The Latest

barmaمسلم ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سی کا میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام پر عالمی برداری کی خاموشی پر اظہار برہمی، میانمار میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کا فیصلہ۔
برما کی صورتحال پر او ائی سی کا ہنگامی اجلاس جدہ میں ہوا۔ اجلاس کے دوران برما جنرل یونین کے سربراہ ڈاکٹر وقار الدین دھاڑیں مار مار کر روتے رہے۔ ڈاکٹر وقار نے ارکان او ائی سے میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام روکنے کیلئے مدد کی اپیل کی۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر اکمل الدین احسان اوگلو نے کہا کہ میانمار میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کیلئے برما کی حکومت سے جلد رابطہ کیا جائیگا۔ انہوں نے بنگہ دیش کی حکومت سے میانمار کے پناہ گزینوں سے متعلق موقف تبدیل کرنے کی سفارش کی اور کہا کہ اس معاملے پر او ائی سی کی وزارتی کمیٹی بھی بنائے جائے گی۔
واضح رہے کہ برما کی متعصب حکومتی فورسز کی سرپرستی میں مسلمانوں کا نہ صرف قتل عام کیا گیا بلکہ عصمت دری اور بچوں کے قتل تک کے سینکڑوں واقعات ہوئے ہیں
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت متعدد عالمی تنظیموں نے ایک مجرمانہ خاموشی کے بعد زبان کھولی تو اب او آئی سی کو بھی مجبورا زبان کھولنی پڑی ہے

arifhusainآج 5 اگست کا دن ہے۔ آج اس شہید قائد کی شہادت کا دن ہے۔ اس شخص کی شہادت کا دن ہے جس نے اپنی قوم و ملت اور اپنے خدا کے ساتھ جو عہد کیا اسے نبھایا۔ اپنے راستے کے سچائی کی گواہی اپنے لہو سے دی۔ پاکستان کے تمام مومنین کو، پاکستان سے محبت کرنے والوں کو اور دنیا بھر میں اسلامی ممالک کی ان شخصیات کو جو شہید قائد کو تسلیم کرتی ہیں سے تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں۔ شہید کی شہادت پر امام خمینیؒ نے شہید کے چہلم پر پاکستانی قوم کے نام اپنا پیغام دیا تھا۔ اس پیغام میں شہید قائد کی عظمت اور ان کے مقام کو بیان کیا تھا کہ وہ امام حسین ؑ کے سچے بیٹے تھے۔ وہ فرزند صادق تھا، وہ واقعاً عارف حسین تھا۔ جنہوں نے محراب عبادت کو عروج اعلیٰ کی طرف سفر کیا۔ عروج ملوکیت کی طرف سفر کیا۔ امام خمینیؒ نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ پاکستان کی ملت شہید قائد کے تفکر کو زندہ رکھے۔ امام خمینیؒ جانتے تھے کہ شہید قائد کا تفکر، شہید کی فکر، شہید کا نظریہ، شہید کا ویژن اسلام کے لیے، مسلمانوں کے لیے، پاکستان کے لیے نجات دہندہ ہے، صراط مستقیم ہے لہٰذا شہید قائد کا ہم سے بچھڑنا اور ہماری قوم و ملت کا شہید قائد کی قیادت سے محروم ہونا یہ بہت بڑا المیہ تھا اور بہت بڑا نقصان تھا۔ جو شاید مدتوں بعد بھی اس خلاء کو پر نہیں کیا جا سکتا۔ شہید قائد پاکستان کو ایک مستقل پاکستان دیکھنا چاہتے تھے۔ ایک ایسا پاکستان کہ جس میں پاکستان میں بسنے والے تمام طبقات کے درمیان بہترین عادلانہ تعلقات اور روابط ہوں۔ جہاں پر بھائی چارہ، اخوت ہو۔ مسلمانوں اور پاکستان میں بسنے والی تمام اقوام کے درمیان بھائی چارے کی بہترین مثال قائم ہو۔ شہید قائد چاہتے تھے کہ ہمارا وطن مستقل ہو، آزاد ہو، اس کی خارجہ و داخلہ پالیسی آزاد ہو۔ شہید قائد چاہتے تھے کہ پاکستان کو عالمی قوتوں کے سایہ سے نکالا جائے اور اسے خودمختار بنایا جائے۔ شہید قائد امریکہ کو شیطان بزرگ سمجھتے تھے۔ شہید قائد پاکستان کے امریکہ کے ساتھ روابط و تعلقات کو پاکستان کے حق میں نقصان دہ سمجھتے تھے بلکہ اس کو پورے خطے کے لیے نقصان دہ قرار دیتے تھے۔ شہید قائد شیعہ سنی کے تفرقے کے مقابلے میں شیعہ سنی وحدت پر یقین رکھتے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام مسلمان مل کر رہیں۔ شہید قائد یہ کہتے تھے کہ ہمارا نظام حکومت اسلامی ہو، یہاں اللہ کا دین غالب ہو۔ شہید قائد یہ کہتے تھے کہ علاقائی، قومی، لسانیت ہمارے وطن عزیز کے لیے نقصان دہ چیزیں ہیں۔ ہمیں وطن دوستی کی ترویج کرنی چاہیے۔ شہید بہت بڑی طاقتور شخصیت تھی۔ اگر پاکستان میں شخصیات کی فہرست دیکھیں تو شہید قائد جیسی شخصیت آپ کو نہیں ملے گی۔ شہید قائد کی روحانیت، معنویت، اخلاق، پاکیزگی، بصیرت، شجاعت، ہمت، صبر یہ سب ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ایسی جامعیت کی مالک شخصیت پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ 

س: شہید علامہ عارف حسین الحسینیؒ امام خمینیؒ اور ولایت فقیہ پر کتنا اعتقاد رکھتے تھے؟ 
شہید قائد امام خمینیؒ کی مرجیعت اور ان کی رہبریت پر ایمان رکھتے تھے۔ مرجیعت علمی رہبری کو کہتے ہیں جبکہ لیڈرشپ ایک اجتماعی روابط کو کہتے ہیں۔ شہید قائد امام خمینیؒ کو اپنا مرجع بھی مانتے تھے اور اپنا رہبر بھی مانتے تھے۔ یعنی شہید قائد ولایت فقیہ پر بھی ایمان رکھتے تھے۔ شہید قائد کا اس بات پر یقین تھا کہ غیبت کبریٰ میں یہ امام زمانہ ؑ کی ولایت کا تسلسل ہے۔ پس شہید قائد اس بات کے قائل تھے کہ غیبت کبریٰ میں جو ہمیں صراط مستقیم کے ساتھ متصل رکھتا ہے وہ صرف اور صرف ولایت فقیہ ہے۔ جیسا کہ ان کا یہ مشہور قول کہ ’’میں حاضر ہوں کہ اپنا سب کچھ قربان کر دوں لیکن میں ولایت فقیہ کی حمایت سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ اس زمانے میں پاکستان میں بہت سے علمائے کرام تھے لیکن اس زمانے میں شاید علمائے کرام یا تو ولایت فقیہ کو سمجھتے نہیں تھے یا پھر ہم آہنگ نہیں تھے۔ شہید قائد پر عالمی قوتوں کا دباؤ تھا کہ وہ ولایت فقیہ کے راستے کو امام خمینیؒ کے راستے کو ترک کر دیں، اس کے علاوہ اپنے لوگوں میں سے بھی بعض کا یہی اصرار تھا۔ امام خمینیؒ کا ساتھ دینا یعنی امریکہ کے مدمقابل محاذ میں شامل ہونا ہے۔ پس شہید قائد نظام ولایت فقیہ کو بہترین نظام قرار دیتے تھے۔ جب شہید قائد کے بارے میں نعرے لگائے جاتے تھے تو آپ فرماتے تھے کہ میرے حق میں نعرہ نہ لگاؤ بلکہ امام خمینیؒ کے بارے میں نعرہ لگاؤ۔ جس نے ہمیں بصیرت دی، حیات دی، جس نے ہمیں بیداری دی۔ شہید قائد نجف میں امام خمینیؒ کے ساتھ تھے۔ پس شہید قائد امام خمینیؒ کے ہر لحاظ سے پیروکار تھے۔ شہید قائد امام خمینیؒ کی شجاعت، بصیرت، جذبہ کے وارث تھے۔ اسی لیے امام خمینیؒ نے شہید قائد کے بارے میں فرمایا تھا کہ میں اپنے ایک حقیقی فرزند سے محروم ہو گیا ہوں۔ 

س: کیا ہم نے شہید قائد کے افکار کو زندہ رکھا ہے؟ 
ج: امام خمینیؒ نے کہا تھا کہ شہید قائد اپنے تفکر کی وجہ سے شہید ہوئے ہیں اور شہید قائد کا تفکر یہ تھا کہ امریکہ شیطان بزرگ ہے اور اسرائیل کو عالم اسلام کا دشمن سمجھتے تھے۔ یہ شیطانی نظام تھا جو عالم اسلام پر مسلط تھا۔ شہید قائد کا نظریہ ولایت فقیہ پر بھی ایمان تھا۔ شہید کا خدا کے ساتھ رابطہ تھا۔ شہید قائد معنوی لحاظ سے بھی بہت بلند تھے۔ خدا پر توکل، خدا پر قوی ایمان یہ ایسی چیزیں ہیں کہ جو بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ دعا، طہارت، پاکیزگی نفس یہ ساری چیزیں شہید قائد کے اندر بہت زیادہ پائی جاتی تھیں۔ ان چیزوں کو نظرانداز کبھی نہیں کرنا چاہیے۔ پس ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ 25 سالوں میں جس طرح شہید کی یاد، شہید کا ذکر، شہید کی فکر کی ترویج ہونی چاہیے تھی اس طرح سے نہیں ہوئی۔ اس میں کوتاہی کی گئی ہے۔ 2008ء میں جب شہید قائد کی برسی منانا شروع ہوئی، یہ مجلس وحدت مسلمین کے دوستوں نے شروع کی، اس سے پہلے آپ دیکھ لیں کہ کتنا کم شہید کا نام زندہ رکھا گیا۔ صرف اور صرف تنظیمی حوالے سے آئی ایس او نے بہت کام کیا جو کہ سراہا جانے کے قابل ہے لیکن اس کے علاوہ آپ دیکھ لیں کہیں بھی شہید کے حوالے سے آپ کو کوئی کام نظر نہیں آئے گا۔ جس طرح امام خمینیؒ کی نصیحت تھی اور جس طرح ان کا حکم تھا اس طرح سے شہید قائد کی فکر کی ترویج کے لیے کام نہیں کیا گیا۔ جس شخص نے عارف حسین الحسینیؒ کو قتل کیا، وہ شخص کو نہیں مارنا چاہتا تھا بلکہ وہ شخصیت کو مارنا چاہتے تھے، اس کے افکار کو مارنا چاہتے تھے، اس کے راستے کو مارنا چاہتے تھے، اس کے نظریے کو مارنا چاہتے تھے۔ ہمیں چاہیے تھا کہ جس کے لیے شہید اپنا خون دے گیا، ان نظریات پر ہم کام کرتے اور ان کو پورے معاشرے میں پھیلاتے لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ گزشتہ تین چار سالوں میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے شہید کی برسی، شہید کے افکار پر کام کیا ہے۔ ہم مزید کوشش کریں گے کہ جتنا ہم سے ہو سکے گا انشاء اللہ ہم شہید قائد کی فکر کی ترویج کے لیے رات دن کام کریں گے تاکہ شہید قائد کی روح بھی ہم سے راضی ہو اور ہم بھی دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکیں۔ 

س: شہید قائد نے ایک روحانیات و معنویات کا ایک کلچر پورے ملک میں متعارف کرایا تھا، اب اس حوالے سے شہید کے معنوی فرزند جو کہ میدان میں اتر چکے ہیں،وہ اس حوالے سے کیا اقدامات کریں گے؟ 
ج: آپ نے درست کہا کہ شہید جہاں جاتے تھے شہید کے ساتھ دعا، مناجات، تہجد اور خدا سے رازو نیاز کرتے تھے۔ شہید کی وجہ سے جوانوں کے اندر بہت بڑی تبدیلی آئی۔ شہید قائد جہاں جاتے، دعائے کمیل پڑھتے تھے، دعا توسل، دعائے ندبہ، اس کے علاوہ رمضان میں خصوصی دعائے و مناجات کرتے تھے۔ شہید قائد شب زندہ دار تھے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے بنیادی کاموں میں سے ایک کام یہ ہے کہ شہید قائد کی روحانیت اور معنویت پر کام کرے۔ ہمارے دفاتر میں دعا، مناجات ہوں۔ اس کے علاوہ سب جگہوں پر دعا و مناجات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ بعض جگہوں پر ہفت وار اور بعض جگہوں پر ماہانہ دعاؤں کا پروگرام ہوتا ہے لیکن ہم مزید کوشش کر رہے ہیں کہ ان پروگرامات کو مزید بہتر سے بہتر بنایا جا سکے۔ بہرحال ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ روحانیت اور معنویت کے لحاظ سے شہید قائد جیسا ماحول بنا سکتے ہیں کیونکہ وہ شہید محراب اور شہید مدنی و شہید مطہری کے شاگرد تھے۔ شہید قائد نے امام خمینیؒ سے براہ راست تربیت پائی تھی۔ اس کے باوجود ہم بھی کوشش کریں گے کہ ان کے افکار و نظریات پر چل کر روحانیت اور معنویت لحاظ سے بھی اپنے کاموں کو بہتر انداز میں کر سکیں(شکریہ اسلام ٹائمز)

arifhusainشہید کے فرزند علامہ سید علی الحسینی سمیت مختلف علمائے کرام اور معززین علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی
علامہ عابد الحسینی ، علامہ علی صفدر شاہ، ڈاکٹر سید حسین جان،مولانا باقر زیدی، مسرت حسین اورمنیر حسین نے خطاب کیا

پارا چنار ( وحدت نیوز) ملک کے دیگر علاقوں کی طرح کرم ایجنسی کے صدر مقام پارا چنار میں بھی قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ عارف حسین حسینی شہید کی چوبیسویں برسی انتہائی عقیدت و احتران کے ساتھ منائی گئی برسی میں شہید کے فرزند علامہ سید علی الحسینی سمیت جید علمائے کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی ، برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید عابد حسین الحسینی ، علامہ سید علی الحسینی، علامہ صفدر علی شاہ ۔ ڈاکٹر سید حسین جان ۔مولانا باقر زیدی ، مسرت حسین ، مولانا منیر حسین اور دیگر مقررین نے شہید کی زندگی کے مختلف پہلوووں اور ان کے افکارو نظریات پر تفصیلی روشنی ڈالی عصر حاضر کا تقاضہ ہے کہ مسدلمان اپنی گرتی ہوئی ساکھ کی بحالی کے لیے متحد ہوجائیں ، انہوں نے کہا کہ ہم جس ہستی کی یاد منا رہے ہیں، اگر وہ آج اس دنیا میں ہوتی تو تو وطن عزیز میں فرقہ واریت کا نام و نشان تک نہ ہوتا ، علامی عار ھسین حسینی کی شخصیت اور اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کہ ان کی شہادت کی منصوبہ بندی خود جنرل ضیا الحق اور گورنر فضل حق نے امریکہ کے ایما پر کی ، استعمار نے بھانپ لیا تھا کہ اگرعارف حسین حسینی زندہ رہا تو اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے گا ، مقررین نے کہا کہ شہید حسینی نے اپنے مختصر دور میں اتھاد بین المسلمین کے لیے گرانقدر خدمات سر انجام دیں اور ان کی جدوجہد کے بہترین تنائج سامنے آ رہے ہیں ، شہید حسینی نہ صرف اپنی قوم بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کی آوازبن کر ابھرے اور ان کی کاوشوں کو عالم اسلام میں پذیرائی ملی ،مقررین نے کرم ایجنسی کی گذشتہ پانچ سال کی گھمبیر صورتحا ل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کہ ہم جرگہ کی کارکردگی سے قطعی مطمئن نہیں ، کرم ایجنسی کی انتظامیہ کا رویہ غیر جانب دارانہ نہیں جب تک انتظامیہ کے رویے میں تبدیلی نہیں آتی ، یہاں حقیقی امن کا قیام ممکن نہیں ۔

سیمینار میں حزب اللہ لبنان کے سیاسی امور کے انچارج ڈاکٹر احمد ملی القدس کمیٹی کے انچارج حیدر دقماق کی خصوصی شرکت 
مقررین نے فلسطینیوںکی ثابت قدمی، استقامت اور تحر یک آزادی فلسطین میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالی

کراچی ( وحدت نیوز) ١ یم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام بارگاہ سید فاطمہ زہرا میں اسلامی بیداری سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں حزب اللہ لبنان کے سیاسی امور کے انچارج ڈاکٹر احمد ملی القدس کمیٹی کے انچارج حیدر دقماق اورا لقدس ایسو سی یشن لبنان کے راہنما بو علی نے خصوصی شرکت کی ، فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے صدر صابر کربلائی اور آغا صادق رضا تقوی بھی ان کے ہمراہ تھے ، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ لبنان کے سیاسی امور کے انچارج ڈاکٹر احمد ملی نے تحر یک آزادی فلسطین میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور غزہ میں خواتین مردوں کے شانہ بہَ شانہَ رہی اور ہر قدم پر ان کا ساتھ دے رہی ہیں ہماری دلی آرزو ہے کہ پاکستانی خواتین بھی تحریک آزادی فلسطین میں اپنا کردار ادا کریں ا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو ہم سے کئی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا ،اسے 2006میں جو عبرتناک شکست ہوئی وہ اس کو کبھی نہیں بھولے گی،اسرائیل سمجھ رہا تھا کہ لببان خطے کے اعتبار سے چھوٹاہے اور یہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں لہٰذا وہ اپنی مکاریوں سے ان کے درمیان اختلاف پیدا کر کے انہیںاسرائیل سے صلح کرنے پر مجبور کردے گا یہ اس کے وہم و گمان بیں بھی نہیں تھا کہ لبنان اس کے لیئے اتنا بڑا خطرہ بن جائے گا انہوں نے کہا کہ ہم کو یہ قوت کربلا سے ملی اور ہم کو بیدار کرنے والے رہبر کبیرآیت اللہ خمینی ہیں جنھوں نے یہ پیغام دیا تھا کہ اگر کامیابی چاہتے ہوں تو کربلائی انداز میں سوچو اور عمل کرو، ڈاکٹر احمد ملی نے کہا کہ رہبر کبیر کی وجہ سے ہم کو شعور اور بیداری کا درس ملا اور آج یہ شعور اور بیداری لبنان سے نکل کر شام تک جا پہنچی ہے مگر اس بار جمہوریت اور آزادی کے نا م پر اسرائیل فتنة اٹھا رہا ہے ، انھوںنے کہا کہ ہم رحم کی اپیل نہیں کرتے ہمارا مقصد یہ ہے کہ عالم اسلام کو آگاہ کریں کہ سر زمین فلسطین سے ف فلسطینی مسلمانوں کو بے داخل کیا جارہا ہے ،پاکستان ،افغانستان،برما،بحرین میں جو کچھ ہورہا ہے ان سب کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ہم جانتے ہیں کہ پاکستان اور پاکستانی عوام نے اسرائیل کے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ سیمینار سے لبنان کی القدس کمیٹی کے انچارج حیدر دقماق نے بھی خطاب کیا انہوں نے اپنے مختصرخطاب میں اسرائیل کی بربریت اور فلسطینوں کی ثابت قدمی اور استقامت پر روشنی ڈالی، سیمینار کے دوران آغاصادق رضا تقوی نے مترجم کے فرائض سر انجام دیئے انجام دیئے جبکہ صابر کربلائی نے حزب اللہ لبنان کے وفد کا تعارف کرایا،ختمام پر مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کی صدرخواہر زہراہ نجفی نے فلسطین فانڈیشن پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ سمینار میںایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کے تمام یونٹس کے علاوہ امامیہ اسٹوڈنٹس شعبہ طالبات نے بھرپورشرکت ک

مجلس وحدت المسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کی جانب سے رضویہ لان میںبچیوں کے لیئے اجتماعی روزہ کشائی کا اہتمام کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں بچیوں سمیت خواتین نے بھرپور شرکت کی۔پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن سے کیاگیاجس کے بعدحمد،نعت،اور قصیدے پیش کیے گئے تقریب روزہ کشائی کی صدارت ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کی ڈپٹی سیکٹری جنرل خواہرحنا جعفری نے کی۔ تقریب کے دوران مجلس وحدت المسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کی جانب سے بچیوں کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور مبارکباد پیش کی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواہر سیما منظور نے اس تقریب کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی ، انہوں نے کہا کہ جشن عبادت نوجوانوں کو کمال تک پہنچنے کا راستہ بتایا جاتا ہے۔یہ محفل نہایت منفردہے انقلابی اسلامی کے بعد ایسے روحانی محفلوں کا انعقاد کا سلسلہ شروع ہوا تاکہ ان روحانی محفلوں کے زریعے نوجوانوں کی بہترین تربیت کی جاسکے اختتام پر خواہر زہرا نجفی نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے تقریب میں شریک تمام بچیوں کو مبارکباد پیش کی اور مجلس وحدت المسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژن کی کابینہ اور تمام یونٹس کا شکریہ ادا کیا

شفاف ، منصفانہ اوربروقت انتخابات کا انعقاد ہی سرزمین وطن پر جمہوریت کے استحکام اور بحرانوں سے نکلنے کی ضمانت ہےaliawsat
انتخابات جمہوری عمل کی اکائی ہیں انہیں رکوانے کی ہر سازش کا راستہ روکیں گے ، سیاسی اکابرین انتخابات کا راستہ ہموار کریں

کراچی ( وحدت نیوز) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری امور سیاسیات سید علی اوسط رضوی نے کہا ہے مجلس وحدت مسلمین سرزمین وطن پر اعلیٰ جمہوری روایات کے فروغ پر یقین رکھتی ہے اگر وطن عزیز میں جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کریں گے ۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا اس وقت ہمار ملک اندرونی و بیرونی سازشوں کی زد میں ہے ، ان سازشوں کا راستہ روکنے کے لیے جمہوریت کومضبوظ اور مستحکم کرنا ضروری ہے ، انہوں نے کہا کہ شفاف ، ،منصفانہ اور بر وقت انتخابات کا انعقاد ہی سرزمین وطن پر جمہوریت کے استحکام اور ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کی ضمانت ہے ، انتخابات ہی جمہوری عمل کی اکائی ہیں ، ہم انتخابی عمل کو رکوانے کی ہر سازش کا کا راستہ روکیں گے انہوں نے کہا کہ کہ تمام محب وطن سیاسی اکابرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے اپنی توانائیاں بروئے کا ر لائیں اور عام انتخابات کے انعقاد کے لیے راستہ ہموار

ہم غمزدوں کے عارف حسینی سلام ہو

شہید عارف رح کی بہترین خوبیاں اور انوکھی خصوصیاتarifhusain
تقوی کا مظھر
شہید حسینی رح تقوی کے مظھر تھے ۔ آپ انفرادی سطح سے لیکر اجتماعی ، علمی اور سیاسی حلقوں میں تقوی کے ہتھیار سے مسلح تھے ۔ آپ اس راہ تقوی میں اس قدر عروج پر پہنچ چکے تھے کہ دوسروں کیلئے نمونۂ عمل بن گئے تھے ۔ اس عزیز سید نے اپنی ساری بابرکت عمرسادگی سے ایک غریب اور معمولی گھر میں بہت ہی قلیل ضروری سازوسامان کے ساتھ گذاری ۔ وہ دوسروں کو بھی زہد و تقوی اپنانے کی نصیحت و تلقین کرتے تھے ۔
طولانی اور مسلسل سفروں کی تکلیفیں اور سختییاں آپ کے خضوع و خشوع میں دن بدن نکھار لاتی تھی ۔ اس طرح کہ بعض افراد کی نظر میں تو یہ سیاسی اور اجتماعی سرگرمیاں تقوی کے خلاف سمجھی جاتی ہے لیکن اس عظیم المرتبت شہید کے پاس یہی امور تقوی کا حقیقی میدان تھا ، نہ یہ کہ تقوی یعنی بغیر کسی حرکت و اقدام کے گھر میں ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھنا ، فقیری و غریبی اور ظلم و ستم کا صرف تماشا دیکھنا اور خود اپنی آنکھوں سے اسلامی اقدار کی پائمالی اور نابودی کا مشاہدہ کرنا ، یہ طرزتفکر، یہ گوشھ نشینی اوریہ خاموشی سب
ان کی نظر میں تقوی کے ضد اور مخالف ہے جبکہ دور سے بھی انکا تقوی سے کوئی رابطہ نہیں ہے بلکہ یہ تقوی کے طرز تفکر کے ساتھ صرف و صرف ایک طرح کا استحصال بھرتا جاتا ہے ۔ شہید حسینی رح نہ فقط خود متقی اور پرہیز گار تھے بلکہ دوسروں کو بھی زبان و عمل سے تقوی سکھاتے تھے ۔

راتوں کی بیداری
شہید حسینی رح راتوں کے لمحات عبادت میں گذارتے تھے اس طرح کہ راتیں خود دوسروں سے زیادہ اس کے نالہ و زاروں اور اس کے ذکروں ، فریادوں اور زمزموں سے آشنا ہے ۔ عرشوں کے مالک و معبود کی درگاہ میں اس کی گریہ گذاری دوسروں کے دلوں میں جوش و جذبہ پیدا کردیتی تھی ، اس دن تک کسی بھی سحرخیزافراد نے اس عظیم عابد کو نیند کی حالت میں نہیں دیکھا تھا ۔ پلیس اہلکاروں کا ظلم و ستم اور راتوں کی گہری تاریکی بھی اس کے نماز شب اور راتوں کی شب بیداری کے درمیان حائل نہیں بن سکی ۔

تواضع و فروتنی
عام اور معمولی انسانوں کے مقام و منصب اور نام و شھرت میں جس قدر اضافہ ہوتا جاتا ہے اتنے ہی وہ لوگ زیادہ ہی مغرور اور بے رحم و بے توجہ بن جاتے ہیں لیکن جو افراد خداوندمتعال کے حقیقی اور صالح بندے ہوتے ہیں وہ ہرگز کسی بھی خدمت و ذمہ داری کو اپنا کوئی مقام و منصب نہیں سمجھتے اور نہ ہی کسی بھی طرح کے دنیوی نام و شھرت کو اپنے افتخار اور سرفرازی کا باعث سمھتے ہیں ۔ شہید حسینی رح نرم مزاجی اور تواضع میں بے نظیر تھے ۔ وہ جس طرح کا احترام بزرگوں سے بھرتے تھے وہی عزت و احترام جوانوں اور بچوں سے بھی کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ وہ بچوں کو سلام کرنے میں بھی دوسروں سے سبقت لیتے تھے ۔ ان کی آخری عمر تک کوہی ہی ایسا شخص ہوگا جس کے ذھن میں شہید کی کوئی برائی اوربدی موجود ہوسکتی ہو ۔ اس عظیم شہید کی دوسروں کو اپنی طرف جذب کرنے کی خوبی کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان کے مخالفین بھی ان کے تواضع اور نرم مزاجی کی تعریف کرتے تھے ۔ دن بھر سینکڑوں افراد سے ملنا ، ان کی مشکلات اور مسائل حل کرنا نیز متعدد اور مختلف مسائلوں میں مشغول اور محو وغرق ہوجانا ، ان سب کے باوجود اپنے تواضع اور فروتنی کی پاسداری اور حفاظت کرنا اس عزیز شہید کا ہنر اور ان کی ایک بڑی خوبی تھی ۔

محروم اور ناتوان افراد کی مدد اور دستگیری
شہید حسینی رح اپنی ساری زندگی میں محروم ، کمزور اور ناتوان لوگوں کی خدمت میں مصروف رہتے تھے . گھر ہو یا گھر سے باہر ، ہر جگہ اور ہر وقت ان کو دنیا کے مظلوموں اور مصیبت زدہ لوگوں کی فکر لگی رہتی تھی ۔ ملک کے مختلف جگہوں اور گوشوں میں اپنے سارے سفروں اور ملاقاتوں کے دوران اسی طرح کے لوگوں کو اہمیت اور توجہ دیتے تھے ۔ وہ ان کے مسائل پوری توجہ سے سنتے تھے اور اپنے امکان اور طاقت کی حد تک انہیں حل کرتے تھے ۔ ملک میں محروم طبقہ کے تئییں شہید کی حمایت و نصرت کی وجہ سے لوگ اس کی طرف دوڑ دوڑ کرچلے آتے تھے اور وہ بھی لوگوں سے اتنی محبت رکھتے تھے کہ رات دن عوام کے آنے جانے اور ملنے کے باوجود کھبی بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتے ۔ اکثر اوقات فقراء اور محتاجوں کی مالی مدد کرتے تھے اور یہ حمایتیں اس طرح ہوتی تھی کہ کوئی بھی دوسرا آدمی ان سے باخبر نہیں ہوتا تھا ۔ افغانی مھاجروں کی بھی مختلف مالی مدد کرتے تھے ۔ اسی وجہ سے اس عظیم شہید کی شھادت کے غم عزاداری میں کثیر تعداد میں افغانی مھاجرین بھی موجود تھے ۔

اجتماعی ، مذہبی اور ثقافتی خدمات
الف ) کلینک کی تأسیس و تعمیر :
پاراچنار
پاراچنار میں شہر کے اطراف میں " علامدار شفاخانہ " نامی ایک کلینک شہید حسینی رح کی تلاش و کوشش سے بنایا گیا ۔ اس مطب میں مریضوں کے علاج و معالجہ کیلئے ضروری وسائل اور دیگر سھولتوں کے علاوہ ایڈمیٹ ہونے کیلئے تیس بیڈ بھی موجود ہیں ، ماہراور اسپیلشٹ ڈاکٹر جدید اور پیشرفتہ ابزار و آلات (Advanced & Modern Technology) سے مریضوں کا علاج کرتے ہیں ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس مطب میں غریب مریضوں کا علاج و معالجہ مفت کیا جاتا ہے نیز منشیات اورنشیلی چیزیں استعمال کرنے والوں کا بھی علاج ہوتا ہے اور علاج و نشہ ترک کرنے کیلئے بھی انہیں دوائیاں دی جاتی ہے ۔

کراچی
کراچی شہر میں بھی غریبوں اور بے روزگار لوگوں کے علاج کیلئے " العصر " نامی ایک کلینک شہید حسینی رح کے حکم سے تأسیس و تعمیر کیا گیا اور انہی کے مبارک ہاتھوں سے اس کا افتتاح بھی کیا گیا ، اور آج بھی یہ کلینک اس شہر کے محروم لوگوں کی خدمت میں لگا ہوا ہے ۔

ب ) مدارس کی تأسیس و تعمیر :
شہید حسینی رح نے مندرجہ ذیل مدرسوں کے تشکیل اور تعمیر کا کام انجام دیا :
۱۔ جامعۃ معارف اسلامیہ ، (اس کا نام اس عظیم شخصیت کی شہادت کے بعد ان کی خدمات اور سرگرمیوں کی قدردانی ، پاسداری اور حفاظت کے خاطر " شہید عارف حسین الحسینی رح " رکھا گیا ہے ! )
۲ ۔ جامعۃ اھل بیت (ع ) ،
۳ ۔ جامعۃ انوار المدارس ۔

ج ) مساجد کی تأسیس و تعمیر :
شہید حسینی رح نے مندرجہ ذیل علاقوں میں مسجدوں کی تشکیل اور تعمیر کیلئے بھی اقدام کیا :
۱ ۔ علاقۂ بنگش ،
۲ ۔ علاقۂ کچی ،
۳ ۔ علاقۂ سترسام ،
۴ ۔ علاقۂ شبلان ۔

د) امام باڑوں کی تأسیس و تعمیر :
نیزشہید حسینی رح نے مندرجہ ذیل علاقوں میں امام باڑوں کی تشکیل اور تعمیر کیلئے قدم اٹھایا :
۱ ۔ علاقۂ مومن آباد بنگش ،
۲ ۔ علاقۂ سترسام ۔

علامہ عارف حسینی رح کی شھادت و سعادت!!
علامہ عارف حسین حسینی رح ۱۳ مرداد ۱۳۶۷ (مساوی ۴ اگست ۱۹۸۸عیسوی) کی تاریخ کو شام کے وقت اپنے شھر پاراچنار سے پیشاور آئے ہوئے تھے اور پروگرام کے حسب مطابق یہ طے پایا تھا کہ کل یعنی ۱۴ مرداد ۱۳۶۷ (مساوی ۵ اگست ۱۹۸۸) کو لاہور شہر میں ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے روانہ ہونا ہے ، اور اس کانفرنس کے بعد ایک بڑے عوامی اجتماع میں تقریر بھی کرنی ہے جس میں ایک اہم اور ضروری مسئلے کا اعلان بھی کرنا ہے ۔ چودویں مرداد (۵ اگست ) کے صبح کے ستارے نے آسمان میں طلوع کیا تھا لیکن پاکستانی قوم اور تحریک ملت جعفری کی قیادت کا آفتاب شھادت کے خون سے بھرے افق میں ڈوب گیا ۔ شہید حسینی رح نے روزجمعہ کی نماز فجر ادا کی ، نماز ادا کرنے اور تعقیبات نماز پڑھنے کے بعد وضو خانہ کی طرف چلے گئے ، لیکن دوسری منزل کی آخری سیڑھی سے اترتے ہی نامعلوم قاتل یا قاتلوں نے آپ پر سیلینسڈ ہتھیار سے گولی چلائی ۔ گولی لگنے کے فوراً بعد آپ کے لسان مبارک سے " لاالھ الاّ اللہ " کی فریاد بلند ہوگئی اور پھر زمین پر گرگئے ۔ اس عظیم اور بے مثال رہبر کی شھادت کی خبر نے بہت جلد ہی پشاور شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، پیشاور ایک بڑے ماتم خانہ میں تبدیل ہوگیا اور شھر کی جگہ جگہ پر شہید کے غم عزاداری میں سیاہ پرچم بلند ہوگئے ۔

aministiایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک تازہ ترین بیان میں ایک بار پھر متحدہ عر ب امارت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ جمہوریت پسندوں کے خلاف سخت گیری چھوڑ دے ۔
یو اے ای میں کہا جاتا ہے کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران پنتیس سے زائد دانشوروں اور کالم نگاروں کو ملک میں جمہوریت کے لئے کوششوں کے الزام پر جیل میں ڈالا گیا ہے 
ابوظبی کے حکومت نے امن امان کے لئے خطرہ کے نام سے بہت سے ایسے افراد کو گذشتہ ماہ گرفتار کیا تھا جن میں زیادہ تر کا تعلق ان دانشوروں سے تھا جو عرب ممالک میں بادشاہی نظام پر تنقید کرتے ہیں اور جمہوریت اور عوامی رائے کے احترام پر تاکید کرتے ہیں 
جب سے عرب ممالک کی عوام میں ملکی نظم و نسق میں حق رائے دہی کا خیال مضبوط ہوتا جارہا ہے تب سے عرب بادشاہتوں کی نیند حرام ہوچکی ہے خاص طور پر کچھ عرب ملکوں میں عوامی بیداری اور حکومتوں کی تبدیلی کے بعد باشاہتوں کا خوف مزید بڑھ چکا ہے 

تجھ پر میرے وطن کے خمینی سلام ہو

arifپیکر تسلیم و رضا، منبع اخلاص، عارف الٰہی، مجسمہ عقیدہ و عمل، شجاع، غیور اور بابصیرت قائد علامہ عارف حسین الحسینی شہید کے متعلق بولنے سے زبان قاصر ہے اور لکھنے کے لیے قلم میں تاب نہیں، لیکن دل شہید کی یاد اور محبت سے مخمور ہیں۔ مجھ جیسے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو زندگی میں تو آپ کی زیارت سے شرف یاب نہیں ہوئے، لیکن ہر صاحب دل کی روح آپ کی ذات سے خاص تعلق کو ہر لمحہ محسوس کرتی ہے۔ یہ ہر شہید کی خصوصیت اور اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کردہ خاص منزلت ہے کہ جو اپنی ہستی کو خدا کی راہ میں قربان کر دے، وہ تا ابد زندہ و پائندہ رہتا ہے۔
فرزند حقیقی سید شہداء علامہ عارف حسین الحسینی شہید کے متعلق آپکے نہایت معتمد ساتھی اور جانثار دوست ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید نے آپ کا مقام و منزلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’عزیز دوستو ! ہر ایک کے لیے دین مبین اسلام کو سمجھنا آسان نہیں، ہم معیارات کے ذریعے اسلام کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔ جیسا کہ فقیہ عالیقدر شہید باقر الصدر نے امام خمینی (رہ) کے متعلق فرمایا کہ امام خمینی (رہ) کی ذات میں اس طرح ضم ہو جاؤ، جس طرح وہ اسلام مین ضم ہو چکے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح امام خمینی (رہ) اسلام میں ضم ہو چکے تھے، اسی طرح قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی امام خمینی (رہ) کی ذات میں ضم ہو چکے تھے۔
پس امام خمینی (رہ) کے بعد شہید عارف حسینی بھی ہمارے لیے ایک معیار ہیں کہ جن کو دیکھ کر ہم دین مبین اسلام کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں اور دین مبین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے شہید عارف حسین الحسینی کے آثار ہماری نسلوں کے لیے کافی ہیں، جس طرح شہید مطہری، شہید بہشتی اور دیگر شہداء بزم امام خمینی (رہ) کے چمکتے ہوئے ستارے ہیں، علامہ شہید عارف حسین الحسینی بھی انہی میں سے ایک ہیں۔‘‘
علامہ شہید عارف حسین الحسینی نے امام خمینی (رہ) کے پیغام کا علم اٹھایا اور تادم شہادت اسے سرنگوں نہیں ہونے دیا، آپ امام خمینی (رہ) کے سچے عاشق تھے اور عاشق و معشوق کا رشتہ کچھ ایسا رشتہ ہوتا ہے کہ زمان و مکان کی قید سے آزاد دونوں ہر لمحہ، ہر پل ایک دوسرے کو اپنے قریب بلکہ اپنے سامنے پاتے ہیں۔ اس لیے عاشقوں کے نزدیک تو سید روح اللہ خمینی اور شہید عارف حسین حسینی کبھی جدا نہیں رہے، البتہ ہر مادی آنکھ اس کو نہیں دیکھ سکتی، نہ ہر کس و ناکس کا دل اس کو محسوس کر سکتا ہے۔ اگر ہم شہید حسینی کے آثار کو اٹھا کر دیکھیں تو ایسی کوئی گفتگو یا تحریر نہیں ملتی، جس میں اہلبیت علیھم السلام کے ذکر کے ساتھ شہید نے اپنے روحانی پدر بزرگوار امام خمینی (رہ) کا ذکر نہ کیا ہو۔ آپ کا دل عشق خمینی (رہ) سے لبریز تھا اور آپ سرزمین پاکستان پر مجسم خمینی تھے، نہ ایک تولہ کم نہ زیادہ۔
سچ کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ہوتی ہے اور عاشق و محبوب کے درمیان جو تعلق ہوتا ہے اس کو فقط وہ دونوں ہی سمجھ سکتے ہیں، کیونکہ عشق ایک کیفیت کا نام ہے، جو اس میں سے گذر رہا ہو وہی سمجھ سکتا ہے کہ عشق کیا ہے۔ جس طرح سرزمین پاکستان پر شہید عارف حسین الحسینی ایک خمینی شناس تھے، ایسے ہی اگر دنیا میں کوئی حسینی شناس تھا تو فقط امام خمینی (رہ) تھے۔
شہید حسینی کیا تھے؟ اور آپ کا مقام کیا ہے؟ اس حقیقت کا اظہار تو فقط امام خمینی (رہ) کے اس نوحے میں ہوا، جو آپ نے شہید عارف حسین الحسینی کی شہادت پر لکھا۔ امام خمینی (رہ) نے شہید حسینی کو اپنا عزیز فرزند قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ فرزند حقیقی سیدالشہداء ہیں۔ شہید عارف حسین الحسینی کے متعلق ان خیالات کا اظہار کسی رکھ رکھاؤ کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ تو شہید مرتضٰی مطہری کے بعد بوڑھے باپ کا واحد سرمایہ لٹ جانے کے بعد ایک ٹوٹے ہوئے دل کی آواز تھی، ورنہ امام خمینی (رہ) فقط شہید حسینی کی شہادت کا ذکر کرتے، افسوس کا اظہار کرتے اور پاکستانی قوم کو ان کے غم میں برابر کا شریک قرار دیتے اور بس۔
ایسا ہرگز نہیں ہے، امام خمینی (رہ) کو شہید عارف حسین الحسینی کی شہادت سے کوئی ایسا دکھ پہنچا تھا جو فقط امام خمینی (رہ) ہی سمجھ سکے اور جس پاکستانی قوم آج تک سمجھنے سے قاصر ہے۔ کاش ہمارے دل دنیا سے آزاد ہو جاتے اور امام خمینی (رہ) کے درد کو سمجھ پاتے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسی لیے تو امام راحل (رہ) نے درد بھرے دل کے ساتھ شکوہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مدارس اپنا اپنا کردار ادا کرتے تو آج ہمیں شہید حسینی کی شہادت کا صدمہ برداشت نہ کرنا پڑتا۔
اے شہید مظلوم، ہماری روحیں آپ پر فداء ہوں۔ آپ کی عظمت اور شان کو سمجھنا ہمارے بس میں نہیں۔ ہاں اے شہید بزرگوار! آپ کی شہادت کے موقع پر امام خمینی (رہ) جیسے کوہ گراں کے آنسو یہ پتہ دیتے ہیں کہ آپ کو فقط خمینی (رہ) نے سمجھا، پاکستان کی فضاوں اور مٹی میں شائد اس کی تاب ہی نہیں تھی، آپ امام خمینی (رہ) کا درد تھے اور خمینی (رہ) کے درد کا درماں۔ آپ کو سمجھنے اور آپکی حقیقت تک رسائی کے لیے کم از کم امام خمینی (رہ) جیسی شخصیت اور دل درد شناس کا ہونا ضروری ہے۔ ورنہ کربلائے پاکستان میں نہ آپ مظلومانہ طور پر شہید ہوتے، نہ آپ کی شہادت پر امام خمینی (رہ) دکھی دل کے ساتھ اہلبیت نبوت (ع) کے گھرانے کی عظیم مصیبت کا پاکستانی قوم کے ساتھ یوں شکوہ کرتے۔
اے شہید کربلا کے حقیقی فرزند! آپ کی شہادت پر ہماری آنکھیں آپ کے سامنے، امام راحل (رہ) کے سامنے اور سیدالشہداء (ع) کے سامنے شرم سے جھکی ہوئی ہیں۔ ہم آپ ہی سے توسل کرتے ہیں اور آپ کے مقدس خون کو اپنی گردنوں پر قرض سمجھتے ہیں۔ آپ کی شان بلند ہے، ہماری کوئی بساط نہیں، بس آپ کی نسبت ہے اور آپ کی محبت جو ہمارے دلوں کا سرمایہ اور ہماری روحوں کی پاکیزگی کا سامان ہے۔ اے فرزند علی (ع) و زہرا (س) یہ درست ہے کہ ہمارے قلب و جاں کا ظرف کوتاہ ہے، لیکن آپ کی شان اعلٰی و ارفا ہے، آپ کریم ابن کریم ہیں، آپ نے ملت پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا، یہ آپ کی کرامت اور مقدس خون کا معجزہ ہے کہ آج بھی ملت مظلوم پاکستان سر اٹھا کے داخلی و خارجی ملک دشمن طاقتوں کو آپ ہی کے لہجے میں للکار رہی ہے۔ انشاءاللہ آپ کی مقدس روح مظلومین پاکستان پر شاہد اور انکی مددگار ہے۔
سلام ہو آپ پر اے شہید کہ جسے فقط خمینی (رہ) یا خمینی (رہ) کے خمیر والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔
بقلم سردار تنویر حیدر بلوچ

shahidمومن کبھی بھی شکست نہیں کھاتااس کی لغت میں ناکامی کا لفظ نہیں ہے وہ ہمیشہ کامیاب ہے لہٰذا جو بھی مشکل آجائے اگر میدان میں ہے تو کہتا ہے الٰہی
تیری رضا میری رضا ہے۔
شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی
جس کا ارتباط خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے وہ امریکہ کو ایک چوہے کی مانند سمجھتا ہے جیسے ایک چوہا اپنے سوراخ سے نکل کر آپ کو دھمکی دے تو کیا آپ اس چوہے کی پرواہ کریں گے؟ نہیں !! اس لئے کے آپ چوہے کو کچھ بھی نہیں سمجھتے لہٰذا وہ لوگ جن کا رابطہ خدا سے ہوتا ہے وہ امریکہ جیسی طاغوتی طاقتوں کو چوہا بھی نہیں سمجھتے۔
شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree