وحدت نیوز(انٹرویو) سید ناصر عباس شیرازی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں۔ اس سے قبل مرکزی سیکرٹری سیاسیات کی ذمہ داری انکے پاس تھی۔ ناصر شیرازی آئی ایس او پاکستان کے بھی مرکزی صدر رہے ہیں جبکہ متحدہ طلباء محاذ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اپنی سیاسی دانست کی بدولت بہت قلیل عرصے میں ایم ڈبلیو ایم کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر نہ صرف متعارف کروایا بلکہ شہرت کی بلندیوں  پر بھی پہنچایا۔ ناصر شیرازی پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ حلیم طبیعت کے مالک ہیں۔ شیعہ سنی اتحاد اور پاکستان میں قیام امن کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھی تحریک کے روح رواں ہیں۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی رٹ پٹیشن بھی دائر کرنے کے بعد اس کی پیروی کر رہے تھے کہ اغواء کر لئے گئے۔ ایک ماہ کی قید کے بعد بازیاب ہوئے تو سب سے پہلے "ایک بین الاقوامی  خبر رساں ادارے " نے ان کیساتھ گفتگو کی، جو قارئین کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔

سوال : سب سے پہلے تو آپکو اور آپکے اہلخانہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ آپ خیر و عافیت سے گھر واپس پہنچ گئے، یہ بتایئے کہ وہ کون لوگ تھے، جنہوں نے آپکو اغواء کیا اور انکے مقاصد کیا تھے۔؟
ناصر عباس شیرازی: مجھے اغواء کرنیوالے لوگ کسی سکیورٹی ادارے کے اہلکار ہی تھے، وہ کس ادارے کے تھے یہ مجھے علم نہیں۔ واپڈا ٹاؤن سے یکم نومبر کو مجھے اس وقت اغواء کیا گیا، جب میں اپنی اہلیہ اور بچوں کیساتھ خریداری کے بعد واپس گھر جا رہا تھا، مجھے 2 ماہ اور 2 سال کے بچوں کے سامنے گھسیٹ کر گاڑی سے نکالا گیا اور 2 سے 3 گاڑیاں تھیں، جن میں وہ لوگ سوار تھے۔ انہوں نے وہاں سے مجھے اغواء کیا اور کسی نامعلوم جگہ پر جا کر بند کر دیا۔ کچھ عرصہ وہاں رکھا گیا، اس کے بعد مجھے ایک اور جگہ پر منتقل کر دیا گیا۔ اس دوسری جگہ کا بھی مجھے علم نہیں کہ وہ کون سی جگہ تھی۔ بہرحال اغواء کاروں نے ملک کے آئین کو پامال کیا اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا اور مجھے، جو ایک سیاسی جماعت کا کارکن ہوں، اغواء کیا گیا۔ جہاں تک ان کے مقاصد کی بات ہے تو مجھے نہیں معلوم انہوں نے مجھے کیوں اغواء کیا، وہ کیا چاہتے تھے، یا ان کے پیچھے کون تھا۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ مجھے اغواء کرنیوالوں کے مقاصد کیا تھے۔

سوال : آپکی جماعت تو اسکا ذمہ دار پنجاب حکومت اور رانا ثناء اللہ کو ہی ٹھہراتی رہی اور مسلسل احتجاج میں پنجاب حکومت کو ہی نشانہ بنایا جاتا رہا۔؟
ناصر عباس شیرازی: ویسے دیکھا جائے تو بحیثیت صوبے کے وزیر قانون کے طور پر شہریوں کے تحفظ ذمہ داری رانا ثناء اللہ پر ہی عائد ہوتی ہے، لاہور جیسے شہر سے ایک بندہ اغواء ہو رہا ہے اور لاہور پولیس اور پنجاب حکومت کو پتہ ہی نہیں چلتا؟ جس ادارے نے بھی اغواء کیا تھا، وہ فرشتے آسمان سے تو نہیں اترے تھے، یہیں سے ہیں نا، لیکن پنجاب حکومت ایک ماہ میں میرا سراغ نہیں لگا سکی، میں مسلسل ایک ماہ جبری قید میں رہا، پنجاب حکومت نے میری بازیابی کیلئے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا۔؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس اغواء میں رانا ثناء ہی ملوث دکھائی دیتا ہے۔ پولیس مسلسل عدالت میں ٹال مٹول سے کام لیتی رہی، یہ سب پولیس کی غفلت کا نتیجہ اور صوبائی حکومت کی ناکامی ہے۔

سوال : دوران حراست اغواء کار آپ سے کس قسم کے سوالات کرتے رہے۔؟
ناصر عباس شیرازی: ان کے سوالات بے مقصد تھے، بے تکے سوالات کرتے رہے، یہ کہ مجلس وحدت مسلمین کی قریبی جماعتیں کون سی ہیں، کن کن جماعتوں کیساتھ آپ کے تعلقات بہت اچھے ہیں، کون سی جماعت آپ سے دور ہے، کس جماعت کیساتھ آپ کی نہیں بنتی، گلگت بلتستان میں مجلس وحدت مسلمین کی پوزیشن مضبوط کیوں ہے۔ آپ وہاں الیکشن میں کیوں حصہ لے رہے ہیں۔ آپ لوگوں کی جماعت کے مقاصد کیا ہیں۔ وغیرہ وغیرہ، یہ وہ سوالات تھے، جو عام سے بھی سادہ ہیں۔ یہ سب باتیں تو عام ہیں، بچہ بچہ جانتا ہے ایم ڈبلیو ایم کا منشور کیا ہے، ہم سیاست میں کن جماعتوں کے ہم خیال ہیں، لیکن حیرت ہے کہ وہ اس قسم کے بے تکے سوالات کرکے پتہ نہیں کیا جاننا چاہتے تھے۔

سوال : لیکن رانا ثناء اللہ کو آپکی جماعت خصوصی طور پر ہدفِ تنقید کیوں بنا رہی ہے۔؟
ناصر عباس شیرازی: رانا ثناء اللہ وہ وزیر قانون ہیں، جنہوں نے خود قانون اور آئین کو پامال کیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے پاکستان کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے لاہور ہائیکورٹ میں رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی رٹ پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔ ہر فرد ریاست میں قانون اور آئین کے سامنے جوابدہ ہے، پھر رانا ثناء اللہ کیوں نہیں، میرے اغواء میں رانا ثناء اللہ ہی ملوث ہے، مجھے میرے اڑھائی سال کے بیٹے کے سامنے اغواء کیا گیا۔ کیا کوئی قانون، آئین یا اخلاقیات اس حرکت کی اجازت دیتے ہیں؟ مجھے اغواء کرنیوالوں نے قانون شکنی کی۔ انہوں نے اپنے ہی ملک کا آئین پامال کر دیا، جس کی حفاظت کا انہوں نے حلف اٹھا رکھا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔

سوال : آپکو جس جگہ پر رکھا گیا، وہ کیسی تھی؟ کوئی حوالات تھی یا کوئی گھر تھا۔؟
ناصر عباس شیرازی: مجھے ایک تنگ و تاریک جگہ پر رکھا گیا تھا، میرے اغواء سے صرف یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جس کی لاٹھی ہے، بھینس اسی کی ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان میں لاء اینڈ آرڈر کی بات نہیں کی جا سکتی، یہاں تو پھر طاقتور منہ زور ہو جائے گا، جس کے پاس 4 بندے ہوں گے، وہ منہ زور ہو جائے گا۔ جب معاشرے میں قانون و انصاف کی حکمرانی نہ رہے تو معاشرے بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں اور پاکستان کو بھی اسی بگاڑ کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان میں امن قائم ہو، یہاں قانون کی عملداری ہو، یہاں وحدت کو فروغ ملے، میرا جرم کیا تھا؟ یہی کہ میں وحدت کی بات کر رہا تھا، میں نے شیعہ اور سنی کو متحد کیا، میں نے تکفیریوں کو بے نقاب کیا، میں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی اور اس کے جواب میں مجھے اغواء کر لیا گیا۔

سوال : سکیورٹی ادارے جب بھی کسی کو اغواء کرتے ہیں، کوئی جرم ہوتا ہے تو اٹھاتے ہیں۔؟
ناصر عباس شیرازی: میرا کوئی جرم ہے تو عدالتیں موجود ہیں، وہاں میرے خلاف رٹ دائر کریں، میرا جرم ثابت کریں، میرا کوئی جرم ثابت ہوتا ہے تو میں سزا کیلئے تیار ہوں، لیکن یہ کون سا قانون ہے کہ بے جرم و خطا آپ کسی شہری کو اٹھائیں، بلکہ معصوم بچوں کے سامنے اٹھائیں اور ایک ماہ تک اسے جبری قید میں رکھیں، عدالت میں ٹرائل ہو تو پیش نہ کریں۔ یہ کونسا قانون ہے، یہ تو جنگل کا قانون ہوا، پاکستان میں تو باقاعدہ ایک آئین موجود ہے، قانون ہے، عدالتیں ہیں، ان سب کی موجودگی میں اگر کوئی اس قسم کی حرکت کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کی مخالفت کر رہا ہے، وہ کوئی ثبوت رکھتے ہیں تو عدالت میں پیش کریں۔ ایسے اغواء کرکے تو وہ اپنا کیس کمزور کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو ایسے کلچر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ پاکستان کے ریاستی اداروں کو آئین کی سربلندی کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کریں۔ ریاست کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھے۔

سوال : ایک وزیر قانون کیسے قانون شکنی کا مرتکب ہوسکتا ہے۔؟
ناصر عباس شیرازی: پنجاب سے اغواء ہوا ہوں تو ذمہ دار پنجاب حکومت ہے، جس نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ صوبے میں جنگل کا قانون ہے۔ شریف برادران نے ہمیشہ انتقامی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ یہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو دوسروں کو انسان نہیں سمجھتے۔ یہ ملک کو اپنی جاگیر سمجھ لیتے ہیں، پھر انہیں ایسے دو چار وزیر بھی مل جاتے ہیں، جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہیں، وہ بھی ان کی ہر ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں، یہی اصل میں ان کو بھی گمراہ کرتے ہیں، ان کی گردن کا سریا اصل میں یہی وزیر ہوتے ہیں، جیسے رانا ثناء اللہ نے پنجاب کے وزیراعلٰی کو مٹھی میں لے رکھا ہے، پنجاب کا پورا کنٹرول وزیر قانون کے ہاتھ میں ہے۔ وہی سکیورٹی فورسز کی بھی نگرانی کرتا ہے، وہی کابینہ کمیٹی برائے امن و امان سمیت صوبے کے دیگر معاملات چلاتا ہے۔ اجلاسوں کی صدارت کرتا ہے، سب کچھ ایک وزیر کے ہاتھ میں دیدیا گیا ہے، اب اگر کوئی بقول چودھری شیر علی مجرمانہ ذہنیت کا مالک ہو اور اس کے ہاتھ میں اقتدار آجائے تو انجام یہی ہوگا کہ کوئی ملک میں آزادانہ گھوم پھر نہیں سکے گا۔ رانا ثناء اللہ کے کارنامے میڈیا والے جانتے ہیں، شائع یا نشر اس لئے نہیں کرسکتے کہ وہ اقتدار میں ہے، جس دن رانا ثناء اللہ کا اقتدارختم ہوگیا، وہ بے نقاب ہو جائے گا۔ میڈیا اس کی اصلیت بے نقاب کرے گا۔ اس کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو چودھری شیر علی سے پوچھیں، جنہیں شہباز شریف نے خاموش رہنے کا کہا ہے۔ ورنہ ماضی قریب میں جب چودھری شیر علی نے رانا ثناء اللہ کا کچا چٹھہ کھولا تھا تو لیگی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی اور پارٹی ٹوٹنے کے قریب تھی، لیکن شہباز شریف نے دونوں کو بیان بازی سے روک دیا اور معاملہ سرد پڑ گیا۔ کچھ عرصے بعد یہ معاملہ پھر گرم ہوگا اور دونوں بیچ چوراہے ایک دوسرے کی ہنڈیا پھوڑیں گے، وہ وقت قریب ہے۔

سوال : آپکا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔؟
ناصر عباس شیرازی: آئندہ کا لائحہ عمل میری سیاسی جدوجہد ہے، جسے جاری رکھوں گا، جلد ہی اعلٰی قیادت سے ملاقات کروں گا۔ ملاقات میں ایم ڈبلیو ایم کے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ہم نے آئندہ 2018ء کے الیکشن میں بھی بھرپور طریقے سے حصہ لینا ہے، اس کی حکمت عملی طے کی جائے گی اور میں نے رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی جو رٹ پٹشین دائر کی ہوئی ہے، اس کی بڑھ چڑھ کر پیروی کروں گا۔ ہم ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں ہر شہری کو وہ حقوق ملیں، جو اسے آئین دیتا ہے۔ ہم ملک میں جنگل کا قانون نہیں چاہتے، ہم پرامن پاکستان کے قیام کیلئے سرگرم ہیں اور ان شاء اللہ ہم پاکستان کو قائد کا حقیقی پاکستان بنائیں گے۔ ہم آمروں کی پیداوار سے ملک کو نجات دلائیں گے، کرپشن اور انتہا پسندی کا خاتمہ کریں گے۔ ہمارے سیاسی جدوجہد کا مقصد پرامن اور خوشحال پاکستان ہے، جس میں تمام مکاتب فکر اور مذاہب کو مکمل مذہبی آزادی ہوگی۔ ہم پہلے بھی اسی کاز کیلئے جدوجہد کر رہے تھے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ یہ اغواء اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہمیں ہمارے مشن سے نہیں روک سکتے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم جہاں شیعہ سنی کو ایک دوسرے کے قریب لائے ہیں وہاں دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی قریب لائیں اور پاکستان میں ایسا امن قائم کریں کہ دنیا مثال دے۔ امن کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا، ہم تکفیریوں کے روز اول سے مخالف تھے اور اب بھی ان ملک دشمنوں اور اسلام دشمنوں کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔

سوال : جن جن سیاسی و مذہبی جماعتوں نے آپکی بازیابی کیلئے ایم ڈبلیو ایم کا ساتھ دیا، انکے حوالے سے کچھ کہیں گے۔؟
ناصر عباس شیرازی: جی بالکل، میں مجلس وحدت مسلمین، تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ ق، ملی یکجہتی کونسل ، سنی اتحاد کونسل، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پاکستان عوامی تحریک، جماعت اسلامی، امامیہ آرگنائزیشن سمیت دیگر سیاسی، سماجی رہنماؤں اور صحافی دوستوں کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے میری بازیابی کیلئے اپنے اپنے طور پر کوشش کی اور ایم ڈبلیو ایم کا ساتھ دیا۔ یقیناً میری حمایت ایک سیاسی جماعت کے کاز کی حمایت تھی، جن دوستوں نے میرے اہل خانہ کی بھی ڈھارس بندھائی، بالخصوص اپنے وکلاء دوستوں کا بھی شکر گزار ہوں۔ جن دوستوں نے پاکستان میں اور جنہوں نے کربلا میں میری بازیابی کیلئے دعائیں کیں، ان بہنوں، ماؤں اور بھائیوں اور بزرگوں کا ممنون ہوں اور دعاگو ہوں، اللہ تعالٰی ان تمام احباب کی توفیقات خیر میں اضافہ فرمائے۔

 

بشکریہ اسلام ٹائمز

وحدت نیوز(مظفرآباد) مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا سید طالب حسین ہمدانی، ترجمان مولانا سید حمید حسین نقوی، سیکرٹری یوتھ سید شاہد علی کاظمی ، ضلع پونچھ کے رہنماء مولانا سید شاہنواز کاظمی، ضلع میرپور کے سیکرٹری جنرل سید ناظر عباس کاظمی، تنظیم سازی کونسل کے ممبر مولانا حسن کاظمی، ضلع مظفرآباد کے سیکرٹری تنظیم سازی سید محسن بخاری، ضلع نیلم کے کوآرڈینیٹر سید سعادت علی کاظمی اور سید وقار حسین کاظمی نے مرکزی ایوان صحافت میں پرہجوم و مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالم اسلام کو ایام ربیع الاول یعنی جشن عید میلاد النبی ص کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین 12 تا 17 ربیع الاول ہفتہ وحدت کے طور مناتی ہے جس کا مقصد اتحاد بین المسلمین کے لیے عملی کاوشیں کرنا ہے۔ 15 نومبر 2017 کو ہم نے پریس کانفرنس کی تھی جس میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی کے جبری اغوا کے حوالے سے مذمت اور احتجاجی تحریک چلائے جانے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ میڈیا سمیت جتنی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے میں ہماری مدد کی ہم تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے  خوشخبری سناتے ہیں کہ برادر ناصر عباس شیرازی  بازیاب ہو کر اپنی فعالیت کا آغاز کر چکے ہیں۔

 مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ پریس کانفرنس میں مجلس وحدت مسلمین آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل  علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی کے کیس کے حوالے سے سوالات کیے گئے تھے کیا تھا جس پر ہم نے آئندہ پریس کانفرنس میں جامع و مفصل جواب کا کہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ لوگوں کی دعاؤں کی بدولت علامہ تصور نقوی رو بہ صحت ہیں اور انشاء اللہ جلد عوام الناس کے درمیان ہوں گے۔ ایم ڈبلیو ایم آزادکشمیر کے رہنماؤں نے کہا کہ علامہ سید تصور حسین نقوی اور ان کی اہلیہ محترمہ پر 15 فروری کو دن دیہاڑے قاتلانہ حملہ ہوا۔ حملہ آور ایک کار پر سوار تھے۔ کار اور کار سواروں کا آج تک پتہ نا چل سکا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ انتظامیہ طرح طرح کے حیلے بہانوں سے ٹرخائے جا رہی ہے۔ نو ماہ کا عرصہ مکمل ہونے کو ہے ہم کیا کریں؟ بس انہی حیلے بہانوں و طفل تسلیوں پر گزارہ کریں۔ مارچ 2017 میں پولیس افسران آصف درانی اور وحید گیلانی کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ہم مجرمان کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ جب قریب پہنچ چکے تھے تو بتایا جائے دور کیوں ہوئے؟ حکومت آزادکشمیر نے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔  حادثے کے ہو جانے کے بعد ایک ماہ قبل  وزیراعظم  عیادت کو تشریف لائے مگر بیٹھنے کا وقت نہیں تھا۔ مظفرآباد  ڈویژن سے وزراء اور ممبران اسمبلی نے پتہ نہیں کس خوف کے تحت ہمدردی کے دو بول بولنا بھی مناسب نہ سمجھا۔ یہ لوگ سمجھ بیٹھے ہیں شاید اقتدار ساری زندگی کے لیے مل گیا ہے۔ لیکن نہیں انہوں نے ایک دن عوام کے پاس اور بالآخر خدا کی بارگاہ اقدس میں جواب دینا ہے۔ علامہ تصور نقوی پر حملہ کرنے والوں کا نہ پکڑے جانا اور حکومتی عدم توجہی کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ ریاست آزاد کشمیر کے امن کو تار تار کرنے کی کوشش کی گئی۔ مظلوم کشمیری عوام اور اتحاد بین المسلمین کے حقیقی داعی اور ترجمان شخصیت کو راستے سےہٹانے کی مذموم ترین کوشش کی گئی۔ حکومت و انتظامیہ کا یوں چپ ہو جانا دشمن کے ناپاک عزائم کو کامیاب بنانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے عام شہری اور خصوصی طور پر ملت جعفریہ میں شدید بے چینی اور اضطراب ہے۔ یہ مسئلہ  شہری و ریاستی امن کا مسئلہ ہے۔ جب امن کی بات کرنے والا اور اتنا اہم اور معزز فرد محفوظ نہیں تو کل کوئی عام شہری کیسے محفوظ ہو گا؟ حکومت آزادکشمیر کی غیر سنجیدگی پر تشویش ہے۔ خدا نہ کرے یہ آگ کل ان کے ایوانوں میں پہنچ جائے۔ ہم سوال کرتے ہیں کیا اس وقت بھی یہ ایسے ہی خاموش رہیں گے؟ اگر نہیں تو پھر کس وجہ اور مصلحت کے تحت اس مسئلے کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے؟ ہمیں اب جواب چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بہت وقت دیا ہم نے۔ شاید کہ ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری سے تعبیر کیا گیا۔ حالانکہ ہماری خاموشی صرف اس لیے تھی کہ کل ہمیں یہ نہ کہا جائے آپ نے وقت نہیں دیا یا ساری توجہ آپ کی طرف تھی۔ ہم نے جس طرح حادثے والے دن اپنے غم و غصے کا اظہار کیا تھا اور مظفرآباد ڈویژن جام ہو کر رہ گیا تھا۔یہ عمل ہم طویل مدت تک جاری رکھ سکتے تھے یا دوباره  کر سکتے تھے مگر ہم نے صبر و حوصلے سے کام لیا اور انتظامی اداروں کو لمبا وقت اور اپنی قوم کو حوصلے کا درس دیا مگر افسوس کے ساتھ آج ہم اعلان کر رہے ہیں کہ کیس پر کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی یہ ادارے  کسی قسم کی تحقیق میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔

  مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے کہا کہ اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے ہم اپنی قوم کے سامنے لاجواب ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے سامنے ہر آپشن موجود ہے ہم سڑکیں بھی بند کر سکتے ہیں اور ایوانوں کا گھیراؤ بھی۔ یو این او مبصر مشن کی جانب مارچ بھی کر سکتے ہیں یا اعلی عدلیہ کا دروازہ بھی کھٹکٹا سکتے ہیں۔ ہمیں راست اقدام کے لیے مجبور نہ کیا جائے۔

مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں و کشمیر انتظامی اداروں خصوصا پولیس کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتی ہے۔ اس واقعے کے بعد جس طرح سے انتظامیہ کی جانب سے علامہ سید تصور نقوی کی کردار کشی گئی اور طرح طرح کے من گھڑت واقعات کو علامہ صاحب سے منسوب کیا گیا پرزور طریقے سے مذمت کرتے ہیں۔ علامہ صاحب کا کردار و شخصیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اتحاد بین المسلمین ، مظلومین جہاں بالعموم اور مظلومان مقبوضہ کشمیر بالخصوص کی آواز بننا ان کا شیوہ تھا۔ وہ ایک معزز گھرانے کے فرد ہیں۔ اس طرح کی باتیں کرنے والے دراصل اپنی نااہلی کو چھپانے کے درپے تھے۔ مجلس وحدت مسلمین آزادکشمیر باقاعدہ ایک تحریک کا اعلان کرتی ہے جس کا عنوان #justice for jawadi ہے۔ اس تحریک کے حوالے سے  انشاء اللہ پورے کشمیر سے آواز احتجاج بلند ہو گی۔ ہم تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی اے۔پی۔سی بلائیں گے جس میں علامہ سید تصور نقوی کیس کے حوالے سے مشاورت کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے گا۔ تمام جماعتوں کو ساتھ لیکر بھرپور آواز احتجاج بلند کی جائے گی۔ جو چارٹر آف ڈیمانڈ وزیراعظم آزاد کشمیر کو دیا گیا اس پر من و عن عمل درآمد کیا جائے ۔ اگر علامہ سید تصور نقوی الجوادی کیس کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا تو ہم ایک دھرنا دیں گے جومطالبات کے حل تک جاری رہے گا۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنماء کے اغواء کے خلاف آواز بلند کرنے والی شخصیات اور جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ناصر عباس شیرازی کی ماورائے آئین و قانون گرفتاری کے خلاف تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے آواز کی، جس کے لیے ہم ان سب کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی بی میں علامہ شیخ حسن جعفری نے جس موثر انداز میں اس کارروائی کی مذمت کی اور انکی رہائی کا مطالبہ کیا نہایت ہی قابل قدر ہیں۔ پاکستان بھر کی طرح جی بی میں آئی ایس او پاکستان، امامیہ آگنائزیشن، پاکستان تحریک انصاف، شیعہ علماء کونسل، پاکستان پیپلز پارٹی، آل پاکستان مسلم لیگ، مسلم لیگ قاف، جی بی یوتھ الائنس، بلتستان یوتھ الائنس، انجمن تاجران، جی بی تھنکرز فورم، انجمن امامیہ، انجمن تاجران، ائمہ جمعہ و جماعت، تنظیمی مسؤلین، کارکنان، خیرخواہان اور بزرگان نے اس معاملے میں ہمارا ساتھ دیا ان سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ سید ناصر عباس شیرازی کی بازیابی ان تمام جماعتوں کی کوششوں اور دعاوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری غیر موجودگی میں بلتستان بھر سے اس معاملے پر موثر آواز اٹھا کر اور ہم سے اظہار ہمدری کر کے ثابت کیا کہ یہ قوم متحد ہے اور کسی بھی ظلم پر خاموش رہنے والی نہیں ہے۔ ہم صحافی برادری کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس معاملے میں مختلف طریقے سے ہمارا ساتھ دیا۔

وحدت نیوز(مشہد) علامہ عقیل حسین خان سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین شعبہ مشہد مقدس نے کہا ہے کہ تشیع اور پاکستان کے دشمنوں کو ایک بار پھر ذلت اور رسوائی کا سامنا ہے ،انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے آل سعود اور امریکی پٹھو جو حکومتی ایوانوں اور قومی اداروں میں بیٹھے ہیں وطن عزیز اور ملت تشیع کے خلاف کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، ملک میں افراتفری اور بے چینی پیدا کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں جسکی ایک مثال برادر ناصر عباس شیرازی کا ان کالی بھیڑوں کے ہاتھوں اغوا ہے۔ایک ماہ کی غیر قانونی گرفتاری کے بعد بھی یہ کالی بھیڑیں اپنے  مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں جس کیلئے ہم اللہ تعالی کی بارگاہ میں شکر ادا کرتے ہیں،سیکرٹری جنرل شعبہ مشہد مقدس نے کہا کہ ہم اس موقع پر قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور مرکزی کابینہ کے افراد کو مباکباد پیش کرتے ہیں جنکی شبانہ روز کوششوں سے برادر سید ناصر عباس شیرازی کو رہائی ملی۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما سید ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کی عدم بازیابی کے خلاف ملک کی شیعہ جماعتوں نے 10دسمبر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس لاہور کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ مبارک موسوی نے امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن،امامیہ آرگنائزیشن،مدارس جعفریہ اورمتعدد دیگر شیعوں جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل سید ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کے اغوا کوتقریبا ایک ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود انہیں تاحال بازیاب نہ کرایا جا رہا جوملت تشیع اور سنی شیعہ مذہبی حلقوں کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ایلیٹ فورس کی گاڑی کے ذریعے اغوا ہونے والے شخص کے بارے میں متعلقہ اداروں کی لاعلمی مضحکہ خیز ہے۔ پنجاب پولیس شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے عدلیہ کی آنکھوں میں دھو ل جھونکنے میں مصروف ہے جو ایک مقتدر ادارے کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ملک کی مختلف بڑی سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین کی طرف سے ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی کا ذمہ دار پنجاب حکومت کو ٹھرایا گیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ میں مغوی کے بھائی کی جانب سے پٹیشن دائر کی گئی جس میں شہباز شریف ، رانا ثنا اللہ اور آئی جی پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔عدالت نے پہلی سماعت کے موقع پر پنجاب پولیس کے اعلی افسران کو اگلی پیشی پر ناصر شیرازی کو پیش کرنے کے احکامات صادر کر رکھے تھے۔ گزشتہ روز اس کیس کی پانچویں سماعت تھی او متعلقہ اداروں نے عدالت عالیہ کے سامنے مغوی کی بازیابی میں ایک بار پھر ناکامی کا اظہار کیا۔ پنجاب حکومت اپنے آمرانہ اقدامات اور انتقامی سیاست میں اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ عدالتی احکامات کو بھی کسی کھاتے میں نہیں لکھتی۔یہی وجہ ہے کہ عدالت کی طرف سے مسلسل بازیابی کے احکامات صادر ہونے کے باوجود پنجاب پولیس ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔متعلقہ اداروں کا غیر آئینی طرز عمل سیاسی و مذہبی حلقوں کے لیے اضطراب اور غصے میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

یا د رہے کہ ناصر شیرازی کو یکم نومبر کو ایلیٹ فورس کی گاڑی میں واپڈا ٹاؤن لاہور سے اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گھر جا رہے تھے۔ انہوں پنجاب کے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے خلاف پیٹیشن دائر کر رکھی تھی اور ان پر عدلیہ کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔جس کے بعد ناصر شیرازی کو اغوا کر لیا گیا۔ناصر شیرازی ایک ملک گیر سیاسی و مذہبی جماعت مجلس وحدت مسلمین کے سینئر رہنما ہیں اس جماعت نے ملک میں ہونے والے 2013 کے قومی انتخابات میں حصہ لیا ۔ گلگت بلتستان کے الیکشن کے دوران بھی اس جماعت نے بھرپور سیاسی کردار ادا کیا اور وہاں سے تین نشستیں حاصل کیں۔یہ جماعت پاکستان کے پانچ کروڑ اہل تشیع کی نمائندہ سیاسی جماعت ہے یہ جماعت پاکستان میں شیعہ سنی وحدت کے فروغ کے لیے مکمل فعالیت کے ساتھ میدان عمل میں موجودہ ہے۔ناصر شیرازی نے مختلف سیاسی و مذہبی ہم خیال جماعتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔مسلم لیگ نون سے سیاسی و نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر ملت تشیع کو بالعموم اور مجلس وحدت مسلمین کو بالخصوص مسلسل انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہےْ۔ ناصر شیرازی کی گمشدگی بھی بظاہر اسی انتقام کا حصہ ہے۔

وحدت نیوز(سکردو) الہدیٰ فاونڈیشن بلتستان کے چیئرمین علی احمد نوری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماء سید ناصر عباس شیرازی کا جرم نیشنل ایکشن پلان، آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کی مکمل تائید و حمایت کرنا ہے۔ انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے بین المسالک ہم آہنگی پیدا کرنے کی کامیاب سیاسی جدوجہد کی۔ ناصر شیرازی کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے پنجاب حکومت اور رانا ثناءاللہ کی سرپرستی میں وطن عزیز پاکستان میں فرقہ وارانہ اور مسلکی آگ کو بھڑکانے کی مذموم کوششوں کے آگے سینہ سپر ہوکر لاہور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی تھی۔ رانا ثناءاللہ نے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو فرقہ وارنہ رنگ دے کر جس سوچ کا اظہار کیا، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ماضی میں اس ملک کی سلامتی اور استحکام کے ساتھ جو کھیل کھیلا گیا رانا ثناءاللہ اور اس کی حکومت اس میں برابر کی شریک رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نون لیگ کی حکومت ہمیشہ پاکستان دشمن طاقتوں اور مسلح دہشت گردوں کی حمایت سے حکومت کرتی چلی آ رہی ہے۔ پانامہ کیس میں بے نقاب ہونے کے بعد اپنی سیاست اور حکومت کو بچانے کے لیے مسلم لیگ نون ملک میں پھر افراتفری پھیلانا چاہتی تھی۔ لیکن ناصر شیرازی جیسے زیرک، باشعور اور مخلص سیاسی کارکن نے اس سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ جواب میں سادہ لباس میں راناثناءاللہ کے گلو بٹوں اور سہولت کاروں نے انہیں جبری اغواء کر کے نون لیگ کی حکومت کے چہرے سے نقاب اتار دیا۔ ناصر شیرازی اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ ان کا مقصد متعصب اور قاتل حکمرانوں کے چہرے سے نقاب اتارنا تھا۔ ناصر شیرازی کا اغواء رانا ثناءاللہ کے لیے بہت بھاری ثابت ہوگا۔ اتنے عرصے سے مذہبی سیاسی شخصیت کی عدم بازیابی ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

Page 1 of 11

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree