وحدت نیوز (اسکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویژن کے سیکرٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے قائداعظم کے یوم پیدائش کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور بابصیرت حکمت عملی سے ایک خود مختار اسلامی ریاست وجود میں آئی جہاں بسنے والے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے اپنے اپنے عقائد کے مطابق زندگی کر سکیں۔ پاکستان قائداعظم کا ایک عظیم خواب تھا جس سے دنیا میں موجود تمام اسلامی ممالک کو پشت پناہی ملے اور پاکستان اسلام کا قلعہ بنے۔ اس خواب کی تعبیر کے لیے برصغیر کے پرعزم مسلمانوں نے خون کے دریا عبور کر کے پاکستان کو آزاد کرایا لیکن سوئے قسمت سے آزادی کے بعد وطن عزیز کی مخالفت کرنے والے گروہ اقتدار کی دوڑ میں سب سے آگے چلے گئے اور ملکی وسائل دونوں ہاتھوں سے لوٹ لیے۔ قائداعظم اور پاکستان کے مخالفین نے وطن عزیز میں فرقہ واریت کو ہوا دی، بےگناہوں کے خون سے پاکستان کی سرزمین کو سرخ کر دیا اور حقیقی محب وطنوں کو دیوار سے لگا دیا۔

 

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جاری دہشتگردی اور انتہا پسندی در اصل اس سوچ کا تسلسل ہے جس سوچ کے تحت قائداعظم کو غیر مسلم قرار دیتے رہے اور پاکستان کی مخالفت کرتے رہے۔ آج بانی پاکستان کی روح یقیناً زخمی ہوگی۔ ملک میں جاری تمام دہشتگردوں کے حملے دراصل بانی پاکستان کی روح پر حملہ ہے۔ پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنانے کے لیے دہشتگردوں کا خاتمہ کرنا ہوگا اور امن، محبت، ترقی و استحکام کے لیے ہر کسی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دہشتگردوں اور ملک دشمن عناصر کو تختہ دار پر لٹکا کر ہی قائداعظم کے پاکستان کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین ملک عزیز پاکستان میں آخری دہشت گرد کو ٹھکانے لگانے تک چین سے نہیں بیٹھے گی اور موجودہ حالات میں پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔بزدل دہشت گردوں کی بھول ہے کہ ہم اپنے معصوم کے بہیمانہ قتل سے خوف زدہ ہوکر ان کی خود ساختہ شریعت کے آگے سرتسلیم خم کریں گے۔ ان دہشت گردوں اور ان کی حمایت کرنے والے مولوی شاید یہ بھول گئے ہیں کہ یہ ملک محبان اہل بیت اور خاندان رسالت کے پروانوں کا ہے جو خوارج اور یزیدیوں کی دہشت گردی کے آگے کبھی سرنہیں جھکائیں گے۔

 

ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین گلگت ڈویژن کے سیکریٹری جنرل علامہ شیخ محمد بلال ثمائری نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین دہشت گردوں اور اس کے پشت پناہوں کی سرکوبی اور ملک عزیز سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رکھے گی۔دہشت گردوں سے زیادہ دہشت گردوں کو سہولیات اور سپورٹ فراہم کرنے والوں کا جرم زیادہ سنگین ہے لہٰذا حکومت ایسی تمام جماعتوں اور تنظیموں کی سرکوبی کیلئے حکمت عملی ترتیب دے جو بیگناہ انسانوں کے سفاک قاتلوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی نا اہلی سے فائدہ اٹھاکر گلگت بلتستان میں کئی خطرناک دہشت گردوں نے پناہ لی ہوئی ہے جن کی گرفتاری کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ۔وزیرستان آپریشن شروع ہونے سے بیشتر طالبان دہشت گردوں نے گلگت بلتستان میں اپنے سہولت کاروں کے پاس پناہ لی ہوئی ہے جنہیں ڈھونڈ نکالنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت شہر میں داعش کی حمایت وال چاکنگ کرنے والے مجرموں کے خلاف تاحال کوئی کاروائی نہ کرنا دہشت گردوں کی حمایت کے مترادف ہے۔

وحدت نیوز (مانٹرنگ ڈیسک) اسلامی انقلاب کے سربراہ آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای کے آفیشل ٹوئٹر اوکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تکفیریوں نے (مسلمانوں سے) جنگ کو ہمارے شہروں کی طرف موڑ دیا ہے اور پاکستان میں سیکڑوں معصوم بچوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی ہے، سب کو جان لینا چاہئے کہ تکفیری استعماری طاقتوں کے لئے کام کرتے ہیں اور علاقائی کٹھ پتلی حکومتیں تکفیریوں کو منصوبہ بندی مالی امداد اور پشت پناہی فراہم کرتی ہیں۔واضع رہے کہ دنیا بھر کو ان تکفیریوں کے خطر ے سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ایران کے سپریم لیڈر اور انقلاب اسلامی کےرہبر امام سید علی خامنہ ای کا ہے۔

وحدت نیوز (ٹوبہ ٹیک سنگھ) پاکستان کی وہ سیاسی جماعتیں جو دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہی ہیں ان پر پابندی عائد کی جائے، جو لوگ دہشت گردی میں کسی طور پر بھی ملوث پائے جائیں ان کو چوراہوں میں پھانسی پر لٹکایا جائے سکولوں پر حملے بربریت کی خوف ناک مثال ہے۔ پاکستان کا خوبصورت چہرہ خون خون کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین ٹوبہ ٹیک سنگھ کے سیکرٹری جنرل چوہدری رضوان حیدر، مسئول صوبائی سیکرٹریٹ مجلس وحدت مسلمین پنجاب زاہد حسین مہدوی، ٹوبہ ٹیک سنگھ سٹی کے سیکرٹری جنرل رانا نعیم عباس الحسینی نے مرکزی امام بارگاہ ٹوبہ ٹیک سنگھ جھنگ روڈ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے رہنمائوں کا مزید کہنا تھا کہ ہم سانحہ پشاور کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک بھر کی جیلوں میں موجود سزائے موت کے قیدیوں کو فی الفور پھانسی دی جائے، رہنمائوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کو پورے ملک میں پھیلایا جائے، پاکستان میں ایک مخصوص مکتب فکر کے تمام مدارس کو جو دہشت گردوں کی حمایت اور پشت پناہی کرتے ہیں فی الفور سیل کیا جائے۔ رہنمائوں نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملافضل اللہ کو فی الفور پاکستان کے حوالے کیا جائے۔

وحدت نیوز (راولپنڈی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کہا ہے کہ پاکستان صرف اور صرف عشق حسین (ع) کے نتیجہ میں ہی باقی رہ سکتا ہے، اگر پاکستان سے حسینیت نکل جائے تو پاکستان کا انجام بھی لیبیا اور تیونس جیسا ہو گا۔ کائنات کے نجس ترین استکبار ی پاکستان پر قابض ہو جائیں گے، اگر ہم استکبار کا راستہ روکنا چاہتے ہیں تو حسینیت کو فروغ دینا ہوگا، حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے ایک شہری کی حیثیت سے ہر عزادار کو مکمل تحفظ فراہم کرے، حکومتی انتظامات ناکافی ہیں، حکومتی حکمت عملی سے عزاداروں کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی میں اربعین حسینی کے مرکزی جلوس میں شرکت کے بعد میڈیا نمائندگان سے بات چیت کے دوران کیا۔

 

علامہ شہیدی کا کہنا تھا کہ امام حسین علیہ السلام وہ ہستی ہیں جنہوں نے ڈوبتے ہوئے اسلام کو اپنے اور اپنے اہل و عیال کے خون کے ذریعے دوبارہ وہ زندگی عطا کی جس کے نتیجے میں اب قیامت تک اسلام ختم نہیں ہوگا، اسلام کربلا اور حسین ابن علی (ع) کی شہادت کی وجہ سے زندہ و تابندہ ہے۔ آج اگر اسلام کو زندہ رکھنا ہے تو حسین (ع) کو زندہ رکھنا ہوگا، حسین (ع) کی یادوں، فلسفہ حیات اور حسینی پیغام کو زندہ رکھنا ہوگا، حسین (ع) کے فلسفہ شہادت اور حسین (ع) خطبوں کو زندہ رکھنا ہوگا، اور حسین (ع) کی زندگی کے اس ہدف کو زندہ رکھنا ہوگا جس کی بنیاد پر آج اسلام زندہ ہوا ہے۔ آج پوری دنیا میں نکلنے والے عاشقان حسین (ع)، اسلام کی حیات کو حسین (ع) کی اس قربانی کے مرہون منت سمجھتے ہیں، یہ حسینی میدان میں آئیں گےاور ہر مرتبہ ان میں اضافہ ہو گا، تمام خطرات اور دھمکیوں کے باوجود آئیں گے، چونکہ حسین (ع) نے انہیں خطرات کی آنکھ میں آنکھ ڈال جینا اور اسلام کا تحفظ سکھا دیا ہے۔

 

آج کے دن کا پیغام یہ ہی ہے کہ حسین ابن علی (ع) کے عشق و محبت کو زندہ رکھا جائے، پاکستان صرف اور صرف عشق حسین (ع) کے نتیجہ میں بچ سکتا ہے، پاکستان حسینیت کے سائے میں سالم و محفوظ رہ سکتا ہے، حسینیت اگر نکل جائے تو پاکستان کا انجام بھی لیبیا اور تیونس جیسا ہو گا۔ کائنات کے نجس ترین استکبار ی پاکستان پر قابض ہو جائیں گے، اگر ہم استکبار کا راستہ روکنا چاہتے ہیں تو حسینیت کو فروغ دینا ہوگا، اور حسینیت کے فروغ کے نتیجہ میں ہی پاکستان ایک پرامن مسلمان ملک کے طور پر باقی رہ سکتا ہے۔

وحدت نیوز(لبنان) لبنانی خبررساں ادارے جریدۃ العہد کے دفتر میں صحافیوں کو پاکستان کے سیاسی تحرک اور موجودہ صورتحال پر بریفنگ دیتے  ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری امور خارجہ علامہ ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی نے کا کہنا تھا کہ  قیام پاکستان کی بنیاد ہی دو قومی نظریہ پر رکھی گئی تھی ،جو نظریہ علامہ محمد اقبال نے مسلمانان ہند کو دیا تھا یعنی مسلمان اپنے تشخص کے ساتھ زندگی گزاریں کیوں کہ ایک بندہ مومن کو زیب ہی نہیں دیتا کہ وہ کسی کی غلامی کرے کیوں کہ اس قوم و ملت نے اقبال لاہوری سے خودی کا درس سیکھا ہوا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک مملکت خداداد کو مادر وطن کے پاک باز او ر محب وطن فرزندوں نے ہی بچا کر رکھا ہے،  ورنہ پاک وطن کے خلاف تو اسلام دشمن اور پاکستان دشمن روز اول سے ہی بر سر پیکار ہیں اوروہ   کبھی بھی نہیں چاھتیں  کہ پاکستان اپنے اسلامی تشخص کے ساتھ دنیا کے نقشے پر موجود رہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قدرتی وسائل کی وجہ سے ہمیشہ بڑی طاقتوں کی آنکھ کا کانٹا رہا ہے اور پاکستان دشمن عناصر اور ممالک کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ یہاں کے قدرتی وسائل کو ہتھیا یا جائے اور جس کی وجہ سے وہ ممالک پاکستان کے اندر آئے روز بحرانات پیدا کرواتے ہیں تاکہ عوامی شعور بیدار نہ ہو اور لوگوں کو اپنے ملک کے وسائل اور طاقت کا اندازہ نہ ہو جائے۔اور ملت پاکستان کو اپنی خودی اور نظریہ سے دور رکھنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اپنائے گئے اور اپنائے جا رہے ہیں۔ یہ ملک دنیا کے اندر اپنی ساکھ کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ یہاں ان کی من مانی اور ڈکٹیشن لینے والی حکومتیں آئیں تاکہ ان کو اپنا ایجڈا چلانے میں آسانی ہو اور وہ ان حکمرانوں کو استعمال کرتے ہیں ۔

 

ان کا مذید کہنا تھا کہ الحمدللہ پاکستان جهان اسلام کے اندر واحد ایٹمی طاقت ہے اور دنیائے اسلام کے اندر تمام اسلامی ممالک کے لئے ایک سہارے اور ڈھارس کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور پاکستا ن کی یہ طاقت بھی پوری دنیا کے اندر صیہونی و حامیان صیہونیت کے لئے گلے کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتاہے۔ اور ان ممالک کے پروپیگنڈ ے ہمیشہ پاکستان کی اس ابھرتی ہوئی طاقت کو ختم کیا جائے جس کے لئے ان کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے انتظامی اداروں یعنی افواج کو کمزور کیا جائے اور عوام کو فوج کے مقابلے میں لا کھڑا کیا جائے جس کی مثالیں ہمیں دنیا کے مختلف ممالک میں نظر آتی ہیں مثلا مصر ،لیبیا ، عراق اور شام ۔ اور یہی چال پاکستان کے اندر چلانے کی کوشش ہے۔ تاکہ پاکستان کی فوج اپنی طاقت کو بھول کر سپر پاور ممالک کے اشاروں پر چلے۔ جس کے لئے وہ پاکستان کو نا امن کرتے ہیں اور یہاں پر لسانی ، قومی، مذہبی بنیادوں پر خانہ جنگی کرواتے ہیں ۔

 

علامہ شفقت شیرازی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اندر ہمیشہ سے کٹھ پتلی حکومتیں رہی ہیں جس کی وجہ سے ملک تنزلی کی طرف جا تا رہا ہے اور حالات کبھی بھی معمول پر نہیں آئے۔ اور یہ حکمران اپنے اقتدار کو دوام دینے کے بہت مہنگی قیمت تک ادا کرنےکو تیار ہو جاتے ہیں ۔ مختلف ادوار میں پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر چند خاندانوں کے نام ہی نظر آتےہیں جو حکومت کرتے رہے ہیں۔ حالیہ سیاسی بحران کی وجوہات بھی یہی ہیں کہ ایک منظم دھاندلی کے ذریعے ایک جماعت کو آگے لایا گیا جس کے لئے عدالتی سسٹم میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے بھی ان کو سپورٹ کیا اور عوام کی مینڈیٹ چوری کر کے یہ حکومت قائم ہوئی ۔ اور اس کے بعد مختلف سیاسی گروہوں نے جو حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کی ہے تو ان کے ساتھ جس طرح پیش آیا گیا وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاون لاہور کے اندر حکومت مخالف عوامی تحریک کے لوگوں کو جو اپنے جائز حقوق کے لئے نکلے تھےجس بے دردی کے ساتھ ان کو شہید کیا گیا اور پھر اس مکمل خاموشی اور پردہ پوشی کی گئ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے یہ حکومت دھاندلی زدہ ہے اور اپنے اس گھناونے جرم کو چھپانے کے لئے یہ اقدامات کر رہی ہے۔

 

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ  پاکستان کے اندر حامیان مظلومین اکھٹے ہیں جس کا مظہر مجلس وحدت مسلمین ، سنی اتحاد کونسل، عوامی تحریک اور مسلم ليك (ق) پاکستان کا الائنس ہے ۔ اور یہ سیاسی جماعتیں پاکستان کا نیچرل ڈیفنس ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کی بقا و سلامتی کی جنگ لڑی ہے چاہے وہ پاکستان کے اندر ہو یا باہر ہو۔ حالیہ سیاسی بحران سے عوامی شعور کی ایک لہر نکلی ہے جس نے پاکستان کے ہر ذی شعور شہری کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور لوگوں کو اس بات پر سوچنے پہ مجبور کردیا ہے کہ یہ حکومتیں عوام کو ان کے جائز حقوق دینے سے قاصر ہیں اور لوگ آج متوجہ ہیں کہ جب تک پارلیمنٹ کے اندر عوامی نمائندے نہیں آئیں گے تب تک یہ مسائل رہیں گے۔ اور ملت پاکستان اپنی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے جس کا منہ بولتا ثبوت انقلاب مارچ ، آزادی مارچ اور مختلف شہروں میں سیاسی جلسوں کے اندر لاکھوں لوگوں کا آنا اور جوش و ولولہ ہے۔انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں ہے جب اس پاک دھرتی پر اس دھرتی کے حقیقی بیٹے حکومت کریں گے اور عوامی مسائل کو حل کریں گے اور پاکستان دوبارہ سے اپنے تشخص کے ساتھ دنیا میں اپنا وقار قائم کرے گا۔ اور اپنی طاقت و اہمیت کے لحاظ سے دنیا کے اندر تبدیلی کا باعث ثابت ہو گا۔

Page 8 of 26

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree