ہیں لیکن آج عرب ریاستوں کے عوام  اپنے اوپر مسلط  بادشاہوں سے نالاں ہے۔

عوام کی بادشاہوں سے ناراضگی، لوگوں کی آمریت سے نفرت، جمہور کا شعور کی آواز پر لبیک کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ حکومتی  آمروں اورمذہبی دجالوں سے آزادی اور انقلاب چاہتے ہیں، اب ان بیدار اور باشعور لوگوں کے خلاف چاہے کافر کافر کے نعرے لگائے جائیں اور مذہبی دجال ان کے خلاف دن رات پروپیگنڈہ کریں ، یہ انقلاب، شعور اور بیداری کی لہر اب کافر کافر کے نعروں سے رکنے اور تھمنے والی نہیں، اب لوگ یہ سمجھ گئے ہیں کہ آمریت کی بربادی اور قدس کی آزادی لازم و ملزوم ہے ، جب تک دنیائے اسلام سے آمریت کا خاتمہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک قدس کی آزادی ممکن نہیں، لہذا  اب عوامی  شعور کی یہ لہر آمریت کی بربادی اور قدس کی آزادی پر ہی منتہج ہوگی۔

بقول شاعر اب وہ وقت آگیا ہے کہ

اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں

جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں، تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

ان شااللہ

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ا مریکی اقدام نے امت مسلمہ کے دل میں خنجر پیوست کر دیا ہے۔امریکہ کو عالمی قوانین کی ہرگز پرواہ نہیں اور نا ہی دنیا کے امن سے کچھ مطلب اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے اس نے دنیا بھر میں انسانوں کا قتل عام کیا ہے۔بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اور پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے پر فوری طورپر امریکہ سفیرکو وزات خارجہ میں طلب کیا جائے۔حکومت پاکستان اس مسئلے اپنے موقف کو واضع طور پر پیش کرئے۔

ان کا مذید کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین اس مسئلے پر ہرگز خاموش نہیں بیٹھے گی قبلہ اول مسلمانان عالم کا دل ہے،اس کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی سازش کو ہم کبھی کامیاب ہونے نہیں دینگے، اسرائیل انشااللہ دنیا کے نقشے سے جلد مٹ جائیگا،اسرائیل کے خاتمے کا کاونٹ ڈاون شروع ہو چکا،عالم اسلام کا بچہ بچہ غاصب انسانیت دشمن صہیونی ریاست کیخلاف لڑنے اور بیت المقدس کی آزادی کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کہاں ہے آل سعودکی نام نہاد اسلامی اتحاد؟آج امریکی اعلان کے بعد اس نام نہاد جعلی اتحاد کا بھی اندازہ مسلم امہ کو ہوگیا ہے یہ اتحاد مسلم امہ کے لئے نہیں بلکہ یمن کے مظلوم مسلمانوں کے قاتل آل سعود اور اسرائیل کا سرپرست امریکہ کے مفادات کی تحفظ کے لئے بنایا گیا ہے،انہوں کہا کہ عرب کے عیاش بادشاہ اسرائیل اور امریکہ کے اتحادی ہیں،انشائ اللہ ظالموں جابروں کے خاتمے کا وقت آ پہنچا ہے،وہ وقت دور نہیں جب اسرائیل اور اسکے سرپرست امریکہ کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائینگے،مسلمان متحد ہو کر امریکہ اسرائیل اور اسکے اتحادی پٹھوں کیخلاف ہر سطح پر آواز بلند کریں،یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اسے ہم سرانجام دیتے رہیں گے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے قبلہ اول کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے اور وہاں امریکی سفارت خانہ کھولنے کا اعلان شرپسندی ہے جس کے خلاف جمعہ کے روز ملک بھر میں ’’یوم مردہ باد امریکہ واسرائیل ‘‘منایا جائے گا اور احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا پایہ تخت قرار دینا امت مسلمہ کے زخموں پر نمک پاشی ہے ۔ امریکی صدر کا اسلام دشمن متعصبانہ رویہ عالمی امن کے لئے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔اس اقدام کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔امریکی صدر نے امت مسلمہ کے وقار پر حملہ کیا ہے۔اس پر خاموش رہنا امت مسلمہ کی توہین ہے۔ عالمی قوانین کی اس پامالی پر تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں، طلبا تنظیموں اور ریاستی اداروں کو اپنی آواز بلند کرنا ہو گی۔مسلمان ہونے کے ناطے بیت المقدس سے ہم سب کا مذہبی تعلق جڑا ہوا ہے۔امریکہ اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کا ہمیشہ دفاع کرتا آیا ہے۔ اس حمایت کی بنیاد اسلام دشمنی کے علاوہ اور کوئی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ کی اسلام دشمن پالیسیوں میں اسے عرب مسلم ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے جو افسوسناک ہے۔عالم اسلام کی تنزلی عرب حکمرانوں کی خیانت کا نتیجہ ہے۔مظلوم فلسطینیوں اور بیت المقدس کے حوالے سے پاکستان کو واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ باقر نجفی رپورٹ نے ذمہ داروں کے چہرے سے نقاب ہٹا دیا ہے۔ شہباز شریف ،رانا ثنا اللہ کو فوری مستعفی ہو جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس گردی کا شکار ہونے والوں کے اہل خانہ انصاف کے منتظر ہیں۔ ناصر شیرازی کے اغوا سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس اغوا میں پنجاب حکومت کے ماتحت ادارے ملوث ہیں۔

’’القدس‘‘ہمارا ہے

وحدت نیوز(آرٹیکل) ’’یہ ایک اتحادی کو تسلیم کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں،میں امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے احکامات دیتا ہوں یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا،یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بہت عرصے پہلے ہو جانا چاہیے تھا‘‘

ان الفاظ کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر اعلان کردیا کہ وہ یروشلم یعنی قدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردے رہا ہے ۔

دوسری جانب اس اعلان کے بعد غاصب ریاست اسرائیل کی جانب سے کہا گیا کہ’’ آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان نے ہمارے لیے یہ ایک تاریخی دن بنا دیا ہے،دنیا کے ہر کونے میں ہمارے لوگ یروشلم واپس آنے کے لیے بے تاب ہیں۔

یہ ایک تاریخی دن ہے۔ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت 70 سے ہے۔ یروشلم ہماری امیدوں، خوابوں اور دعاؤں کا مرکز رہا ہے۔ یروشلم یہودیوں کا تین ہزار سال سے دارالحکومت رہا ہے۔ یہاں پر ہماری عبادگاہیں رہی ہیں، ہمارے بادشاہوں نے حکمرانی کی ہے اور ہمارے پیغمبروں نے تبلیغ کی ہے۔

عالمی اور علاقائی سطح پر ٹرمپ کے اس اعلان پر شدید تنقید جاری ہے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنر ل سے لیکر یورہی یونین تک سب کاکہنا ہے کہ یہ ایک غیر ذمہ دار اور یکطرفہ فیصلہ ہے جسے کوئی تسلیم نہیں کرتا ۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ کا اعلان بین الااقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے خلاف ہے۔

لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ اپنے اس اعلان کو عملی شکل دے پائے گا ؟
اس اعلان سے قبل ٹرمپ نے عر ب ممالک خاص کر سعودی عرب سے اربوں ڈالر حاصل کئے تھے جبکہ اسرائیل اور سعودی عرب میں تعلقات میں کے لئے بیگ ڈور روابط کی باتیں زیر گردش ہونے کے ساتھ ساتھ ذمہ داروں کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ بھی دیکھائی دیتا ہے ،مشرق وسطی میں داعش کا پیدا کردہ بحران نسبی طور پر تھم چکا ہےلیکن شام اور یمن میں سیاسی بحران جاری ہے اور یمن کا مسئلہ پہلے سے زیادہ گرم دیکھائی دیتا ہے کہا جاسکتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ عرب بہت سے عرب حکمرانوں کے لئے بنیادی مسئلہ نہیں رہا ہےاور نہ ہی وہ اسرائیل کو اپنا دشمن ملک سمجھنے کے قائل ہیں گرچہ ان ممالک کی عوام کے دلوں میں اب بھی یہ مسئلہ ایک بنیادی اور سلگتا مسئلہ ہے ۔

ترکی میں اردگان کے لئے فلسطین کا مسئلہ انتخابی مہم کو گرمانے کے لئے ایک بہترین ایشو تو ضرور ہے لیکن وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے مکمل خاتمے کے نقصانات کو سہنے کے لئے تیار نظر نہیں آتا ،ترکی نے اب تک اس مسئلے میں صرف سخت لہجہ اور گرم بیانات دینے تک اکتفا کیاہے لیکن کیا اردگان ٹرمپ کے اعلان کے بعد اسرائیل کے ساتھ اپنے روابط ختم کرنے کا اعلان کرے گا ؟

عرب تجزیہ کاروں کا ایک گروہ سمجھتا ہے کہ ٹرمپ کا اعلان فلسطین اور قبلہ اول کے مسئلے کی جانب توجہ کو بڑھائے گا بعض کا خیال ہے کہ یہ اعلان ایک زلزلے کی ماند ہوگا جو مسلم امہ اور عرب ممالک کو ہلا کر رکھ دے گا ۔

ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ٹرمپ نے اس اعلان سے پہلے مشرق وسطی میں اپنے عرب دوستوں کو پہلے سے ہی آگاہ کیا ہواہے یہاں تک ٹرمپ کا یہودی داماد گھنٹوں عرب بادشاہوںکو اس موضوع پر ڈکٹیشن دے چکا ہے ایسے میں سوائے سخت لہجے کے بیانات ،اجتماعات اورمذمتوں کے علاوہ ہم کسی بھی فائدہ مند چیز کی توقع نہیں کرسکتے ہیں ۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد اس بات کا خطرہ پایا جاتا ہے کہ بہت سے مسلم ممالک میں ان شدت پسندگرہوںجیسے القاعدہ اور داعش ۔۔۔ کے لئے گنجائش پیدا ہوگی جو اپنے خاص ایجنڈے رکھتے ہیں جنہوں نے کبھی بھی فلسطین کے مسئلے کو لیکر کسی قسم کا سنجیدہ اقدام نہیں کیا جو صرف اپنے مخصوص ایجنڈوں کے لئے ایسے مواقع کی تلاش میں ہوتے ہیں ۔

اس صورتحال میں صرف یہ فلسطینی عوام ہی ہوسکتے ہیں جو اس مسئلے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں اور شائد دنیا ایک نئے اور وسیع انتفاضے کا انتظار کررہی ہے جو مسلم امہ اور خوابیدہ عربوں کو جگائے۔

تحریر۔۔۔۔حسین عابد

وحدت نیوز(تہران) رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران عالمی سامراج اور صیہونی محاذ کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان جنگ اور تنازعات پیدا کرنے کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے اور حکم الٰہی سے وہ اس جنگ میں کامیاب بھی رہے گا۔ جمعرات کی صبح محبان اہلبیت اور تکفیریوں کے مسئلہ کے زیر عنواں تہران میں منعقدہ عالمی کانفرنس کے شرکاء اور مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ اگرچہ عراق اور شام میں داعش کا کام تمام ہوگیا ہے، لیکن دشمن کی چالوں سے پوری طرح ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ، صیہونیزم اور ان کے دم چھلے، اسلام دشمنی سے باز نہیں آئیں گے اور ہوسکتا ہے کہ وہ خطے میں داعش اور اسی طرح کی دوسری سازشیں تیار اور ان پر عملدرآمد کی کوشش کریں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ عالم اسلام، عالم کفر و استکبار کا مقابلہ کرنے کی پوری طاقت رکھتا ہے اور اسلامی شریعت کے مکمل نفاذ کا خواہاں ایران، دشمنان اسلام کے خلاف کامیابی کے حصول کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے پچھلے چالیس برس کے دوران ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونیزم کی سازشوں، دباؤ اور پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی کفر و استکبار کے مقابلے میں مدد کی ضرورت ہوگی، اسلامی جمہوریہ ایران مدد کرے گا اور اس معاملے میں کسی بھی چیز کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کا اولین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین ہی دشمن پر غلبہ پانے کی کنجی ہے، کیونکہ کفر، سامراج اور صیہونیزم کے محاذ نے فلسطین جیسے اسلامی ملک پر غاصبانہ قبضہ کرکے، اسے خطے کے ملکوں کی سلامتی میں رخنہ اندازی کا اڈہ بنا رکھا ہے، لہذا اس سرطانی پھوڑے اسرائیل کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور تنازعات کو ہوا دینے کا اصل مقصد اسرائیل کے گرد سکیورٹی حصار قائم کرنا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ جس دن فلسطین، فلسطینی عوام کی آغوش میں واپس آجائے گا، اس دن عالمی سامراج کی کمر ٹوٹ جائے گی اور ہم اس مقصد کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔

وحدت نیوز(بیروت) حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے امریکہ اور اور سعودی عرب کو داعش کا بانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کا مکمل خاتمہ قریب ہے۔ جنوبی بیروت میں اربعین حسینی کے موقع پر عزاداروں کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب نے داعش کو بنایا تھا، تاہم اسلامی انسانی اقدار کے خلاف اتنی بڑی سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں داعش کی مکمل نابودی نزدیک ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ سعودی عرب نے سعد حریری کو ریاض بلا کر یرغمال بنا رکھا ہے اور انہیں استعفٰی دینے پر مجبور کیا گیا ہے اور یہ لبنان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے سعد حریری سے زبردستی استعفٰی دلوا کر نہ صرف لبنانی وزیراعظم بلکہ پوری لبنانی قومی کی توہین کی ہے۔

سید حسن نصراللہ نے خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ سعودی عرب، اسرائیل کو لبنان پر حملے کے لئے اکسا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سعودی عرب نے لبنان پر حملے کے عوض اسرائیل کو اربوں ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے صراحت کے ساتھ کہا کہ سن دو ہزار چھے میں بھی سعودی عرب کے کہنے پر اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ لبنان کی موجودہ صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے اسی طرح اربعین مارچ کو بے مثال واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات قابل غور ہے کہ اس سال بھی کروڑوں افراد چہلم کے موقع پر کربلا آئے، جن میں ہر ملک اور ہر قوم سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

دیگر ذرائع کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے سعودی عرب پر لبنانی وزیرِاعظم سعد حریری کی گرفتاری اور اسرائیل کو حملہ کرنے پر اکسانے کا الزام عائد کر دیا۔

سید حسن نصر اللہ نے سعد حریری کے حوالے سے ان کے وزارت عظمٰی سے استعفٰی دینے کے فیصلے پر دوسرا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے وزیرِاعظم کو سعودی عرب نے قید کر رکھا ہے اور انہیں اب تک لبنان واپس جانے کی اجازت نہیں ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعد حریری کی صورتحال اب تک واضح نہیں، لیکن ان کو موصول ہونے والی ٹیلی فون کالز جن میں ان کے سیاسی مخالفین کی کالز بھی شامل ہیں، سے واضح ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے سبکدوش لبنانی وزیرِاعظم کی آزادانہ نقل و حمل پر پابندی ہے۔ لبنان کے 47 سالہ سعد حریری نے اچانک 4 نومبر کو لبنانی وزارتِ عظمٰی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور اتفاق سے اسی دوران سعودی عرب میں اعلٰی شخصیات کی گرفتاریوں کی مہم کا آغاز ہوگیا تھا، تاہم اب تک سعد حریری نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کب سعودی عرب واپس لبنان پہنچیں گے، جہاں صدر میشال نعیم عون ان کا رسمی طور پر استعفٰی قبول کریں گے۔

گذشتہ روز (10 نومبر کو) لبنان میں موجود سعودی سفیر ولید بخاری سے ملاقات کے بعد لبنانی صدر میشال نعیم عون کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ سعد حریری کو لبنان واپس آنا چاہیے، لیکن انہوں نے لبنان کے وزیراعظم کی ریاض میں موجودہ حالت کا ذکر نہیں کیا۔ صدر میشال نعیم عون نے سعودی سفارت کار ولید بخاری سے ملاقات کے دوران ان حالات کے بارے میں انہیں آگاہ کیا تھا کہ جن کی وجہ سے سعد حریری کا استعفٰی قابلِ قبول نہیں۔ لبنانی صدر جن کی سیاسی حمایتی جماعت حزب اللہ جو سعودی عرب کی شدید مخالت ہے، سعد حریری کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور سعودی حکومت سے ان کے حوالے سے وضاحت بھی طلب کی۔ امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلر سن نے سعد حریری کو اپنا ساتھی قرار دیتے ہوئے لبنان کے اندرونی اور بیرونی حلقوں کو لبنان کی سرزمین کو پراکسی وار کے طور پر استعمال نہ کرنے کے لئے خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ، لبنان کی خود مختاری، آزادی اور سیاسی اداروں کی مکمل حمایت کرتا ہے جبکہ لبنانی کی خود مختادی کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی عمل کی مخالفت کرتا ہے۔

لبنان اور سعودی عرب سے گہرے تعلقات رکھنے والے فرانس کے صدر ایمانیول میکرون نے 9 نومبر کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا اچانک دورہ کیا۔ فرانس کی وزارتِ خارجہ نے فرانسیسی ریڈیو پر بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ سعد حریری کی نقل و حمل پر کوئی پابندی نہیں، تاہم اس حوالے سے لبنانی سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ انہیں نظر سعودی عرب میں نظر بند کر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سعد حریری فرانسییسی صدر کے دورہ یو اے ای سے قبل ابوظہبی میں موجود تھے، جس سے ہمیں لگتا ہے کو وہ آزاد ہیں۔ سعودی عرب سے موصول ہونے والی مبینہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو لبنان پر حملے کے لئے اکسانا انتہائی خطر ناک عمل ہے۔

Page 1 of 14

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree