وحدت نیوز (لاہور) شاہ پور کانجراں لاہور میں صاحبزادہ معاذ المصطفیٰ قادری کی رہائش گاہ پر افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے سُنّی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ کرپٹ سیاسی نظام کو آخری دھکا دینے کا وقت آ گیا ہے، عید کے بعد ناکام اور نااہل حکومت کیخلاف دما دم مست قلندر ہو گا، شیعہ سنی تصادم کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، پنجاب بجٹ مایوس کن اور غریب دشمن ہے، واشنگٹن اور دہلی پاکستان دشمنی میں متحد ہو چکے ہیں، وقت آگیا ہے کہ پاکستان امریکہ کیخلاف دو ٹوک مؤقف اپنائے، افغان باڈر پر اپنی حدود میں گیٹ لگانا پاکستان کا قانونی حق ہے۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ حکومت نے وزارت خارجہ کو 2 بابوں کے حوالے کر رکھا ہے جو ہر وقت آپس میں لڑتے رہتے ہیں، مستقل وزیر خارجہ کی عدم تقرر سے حکومت کی غیر سنجیدگی ظاہر ہو رہی ہے، امریکہ میں فائرنگ کے واقعہ سے یورپ اور امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ ہو گا۔ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ شام اور عراق میں اہل بیت اور صحابہ کے مزارات کی بیحرمتی کرنے والے خوارج ہیں، نواسی رسول سیدہ زینبؑ کے مزار کی بیحرمتی نا قابل برداشت ہے، ہمارے حکمران دولت کے پجاری اور اقتدار کے بھوکے ہیں، حکمران اشرافیہ کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ چیئرمین سنی اتحاد کونسل نے کہا کہ قومی مفاد کے تابع نئی خارجہ پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، نظام زر و ظلم آخری سانسیں لے رہا ہے، غریب اور محروم طبقات اپنے حق کیلئے عید کے بعد سڑکوں پر نکلیں گے، حکومت نے 3 سالوں میں عوام کا کوئی مسئلہ حل نہیں کیا، انتخابی وعدے پورے نہ کرنے والوں کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

وحدت نیوز(کوئٹہ)  مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی قائد علامہ راجہ ناصر عباس صاحب پچھلے تیس دنوں سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ہمارے بے گناہ شہداء کو انصاف دلانے کیلئے احتجاج کر رہے ہیں اور انکی بھر پور حمایت کیلئے ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ ڈویژن کے کال پر جمعہ کے نمازکے بعد ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ جس میں امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی ، ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ کے نمائندوں اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ کے سیکریڑی جنرل عباس علی نے کہا کہ ہم ناصر ملت علامہ راجہ ناصر عباس صاحب کے ساتھ ہیں، حق کبھی کسی کے آگے نہیں جھکتا۔ علامہ راجہ ناصر عباس صاحب پوری قوم کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن سے جاری شدہ بیان کے مطابق جمعہ کے روز نماز جمعہ کے بعد میکانگی روڈ سے پرنس روڈ تک ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی، گزشتہ دنوں کوئٹہ کے قومی و مذہبی جماعتوں اور اداروں نے قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس صاحب کے بھوک ہڑتالی کیمپ کے مطالبات کی حمایت کی اور جمعہ کو انکی حمایت کے لئے ایک ریلی نکالی گئی جس سے مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم وامام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی، ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا،ریلی میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور موجودہ وفاقی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔مرکزی رہنماو امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ ملک بھر میں ہمیں مختلف دہشتگردانہ واقعات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، کراچی میں خرم ذکی کو شہید کیا گیا،پارہ چنار میں بے گناہ پاکستانیوں کو احتجاج کے دوران سیکورٹی فورسسز کی بلا جواز فائرنگ سے شہید کیا گیا اور اسی طرح ملک بھر میں ہمارے خلاف کاروائیاں ہوتی رہی ہے مگر حکومت کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی انہوں نے کہا کہ ملک کا نظام ایسے نہیں چلتا جیسے موجودہ وفاقی حکومت چلانا چاہتی ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہم انصاف کی خاطر سڑکوں پر نکلے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہمیں تحفظ فراہم کرنا ہے مگر یہاں تحفظ تو دور کی بات، ہمیں انصاف تک نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ قائد ملت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب قوم کی آواز ہیں اور گزشتہ 22دنوں سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال کے ذریعے احتجاج کر رہے ہیں، قوم حکومت وقت سے اپنا حق مانگ رہی ہے اور پوری قوم کی جنگ اس وقت ایک شخص لڑ رہا ہے۔ حکومت وقت کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانی ہوگی انہوں نے کہا کہ ہم بہت جنازیں اٹھا چکے ہیں اور ظلم و بربریت کی انتہا ہو گئی ہے اب ہم مزید ظلم برداشت نہیں کر سکتے۔ احتجاجی ریلی سے دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ وہ علامہ راجہ ناصر عباس صاحب کے مطالبات کے حامی ہیں اور حکومت وقت کو چاہئے کہ علامہ راجہ ناصر عباس صاحب کے مطالبات تسلیم کریں۔

وحدت نیوز (ہٹیاں بالا) ریاستی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان آزاد جموں و کشمیر علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے سمیت 24سے زائد شیعہ پارٹیز نے ملگ گیر لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے، کارکنان تیاری کریں ، عید کے بعد ہر صورت لانگ مارچ ہو گا ، لانگ مارچ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے مطالبات پر عمل درآمد نہ کی جانے کی صورت میں ہے ، اب حالات کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی ، پرامن اور جمہوری جدوجہد کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ، عید کے بعد بھرپور قوت سے نکلیں گے ، مجلس وحدت کے سفیر اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے گھر گھر یہ پیغام پہنچائیں،ان خیالات کا اظہار علامہ سید تصور نقوی الجوادی نے ہٹیاں بالا میں تنظیمی عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین مملکت خداداد میں امن و سکون کے لیے جدوجہد کر رہی ہے ، مظلومیت کی حمایتی جماعت کو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پذیرائی مل رہی ہے ، کیوں کہ اس کا ایجنڈا مظلوم کی نصرت ہے ، جس کا عملی ثبوت مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی 13مئی سے تاحال جاری بھوک ہڑتال ہے ، قیادت خود میدان میں اتری اور ظالم کو للکارا، دہشتگردوں کا پاکستان نہیں قائد اعظم کا پاکستان چاہیے ، وہ پاکستان کہ جس میں قتل غارت گری عام ہو ، لوٹ کا بازار گرم ہو ، وحشی درندے آزاد ہوں ، اور مظلوم پر جبر کی انتہاء کر دی جائے ، ایسا پاکستان نہیں چاہیے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں قائد اعظم و اقبال کا پاکستان چاہیے کہ جس میں شیعہ، سنی، ہندو ، سکھ ، عیسائی سب امن و سکون سے رہتے ہیں ، ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر شہری کے جان و مال کی حفاظت کرے ، اگر نہیں کر سکتی تو کوئی اخلاقی ، قانونی و آئینی جواز نہیں کہ وہ حکمرانی کریں ، علامہ تصور جوادی نے کہا کہ ہم شیعان حیدر کرار ظلم کے خلاف آگے بڑھیں گے ، اس وقت گھروں کو نہیں لوٹیں گے جب تک کہ ظالموں سے حساب نہ لے لیں ، حکومت کو اب قاتلوں کی گرفتاری ، پنجاب میں بانیان مجالس پر ایف آئی آرز کے خاتمے ، عزاداری کو محدود کرنے کی سازشوں ، زمینوں پر ناجائز قبضوں سمیت اپنی بے حسی کا حساب بھی دینا ہو گا، ہمیں نہ ڈرایا جا سکتا ہے نہ دھمکایا جا سکتا ہے ، نہ خریدا جا سکتا ہے نہ جھکایا جا سکتا ہے ، میدان میں ہیں مطالبات پر عملدرآمد ہونے کے بغیر گھروں کو نہیں لوٹیں گے ، مطالبات جائز اور قابل عمل ہیں ، ہر باشعور جو پاکستان کو امن کا گہوارہ دیکھنا چاہتا ہے اس نے مانا ہے ۔تنظیمی اجلاس سے مولانا سید طالب حسین ہمدانی، سید افتخار کاظمی ، سید عاطف علی ہمدانی و دیگر نے بھی خطاب کیا�آ

وحدت نیوز (آرٹیکل) پاکستان کے ارد گرد اور خطہ جنوب مشرقی ایشیا ء میں تمام موثر و بااثر ممالک دُنیا میں مختلف جہت کی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں ،اوراندازبدلتے جارہے ہیں، دوست /دشمن بدلتے جارہے ہیں ،وطن عزیز نے اپنے قیام سے لیکر اب تک ساڑھے چھ عشرے سے بہت سی ہنگامہ خیزیوں کا سامنا کیا ہے ،داخلی و خارجی محاذوں پر ’’حیران ‘‘کردینے والے اُتار چڑھاؤ دیکھے ہیں،لیکن ’’دوست دشمن ‘‘کی پہچان کا وصف ہم سے کوسوں دور ہے ؟شاید اسی وجہ سے ہم ہیں آج بھی وہیں کھڑے ہیں ،جہاں سے چلے تھے ۔ جی ایچ کیو میں منعقدہ حالیہ اجلاس میںآپ نے کہا کہ ’’وطن دشمنوں کو پاکستان کیلئے مسائل پیدا نہیں کرنے دینگے ‘‘اُنھوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا ہے ،کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں اور اُنکے سہولت کاروں کو ملک میں مسائل کو ہوا دینے کی اجازت نہیں دینگے ۔۔۔۔،مگر ہم آج بھی’’حقائق ‘‘کی دُنیا میں جانے پر تیار نہیں۔ حالانکہ ہمیں ٹھنڈے دل کیساتھ دیکھنے اور سوچنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟اور اسکو موجودہ کیفیت سے باہر کیسے نکالا جاسکتاہے ؟پاکستان کیلئے بیرونی جارحیت کا کوئی خطرہ نہیں رہا،لیکن اندرونی خطرات نے قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔


آپ کے بارے میں یہ تاثر عام ہے ،کہ پاک فوج کے بہترین کمانڈر ہونے کے علاوہ اس لحاظ سے وارثِ شہدائے پاکستان بھی ہیں ،کہ مادروطن اہل وطن کی خاطر بہنے والے مقدس لہو میں آپکے خاندان کا نمایاں حصہ شامل ہے ،دو نشان حیدر آپکے خاندان کی حُب الوطنی کا لازوال اعلان بھی ہیں۔اور آپ نے جب سے پاک فوج کی کمان سنبھالی ہے ،مختصر عرصہ میں ثابت کیا ہے ،کہ آپکی دلچسپی صرف اور صرف پاکستان کی بقاء و سلامتی ،ترقی واستحکام سے ہے۔نیزکشمیر کی آزادی اور تکمیل پاکستان کیلئے’’کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، قومی سلامتی کے تحفظ کی جنگ کی قیادت کرتے ہوئے قوم میں اُمید ’’روشن صبح ‘‘پیدا کئے ہوئے ہیں۔مگر دوسری طرف منظر نامہ یہ ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر ( ایک ذمہ دارپاکستانی ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس گذشتہ ایک ماہ سے ’’بھوک ہڑتال‘‘پر بیٹھے ہوئے ہیں،لیکن اب تک ارباب اقتدار نے اُسکی جانب توجہ نہیں دی ۔میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ راجہ ناصر عباس جن مطالبات کو لیکر’’بھوک ہڑتال‘‘پر بیٹھے ہیں،وہ ہر اعتبار سے ’’جائزاور ،مبنی بر حق‘‘ہیں ۔مجلس وحدت مسلمین کا مطالبہ ہے ،کہ شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز کی ٹارگٹ کلنگ کانوٹس لیا جائے ،اور بے گناہوں کا خون بہانے والوں کو پکڑکر نشان عبرت بنایا جائے ۔کتنی افسوس کی بات ہے کہ ایک ماہ گرز گیا ،مگر حکمران، اسلام آباد پریس کلب کے باہر جاری’’بھوک ہڑتال‘‘سے عملاََ لاتعلق ہوئے بیٹھے ہیں۔باور کیا جاسکتا ہے کہ اگر حکمران زندہ ضمیر ہوتے ،جزا وسزا کے قانون قدرت پر ایمان رکھتے ہوتے ،تواب تک راجہ ناصر عباس کے مطالبات پرسنجیدگی سے نوٹس لیتے ،اور بطور مملکت یقین دہانی کرواکر ’’بھوک ہڑتال‘‘ختم کروادیتے ۔لیکن ایسا نہیں ہوا،اس طرز عمل سے بیرونی دُنیا میں کیا پیغام جارہا ہوگا؟آپکے علم میں ہے کہ پاکستان کا خیرخواہ ہر طبقہ و حلقہ چاہتا ہے ،کہ دہشتگردی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو،مسلکی بنیادوں پر بے گناہوں کی گردنیں مارنے کا گھناؤنا سلسلہ رُکے ۔اور اگر ایسا نہیں ہورہا،اور دہشتگردجب بجی جہاں چاہیں کارروائی کرسکتے ہیں ،توپھر آپریشن ضرب عضب۔۔۔قومی ایکشن پلان کی (مبینہ)کامیابیوں پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔جبکہ حق تو یہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کی توثیق کیلئے دہشتگر دوں کو بھیانک انجام سے دوچار ہونا پڑے۔اگرچہ قوم کے نزدیک آپکی کوششیں ،آپکے جذبے، قوم کے ہر غیرتمند فرد کیلئے قابل قدر ہیں،قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے آپکی سرگرمیاں مستحسن ہیں ،مگر یہ بھی حقیقت ہے ،کہ جمہوریت کی فیوض و برکات سے قومی مفادات کا تعین کرنے اور تحفظ کیلئے اقدامات اُٹھانے میں سنگین غلطیوں کا ارتکاب ہوتا ہے،سچ تو یہی ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ، حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں ہے ۔اسکے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے بھی اپنا کام نہ کریں ۔اور داخلء سلامتی کے حوالے سے باشندگان مملکت کی تشویش بتدریج بڑھتی جائے ،سوچنا ہوگا ،نتیجہ صفر کیوں ہے؟ظاہر ہے ایسی کیفیت میں پُرامن اور مُحب وطن حلقوں کے نزدیک معاملات پر توجہ دلانے کیلئے ’’احتجاج‘‘ ہی واحد اقدام ہوتا ہے ۔بلاشُبہ وطن عزیز کیلئے پُرامن اور روشن سویرا کی خاطر مسلح افواج نے حالیہ سالوں میں بیش قیمت قربانیاں دی ہیں۔لیکن جب ٹارگٹ کلنگ پہلے کی طرح جاری رہے گی تو پاکستان میں ایک مسلک کیخلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کے تسلسل پر ’’ تشویش ‘‘کی لہر پیدا ہونا فطری امرہے ۔شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز(ڈاکٹرز،انجینئرز،وکلاء ،صحافی ،پروفیسرزوغیرہ)کی ٹارگٹ کلنگ کا انتہائی مذموم اور وطن دشمن گھناؤنا سلسلہ جاری ہے ،آپریشن ضرب عضب کا آغاز ہوا ،نیشنل ایکشن پلان آیا ،دہشتگردی سے متاثرہ حلقوں کو یہ اُمید تھی ،کہ وطن عزیز میں طویل عرصہ تک جڑیں پکڑنے والا ’’دہشتگردی‘‘کا ناسور ختم ہوگا،دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچاکر مظلوموں کو انصاف دیا جائیگا۔لیکن تاحال یہ توقع پوری نہیں ہورہی ۔قومی حلقوں کو اب بھی اُمید ہے کہ مملکت خداداد پاکستان کی بقاء سلامتی اور استحکام کیلئے آپکی قیادت میں مسلح افواج کا فیصلہ کن کردار ’’حوصلہ افزاء‘‘ نتائج لائے گا۔اور بے گناہوں کے خون ناحق کو بہانے والے ظالموں کے مقابلے میں مظلوموں کو انصاف ملے گا‘اب آپ ہی بتائیں ۔اسلام آباد میں ’’بھوک ہڑتال‘‘پر بیٹھنے والے مظلوموں کے حامی ناصرف اشرف المخلوقات ہیں ،بلکہ صاحب ایمان مسلمان ہیں،اور ظلم و ناانصافی کے طرز عمل کیخلاف ’’آوازاحتجاج‘‘بلند کررہے ہیں۔کیا انسانی معاشرے پرظلم و ناانصافی پر مبنی جنگل کا قانون(عملاََ)نادذکرنیوالے حکمران قہر الہیٰ سے بچ سکتے ہیں؟اور کیا آپ سے اس بابت پوچھا نہیں جائیگا؟

وحدت نیوز (مشہد) مجلس وحدت مسلمین شعبہ مشہد مقدس کے وفد نے سیکرٹری جنرل حجتہ الاسلام والمسلمین عقیل حسین خان کی قیادت میں آیت اللہ سید محمد علی شیرازی سے ملاقات کی۔ ایم ڈبلیو ایم کے وفد نے آیت اللہ سید محمد علی شیرازی کو پاکستان کی موجودہ صورتحال اور بالخصوص علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی جانب سے شیعہ ٹارگٹ کلنگ، فرقہ واریت، دہشتگردی اور شیعہ نسل کشی کے اسلام آباد میں جاری بھوک ہڑتال پر بریفنگ دی۔ ایم ڈبلیو ایم کے وفد میں حجتہ الاسلام آقائی آزاد حسین، حجتہ الاسلام خواجہ محمد سلیم محمدی، حجتہ الاسلام اشفاق علی لغاری، حجتہ الاسلام عرفان حیدر، حجتہ الاسلام لعل خان اورحجتہ الاسلام رضا زیدی شامل تھے۔ اس موقع پر وفد سے گفتگو کرتے ہوئے آیت اللہ سید محمد علی شیرازی نے پاکستان میں ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ کی جانب سے دی جانے والی بھوک ہڑتال کی مکمل حمایت اور تائید کی۔ آیت اللہ سید محمد علی شیرازی نے مزید کہا کہ اس وقت تشیع جہاں مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں ہم تشیع پاکستان کی کامیابی اور سربلندی کے لیے دعاگو ہیں۔

وحدت نیوز (ملتان) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصرعباس جعفری کی کال پر گزشتہ روز ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا، لاہور، اسلام آباد، کراچی، ملتان، فیصل آباد سمیت جنوبی پنجاب بھر میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج مظاہرے کیے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ ملتان میں نماز جمعہ کے اجتماعات میں قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کی گئی اور عیدالفطر کے لانگ مارچ کی مکمل حمایت بھی کی گئی۔ دریں اثناء جامع مسجد الحسین گلشن مارکیٹ میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے سے مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی، مولانا عمران ظفر نے خطاب کیا۔ علامہ اقتدار حسین نقوی نے خطبہ جمعہ اور بعدازاں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو عید کے بعد عظیم الشان لانگ مارچ کریں گے اور ان غاصب اور جابر حکمرانوں سے اپنے حقوق چھین لیں گے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں سمیت جنوبی پنجاب میں بھی لانگ مارچ کے حوالے سے تیاریاں جاری ہیں اور انشاء اللہ 12جون کو چوک گھنٹہ گھر میں قائد وحدت سے اظہار یکجہتی اور اپنے مطالبات کے حق احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں میں عوام کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ اس موقع پر اُنہوں نے جنوبی پنجاب کی عوام سے اپیل کی کہ ملک میں جاری دہشت گردی، فرقہ واریت، کرپشن، بدعنوانی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کا ساتھ دیں ہم کسی ملک میں ظالم کے خلاف اور مظلوموں کے حامی ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree