وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس سجاد علی شاہ کے صاحبزادے ایڈوکیٹ اویس سجاد کی پرسرار گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ماضی میں اس طرح کے واقعات میں کالعدم مذہبی جماعتیں ملوث رہی ہیں۔جب تک ان کالعدم جماعتوں کا مکمل صفایا نہیں ہوتا تب تک قانون و انصاف کی بجائے ظلم و بربریت کا راج رہے گا۔ملک دشمن عناصر نے ہائی کورٹ کے جسٹس کے بیٹے کو اغوا کر کے عدلیہ پر حملہ کیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کی گرفت تاحال مضبوط ہے اور انہیں کسی بھی شخصیت تک بآسانی رسائی حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر سندھ حکومت دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرتی اور کالعدم جماعتوں کو پنپنے کا موقعہ فراہم نہ ہوتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ ملک میں امن و امان کی ناگفتہ بہ صورتحال کے باعث ہر شخص عدم تحفظ کا شکار ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مزید چوکس رہ کر ادا کرنا ہو گئیں۔ اویس سجاد کی بازیابی کے لیے سندھ حکومت کی طرف سے فوری اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے میڈیا سیل سے جاری شدہ بیان میں علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا ہے کہ افغانستان کے علاقے مالستان غزنی میں کچھ عرصہ قبل اغوا کئے گئے سولہ ہزارہ مومنین میں سے چار افراد کو بے دردی سے شہید کرنا اس تکفیری ٹولے کی سفاکیت اور درندگی کی ایک اور مثال ہے ۔ اس تکفیری ٹولے نے پورے ریجن میں جس طرح ظلم و بربریت کا بازار گرام کر رکھا ہے یہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے معصوم انسانوں کا خون بہانا افغان حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ، افغان حکومت سے کسی خیر کی توقع کرنا حماقت ہے کیونکہ یہ دہشتگرد خود انکے پالے ہوئے ہیں افغان حکومت کی نا اہلی ،غفلت اور بے حسی کی وجہ سے دو ماہ قبل اغواء کئے گئے ہزارہ مومنین کا بازیاب نہ ہونا اس کی دلیل ہے ۔ عصر کے خوارج کی درندگی اپنی جگہ لیکن نا اہل افغان حکومت اور نا واقف سیکورٹی ایجنسیوں کی غفلت اور حکمرانوں کی بز دلی انکی درندگی سے زیادہ شرمناک ہے ۔ مجلس وحدت مسلمین اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ افغان حکومت اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کر تی ہے کہ وہ اس تکفیری ٹولے کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر سخت ترین اقدامات کریں اور دیگر تمام اغوا ء کئے گئے ہزارہ مومنین کو فوراً بازیاب کرائے ہم شہید کئے گئے افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے غم و دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

وحدت نیوز(کوئٹہ ) مجلس و حدت مسلمین کوئٹہ ڈویثرن سے جا ری کردہ ایک بیان میں ڈویژنل سیکریٹری جنرل عباس موسوی نے کہا ہے کہ گزشتہ روز قلندر مکان سے سکول کے طا لبعلم کے اغواء کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ عوام کے جان و مال کی حفا ظت حکومت کی اولین ذمہ دا ری ہے جسے ہر صو رت پورا کرنا حکومت وقت کا فر ض ہے لیکن حکومت اور ریاستی ادا روں نے عوام کو دہشت گر دوں اور اغواء کاروں کے ر حم و کرم پر چھو ڈا ہوا ہیں پہلے تو لوگو ں کو شہر کے گرد و نواں اور سنسان علاقوں سے اغواء کیا جا تا تھا لیکن اب اغواء کار اتنے دلیر اور بے خوف ہو گئے ہیں کہ لوگو ں کو بھیج با ذ ار وں سے اغواء کر کے اپنے سا تھ لے جا تے ہیں اور پو لیس اور قا نون نا فذ کرنے والے ادا رے انکا مُنہ دیکھتے رہتے ہیں اور اب نو بت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ گلی ،محلوں میں سکول کے بچے بھی اغواء کاروں سے امان میں نہیں جو انتہائی تشویش ناک ہے گزشتہ روز قلندر مکان سے سکول کے طالبعلم حسنین عبا س کو اُس وقت اغواء کیا گیا جب وہ سکول سے چٹھی ہو کر اپنے گھر کی طر ف جا رہا تھا کہ اغواء کار برا ون رنگ کے 74 ما ڈل کی گا ڈی میں آئے اور بچے کوگا ڈی میں ڈال کراپنے سا تھ لے گئے۔

 

بیان میں گلی ،محلوں سے سکول کے بچوں کے اغوا ء کی وا ردا توں پر انتہائی تشویش کا اظہار کر تے ہوئے حکومت بلوچستان ، وز یر اعلیٰ اور صو با ئی وزیر دا خلہ سے اس وا قعے کا سخت نو ٹس لیتے ہوئے ا غوا ء کار وں کی جلد از جلد اور بچے کافی الفور با زیابی اور ڈیو ٹی سے غفلت بر تنے پر متعلقہ پولیس تھا نہ اور ذمے دار افرا د کیخلاف کار وائی کرنے کا مطا لبہ کیا گیا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree