The Latest

ہر آنکھ اشک بار تھی !!

وحدت نیوز (آرٹیکل) وحد ت اسکاؤٹس کے مرکزی اسکاؤٹس کیمپ کی آخری رات کو ہونے والے اسکاؤٹ کیمپ فائر کی یاد گار داستان ۔
وحدت اسکاؤٹس پاکستان جو کہ وحدت یوتھ پاکستان کا ذیلی شعبہ ہے اور پاکستان بھر میں انسانیت کی بے لوث خدمت کرنے میں مصروف عمل ہے، 23مارچ یوم پاکستان کی مناسبت سے وحدت اسکاؤٹس کی جانب سے مرکزی اسکاؤ ٹ کیمپوری بعنوان ’’پیام امن ‘‘ کا انعقاد چنیوٹ میں رجوعہ سادات کے مقام پر کیا ، اس کیمپوری میں ملک کے گوش وکنار بشمول سندھ، پنجاب، بلوچستان،خیبر پختونخواہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے وحدت اسکاؤٹس جوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

 

وحدت اسکاؤٹس کے مرکزی اسکاؤٹ کیمپ ’’پیام امن‘‘ میں نوجوانوں کی ذہنی ، جسمانی و روحانی نشو نما اور بہترین تربیت کے لئے منعقد کئے جانے والے پروگراموں میں نوجوانوں میں روزانہ صبح سویرے ورزش کرنے ، ابتدائی طبی امداد ، فائر فائٹنگ (ہنگامی صورتحال میں آگ بجھانے کی تربیت)، میسنجر آف پیس ، مہارت تیر اندازی ، باکسنگ، ہائیکنگ، خیمہ باشی،سیکورٹی کے بارے میں آگاہی ، بغیر برتن کے کھانا پکانے کی مہارت، پاکستان کے اندر پائی جانے والی مختلف ثقافتوں کے بارے میں ثقافتی فیسٹیول کا اہتمام جبکہ ماحول کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے شجر کاری اور مملکت پاکستان کے شہداء سمیت شہدائے ملت جعفریہ پاکستان کے ساتھ تجدید عہد وفا کرتے ہوئے شب شہداء کا اہتمام اور دینی علوم کی مناسبت سے عقائد ، احکام، ولایت فقیہ، درس قرآن، کربلائی نوجوان، غیبت ممنوع ہے، خلقت انسان میں ہدایت و رہبری، مدیریت جیسے اہم موضوعات پر دروس کا اہتمام بھی کیا گیا، نوجوانوں کی روحانی نشو نما کے لئے نماز با جماعت ، دعائیہ اجتماعات جس میں دعائے کمیل، دعائے عہد، دعائے توسل، دعائے ندبہ سمیت مناجات کے خصوصی پروگرام منعقد کئے گئے، وحدت اسکاؤٹس کے مرکزی اسکاؤٹس کیمپ کو جہاں ’’پیام امن ‘‘ کا عنوان دیا گیا تھا وہاں وحدت اسکاؤٹس نے اس مرکزی کیمپ کو ’’غیبت ممنوع ‘‘ کا شعار دیا اور اسی شعار کے تحت سال بھر اسکاؤٹس اپنے پروگراموں کو ترتیب دیں گے۔

 

واضح رہے کہ 23مارچ یوم پاکستان کی مناسبت سے وحدت اسکاؤٹس کے خصوصی دستوں نے یوم پاکستان پر مختلف انداز میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کا عملی نمونہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پرچم کشائی کا مظاہرہ بھی کیا اور شہر میں فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔

 

دنیائے اسکاؤٹنگ ایک منفرد اور انوکھی دنیا کا نام ہے، جو لوگ اسکاؤٹنگ سے واقفیت رکھتے ہیں یقیناًوہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کسی بھی اسکاؤٹ کیمپ کی جان اس اسکاؤٹ کیمپ کے اختتام سے ایک رات قبل اسکاؤٹس کیمپ فائر کے عنوان سے ایک پروگرام کرتے ہیں اسکاؤٹس کے اس خاص پروگرام میں اسکاؤٹ کیمپ میں گزار ے گئے تمام دنوں کا احوال اور اس کا خلاصہ کچھ مزاحیہ لطیفوں، خبروں ، مزاحیہ و درس آمیز خاکوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، اس رات کو تمام اسکاؤٹس اپنی اپنی مہارتوں کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں اور یہ اسکاؤٹس کا ایک خاص پروگرام ہوتا ہے جسے اسکاؤٹس خاص طریقے سے ہی مناتے ہیں۔

 

وحدت اسکاؤٹس کے پانچ روزہ مرکزی اسکاؤٹ کیمپ ’’پیام امن ‘‘ کے اختتا م پر بھی وحدت اسکاؤٹس نے کیمپ فائر کا انعقاد کیا اور اس رات کو بھرپور انداز سے منایا ، کیونکہ اس موقع پر پاکستان بھر سے آئے ہوئے اسکاؤٹس نے مختلف موضوعات پر مزاحیہ و درس آمیز خاکے بھی پیش کئے، جبکہ اپنے سینئرز کی پیروڈی بھی بنائی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ مزاحیہ خبروں اور لطیفوں سے اسکاؤ ٹس کو لطف اندوز کیا جاتا رہا، لیکن اس کیمپ فائر کی سب سے عمدہ اور انوکھی بات یہ رہی کہ اچانک کیمپ فائر کے چار سو سے زائد شرکاء کہ جن میں مہمان خصوصی پنجاب بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری طارق قریشی سمیت تما م افراد کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں، آخر ایسا کیا ہوا تھا؟

 

جی ہاں ! یہ واقعاً ایسے لمحات تھے کہ درد دل رکھنے والے تمام افراد کی آنکھیں تر ہو چکی تھیں، اسٹیج پر گلگت اور بلتستان نے تعلق رکھنے والے ننھے معصوم بچے اپنا خاکہ پیش کر رہے تھے اور اس خاکے کا عنوان رکھا گیا تھا ’’سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور‘‘۔مجھے یقین ہے کہ یہ پڑھنے کے بعد یقیناًآپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جائیں گے۔

 

خاکے کے آغاز میں ایک معصوم بچہ اپنی والدہ کو صبح اسکول جانے سے پہلے گذشتہ رات کو دیکھا ہوا اپنا ایک خواب کچھ اس طرح سناتا ہے کہ ’’پیاری امی جان ! امی جان بڑی محبت سے اپنے لخت جگر کو سلام کا جواب دیتے ہوئے پیار کرتی ہیں اور کہتی ہیں جی میری جان!تب یہ معصوم بچہ گویا ہوتا ہے ک امی جان میں نے کل رات ایک خواب دیکھا ہے کہ میں اپنے اسکول کے تمام دوستوں کے ساتھ ایک دریا کے کنارے کھیل رہا ہوں اور اچانک دریا میں طغیانی شروع ہوتی ہے اور ہم سب بچے دریا میں پھنس گئے ہیں اور اس دریا میں بہنے والے پانی کا رنگ سرخ ہے ، میں آپ کو آواز دیتا ہوں لیکن آپ میری آواز نہیں سن پا رہی ہوتی، آخر اس خواب کی تعبیر کیا ہو گی؟ ماں اپنے بیٹے کو ماتھے پر پیار کرتے ہوئے کہتی ہے پیارے بیٹا اسکول جاؤ آپ کو دیر ہو رہی ہے۔

 

تمام بچے اسکول پہنچ چکے ہیں، کلاس میں بیٹھے استاد کا انتظار کرتے ہیں، استاد کلاس روم میں تشریف لاتے ہیں، بچے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں استاد صاحب کو سلام کرتے ہیں، استاد انہیں بیٹھنے کوکہتے ہیں ان سے حال احوال دریافت کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ کل ہم نے علم کے موضوع پر گفتگو کی تھی کیاکوئی بچہ کل کی کلاس کا خلاصہ کر سکتا ہے، ایک طالب علم کھڑا ہو کر بتانا شروع کرتا ہے، ہم نے کل پیغمبر اکرم (ص) کی ایک حدیث کہ جس میں فرمایا گیا ہے، ’’علم نور ہے‘‘پر گفتگو کی تھی، ابھی علم کے حصول کے بارے میں یہ بچہ گفتگو کر رہا ہے کہ اچانک پاکستان اور اسلام کے دشمن طالبان ظالمان دہشت گرد کمرہ کلاس میں بھاری اسلحہ کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور استاد سمیت تمام بچوں کو پکڑ پکڑ کر گولیوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ اگر کوئی زندہ بچ گیا ہے تو اسے دوبارہ اٹھا کر سر میں گولی مار دی جائے، خاکے میں تھوڑی دیر بعد افواج پاکستان بھی پہنچ جاتی ہیں جو دہشت گردوں کا قلع قمع کر دیتی ہیں اور پھر اس طرح ریسکیو آپریشن کا آغاز ہو جاتا ہے ،لیکن افسوس کے بچوں میں سے کوئی نہیں بچ سکا، سب کے سب بچے شہید ہو چکے ہیں، استاد بھی شہید ہو چکے ہیں، انہیں تو خبر بھی نہیں ہوئی کہ آخر ہم معصوم بچوں کو یہ طالبان دہشت گرد کیوں مار رہے ہیں؟

 

بہر حال یہ درد بھرے مناظر آنکھوں کے سامنے دیکھ کر ہر آنکھ اشک بار تھی، ماحول پر رقت آمیز مناظر کا قبضہ ہو چکا تھا، یہ وہی ماحول تھا جو ابھی چند لمحات پہلے قہقہوں اور مزاحیہ خاکوں کی وجہ سے پر رونق تھا لیکن اچانک اس خاکے نے سب کو سنجیدہ کر دیا، ان معصوم بچوں نے ایک مرتبہ پھر سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی یاد کو زندہ کر دیا، ہر با ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، آہوں اور سسکیوں کے آوازیں گونج رہی تھیں،سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ خاکہ کے اختتام پر بچوں کو تالیوں کی گونج میں داد تحسین پیش کی جائے یا پھر کھڑے ہو کر اسٹیج سے اترنے والے ان معصوم ہونہاروں کو داد تحسین دی جائے، بہر حال یہ لمحات گزر گئے ، فضا سوگوار رہی اور وحدت اسکاؤٹس کے ان شاہینوں نے ثابت کر دیا کہ یہ ملک و ملت شہداء کو یاد رکھنے والوں میں سے ہیں اور ملک وملت و اسلام کے دشمنوں کے سخت دشمن ہیں۔

 

یہاں ان سب باتو ں سے بڑھ کر ایک نقطہ اور بھی ہے جسے شاید بیان کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں، یہ جو معصوم بچے شہدائے سانحہ پشاورا سکول کی یاد تازہ کر رہے تھے ، یہ بھی ایسی قوم کے بچے تھے کہ جس قوم کو روزانہ مساجد اور امام بارگاہوں میں بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ان کے والدین کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ان بچوں کے اسکولوں کو بھی بم دھماکوں سے اڑایا جاتا رہاہے، یہ ایسی قوم کے بچے ہیں جن کو کافر کا لیبل لگا کر اس ملک میں قتل کرنا جیسے حلال قرار دے دیا گیا ہے، یہ ایسی قوم کے بچے ہیں کہ جس قوم میں روزانہ جنازہ اٹھایا جاتا ہے، یہ اس قوم کے بچے ہیں کہ جہاں ایک ایک دن میں ایک سو جنازے بھی اٹھائے گئے ہیں، یہ ایسی قوم کے بچے ہیں کہ جو خود کش بم دھماکوں کی زد میں آ کر اتنے ٹکڑوں میں تقسیم ہوئے ہیں کہ ان کے جسموں کو ڈھونڈھا نہیں جا سکا، یہ ایسی قوم کے بچے ہیں کہ دشمن ان سے خوفزدہ ہے، یہ اس قوم کے بچے ہیں کہ جنہوں نے پاکستان کے شہداء کو ہمیشہ اپنی یادوں میں یاد رکھا ہے، اپنی خوشیوں میں اور اپنے دکھوں میں ہر موقع پر ان شہداء کو یاد رکھا ہے، میرا دل کرتا ہے کہ ان تمام بچوں کا ماتھا چوم لوں، انہیں اپنے کاندھوں پر اٹھا لوں،ان کے والدین پر درود و سلام ہوکہ جنہوں نے اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کی ہے کہ آج ان کی معصومانہ سوچوں میں سانحہ پشاور اسکول کے شہداء کی یاد زندہ و تابندہ ہے اور آج انہوں نے ہمیں بھی اشک بار کر دیاہے ، شاید انہی کی بدولت ہمیں بھی یاد آ گیاہے کہ یہ کوئی پرانی بات نہیں ہے، یہ تو ابھی کی بات ہے جب اسکول میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی، لیکن ہم نے کیوں فراموش کر دیاہے؟ہم ابھی تک ان معصوم بچوں کے قاتلوں سے انتقام نہیں لے سکے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنے معصوم بچوں کی شہادتوں کے ساتھ ساتھ ان کے ظالم اور سفاک قاتلوں کو بھی فراموش کر بیٹھیں، میری آنکھیں پھر امڈ آئی ہیں، دل پھٹ رہاہے، مزید قلم میں بھی طاقت نہیں رہی، بس یہی دعا کرتا ہوں کہ میرے وطن تیری توقیر سلامت رہے۔کیونکہ میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچو ں سے ڈرتا ہے ، بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے، میں ایسی قوم سے ہوں جس میں ہر روز جنازہ اٹھتا ہے۔


تحریر:تنصیر حیدر شہیدی

وحدت نیوز (راولپنڈی)  خیرالعمل فاؤنڈیشن کا شعبہ صحت ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام بڑے شہروں میں طبی مراکز قائم کرے گا ان طبی مراکز میں علاج معالجے کی سہولیات کے ساتھ ساتھ فوری رسپانس کے لیے ایمبو لینس سروس بھی فراہم کی جائے گی اور بلڈ ڈونیشن کا سلسلہ بھی جاری کیا جائے گا تاکہ ایمرجنسی کی صورتحال میں خون کی فراہمی کو بر وقت یقینی بنایا جاسکے اب تک خیرالعمل فاؤنڈیشن اس شعبے کے تحت اسکردو،گلگت،لیہ،لاہور،راولپنڈی،ڈی جی خان میں 9 ہیلتھ سنٹر اور ایک ہسپتال قائم کر چکی ہے اور کچھ پر کام جاری ہے ان خیالات کا اظہار خیرالعمل فاؤنڈیشن کے چیئرمین نثار علی فیضی نے ریلوے سکیم نمبر 9 میں کلینک کا سنگ بنیاد رکھنے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین راولپنڈی کے مسؤلین مولانا سید ساجد شیرازی،مولانا علی اکبر کاظمی اور دیگر افراد بڑی تعداد موجود میں موجود تھے ۔ نثار علی فیضی نے کہا پاکستان کی عوام آئے دن قدرتی و انسانی سانحات کا سامنا کر رہی ہے لیکن بدقسمتی سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ان سہولیات کا فقدان ہے جن میں فوری طبی امداد،ایمبولینسسز کی فراہمی،خون کی فراہمی شامل ہیں جس کے نتیجے میں نقصانات کی شدت بڑھ جاتی ہے خیرالعمل فاؤنڈیشن کا شعبہ صحت اس صورتحال کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہا ہے اور پہلے فیز میں مختلف بڑے شہروں میں کلینکس،ڈسپنسری قائم کی جارہی ہیں اور دوسرے فیز میں طبی سہولیات کے حوالے سے دیگر لوازمات پورے کیے جائیں گے جن میں ایمبو لینسسز ،خون کی فراہمی شامل ہے۔

وحدت نیوز (لاہور) علامہ ناصرعباس جعفری کی زیر صدارت مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کا ایک روزہ مرکزی تنظیمی وتربیتی اجلاس لاہور میں شعبہ خواتین کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوا جس میں شعبہ خواتین کی از سر نو تنظیم سازی کی گئی ۔ملک بھر سے آئی ہوئی خواتین جن میں گلگت ، بلتستان ، کوئٹہ ، خیبر پختونخواہ ، اندرون سندھ ، کراچی اور لوئر ،اپراور مڈل پنجاب اور ریاست آزاد جموں کشمیرشامل تھیں نے شرکت کی اس اجلاس میں صوبوں کی نمائندگی میں آنے والی خواتین کو کوآرڈینیٹر اور معاون کوآرڈینیٹرکی ذمہ داریاں دی گئیں اور انہیں یہ ٹارگٹ دیا گیا ہے کہ وہ ضلعی سیٹ اپ کو جلد از جلد مکمل کر کییونٹس تشکیل دیں گی اور انشا اللہ مئی کے پہلے ہفتے میں شعبہ خواتین کا کنونشن منعقد کیا جائے گا ۔اس اجلاس میں مرکزی کمیٹی شعبہ خواتین کے اراکین جن میں شعبہ سیاسیات کے مرکزی سیکریٹری برادر ناصر عباس شیرازی ، شعبہ تربیت کے مرکزی سیکریٹری مولانا احمد اقبال رضوی ، مرکزی کوآرڈینیٹر شعبہ خواتین خانم زہرا نقوی ،معاون کوآرڈینیٹر شعبہ خواتین خواہر تحسین شیرازی ، خانم زہرا نجفی کے علاوہ محترمہ خانم طیبہ ناصر نے خصوصی طور پرشرکت کی اور اجلاس سے خطاب بھی کیا ۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کے ایک روزہ مرکزی تنظیمی و تربیتی اجلاس کی صدارت کر تے ہو ئے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصرعباس جعفری نے کہاکہ زینبی(س)کردار کی حامل خواتین مجلس وحدت مسلمین کا توانا بازو ہیں پوری تاریخ میں اسلامی تحریکوں میں انقلابی خواتین نے قربانیاں دیکر حق کے پرچم کو سر بلند رکھا ہے انہوں نے خواتین کے انقلابی کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی میں خواتین نے اہم کردار ادا کیا اور آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں خواتین نے ایثار اور قربانیوں کے ایسے عظیم نمونے دنیا کے سامنے پیش کیے جو اپنی مثال آپ ہیں ۔انہوں نے مزید کہاحزب اللہ کی خواتین نے اسرائیل کو شکست اور ذلت سے دچار کیا ہے ۔بلکہ انہوں نے اپنے بیٹوں ، بھائیوں اور شوہروں کو قربان کر کے لبنان کوہمیشہ کے لئے اسرائیل کے شر سے محفوظ بنایاہے ۔

 

علامہ ناصر عباس جعفری نیاجلاس میں شریک خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خواتین بھی ایرانی اور لبنانی خواتین سے کسی طرح بھی کم نہیں ہیں ، انہوں نے بھی قربانیاں دینے کا جذبہ موجود ہے جو انہوں نے کربلا سے سیکھا ہے۔علامہ ناصر عباس جعفری نے مجلس وحدت مسلمین کے ممبران اور مسولین سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ بھی شعبہ خواتین کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ، مجلس وحدت کے تمام صوبائی اور ضلعی مسؤلین کو اس مہم میں خواتین کا ساتھ دینے کی ہدایت کی ۔اس اجلاس سے شعبہ خواتین مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی کوآرڈینیٹر خانم زہرا نقوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ : اس مشکل گھڑی میں جب ہماری ملت پر روزانہ شب خون مارا جا رہا ہے اور روز ہماری مساجد ، امام بارگاہوں پر حملے ہو رہے ہیں اور سینکڑوں شیعیان علی (ع)کو شہید کیا جا رہا ہے اور ملک میں دہشت گردوں کا راج ہے ۔ اور ملت کے جوانوں کو بے گناہ اسیر کیا جا رہا ہے ،شعبہ خواتین کو مضبوط کر کے فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اپنے بھائیوں کی پشتبانی کرتے ہوئے انکی اس عظیم انقلابی اور الہی جدو جہد میں ان کے برابر کی شریک رہیں۔انہوں نے اس بات کا بھی عزم کیا کہ ملت کی مستضعف خواتین کو اوپر لا کر انہیں ملت کا مضبوط بازو بنائیں گے ۔ انہوں نے بھی مجلس وحدت کے مسولین اور کارکنان سے اپیل کی کہ شعبہ خواتین کی مضبوطی کیلئے ان کا ساتھ دیں اور اپنے گھر کی خواتین کو بھی اس شعبے سے منسلک کرتے ہوئے اپنے ضلعوں سے موثر خواتین کی لسٹ فراہم کرنے میں ان کی مدد کریں ۔

 

اس مرکزی اجلاس سے شعبہ سیاسیات کے مرکزی سیکریٹری جناب ناصر عباس شیرازی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی بگڑی ہوئی صورتحال اور تشیع پر یزیدی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے مقابلے میں مجلس وحدت مسلمین اپنے الہی اور انسانی فریضے کو ادا کر رہی ہے اور اس مشکل وقت میں شعبہ خواتین کا از سر نو فعال ہونا خوش آئند ہے ۔شعبہ تربیت کے مرکزی سیکرٹری مولانا احمداقبال رضوی نے اسلامی تنظیم کے کارکن کی خصوصیات اور اخلاق پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک اسلامی تنظیم کے کارکن میں اخلاص ،بصیرت اور ایمان کا ہونا ناگزیر ہے انہوں نے مزید کہامجلس وحدت مسلمین ایک عام سیکولر یا لبرل جماعت نہیں بلکہ اس کا منشور اور اغراض و مقاصد اسلامی اور الہی ہیں لہذا ہمیں بھی انہیں اسلامی و الہی اقدار کا حامل ہونا چاہیے ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) امریکہ سے آئے معروف عالم دین  علامہ غلام حر شبیری نے کہاکہ خیرالعمل فاﺅنڈیشن الٰہی تحریک کے لیے بہترین زمینہ سازی کر رہی ہے اس کے رفاحی منصوبہ جات عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اس حوالے سے اس ادارہ کی خدمات قابل قدر و لائق تحسین ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان میں مختصر دورے کے دوران مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے فلاحی شعبہ خیرالعمل فاﺅنڈیشن کے ہیڈ آفس میں اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ادارہ نے بہت مختصر عرصہ میں فعالیت کرکے ملک کے اندر اور باہرمقیم پاکستانیوں کا اعتماد حاصل کیا ہے اب ضروری ہے کہ اپنی مزید فعالیت اور کارکردگی کے زریعے اس اعتماد میں اضافہ کرے۔عام آدمی کو دین اور تربیت سے پہلے زندہ رہنے کے لیے ضروریات زندگی درکار ہوتی ہے اس لیے ہمیں اجتماعی جدوجہد و الٰہی قدروں کو پروان چڑھانے کے لیے ان کے فراہمی کا خصوصی اہتما م کرنا چاہیے ۔

 

ان کاکہنا تھا کہ  اسلام تحریکوں کے مسئولین خود ان امور کے متولی ہوتے ہیں اور ان کاموں کو اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے ہیں یہی آئمہ کی روش رہی ہے کہ خود اپنے کندھوں پر غلہ رکھ کر محتاج و درمندوں کے دروازوں پر جاتے ان کی حاجت روائی کرتے ہمیں بھی خود ضرورت مندوں تک پہنچنا چاہیے اور ان کے دکھوں و دردوں میں شریک ہونا چاہیے ۔ہمیں ان امور کی انجام دہی کے لیے مالیاتی امور کو بہت منظم کرنا ہو گا ۔ لوگوں میں وجوہات شرعیہ ، صدقات ، خیرات ، فطرہ اور دیگر عطیات کی ادائیگی کا صحیح شعور اجاگر کرنا ہو گا۔ اس سلسلے میں خیرالعمل فاﺅنڈیشن آگاہی مہم چلائے اور لوگوں کو ان زمہ داریوں کی طرف متوجہ کریں اسلام کے یہ فرائض و واجبات اگر ادا ہونا شروع ہوجائیں تو معاشرے میں خیر کے کام بہت منظم ہو جائیں گے اور کو ئی بھی ضرورت مند پریشان حال نہیں ہوگا۔

 

 اس موقع پر خیرالعمل فاﺅنڈیشن کے چیئر مین نثار علی فیضی نے خیرالعمل فاﺅنڈیشن کے فلاحی پراجیکٹس کے حوالے سے بریفنگ دی اور تکمیل شدہ اور جاری منصوبوںکی تفصیل سے آگاہ کیا اور بتایا کہ خیراالعمل فاﺅنڈیشن پاکستان میں مستضعفین کی اماجگاہ بن رہی ہے اور ہمارے منصوبہ جات سے ہزاروں لوگ استفادہ کررہے ہیں ۔اجلاس میںمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے شوریٰ عالی کے سیکرٹری علامہ حیدر عباس عابدی مرکزی سیکرٹری روابط ملک اقرار حسین، پنجاب کے صوبائی سیکرٹی جنرل علامہ عبدالخالق اسدی گلگت استور کے مرکزی خطیب و نامور عالم دین علامہ امیر حیات اور جامعتہ الرضا کے مدرس علامہ علوی بھی شریک ہوئے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری فلاح وبہبود نثارعلی فیضی نے کہا کہ شکار پور کے سانحہ نے سندھ میں بھی تکفیریت کی بڑھتی ہوئی سازشوں کی قلعی کھول دی ہے۔ عرصے سے اس حوالے سے آثار دکھائی دے رہے تھے اور انتہائی پرامن دھرتی کو دھشت گردی کا نشانہ بنا یا گیا ہے۔ جبکہ اک ایسی پارٹی جو بر سر اقتدار بھی رہی اور اب صوبہ میں حکومت رکھتی ہے کی بیڈ گورننس کا یہ تخفہ بھی مظلوم عوام کو مل گیا ہے۔ یہ حکومتیں نہ تو قدرتی اور نہ ہی انسانی سانحات کے مقابلے میں کوئی منصوبہ یہ لائحہ عمل رکھتی ہیں جسکی وجہ سے ان سانحات کے بعد نقصانات کی شدت میں دوگنا اضافہ ہو جاتا ہے اور سانحہ شکار پور میں بھی یہی سب کچھ ہوا بہت سارے زخمیوں کی بر وقت طبی سہولیات نہ ملنے،ایمبولینسز نہ ہونے ،ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور ادویات نہ ہونے کی وجہ سے شہادتیں ذیادہ ہو گئیں جو کہ حکمرانوں کی غفلت و لاپرواہی کی انتہا ہے حکمرانوں کو قوم و ملک عزیز نہیں اپنے ذاتی مفادات عزیز ہیں حکمران شہروں پر سارے ترقیاتی فنڈز لگا دیتے ہیں اور تمام وسائل کو اپنے خاندانوں اور قریبی حلقوں تک محدود رکھتے ہیں جسکی وجہ سے دیہاتی وپسماندہ علاقے آج بھی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک بیان میں کیا۔نثار علی فیضی نے کہا کہ دہشتگردی جیسے ناسور کے ہوتے ہوئے بھی حکومت کی طرف سے ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی موثر اقدامات نظر نہیں آ رہے جو کہ وقت کی ضرورت ہیں اس حوالے سے حکومت کی نسبت عام عوام و رفاحی اداروں کی کارکردگی بہتر ہے جنکے رضا کار جان کی پرواہ کیے بغیر ہنگامی صورتحال میں اپنا فرض نبھا رہے ہوتے ہیں حکومت اس حوالے سے جنگی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرے جس سے کسی بھی ایمرجنسی کی صورتحال میں سہولیات کو بروقت مہیا کر کے زیادہ سے زیادہ نقصان ہونے سے بچا جا سکے۔

وحدت نیوز (لاہور) ایم ڈبلیوایم صوبہ پنجاب کے صوبائی سیکریٹریٹ میں وحدت یوتھ لاہور ڈویژن کی یوتھ کونسل کا اجلاس ہوا جس میں ضلع شیخوپورہ، قصور اور لاہور کے نمائندوں نے شرکت کی . اجلاس میں آئندہ تین ماہ کا پروگرام پیش کیا گیا اور اجلاس مرکزی یوتھ کونسل کے معاون خصوصی برائے پنجاب برادر اصغر علی کمیلی اور معاون خصوصی برائے لاہور ڈویژن کا اعلان کیا گیا،اس اجلاس میں مرکزی چیئرمین وحدت یوتھ پاکستان برادر فضل عباس نقوی ایڈووکیٹ نے خصوصی شرکت کی اور دوستوں سے گفتگو کی۔

وحدت نیوز (ملتان) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے شعبہ وحدت یوتھ پاکستان کے مرکزی چیئرمین برادرسید فضل عباس نقوی ایڈووکیٹ 30 جنوری سے 3 فروری تک صوبہ سندھ کا پانچ روزہ دورہ کریں گے،مرکزی یوتھ سیکریٹریٹ ملتان سے جاری پریس کےمطابق فضل عباس ایڈووکیٹ وحدت اسکاوٹس کے زیر اہتمام ہونے والے کراچی ڈویژن کے تین روزہ اسکاؤٹ کیمپ میں شرکت کے علاوہ کراچی ڈویژن ، حیدرآباد ڈویژن اور سکهر ڈویژن کے دورہ جات بھی کریں گے،  ان ڈویژنز کی یوتھ کونسلزکے اجلاسوں میں شرکت کریں گے،ان اجلاسوں میں آئندہ تین ماہ کا پروگرام پیش کیا جائے گا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) چیئرمین خیرالعمل فاؤنڈیشن نثارعلی فیضی کی زیر صدارت سنٹرل کور کمیٹی کا اجلا س ہوا جس میں گلگت میں ہاؤسنگ سکیم کے تحت مکانات کی تعمیر کو جلد مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اسکے علاوہ ڈی آئی خان میں بھی تعمیرات کے آخری مرحلے میں موجود ہاؤسنگ کالونی کے فوری تکمیل کے بعد افتتاح کرنیکا فیصلہ بھی ہوا جس میں مرکزی قائدین شرکت کرینگے ۔اجلاس میں خیرالعمل فاؤنڈیشن کے رفاہی منصوبوں کے لیے 2015-16 کے مجوزہ بجٹ کی تیاری جس میں قدرتی آفات وسانحات،تعلیم،صحت، یتیموں کی کفالت ، عمومی رفاہ، تعمیر مساجد و قرآن سنٹرز ،ووکیشنل سنٹرز اور فراہمی آب کے منصوبوں کے لیے فنڈز کی جمع آوری کی حکمت عملی مرتب کی گئی تاکہ تمام شعبہ جات کے لیے علیحدہ علیحدہ بجٹ مختص کر کے منصوبوں کو بر وقت تکمیل تک پہنچایا جا سکے مجوزہ بجٹ کو آئندہ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائیگا بجٹ میں پاکستان کے تمام صوبوں بشمول ریاست کشمیر کے لیے سینکڑوں منصو بوں پر کام کرنے پر غور کیا ۔چیئر مین خیرالعمل فاؤنڈیشن نے تمام شعبہ جات کو اس سلسلے میں اپنی منصوبہ بندی مکمل کرنیکی ہدایات کرتے ہوئے جلد رپورٹس پیش کرنے کا کہا ۔

 

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین خیرالعمل فاؤنڈیشن نثارعلی فیضی نے کہا کہ خیرالعمل فاؤنڈیشن کی پاکستان میں فعالیت ایم ڈبلیو ایم کے اجتماعی امور میں بے پناہ اہمیت رکھتی ہے ادارے کے اب تک کے کاموں سے کئی علاقوں بلخصوص پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں جماعت کی تشکیل اور زمینہ سازی میں بھر پور مدد ملی ہے قومی جماعت کی تشکیل کے نتیجے میں عوام کا بنیادی مسائل ومشکلات کے لیے مراجعہ بہت زیادہ ہے اور ان توقعات پر پورا اترنے میں آج اگر ہم کچھ کردار ادا کر رہے ہیں تو اس میں ہمارے مخیر حضرات،اداروں اور ٹیم کی انتھک کاوشوں کا بہت بڑا عمل دخل ہے ایک الہی جماعت کے لیے اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ان امور پر خاطر خواہ کام کا ہونا حکمت عملی سے عین مطابقت رکھتا ہے ۔انشاء اللہ خیرالعمل فاؤنڈیشن انسانی خدمت کے جذبے کے تحت رفاہی کاموں کے جال کو مزید وسیع کریگی ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ذیلی شعبہ خواتین کا اہم اجلاس علامہ ناصرعباس جعفری کی زیر صدارت اسلام آباد مین منعقد ہوا، جس میں باہمی مشاورت کے بعددخترشہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ؒ محترمہ خانم زہرا نقو ی کوایم ڈبلیوایم شعبہ خواتین کی مرکزی کوآرڈینیٹر نامزدکرلیا گیا، اجلاس میں خانم زہرانقوی کے علاوہ خانم طیبہ اعجازاہلیہ علامہ ناصر عباس جعفری  ، خانم تحسین  شیرازی خواہر ناصر شیرازی ، خانم زہرا نجفی سیکریٹری جنرل شعبہ خواتین سندھ بھی شریک تھیں ، علامہ ناصر عباس جعفری نے خانم زہرا نقوی کے ہمراہ  مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دےدی ہےجس میں مندرجہ بالا خواتین شامل ہیں ، جو کہ ملک بھر میں شعبہ خواتین کو مزید فعال کرنے اور شعبہ خواتین کی تنظیم سازی کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ اقدامات کریں گی۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree