The Latest

conventionایم ڈبلیو ایم کا کل جماعتی دو روزہ کنونشن دارالحکومت میں اس وقت جاری ہے جو کل شام گئے تک جاری رہے گا کنونشن میں ملک بھر سے نمایندے موجود ہیں
کنونشن کی پہلی نشست صبح دس بجے تلاوت کلام پاک اور نعت و قصیدے کے ساتھ شروع ہوئی جس کے بعد شرکاء کو اجلاس کے قواعد و ضوابط سے آگاہ کیا گیا
ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم علامہ امین شہیدی شرکاء اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک بھر سے آئے ہوئے نمایندوں کو خوش آمدید کہا اور ملکی وبین الاقوامی مسائل نیز امت مسلمہ کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہمارا ازلی دشمن ہمیں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں الجھاکر اپنے لئے میدان خالی کرانا چاہتا ہے
اس وقت ہمارا پہلا کام اپنی جماعت کے سٹریکچر کو مضبوط کرنا ہے
شعبہ تنظیم سازی کو فعال تر بنانا اس وقت اہم ضرورت ہے ،شعبہ جاتی مسؤلین کی بہتر کارکردگی کے لئے تربیتی پروگرامز تشکیل دینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ میڈیا اور شعبہ جوان ہمارے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں لہذا ن دو شعبوں پر بھی خاص توجہ کی ضرور ت ہے
انہوں نے کہا دستور کا مکمل مطالعہ رکھنا تمام افراد کے لئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ ہماری تمام تر کارکردگی اور درست سمت میں سفر دستور پر پابندی اور اس کے نفاذ سے ہی ممکن ہے
ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے خطاب کے بعد اس وقت ماڈل اضلاع اپنی کارکردہ گی رپورٹ پیش کر رہے ہیں

کنونشن ہال کی کچھ جھلکیاں (۱)

mwmlogo0012ایم ڈبلیوایم کی جانب سے دو روزہ کل جماعتی کنونشن ہال شرکاء سے کچھاکچھ بھرا ہوا ہے ہلال کی شکل میں کرسیاں لگائی گئیں ہیں جس کے باکل فرنٹ پر سٹیج بنایا ہوا ہے
کنونشن ہال کی جانب جب آپ روانہ ہونا چاہیں تو آپ کو سیکوریٹی بیریر سے گذرنے کے فورا بعد استقبالیہ کیمپ کا سامنا کرنا پڑے گا جہاں ایم ڈبلیوایم کے جوان آپ کے استقبال کے لئے تیار نظر آینگے استقبالیہ کیمپ کے ساتھ ہیں آپ کو مختلف صوبوں اور اضلاع کے ایسے بینرز بھی ملے گے جس میں مختلف اہم پیغامات کے ساتھ ساتھ اہم فعالیات بھی تحریر ہیں مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہیں آپ کو پھر شعبہ جوان کے بااخلاق جوان ہاتھوں ہاتھ لینگے جو کنونشن ہال میں آپ کی نشست تک آپ کی رہنمائی کرینگے
کنونشن ہال کے بیگ سائیڈ پر ایم ڈبلیوایم میڈیا سیل کی ٹیم کنونشن کی کوریج ڈسک لگی ہوئی ہے جبکہ شعبہ جوان کے افراد بھی کوریج کرتے نظر آینگے
کنونشن کے انتظامی امور کے لئے مرکزی آفس کی ایک ٹیم آپ کو ہر جگہ پیش پیش نظر آئے گی کنونشن ہال میں اس وقت نعروں کی گونج سنائی دی جب مرکزی سیکرٹری جنرل تشریف لائے شرکاء اجلاس نے مرکزی سیکرٹری جنرل کا پرتپاک استقبال کیا جبکہ مختلف اضلاع کی میڈیا ٹیم کے رضاکار اورشرکا اجلاس کی ایک بڑی تعداد تصویر اور فوٹیج کے لئے سٹیج کی جانب بڑھے ۔
کنونشن کا پہلا سیشن اختتام پذیر ہوا ،پہلے سیشن میں شرکاء کی دلچسپی اس قدر زیادہ تھی کہ یوں لگ رہا تھا کہ گویا وہ دنیا و مافیھا سے کٹ چکے ہیں اور ان کی توجہ صرف کنونشن ہال میں مرکوز ہے
اجلاس کا دوسرا سیشن نماز ظہرین کے بعد ٹھیک دو بجے شروع ہوگا اس سیشن میں بھی ماڈل اضلاع اور صوبائی رپورٹس پیش کی جاینگی جبکہ نشست کے آخر میں اخلاقی لیکچر ہوگا
اجلاس دو دن جاری رہے گا جس میں ملک بھر مجلس وحدت مسلمین کی جماعتی کارکردگی سمیت متعدد اہم موضوعات پر گفتگو شنید اور تنقید ی جائزہ لیا جائے گا نیز اس اجلاس میں مختلف قسم کے دیگر پروگرام بھی ہونگے

ameen.protest campڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم علامہ محمد امین شہیدی نے اسلام آباد میں ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کی جانب سے دہشت گردی اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف نکالی جانے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جب احتجاج کرتے ہیں تو ہمیں دھمکیاں دی جاتیں ہیں تمہیں ماردیا جائے گا اہل تشیع کی مظلومیت کا یہ عالم ہے کہ اب تک کے ہزاروں شہیدوں میں سے کسی ایک کے بھی قاتل نہیں کو سزا نہیں ملی جو پکڑاجاتا ہے اسے عدلیہ چھڑالیتی ہے ، یا پھر اسے کوئی ریاستی ادارہ چھوڑوالیتا ہے
ہم جب اپنے مقتول افراد کے قاتلوں کی تلاش کرتے ہیں تو ہمیں خون کے چھینٹے ریاستی اداروں میں نظر آتے ہیں ،ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم محب وطن ہیں ،ہماراجرم یہ ہے کہ ہم امت مسلمہ کے درمیان وحدت چاہتے ہیں ،ہم پرامن لوگ ہیں ،ہم نے لشکر کشیاں نہیں کیں ،ہم نے لشکر نہیں بنائے ،ہم کہتے ہیں امریکہ مردہ باد ،ہم اسرائیل کے وجود کو نہیں مانتے ،ہم بیرونی دشمنوں کے آلہ کار نہیں بنتے ۔۔۔بس ہمارا جرم یہی ہے ،اس لئے ہمارا قتل عام کیا جارہا ہے
احتجاجی کیمپ کے سامنے خواتین کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ظلم پر خاموش نہیں رہے گے اور نہ ہی کسی سازش کا شکار ہونگے دہشت گرد چاہتے ہیں کہ ہمیں دیوار سے لگا کر قائد اعظم کے پاکستان پر اپنا راج رچالیں تو یہ ان کی بھول ہے ،انہوں نے کہا یہاں کوئی فرقہ واریت نہیں ہے یہ قاتل شیعہ اور سنی دونوں کاقتل کر رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی ادارے ہماری دادرسی نہ کریں اور ہماری مظلومیت پر اسی طرح خاموش رہیں تو پھر ہمیں مجبورا عالمی اداروں کے پاس بھی جانا پڑے گا ہم مجبورا اقوام متحدہ سے بھی رجوع کرینگے
(علامہ امین شہیدی صاحب کے خطاب کا متن اور ووڈیو عنقریب لود کی جائے گی)

woman protest shiakllingایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کی جانب سے اسلام آباد کوئٹہ اور کراچی میںشیعہ ٹارگٹ کلنگ اور بے گناہ افراد کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں علامہ امین شہیدی،علامہ اصغر عسکری،علامہ اعجاز بہشتی،علامہ فخر علوی سمیت سندھ سے آئے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے عہدہ دار بھی شریک تھے 
ایم ڈبلیو ایم اسلام آباد / راولپنڈی (شعبہ خواتین)کی سیکرٹری جنرل سیدہ رباب زیدی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن قوتیں بد امنی اور انتشار کے ذریعے عوام کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل کر پاکستان کی بنیادیں کمزور کرنا چاہتی ہیں، انہوں نے کہا کہ حالات ایسا رخ اختیار کر گئے ہیں کہ خواتین اور بچوں کو بھی گھروں سے باہر نکلنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں میدان میں حاضر رہ کر صبر واستقلال کی طاقت سے ان سازشوں کو ناکام بنا نا ہو گا، صبر وا ستقلال ایسی طاقت ہے جس سے تمام اقسام کے بحرانوں کا رخ موڑا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کستان کی سرزمین پر ہم اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والے ہیں، ہم بھی امتحانات سے گزر رہے ہیں۔ اگر ہم نے ان امتحانات پر غلبہ پا لیا تو ہم کامیاب ہو جائیں گے۔ جب بھی انسان کسی مشکل پر غلبہ پاتا ہے تو وہ طاقتور ہو جاتا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین راولپنڈی / اسلام آباد (شعبہ خواتین)  شکریال یونٹ کی سیکرٹری جنرل ثمینہ بتول نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم ہونا جرم نہیں مظلوم بن کر رہنا جرم ہے، اس وقت پورا پاکستان لہو لہو ہے ، کوئٹہ ، کراچی اور گلگت بلتستان سمیت کوئی  علاقہ نہیں جہا ں شیعیان علی  کو تحفظ حاصل ہو ، ہر روز لاشوں پر لاشیں گر رہی ہیں ، حکومت اور حکومتی ادارے خاموش ہیں اور ظالموں کے ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں۔ امامیہ آرگنائزیشن کی مرکزی رہنماء تاثیر فاطمہ نے کہا ہمیں اپنے معاشرے کے اندر بیداری پیدا کرنی ہے تاکہ عوام ظلم کے خلاف اٹھیں اور معاشرے کے تمام طبقات کو اس میدان میں لے آئیں اور انہیں شعور دیں۔ ریلی کے شرکاء سے شعبہ خواتین کی دیگر عہدیداران نے بھی خطاب کیا۔ ریلی نیشنل پریس کلب کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جنہوں نے ہاتھوں میں بینرز، پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ جن پر دہشت گردی مردہ باد، امریکہ مردہ باد، نااہل حکومت مردہ باد کے نعرے درج تھے۔

ایم ڈبلیو ایم کراچی۔

شہر کراچی میں خواتین کی احتجاجی ریلی کا آغاز نمائش چورنگی سے ہو کر کراچی پریس کلب پر اختتام ہوا احتجاجی ریلی کے شرکاء نے  تکفیری دہشت گردوں کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور ملک بھر میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف شدید غم و غصہ کا اظہار کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ کراچی میں نکالی جانے والی احتجاجی ریلی میں ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونے والے شیعہ عمائیدن کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی ،جبکہ گذشتہ دنوں کوئٹہ میں شہید ہونے والے سیشن جج شہید ذوالفقار نقوی کی والدہ بھی ریلی میں شریک تھیں اور انہوں نے امریکہ مردہ باد اور اسرائیل نا منظور سمیت دہشت گردوں کے خلاف شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔
کراچی میں منعقدہ احتجاجی ریلی میں شریک ایک کمسن بچے نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر درج تھا کہ صدر پاکستان،چیف جسٹس اور چیف آف آرمی اسٹاف آخر کب آپ دہشت گردوں کو جنہوں نے ہمارے والد کو قتل کیا ہے ،گرفتار کریں گے؟
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی کی سیکرٹری جنرل خانم زہرا نجفی نے کہا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری،چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری اور چیف آف آرمی اسٹاف اشفاق پرویز کیانی دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے موثر کردار ادا کریں اور ملک میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ایکشن لیں۔
ان کاکہنا تھا کہ ریاستی اداروں کو اب پاکستان یا دہشت گردوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف دہشت گرد شیعہ عمائدین کا قتل عام کر رہے ہیں اور دوسری طرف پولیس اور رینجرز انتظامیہ شیعہ نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی سازشوں میں مصروف عمل ہے۔
خانم نجفی کاکہنا تھا کہ دہشت گرد گروہ ملت جعفریہ کا قتل عام کر کے اپنے غیر ملکی آقائوں امریکہ اور اسرائیل کی خوشنودی میں مصروف عمل ہیں جبکہ پولیس اور رینجرز جیسے اداروں میں بھی ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جن کے تانے بانے دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر سے ملتے ہیں انہوں شدید غصے سے کہا کہ شیعہ نوجوانوں کو من گھڑت کیسوں میں ملوث کرنا شہدائے ملت جعفریہ کی توہین ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
احتجاجی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شہید جج ذوالفقار نقوی کی والدہ کاکہنا تھا کہ ان کے بیٹے کی شہادت پر چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس آف بلوچستان سمیت کسی سرکاری افسر نے تعزیت نہیں کی اور نہ حکومت نے شہید کی میت کو کوئٹہ سے کراچی لانے میں کسی قسم کا تعاون کیا۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان خواتین ونگ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ شیعہ نسل کشی پر از خود نوٹس لیتے ہوئے شیعہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشت گردوں کو سخت سے سخت سزا دیں ۔

کوئٹہ:
مجلس وحدت مسلمین بلوچستان شعبہ خواتین کے زیر اہتمام کوئٹہ گلگت اور ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ نچاری امام بارگاہ سے بہشت زینب (ع) ہزارہ قبرستان تک سینکڑوں خواتین نے دہشت گردی اور شیعہ نسل کشی کے خلاف فلک شگاف نعرے لگاۓ۔ اس موقعہ پر مزار شہداء پر منعقدہ مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کی صوبائی آفس سیکریٹری خواہر نرجس بتول نے کہا کہ ہم پیروان زینب (ع) کربلائے عصر میں شہداء کا پیغام عام کرتے ہوئے ظالم یزیدیوں کو رسوا کریں گی۔ احتجاجی اجتماع سے ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کی سیکریٹری محترمہ کوثر جعفری اور سیکریٹری امور جوانان سیدہ وجیہہ نے خطاب کیا۔

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے ۔۔شائمہ سجاد ڈان

shyema شیعہ ہلاکتوں پر پورا ملک حیران اور پریشان ہے لیکن مجھے اس سے زیادہ حیرانگی ہمارے سیاستدانوں کی خاموشی پر ہے۔

چھوٹے چھوٹے مسائل پر تفصیلی گفتگو کے لیے جہاں سارے حکمراں تیار رہتے ہیں وہیں اس گمبھیر مسئلے پر سب خاموش ہیں۔

اگرچہ، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ان ہلاکتوں کے خلاف آواز آٹھائی لیکن باقی سیاست دان خاموش تماشائی بنے رہے۔

بالاخر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اس سلسلے پر اپنی آواز اٹھا لی ہےاور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ عمران خان بڑے خواب دکھاتے رہتے ہیں اور ان کی پالیسی کی کوئی درست سمت نہیں دکھائی دیتی۔

بہرحال اس بات کا تو انہیں داد دینی چاہیے کہ انہوں نے معاملے کی سنگینی کو سمجھا اور اس پرکارروائی کی اپیل کی۔

ان کی اس اپیل کے کیا اثرات ہوں گے یہ بعد میں دیکھا جائے گا لیکن فی الحال یہ ایک قابل تحسین شروعات ہے کہ کسی سیاستدان نے بھی شیعہ ہلاکتوں پر آواز اٹھائی۔

یہ حملے کسی مشہور شخصیت یا حکمران کے خلاف نہیں بلکہ ان میں عام آدمی نشانہ بن رہے ہیں – شیعہ عام آدمی، جس کے نصیب میں تحفظ نہیں ہے اور نہ ہی جس کی جان پی پی پی کی حکومت کو قیمتی لگتی ہے۔ ہماری حکومت کے لیے تو ووٹ لے کر پیسے بنانے کا دھندہ ہی اصل کام ہے۔

اسکردو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران نے ان ہلاکتوں کو بدترین سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی خاموشی انتہائی افسوس ناک ہے اور اگر وہ عوام کو تحفظ دینے میں ناکام  ہو گئی ہے تو اسے گھر چلے جانا چاہیے۔

لیکن اب تک ہمیں یہ احساس تو ہو گیا ہے کہ یہ حکومت بڑی ڈھیٹ ہے۔

شیعہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی دکھانا خان کی طرف سے ایک بہت اہم قدم تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ خان کو یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ‘امریکہ کی جنگ’ قرار دینے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔

یہ قتل و غارت بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ہو رہی ہے جہاں ہمارے سیکورٹی اداروں کا مکمل کنٹرول ہے۔

اس جنگ کو امریکہ کی جنگ کہنے کے بجائے اب فوری کارروائی ہی جانیں بچا سکتی ہے۔

انصاف کے لیے اس آواز میں مزید شدت اسی وقت آ سکتی ہے اگر باقی حکمران عمران خان کا ساتھ دیں اور اہل تشیع کے خلاف ظلم کو روکنے کیلیے آواز اٹھائیں۔

تو کیا ہوا اگر دوسرے معاملات پر یہ سیاسی جماعتیں اتفاق نہیں کرتیں، عام آدمی کی حفاظت پر اتفاق کرنا تو ان کا فرض ہے۔

عدلیہ کا اب یہ کام ہے کہ وہ ان ہلاکتوں پر فوری توجہ دے اور چیف جسٹس اس ظلم کے خلاف اپنا پسندیدہ قسم کا نوٹس لیں۔

جہاں حکمران ناکام رہے، وہیں عدلیہ کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اس ملک میں سب کو ان کا حق دلوائے۔

شائمہ سجاد ڈان شکریہ ڈان نیوز

mlo۸مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام صوبائی دفتر میں یوم دفاع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی رہنما سید اسد عباس نقوی نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان کو آج جن مشکلات کا سامنا ہے ان کے تدارک کے لئے حکمرانوں اور ریاستی اداروں نے کبھی سنجیدگی سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر 1965ء کو جس بہادری سے اس قوم نے دشمن کے دانت کھٹے کئے تھے کیا آج ہمارے ادارے چند مٹھی بھر دہشت گردوں کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آئے دن کوئٹہ اور گوادر کے ساحل سے لے کر سیاچن کے برف پوش پہاڑوں تک محب وطن طبقات کا قتل عام کیا جا رہا ہے، یہ پاکستان کے فطری دفاع پر ہونیوالی دہشت گردی پر حکمرانوں اور ریاستی اداروں کی خاموشی وطن دشمنی نہیں تو اور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ قتل عام پر ریاستی اداروں کی خاموشی سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے سکیورٹی ادارے اور حکومتیں بھی ان دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہی ہیں۔

سید اسد عباس نقوی نے کہا کہ ملک کے طول و عرض میں شیعان حیدر کرار کو نشانہ بنانا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے مضبوط اثاثہ یہی قوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ہمیشہ ملکی اثاثوں اور وطن دوستوں کو نشانہ بناتے ہیں، ہم آج کے دن کی مناسبت سے یہ عہد کرتے ہیں کہ دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا کر دفاع وطن کے لئے اپنی جانیں تک قربان کر دیں گے اور اس مملکت خداداد پاکستان کو دنیا میں ناقابل تسخیر بنا کر دم لیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قیام پاکستان سے استحکام پاکستان تک ملت تشیع نے ہی قربانی دی ہے، آئندہ بھی پاکستان کی بقا کے لئے ہم ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن عناصر نے قیام پاکستان کے وقت اس کی ملک کی مخالفت کی تھی آج وہی گروہ اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کے آلہ کار کے طور پر پاکستان میں بدامنی پھیلا کر پاکستان کی سالمیت کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ سید اسد نقوی نے کہا کہ پاکستان کو اگر بنا سکتے ہیں تو اس کو بچانے کا ہنر بھی ہمیں آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا ہے اور یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے، ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ اپنے خون سے کیا ہے اور خون کبھی شکست نہیں کھاتا آج پوری دنیا میں ہماری مظلومیت اور دشمنان پاکستان و اسلام کے ظلم پر آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ انہوں نے یوم دفاع پاکستان کے موقع پر کہا کہ حکومت پاکستان میں ملت تشیع کو تحفظ فراہم کرئے، عدلیہ دہشت گردوں کو رہا کرنے کی بجائے کیفر کردار تک پہنچائے تاکہ باقی دہشت گرد عبرت پکڑیں۔

انہوں نے کہا کہ لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحق کو جیل میں پروٹوکول دینے کی بجائے اس کے کیس کا انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ٹرائل کیا جائے اور اسے فوری طور پر ہزاروں شیعان پاکستان کے قتل کے جرم میں پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جائے۔ تقریب میں علامہ محمد اقبال کامرانی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ضلع لاہور ، رائے ناصر، رانا ماجد رضا، عمران شیخ، سید حسین زیدی، آغا علی نقی، آصف حسین گوہر عباس اور دیگر کارکنان نے شرکت کی۔

hrw.shiakllingانسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان بڑھتی ہوئی شیعہ کشی پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے تین سو بیس افراد کو ہلاک کیا گیا۔
تنظیم کے مطابق صرف بلوچستان میں ہزارہ آبادی کے ایک سو افراد کو قتل کیا گیا۔
تنظیم کے ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمس نے نیویارک سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے اہل تشیع کے قتل میں ملوث عناصر کو گرفتار کرنے میں ناکامی دراصل اس کا اس مسئلے پر کوئی خاص توجہ نہ دینا ہے۔
بیان کے مطابق گزشتہ سال کے دوران بلوچستان، کراچی، گلگت بلتستان اور ملک کے قبائلی علاقوں میں شیعہ آبادی کو نشانہ بنا کر کئی حملے کیے گئے۔
تنظیم کے مطابق اس سال تشدد کے کم از کم چار ایسے بڑے واقعات ہوئے جن میں شیعہ ہزارہ فرقے سے تعلق رکھنے والے اکتیس افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ فرقہ وارانہ تشدد کے یہ واقعات کوئٹہ اور بابو سر میں پیش آئے۔ بابو سر واقعے کی ذمہ داری پاکستانی تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔
بیان میں عسکریت پسند گروپوں کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی ملک میں بغیر کسی روک ٹوک کے آپریٹ کر رہی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شیعہ فرقے کے خلاف ہونے والے تشدد کی طرف سے جیسے آنکھیں بند کر رکھیں ہیں۔
تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ انتہا پسند تنظیموں کے پاکستان کی فوج، خفیہ اداروں اور فرنٹئیر کور سے تعلقات کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اگست میں لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کی گرفتاری اس ضمن میں اہم پیش رفت ہے۔
ملک اسحاق کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد کے چوالیس مقدمات قا ئم ہیں جن میں ستر افراد کا قتل شامل ہے۔ڈائریکٹر بریڈ ایڈمس کا کہنا ہے کہ ملک اسحاق کی گرفتاری پاکستان کے قانونی نظام کے لیے ایک اہم امتحان کی حثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا ’فرقہ وارانہ تشدد کا خاتمہ ان جرائم کے ذمہ داروں کے قانون کے دائرہ کار میں لاکر سزا دیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ‘
بریڈ ایڈمس کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت پاکستان شیعہ فرقے کے قتل عام پر خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کر سکتی۔
تنظیم نے پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومتوں پر شیعہ فرقے کے خلاف حملوں اور دوسرے جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے دائرہ کار میں لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت شیعہ آبادی والے علاقوں خاص طور پر کوئٹہ میں ہزارہ آبادی کے علاقوں میں سکیورٹی کو بڑھائے۔ اس کے علاوہ حکومت عسکریت پسند تنظیموں کے فوجی، نیم فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ روابط کے الزامات کی بھی تحقیقات کرائے۔
بریڈ ایڈمس کے مطابق پاکستان کے سیاسی رہنما، قانون نافذ کرنے والے ادارے، عدلیہ اور فوج کو اس مسئلے کو اتنا ہی سنجیدگی سے لینا ہوگا جیسے وہ ریاست کو لاحق دوسرے سیکیورٹی خطرات کو لیتی ہے۔

ہیومن رئٹس واچ کی رپورٹ کو آپ مندرجہ ذیل لینک میں دیکھ سکتے ہیںhttp://www.hrw.org/news/2012/09/05/pakistan-shia-killings-escalate

fatiha.protets camp

ایم ڈبلیو ایم اسلام آباد کی جانب سے نیشنل پریس کلب کے سامنے لگائی گئی کیمپ میں آج اسلام آباد میں مقیم بلتستان گلگت کیمیونٹی کی جانب سے ملک بھر میں ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونے والے افراد نیز چھ ستمبر کے شہداء کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی
اس فاتحہ خوانی میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوؤں علامہ سید حسنین گردیزی ،علامہ اعجاز بہشتی اور مدرسہ رضا سے علامہ سید ثمر عباس نقوی نے بھی شرکت کی
کیمپ انتظامیہ کے مطابق آج رات شب جمعہ کو کیمپ میں دعائے کمیل کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جس میں پنڈی اسلام آباد سے شہریوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوگی

raja.khatab.campعلامہ راجہ ناصر عباس جعفری سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا احتجاجی کیمپ میں شرکاسے خطاب
04 ستمبر 2012ء
قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے کہ ہم تمہیں آزماینگے خطرات سے دوچار کرینگے۔۔۔۔اولاد کا خطرہ، مالی خطرہ، ایمان کا خطرہ۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے رسول ؐ! ان کو بشارت دے دو جو صابر ہیں، جو مشکلات میں گھبراتے نہیں، ہمت نہیں ہارتے، حوصلہ نہیں ہارتے بلکہ کھڑے رہتے ہیں اور ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ ان پر اللہ کی طرف سے درود بھی ہے اور رحمت بھی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو ہدایت یافتہ ہیں۔ آپ اگر تاریخ کا مطالعہ کریں کہ جتنے لوگ خدا سے زیادہ قریب تھے اتنے ہی ان کے امتحانات بھی سخت ہوئے ہیں اور ان پر مشکلات بھی زیادہ آئی ہیں۔ انبیاء و اہل بیت علیہم السلام کو دیکھیں، اولیاء کرام کو دیکھیں، تاریخ کی بزرگ ہستیوں کو دیکھیں کہ ان کی مشکلات بہت ہی زیادہ تھیں۔ جتنا کوئی پاکیزہ رہتا تھا، جتنا کوئی باتقویٰ تھا، اتنا ہی اس کا سخت امتحان لیا گیا۔ پاکستان کی سرزمین پر ہم اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والے ہیں، ہم بھی امتحانات سے گزر رہے ہیں۔ اگر ہم نے ان امتحانات پر غلبہ پا لیا تو ہم کامیاب ہو جائیں گے۔ جب بھی انسان کسی مشکل پر غلبہ پاتا ہے تو وہ طاقتور ہو جاتا ہے۔ غلبہ پانے کےلئے صبر چاہیے۔ ان سختیوں، مشکلات، خطرات اور ان بحرانوں کی مینجمنٹ صبر کے ذریعے ہوتی ہے۔ صبر ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے انسان بحرانوں کا رخ موڑ دیتا ہے۔ قرآن مجید میں متعدد جگہ پر ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم صابر ہو تو غلبہ پا لو گے۔ اگر تمہارے مقابلے دو سو افراد آجائیں تو صبر کرنے والا انسان ان دو سو افراد کے اوپر غلبہ پا لیتا ہے۔ یعنی صبر ایک طاقت ہے، صبر غلبے کی کنجی اور چابی ہے۔ اس کے ذریعے انسان مشکلات کا رخ موڑتا ہے۔
دوستو! اگر ہم نے ان مشکلات پر غلبہ پانا ہے تو ہمیں صبر کی طاقت کو سمجھنا ہو گا۔ ہمیں مشکلات کی نوعیت کو سمجھنا ہو گا، مثلاً یہ مشکلات کیسی ہیں، ان کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور ان کے پیچھے کسی کے کیا اہداف و مقاصد ہیں۔
دنیا کے ممالک کو ہم چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک سپر پاور، ایک ورلڈ پاور، ایک ریجنل پاور اور ایک کمزور ممالک۔ ایک زمانے میں رشیاء اور امریکہ دو سپر طاقتیں تھیں۔ آدھی دنیا رشیاء کے ساتھ تھی اور آدھی دنیا امریکہ کے ساتھ تھی اور ان دونوں طاقتوں کا آپس میں مفادات کا ٹکڑاؤ تھا۔ امریکہ نے کوششیں کیں، پوری دنیا کو ساتھ ملایا، مسلمانوں کی فکری و نظریاتی طاقت کو اپنے ساتھ ملایا۔ جذبہ جہاد کو ساتھ لیا اور بالآخر امریکہ نے روس کو سپر پاور کی حیثیت سے ختم کر دیا اور خود تنہا سپر پاور رہ گیا۔ روس ورلڈ پاور بن گیا، عالمی طاقت بن گیا اور وہ سپر پاور نہیں رہا۔

اب ورلڈ پاور میں چائنہ بھی ہے، رشیاء بھی ہے۔ ریجنل پاور کے اندر ایران ہے۔ ریجنل پاور کے بعض ممالک امریکہ کے بھی حامی ہیں، یورپ و دیگر علاقوں میں امریکہ کے ایسے حامی موجود ہیں جو ریجنل پاور شمار ہوتے ہیں۔ بعض جگہ پر ایسے ممالک جو ریجنل پاور میں ہیں وہ ورلڈ پاور کے بھی حامی ہیں۔ اب امریکہ کی کوشش ہے کہ ورلڈ پاور ممالک سپر پاور نہ بن سکیں کیونکہ امریکہ چاہتا ہے کہ پوری دنیا کو اپنے کنٹرول میں رکھے، اس لیے امریکہ چاہتا ہے کہ ورلڈ پاور ریجنل پاور میں تبدیل ہو جائیں اور ریجنل پاور کمزور ہو کر نچلی سطح پر پہنچ جائے اور بالآخر ہو کمزور ممالک میں ڈھل جائیں تاکہ پوری دنیا امریکہ کے قبضے میں رہے، اس سارے معاملات کے لیے امریکہ دیگر ممالک اور اپنے مدمقابل ممالک کے اندر بحران کھڑے کرتا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ انرجی کے ذخائر اس کے قبضے میں ہوں، انرجی امریکہ کے لیے اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس کی سیکورٹی کے لیے بہت اہم ہے۔ امریکہ کی سیکورٹی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اگر انرجی کے ذخائر امریکہ کے دشمنوں کے ہاتھ لگ جائیں تو امریکہ کی سا لمیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ رشیاء امریکہ کے لیے ایک خطرہ ہے۔

پس امریکہ یہ چاہتا ہے کہ یہ تمام ممالک بشمول جہان اسلام کمزور سے کمزور تر ہو جائیں۔ اسلام کے نظریات کو اسلام کے ہی خلاف استعمال کرنا بھی امریکہ کی اسٹرٹیجی ہے۔ تاکہ امریکہ کی سپرپاور کی حیثیت برقرار رہے۔ مسلمانوں کے اندر تفرقہ پھیلا کر، مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر اور انہیں اندر سے کھوکھلا کرنا امریکہ کے لیے بہت ہی مفید ہے۔ مختلف ممالک کے آپس میں مسائل کھڑے رہیں، یہ بھی امریکہ کے فائدے میں ہے۔ پاکستان کی دنیا میں بڑی حیثیت ہے۔ ایک طرف چائنہ ہے جو کہ ورلڈ پاور ہے اور سپر پاور بننے جا رہا ہے جبکہ پاکستان کی دوسری طرف ایران ہے جو ریجنل پاور بن چکا ہے، ایک طرف بھارت ہے، ایک طرف افغانستان ہے جو کہ رشیاء کا گیٹ وے ہے۔ امریکہ چائنہ کو سپر پاور نہ بننے کے لیے اس کے مقابلے میں بھارت کو سامنے لا رہا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کمزور ہو۔ اسی طرح شام کے اندر امریکہ نے جنگ مسلط کی ہوئی ہے تاکہ جہان اسلام کمزور ہو، شام خود کمزور ہو۔
پس یہ بین الاقوامی منصوبہ ہے جو امریکہ نے تیار کیا ہوا ہے اور اس پر مسلسل عمل پیرا ہے۔ پس پاکستان کے اندر شیعہ سنی لڑائی پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے ہے۔ پاکستان کی بیس کروڑ عوام جو کہ ایٹمی طاقت بھی ہے، یہ خطے کا سپرپاور بن سکتا ہے اگر طاقتور ہو اور چائنہ کے ساتھ کھڑا ہو۔ چائنہ سے گوادر تک بہت ہی زبردست راستہ بن سکتا ہے۔ جس میں چائنہ کا بھی فائدہ ہے اور پاکستان کا بھی فائدہ ہے۔ امریکہ کا یہ ہدف ہے کہ گلگت بلتستان سے لے کر کوئٹہ تک پاکستان کو کمزور کرنا ہے اور اس ممالک کے ہر خطے میں حالات خراب کرنے کے بہانے تلاش کرتا ہے۔ اس سارے منصوبے کے عمل پیرا ہونے میں لوکل فورسز بھی شامل ہیں اور ریجنل فورسز بھی شامل ہیں اور انٹرنیشنل فورسز بھی ہیں۔
ریجنل فورسز اور کرایے کے قاتل وہ ہیں جو تکفیری ہیں، جو اپنے علاوہ دوسروں کو کافر سمجھتے ہیں۔ ان طاقتوں کو سیاسی، مذہبی طور پر اتنی مدد کی گئی تاکہ یہ مسلمانوں میں اختلافات پھیلا کر امریکہ کے اہداف و مقاصد کو حاصل کر سکیں۔ مساجد، امام بارگاہوں کو اسی لیے نشانہ بنایا گیا۔

مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سارے تکفیریوں کا تعلق ایک خاص مسلک سے ہے اور اس مسلک کا ہیڈ آفس بھارت میں ہے۔ بین الاقوامی ایجنسیاں سی آئی اے، راء یہ سب انہیں تعلق رکھنے والے تکفیریوں کو استعمال کرتی ہیں، یہ عوام پر بھی حملے کرتے ہیں، یہ اہل تشیع کو بھی مارتے ہیں اور اہل سنت کو بھی مارتے ہیں، پورے ملک کو ناامن کرنے کے لیے یہ علاقائی اور بین الاقوامی قوتوں کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور یہ وطن دشمن ہیں۔ ہمارے ریاستی اداروں نے ان کے لشکر بنائے، خیبرپختونخواہ پورا ہی ان دشمنوں کو دے دیا، بلوچستان کو بھی ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور اوپر سے ان کو سیاسی طاقت بھی دے دی۔ اگر ہمارا دشمن چاہتا ہے کہ ہمیں قادیانیوں کی طرح کر دیں تو ہم انہیں قادیانیوں کی طرح کر دیں گے۔ اگر ہم انہیں ان کے مقاصد حاصل نہ ہونے دیں تو وہ ہماری فتح اور ان کی شکست ہے اور یہ کام خاموشی سے نہیں ہو گا بلکہ میدان میں حاضر رہنے سے ہو گا۔ ہمیں اپنے معاشرے کے اندر بیداری پیدا کرنی ہے تاکہ عوام ظلم کے خلاف اٹھیں۔ ہم اپنی مظلومیت کو طاقت میں بدلیں۔ معاشرے کے تمام طبقات کو اس میدان میں لے آئیں اور انہیں شعور دیں۔ سکولوں،کالجوں، یونیورسٹیوں، اساتذہ، ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء حتیٰ کہ معاشرے کے ہر فرد کے پاس جائیں اور انہیں آگاہ کریں کہ ملک کے اندر کیا ہو رہا ہے تاکہ ہم اپنی مظلومیت کے ذریعے طاقت ور ہو سکیں، اکٹھیں ہو سکیں۔ ہمارا اس احتجاجی کیمپ میں صرف بیٹھنا کافی نہیں ہے بلکہ یہاں بیٹھ کر لوگوں کو بیدار کرنا ہے۔ ہمیں اپنی مظلومیت کو طاقت میں بدلنا چاہیے۔ یہ ایک لمبی جنگ ہے جس میں ہم نے قدم رکھا ہے، جو بھی تھک جائے گا وہ ہار جائے گا لہٰذا یہاں بیٹھنا عبادت ہے، آنا بھی عبادت ہے، رہنا عبادت ہے، اس کے لیے کام کرنا بھی عبادت ہے، یہ واجب کفائی ہے۔ مظلوموں کی حمایت کرنا اور ظالموں سے نفرت کا اظہار کرنا یہ عالی ترین عبادت ہے، انسانی، اخلاقی، دینی، ایمانی فرائض میں سے ہے لہٰذا ہمیں لوگوں کو دعوت دینی چاہیے، رابطے بڑھانے چاہیں تاکہ یہاں لوگ آئیں اور ہماری آواز کو سن کر دوسروں تک پہنچائیں۔ تکفیری فورسز جو وطن دشمن ہیں اور ایک دوسرے کو کافر کہتی ہیں، یہ امریکہ اور بھارت کے ایجنٹ ہیں، یہ اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔
آپ دیکھیں گے کہ امریکہ نے پورے جہان اسلام میں مسائل کھڑے کر کے مسلمانوں کے اپنے خلاف نبردآزما کیا ہوا ہے۔ آئندہ دنیا کو ایشاء نے لیڈ کرنا ہے۔ اب تو یورپ کا زوال شروع ہے۔ ایشیاء ہر لحاظ سے یورپ سے آگے ہے، یہاں پر انرجی کے ذخائر دیکھیں و دیگر اشیاء سب سے زیادہ یہاں پر پائی جاتی ہیں۔ یہاں پر سب سے زیادہ شیعہ کی آبادی ہے۔ یہاں بہت بڑی منڈی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اہل سنت برادران کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھائیں اور اپنے سیاسی روابط بڑھائیں، سماجی روابط بڑھائیں، وحدت اور جو بھی ہم کر سکتے ہیں، اس کو انجام دیں۔ دشمن جو اپنے اہداف رکھتا ہے اس میں اسے کامیاب نہ ہونے دیں۔ سال 2006ء میں حزب اللہ کی اسرائیل جنگ کے اندر حزب اللہ کے بہت سے لوگ شہید ہوئے ہیں۔ عراق ایران جنگ کے اندر شکست صدام کو ہوئی ہے، پس امریکہ جو مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا وہ مقصد اسے حاصل نہیں ہوا۔ ہم اگر دشمن کے اہداف و مقاصد کو عملی نہ ہونے دیں، بے شک شہادت ہمارا ورثہ ہے۔ اس شہادت سے بھی دشمن ہی مانوس ہو گا، دشمن کہے گا کہ تیس سال جو میں چاہتا تھا وہ نہیں کر سکا۔ ہمیں دشمن کو سماجی طور پر، سیاسی طور پر، دینی طور پر ہر لحاظ سے شکست دے کر الگ تھلگ کر دینا چاہیے اور انشاء اللہ کریں گے بھی۔ پس ہمیں بیداری کے ساتھ اور بابصیرت ہو کر مشکلات کو سمجھنا چاہیے، مشکلات کو درک کرنا چاہیے اور ان کا مقابلہ بھی کرنا چاہیے۔ امید ہے کہ خداوندمتعال ہمیں بصیرت دے گا اور صبر بھی دے گا، پائیداری و استقامت دے گا۔ اے خدایا ہمیں ثابت قدم رکھ، ہمیں صبر عطا فرما تاکہ ہم اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں۔ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاۃ
*****

hzafar120

شیعہ نسل کشی کے خلاف اب انتہائی اقدام کریں گے، اسلامک ریسرچ سینٹر ٹرسٹ کے چیئرمین مختار اعظمی اور ان کے بیٹے محمد باقر کی شہادت سیکوریٹی ایجنسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی نے اسلامک ریسرچ سینٹر ٹرسٹ کے چیئرمین مختار اعظمی اور ان کے بیٹے محمد باقر کی امریکی پے رول پر پلنے والے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کے خلاف وحدت ہاؤس کراچی سے جاری ہونے والے بیان میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں منظم منصوبہ بندی کے تحت بانیان پاکستان کی اولادوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اور ہمارے سیکوریٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کی سرپرستی کررہے ہیں۔

علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ ایک وقت تھا کہ ملک بھر میں شیعہ آبادیوں پر حملے کئے جاتے تھے لیکن اس وقت بھی ارباب اقتدار سمیت ہمارے سیکوریٹی ادارے خاموش تماشائی تھے، آج یہ وقت آگیا ہے کہ دہشت گردوں کے نشانے سے فوجی جوان بھی محفوظ نہیں ہیں، سمجھ نہیں آتا کہ سیکوریٹی ادارے سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی ان کی سرپرستی سے باز کیوں نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ مختار اعظمی اور ان کے بیٹے محمد باقر کی شہادت ملت جعفریہ کا ایک بڑا نقصان ہے اور حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، اب وقت آگیا ہے کہ ملت جعفریہ شیعہ نسل کشی کے خلاف انتہائی اقدام کرے گی۔

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ ایک معمولی تھپڑ پر سوموٹو ایکشن لینے والے چیف جسٹس کو ملک بھر میں شیعہ قتل عام نہیں آتا، چیف جسٹس کہتے ہیں کہ میری کچھ مجبوریاں ہیں اس لئے شیعہ قتل عام پر ازخود نوٹس نہیں لے سکتا،یہ کیسا انصاف کا علمبردار ہے کہ جو مظلوموں کی حمایت میں آواز بلند کرنے سے ڈرتا ہے، ایسے شخص کو قاضی القضاء کے عہدے پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مختار اعظمی اور ان کے بیٹے محمد باقر کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور ان کی سرپرستی کرنے والے عناصر کو بے نقاب کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ جمعہ کو شیعہ نسل کشی کے خلاف امام بارگاہ علی رضا ( ع ) سے پریس کلب تک خواتین کی احتجاجی ریلی منعقد کی جائے گی جس میں پیروان زینب ( ع ) اپنی بھرپور شرکت سے فرقہ وارانہ فسادات کی سازش رچانے والوں کے چہروں کو بے نقاب کریں گی۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree