جمہوریت پاکستان میں

17 ستمبر 2014

وحدت نیوز (مانٹرنگ ڈیسک) ابتدائی دور میں انسان بادشاہ اور اس کی بادشاہی کو ایک نہ تبدیل ہونے والی اٹل حقیقت کے طور پر مانتا تھا اور اس بادشاہ اور اس کی بادشاہی کو غیر متغیر سمجھتا تھا اور اس کو تبدیل کرنا اپنے بس سے باہر سمجھتے ہوئے قدرت کے فیصلوں کی طرح قبول کرتا تھا جس طرح طوفان ،آندھی، زلز لہ یا ا سے سورج ، چاند اور سمندر وغیرہ کی طرح نہ تبدیل ہونے والی طاقت سمجھتا تھا اور پھر اس بادشاہی طاقت کے سامنے سرنگوں ہوجاتاتھا اور خود کو محکوم مان کر ہر حکم کی بے چوں چراں اطاعت کرتا تھا ۔لیکن پھر انسان نے ترقی کی اور انقلابات آنے لگے اور انسان نے ارتقاء کی منازل کو طے کرکے بادشاہ کے احتساب کرنے کے طریقے ایجاد کئے اور مزید ترقی کرکے حکمرانی میں عوامی شراکت داری کی راہ نکال لی جس کو جمہوریت کہتے ہیں۔تھوڑا سا اس جمہوریت کو سمجھنے کے لئے اس پر غور کرتے ہیں تاکہ سمجھ سکیں کہ جمہوریت ہے کیا ۔

 

چونکہ موجودہ معاشرے میں جمہوریت ایک مثبت معنی رکھتی ہے اس لئے اجتماعی طور پر کسی دوسرے نظام پر غور نہیں کیا جارہاہے جبکہ اگرجمہوریت کی اصل پرغورکیا جائے تو جمہوریت دو الفاظ کا مرکب ہے جمہوریت یونانی زبان میں DEMO\" \" یعنی عوام \"CARCY\" یعنی حکومت یہ دو الفاظ ملکر بنے \'\'DEMOCARCY جمہوریت جس کا مطلب ہے عوام کی حکومت لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوپایا۔

 

مختلف ملکوں میں جمہوری نظام مختلف معنی و تشریحات کے ساتھ نافذہے اور جمہوریت کی ایک معنی اور ایک شکل کہیں بھی نہیں ہے جیساکہ برطانیہ میں بادشاہت کے ساتھ جمہوریت ہے ، فرانس میں سیکیولر جمہوریت ہے ، امریکہ میں وفاقی نمائیندہ جمہوریت ہے اور انڈیا میں لبرل جمہوریت ہے اور کئی ملکوں میں سوشل جمہوریت ہے ، کہیں اسلامی جمہوریت ہے ۔اور جب پاکستان میں جمہوریت کے لئے سوال کرتے ہیں تو کبھی سوشل جمہوریت کہا جاتا ہے کبھی اسلامی جمہوریت کہا جاتا ہے توکبھی لبرل جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے اور کبھی وزیراعظم کو بچانے تو کبھی صدر کو ہٹانے کو جمہوریت کہا جا تا ہے اور کسی ملک میں عوام کو حقوق کم دیئے جا رہے ہیں اور کہیں کچھ بہتر حقوق حاصل ہیں ۔

 

مطلب ہر ملک میں جمہوریت جدا معنی و شرائط کے سا تھ ہے اور ہرملک میں ایک ہی طبقہ اپنے فہم ، چالاکی اور عیاری سے حکومت کررہا ہے اور اس حکومت کو عوامی حکومت کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی جمہوری ملک کے فیصلے کسی چوک یا چوراہے پرعوامی رائے سے نہیں ہوتے بلکہ جمہوریت میں عوام چند لوگوں کومنتخب کرکے اپنا مستقبل ان کے حوالے کردیتے ہیں جو بڑی بڑی اسمبلیوں میں بیٹھ کر عوام کی نمائیندگی میں عوامی فیصلے کرتے ہیں اور کئی فیصلے منتخب نمائیندے عوامی منشاء کے خلاف کرتے ہیں یعنی عملا حکومت اس منتخب طبقہ کی ہی ہوتی ہے اور وہ طبقہ اپنے آپ کو کسی کے سامنے ان فیصلوں میں جوابدہ بھی نہیں سمجھتا کیونکہ اس طبقے نے عوامی نمائیندگی حاصل کرنے کا فن سیکھ لیا ہے اور اپنے طبقے میں عوام کو آنے ہی نہیں دیتے ۔

 

پاکستان میں جمہوریت کا لفظ تو روزانہ کئی بار سنائی دیتا ہے مگر اپنے وجود کے اعتبار سے کہین بھی دکھائی نہیں دیتی حتیٰ کہ بڑے بڑے جمہوری اداروں اور جمہوری سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت ناپید ہو چکی ہے۔ایک تو ہماری جمہوریت سے جان پہچان بہت کم ہے اس لئے کہ پاکستان میں جمہوریت آتی کم اور جاتی زیادہ ہے اس کے علاوہ اگر کبھی آبھی جائے تو وہ اپنے ساتھ اتنے جمہوری فنکار لے آتی ہے کہ پورے جمہوری دور میں ہماری توجہ ان جمہوری فنکاروں کے فن اور شعبدوں کی طرف رہتی ہے اور خود جمہوریت نے کبھی اپنی جھلک بھی ہمیں نہیں دکھائی لہٰذا ہم فن کاروں کی فنکاری کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں۔

 

اور ہم یعنی بیچارے عوام ہر دور میں بدھو رام کی طرح ٹھگے جاتے ہیں ان ٹھگوں کے ہاتھوں جو ہمارے ووٹ کو الیکشن کے دوران اپنی فنکاریوں سے ٹھگ کر بڑی دیدہ دلیری سے اسمبلیوں میں بیٹھ کر اعتراف کرتے ہیں کہ الیکشن میں دھاند لی ہوئی ہے لیکن ہم جمہوریت کو بچانے کے لئے آپس میں ساتھ ہیں ِ ا ورہم بدھو رام کی طرح ان کی شکلیں دیکھتے رہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ شاید جمہوریت یہی ہوتی ہے جو ہم پر انھوں نے احسان کیا ہے یعنیٰ ووٹ دینے کی رسمی اجازت اور اس کو بھی یہ ٹھگ عوام کے ھاتھوں سے جس طرح کھونس لیتے ہیں کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے حالانکہ اس عمل سے بھی وہ ٹھگوں کا ٹولہ اپنے نا جا ئز حق حکمرانی کو جمہوریت کے نام پر بچا رہا ہوتا ہے۔

 

توکیا یہی ہے وہ جمہوریت جس کو جمہوری نا خداؤں نے پاکستان کی قسمت میں لکھا ہے اور اگر کبھی کوئی اپنا آئینی اور جمہوری حق مانگنے کی کوشش کرے تو اسی مقدس جمہوریت کو بچانے کی خاطر اسی عوام کو آئین اور جمہوریت کی مخالفت اور ملکی غداری جیسے گھناوٗ نے الزام لگا کر ان کے خون بہانے اور آزادی کو سلب کرنے کو یہی طبقہ جائز اور مباح سمجھتا چاہے اس طبقے کا تعلق حزب اقتدار سے ہو یا حزب اختلاف سے ہو

 

یہ بلکل اسی طرح ہے جیسے اسلام مخالف عناصر نے عوام کے سامنے اسلام کی ایسی شکل دکھائی ہے کہ عام انسان اسلام کے نفاذسے خوفزدہ ، دھشت زدہ ،نالاں اور بے زار نظر آرہا ہے اور ایک خاص مفاد پرست اور دھشتگرد طبقہ اس اسلام کا حامی اورمددگار بن بیٹھا ہے اسی طرح یہ خاص مفاد پرست سیاسی طبقہ سیاسی دھشتگردی کر رہا ہے اور اسی طبقے کا دوسرا گروہ اس کا حامی اور مدد گار اور حمایتی بن بیٹھا ہے او ر یہ طبقہ مل کر جھوٹی جمہوریت کے تحفظ اور نفاذ کے نام پر عوام کا قتل عام کرکے سیاسی دھشتگردی کر رہاہے ۔
لہٰذا جس طرح پاکستان میں مذھبی دھشتگردوں کے خلاف آپریشن کیا جارہا ہے اسی طرح ان سیاسی دھشتگردوں کے خلاف بھی آپریشن ہونا چاہئے ورنہ یہ سیاسی دہشتگرد پاکستان کے لئے ناسور سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہونگے۔

 

او ر اگر پاکستان کو صحیح اسلامی جمہوری ملک بنانا ہے تو جس طرح کسی مذھبی دھشتگرد سے اسلام لے کر اسلام نافذ نہیں کرنا چاہئے اسی طرح کسی سیاسی دھشتگرد سے جمہوریت لے کر جمہوریت بھی نافذ نہیں کرنا چاہئے۔

 

تحریر:عبداللہ مطہری



اپنی رائے دیں



مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree