سندھ کے تمام اضلاع سے کالعدم جماعتوں کے پرچم اور وال چاکنگ کا خاتمہ نہ ہوا تودو با رہ مزاحمتی تحریک شروع کر دی جا ئے گی، علامہ مقصودڈومکی

05 مارچ 2015

وحدت نیوز (سکھر) شہداء کمیٹی شکارپور نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وعدے کے مطابق کا لعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کو تیز کریں اور سندھ کے تمام اضلاع میں مو جود جھنڈے اترواکر وال چاکنگ ختم کرائی جا ئے ورنہ دو با رہ مزاحمتی تحریک شروع کر دی جا ئے گی، ان خیالات کا اظہار سکھر کی امام با رگاہ غریب آباد میں شہداء کمیٹی کے چیئرمین مو لا نا مقصود ڈو مکی نے دیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کا نفرنس کے دوران کیا، انہوں نے حب میں ڈاکٹر قاسم شاہ کی شہادت پر افسوس کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ سندھ اور بلو چستان کی حکو متیں سرحدوں پر سیکیو رٹی کے انتظا ما ت سخت کریں، علما ئے کرام اور دیگر اہم شخصیات کوتحفظ فراہم کیا جا ئے اور ہم نے جو مطالبات پیش کیے تھے ان پر فوری عملدرآمد کیا جا ئے ، انہوں نے کہا کہ 6ما رچ کو سانحہ شکارپور کے شہداء کا چہلم منا یا جا ئے گا جس میں ملک بھر سے علما ئے کرام اور سیا سی و سما جی رہنما شر کت کریں گے ، ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے مدارس سے اسلحہ بر آمد کر نے کا جو دعوی ٰ کیا تھا وہ قوم کے سامنے لا یا جا ئے اور ان مدارس کے خلاف کارروائی کی جا ئے ، مو لا نا مقصود ڈو مکی نے پریس کانفرنس کے دوران شکا رپورپو لیس کی جا نب سے دہشت گردوں کے خلاف کا رروائی میں پیش رفت کو بھی سرا ہا۔

 

دریں اثنا رانی پور کی مدنی مسجد میں کارکنان و صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے شکار پور شہداء کمیٹی کے چیئرمین علامہ مقصود حسین ڈومکی نے کہا کہ جن مدرسوں میں قرآن اور دین کی تعلیم دی جاتی ہے وہ مدارس احترام کے لائق ہیں اور جن مدارس میں دھماکوں اور انسانیت کے قتل کی تربیت دی جاتی ہے وہ مدارس نہیں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں، سندھ میں ایک دو نہیں بلکہ بڑی تعداد میں غیر رجسٹرڈ مدارس موجود ہیں، شکارپور سانحے کے بعد سندھ حکومت کو فوری طور پر اندرون سندھ آپریشن کرنے کی ضرورت تھی لیکن سندھ حکومت اندھی اور گونگی ہوچکی ہے ،اس کو عوام کی جان و مال کی فکر نہیں ،سندھ حکومت میں بیٹھے نمائندگان صرف اپنے گھر بھرنے کیلئے اقتدار میں آئے ہیں، کراچی میں وزیر اعلیٰ ہائوس پر دھرنا دینے کا مقصدر صرف یہ تھا کہ سندھ حکومت اپنا قبلہ درست کرے اور شہدا کے ورثا کے ساتھ انصاف کیا جائے لیکن حکومت کے دعوے دعوے ہی رہے ۔ اندرون سندھ پاک فوج کے آپریشن کی سخت ضرورت ہے ،رینجرز اور پولیس سے بات بڑھ چکی ہے ، ہم کسی ایک فرد یا جماعت کی بات نہیں کرتے جو مجرم ہے اس کیخلاف کارروائی کی جائے ، سانحہ شکار پور کے ملزمان گرفتار تو ہوچکے ہیں لیکن ان کو سیاست دانوں کی سرپرستی حاصل ہے، کوئی بھی سانحہ ہو ،سب کے ملزمان کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلنے چاہئیں ۔کراچی آپریشن جاری رہنے کے بعد بھی کراچی میں ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، حکومت چاہے وفاقی ہو یا صوبائی اس کی رٹ اسکے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔



اپنی رائے دیں



مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree