وحدت نیوز(آرٹیکل) دہشت گردی کا ناسور اس خطہ ء ارضی سے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا،بس تھوڑا وقفہ ہوتا ہے اور پھر کوئی بڑی واردات سب کو ہلا بلکہ جگا دیتی ہے،پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کو اضلاع میں بدل دیا گیاہے مگر ابھی تک اس پہ بہت کام ہونا باقی ہے ابھی تو ابتدائی مراحل ہیں،اسی لیئے ہم ان کو ایجنسی کے طور پہ ہی لے رہے ہیں،اورک زئی ایجنسی جو ضلع کوہاٹ اور ہنگو سے منسلک ہے اس میں میں اہل تشیع کے ایک مدرسہ و مرکز کے ساتھ جمعہ بازار میں ہونے والے بم دھماکے نے ایک بار پھر یہ بتلا دیا کہ دہشت گردی کا جن ابھی تک بوتل سے باہر ہے اور جو دعوے کیئے جاتے ہیں وہ بس اخباری و کاغذی کاروائی سمجھی جائے،اورک زئی ایجنسی واحد قبائیلی ایریا ہے جس کی سرحد افغانستان سے نہیںملتی،عمومی طور پہ ہم نے دیکھا ہے کہ کسی بھی قبائلی ایریامیںہونے والے بم دھماکوں سے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد ہمسایہ ملک یعنی افغانستان سے حملہ آوار ہوئے ،یہاں تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں ،یہاں کسی بھی طرف سے سرحد افغانستان سے نہیں ملتی ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس ایجنسی میں بھی دوسری ایجنسیز کی طرح اس مائنڈ سیٹ کی حمایت اور سہولت کاری موجود ہے جو پاکستان بھر میں بم دھماکوں اور دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے،ہماری مراد طالبان ہیں جو کسی بھی شکل میں سامنے آتے رہتے ہیں کبھی طالبان تحریک کے نام سے تو کبھی کسی اور گروہ کے نام سے ،حقیقت میں ان کا کام ہی ان کی پہچان ہے اور وہ ہے بے گناہوں کا قتل عام اور اس ملک کے در و دیوار کو ہلا کے رکھ دینا،اس کے اداروںکو کمزور ثابت کرنا اور ریاست پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پہ سامنے لانا تاکہ دنیا اس ایٹمی ملک کو پریشرائز کر سکے کہ وہ ایک کمزور اور غیر ذمہ دار ریاست ہے جس کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کاہونا دنیا کو خطرات سے دوچار کر سکتا ہے ۔

اورک زئی ایجنسی کے علاقے کلایہ کے جمعہ بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں 35کے قریب لوگ شہید ہوئے جن میں دو ہندو بھی شامل ہیں،جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی پچاس کے لگ بھگ ہے جن میںکچھ کی حالت نازک بھی ہے ،یاد رہے کہ کلایہ کی اس جگہ جہاں بم دھماکہ ہوا ہے ایک مدرسہ انوار اہلبیت ؑ ہے جہاں جمعہ کا اجتماع ہوتا ہے اور جمعہ کے بعد بڑی تعداد میںلوگ خریداری کرتے ہیں،یہ بازار اور مدرسہ کافی قدیم ہیں،راقم الحروف کو پہلی بار یہاں 1988ء میں جانے کا اتفاق ہوا تھا اور ہم ایک ماہ تک ادھر ایک دینی تربیتی ورکشاپ کے سلسلہ میں مقیم رہے تھے اس وقت صرف مدرسہ ہوتا تھا اور بعد ازاں تو مدرسہ سے منسلک اسکول بھی بنایا گیا،یہ شیعہ اکثریتی علاقہ ہے ،اور یہیں سے علامہ عارف الحسینی کے بزرگوں نے ہجرت کی اور کرم ایجنسی میں جا کے آباد ہوئے ،اب بھی یہاں ان کا خاندان نمایا ںمقام و احترام رکھتا ہے ،جبکہ اورک زئی کے اسی علاقے میں علامہ عارف الحسینی کے بڑے بزرگ معروف عرفانی و ادبی شخصیت میاں انورشاہ کا بھی مزار ہے جو اہلسنت کی آبادی والی طرف ہے ،شائد اس وقت اس کا کنٹرول حکومت کے پاس ہے۔اورک زئی ایجنسی میں اس سے قبل بھی شدت پسند عناصر کی طرف سے مختلف حملے کیئے جاتے رہے ہیں اور دیگر ایریاز کی طرح یہاں پر بھی طالبان نے اپنے قبضہ کی پوری کوشش کی ہے یہاں سے سکھ کمیونٹی کے لوگوں کو اغوا اور بے دخل کیا گیا جو یہاں کے قدیمی رہائشی تھے،اسی طرح اہل تشیع پر بھی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی اور اہل تشیع کی گاڑیوں کو روڈ سائیڈ بم دھماکوں سے اڑایا گیا۔جبکہ انہی عناصر نے کوہاٹ اور ہنگو میں بھی دہشت گردی کے ذریعے اہل تشیع کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ،مگر یہاں کے غیرت مند قبائل نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انہیں ان کے ارادوں میں ناکامی سے دوچار کیا۔

جس دن اورک زئی ایجنسی میں نمازیوں اور غریب قبائلیوں کو نشانہ بنایا گیا اسی دن کراچی میں چینی قونصلیٹ پر بھی ایک دہشت گردانہ حملہ کیا گیا،فائرنگ اور بم دھماکوں میں دو پولیس اہلکار،دو کوئٹہ سے آئے باپ بیٹا اور تین مسلح دہشت گرد مارے گئے،یہ حملہ اس حوالے سے ہولناک اور خطرناک رہا کہ پہلی بار بلوچ علیحدگی پسندوں نے فدائی سٹائل میں کاروائی کی ،اور دہشت گردوں کی باقاعدہ فلم بنا کر نشر کی بالکل داعش اور طالبان حملہ آوروں کی طرح انہیں تیار کیا گیا اور ان کی ٹریننگ کی ویڈیو بھی جاری کی گئی،کسی کو شک نہیں ۃونا چاہیئے کہ اس حملے کے مقاصد کیا تھے اور اس کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما ہو سکتی ہیں، بلوچ علیحدگی پسند بھارت اور مغربی ممالک میں کھلے عام پھرتے ہیں ،کچھ افغانستان میں بھی پناہ لیئے ہوئے ہیں ان کا مقصد پاکستان اور چین کے تعلقات کو خراب کرنا اور سی پیک جس سے پاکستان کو بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں کو نقصان پہنچانا ہے،بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی این ڈی ایس اس وقت پاکستان کے خلاف مشترکہ منصوبوں پہ کام کر رہی ہیں ،یہ کاروائی بھی دراصل انہی کی کارستانی ہے جو کسی بھی صورت میں پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے ۔

کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں دہشت گردی اسلحہ و منشیات کی ریل پیل دراصل اٖفغان پناہ گزینوں کی دین ہیں جن کی بدولت پاکستان گذشتہ چالیس برس سے عذاب بھگت رہا ہے،پاکستان نے روسی حملے کے بعد اسی کی دہائی کے شروع میں افغانوں کو برادر ہمسایہ مسلم ملک کے مہاجرین کے طور پہ قبول کیا چالیس لاکھ افغان پاکستان میں پناہ گزین ہوئے اور آج تک ہمارے حکمران انہیں اپنے ملک اور وطن بھیجنے میں ناکام نظر آتے ہیں ان افغانوں نے پاکستان میں وسیع پیمانے پر کاروبارا ور شادیاں کر رکھی ہیں اور اب ان کی اگلی نسلیں یہاں کی شہریت کی حامل ہو چکی ہیں،ان کو واپس بھیجنا تقریبا ناممکن ہو چکاہے ،کے پی کے اور بلوچستان کے پختون قبائل کو ان کے ووٹس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے لہذا وہ کسی بھی طور ان کو واپس بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں ان کا تعلق دینی جماعتوں سے ہو یا قوم پرستوں سے  اس مسئلہ میںسب کی ایک ہی بات ہے اس مسئلہ میں سب یک جان ہیں،لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والے ان افغانوں سے جان چھڑوانے کا مطالبہ اب زور پکڑ چکا ہے،پاکستان کے گوش و کنار میں ہونے والی دہشت گردی کے پس پردہ بھی انہی عناصر کا ہاتھ ہے ہمارے خفیہ اداروں نے کتنے ہی کیسز میں ان کی نشاندہی کی ہے اور دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ملا ہے،چاہے وہ آرمی پبلک سکول پشاور کی دلخراش داستان ہو یا پاکستان کے خلاف برسر پیکار نام نہاد کمانڈرز اور طالبان قیادت کے قیام و طعام کا بندوبست ہو،سب ہی افغانستان میں بیٹھ کے پاکستان پہ حملہ آوار رہے،اس وقت بھی عالمی طاقتیں پاکستان اور اس خطے کو سبوتاژ کرنے کیلئے داعش کی سرپرستی کر رہی ہیں،داعش کو افغانستان میں لا کے بٹھایا اور بنایا گیا ہے اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ ان کے کیمپ قائم کیئے گئے ہیں ،اورک زئی ایجنسی میں ہونے والے حملے کو بھی داعش کے نام سے قبول کیا گیا ہے جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کاروائی عالمی ایجنڈے کا حصہ تھی،وہ قوتیں جو داعش کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہیں انہی کی طرف سے کلایہ بم دھماکہ( جسے خود کش کہا جا رہا ہے )کیا گیا ہے اور کراچی میں ہونے والی چینی قونصلیٹ کی دہشت گردی سے بھی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مسلح بلوچ علیحدگی پسند اور نام نہاد مذہبی و فرقہ وارانہ دہشت گرد اپنے اصل آقا کی چھتری تلے جمع ہو چکے ہیں اور پاکستان کے خلاف برسر پیکار ہیں،ہمارے سیکیورٹی اداروں اورحکمرانوں کو اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے ہر واقعہ کے پس پردہ در اصل ایک ہی دشمن ہے جو کہیں بلوچوں کو استعمال کر رہا ہے تو کہیں اسلام کے نام پر بد ترین دھبہ سفاک دہشت گردوں کو ،انکا نام بی ایل اے ہو یا داعش،لشکر جھنگوی ہو یا طالبان سب ایک ہی تھالی کے کچے چھٹے ہیں ان کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے اور ملک کو ان کے شر سے بچایا جائے،ہمارا پیارا ملک اور اس کے باسی ایک عرصہ سے امن،شانتی،سکون اور شادمانیوں کو دیکھنے کو ترس گئے ہیں،ان بجھے چہروں پر خوشی و مسرت کی علامات نظر آنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں،اب اس پاک دھرتی سے شر اور فساد کا خاتمہ ہو جانا چاہیئے اس کیلئے ردالفساد کے نام سے میدان سجایا جائے یا ضرب عضب کے نام سے،دہشت گردی کا خاتمہ ہمارے اداروں اور حکومتوں کی پہلی ترجیح ہونا چاہیئے ورنہ ہم اسیطرح مارے جاتے رہینگے۔

 تحریر: ارشادحسین ناصر
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کو ئٹہ ڈویژن میڈیا سیل سے جاری ہونے والی ایک بیان میںایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ شیخ ولایت جعفری نے کہا ہے کہ مخلوط کانسرٹ پروگرام کی مغربی روش کیخلاف ہے جس سے زن و مرد کے درمیان خصوصا نو جوان نسل کے بچوں اور بچیوں کے درمیان فاصلوں میں کمی آئیگی بے حیائی کیوجہ سے آج معاشرے شرح طلاق بڑھ چکا ہے ایک صالح معاشرے کی تشکیل کیلئے اخلاقی اقدار کو نہیں بھولنا چاہیئے معاشرے کو مختلف طریقوں سے اخلاقی پستی کی طرف جانے کی کوشش کی نہ صرف شدید مذمت کرتے ہے بلکہ نسل نو کی فکری اور اخلاقی تربیت کیلئے موثر علمی و اخلاقی پروگرام ترتیب دیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وطن قوم اور بزرگ ہستیوں کیلئے ملی نغمہ اور قصیدہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن مخلوط موزیکل کانسرٹ میں لہو لہب  اور شور پر مبنی میوزیکل پروگرام سے معاشرے کوبہ تدریج اخلاقی پستی کی طرف لے جانے کی اجازت نہیں دے سکتے اور نہ کسی مدحوش کی ذاتی خواہش کو ثقافت کا نام دے سکتے ہے قوم دوستی کی آڑ میں ثقافتی چہرے کو مسخ نہیں ہونے دیں گے سیاسی پارٹی کی طرف سے ایسے پروگرام کا انعقاد افسوس ناک ہے۔


           

وحدت نیوز(آرٹیکل) استاد نے بچے کو کلاس سےنکال دیا، والدین پریشان ہوئے، استاد سے استفسار کیا تو استاد نے کہا کہ آپ کا بچہ مزید تعلیم کے قابل نہیں رہا، وجہ یہ بتائی گئی کہ اس کے دماغ کی سوئی ایک جگہ اٹک گئی ہے۔استاد نے سوئی اٹکنے کی دلیل یہ دی کہ یہ ہر موضوع پر ایک ہی طرح کا مضمون لکھتا ہے۔ مثلا میں نے اسے آم پر مضمون لکھنے کو کہا تو اس نے اس طرح سے لکھا کہ آم پھلوں کا بادشاہ ہے، لیکن یہ عرب میں نہیں پایا جاتا ، یہ عرب کے بدو کیا جانیں کہ آم کیا ہوتا ہے ۔ یہ غیر مہذب عرب  آج بھی۔۔۔

پھر میں نے اسے اونٹ پر مضمون لکھنے کو  کہا تو اس نے لکھا کہ اونٹ عرب میں پائے جاتے ہیں، عرب کے بدو اونٹوں پر سواری کرتے ہیں اور اونٹوں کی طرح کینہ رکھتے ہیں، یہ غیر مہذب عرب  آج بھی۔۔۔

پھر میں نے اسے قلم  پر مضمون لکھنے کو کہا تو اس نے لکھا کہ قلم میں بڑی طاقت ہے لیکن عرب اس طاقت سے غافل ہیں، یہ غیر مہذب عرب  آج بھی۔۔۔

پھر میں نے اسے علم پر مضمون لکھنے کو دیا تو اس نے اس طرح سے مضمون باندھا کہ  علم نور ہے، علم روشنی ہے لیکن عرب اس روشنی کے بجائے عیاشی کے پیچھے لگے ہیں، یہ غیر مہذب عرب  آج بھی۔۔۔یہ بچہ ہر مسئلے کو موڑ کر اپنے من پسند موضوع میں ڈھال دیتا ہے۔

یاد رہے کہ سوئی کے اٹک جانے کا باعث اندھے تعصب کے علاوہ معلومات کی کمی بھی ہے۔اگر آپ توجہ فرمائیں تو  ہمارے ہاں اکثر لوگوں کی سوئی اٹکی ہوئی ہوتی ہے۔ آپ حکمرانوں کی  کرپشن کی بات کریں  تو وہ فوراً کہیں گے کہ لوگ بھی تو چور ہیں، آپ کرایوں میں اضافے کی بات کریں تو وہ آگے سے پھر کہیں گے لوگ بھی تو چور ہیں، آپ مہنگائی کی بات کریں تو پھر یہی جواب ملے گا کہ لوگ بھی تو چور ہیں۔۔۔یہ مسائل کو گھما کر لوگوں کی طرف لے جائیں گے۔

اسی طرح بعض لوگوں کی سوئی شیعہ سنی فساد پر اٹکی ہوتی ہے، آپ میانمار کی بات کریں یہ شیعہ سنی مسائل کو ابھارنا شروع کر دیں گے ، آپ ملک میں اسلامی اقدار کی بات کریں انہیں شیعہ سنی جھگڑے یاد آجائیں گے، آپ جہان اسلام میں اتحاد کی بات کریں یہ شیعہ سنی مناظروں پر اتر آئیں گے۔۔۔یہ ہر مسئلے کو گھسیٹ کر شیعہ سنی جھگڑوں کے ساتھ جوڑیں گے۔

اسی طرح کچھ لوگوں کی سوئی اپنے علاقائی مسائل پر اٹک جاتی ہے، آپ کہیں اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کر رہا ہے یہ  بغیر کسی موازنے اور تجزیے کے کہیں گے کہ ہم بلوچی بھی تو مظلوم ہیں، انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ  اسرائیل کے مظالم کی نوعیت کیا ہے اور فلسطینیوں کی مظلومیت کی انتہا کیا ہے۔یہ سارے مسائل کو بلوچستان کے مسائل کے ساتھ منسلک کریں گے۔

اسی طرح اگر آپ کہیں کہ کشمیر میں ہندوستان ظلم کر رہا ہے تو یہ کہیں گے کہ ہم سندھی بھی تو مظلوم ہیں، یہ کشمیر میں ہندوستان کے مظالم سے یا تو بے خبر ہوتے ہیں اور یا پھر علاقائی تعصب میں اندھے۔یہ کشمیر کےمسائل کو بھی سندھ کے گرد گھمائیں گے۔

اگر آپ کہیں کہ  یمن میں ظلم ہو رہا ہے تو یہ کہیں گے ہمارے خیبر پختونخواہ میں بھی ظلم ہو رہا ہے، کیا آپ بھول گئے کہ اے پی ایف میں کیا ہوا تھا! یہ لوگ یمن پر ہونے والے ظلم کو یا تو جانتے نہیں اور یا پھر علاقائی تعصب نے انہیں اندھا کر رکھا ہوتا ہے۔یہ سارے مسائل کی جڑیں خیبر پختونخواہ میں ڈھونڈتے ہیں۔

اگر آپ کہیں کہ سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور مسلمانوں کو لڑواکر کمزور کرنے میں غیر مسلم طاقتوں کا ہاتھ ہے تو یہ  لوگ مختلف  فرقہ پرست مولویوں کی اشتعال انگیز تقریریں اکھٹی کر کے لے آئیں گے کہ غیر مسلموں کا کوئی ہاتھ نہیں بس یہ مولوی ہی کرتا دھرتا ہیں۔

حتی کہ اگر آپ  یہ دعویٰ کریں کہ دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان سائنسدانوں کو اسرائیل  کی خفیہ ایجنسی موساد نے قتل کیا ہے تو یہ چونک کر کہتے ہیں نہیں یہ ممکن ہی نہیں مسلمانوں کو تو فقط تکفیری قتل کرتے ہیں۔۔۔

آپ لاکھ کہیں کہ تکفیری عناصر کی فکری تربیت اور مالی اعانت را اور موساد جیسی  ایجنسیاں کرتی ہیں لیکن ان کے نزدیک تکفیریت کی نشونما میں را اور موساد کا کوئی ہاتھ ہی نہیں۔

اگر آپ یہ کہیں کہ موساد کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی ایک مختصر رپورٹ یہ ہے  کہ 21 اپریل 2018 کو کوالامپور میں فلسطینی راکٹ انجنیئر کو قتل کیا گیا۔ 13 فروری کو حسن علی خیرالدین نامی پی ایچ ڈی انجنئر کو کینیڈا میں قتل کیا گیا۔ 28 فروری کو لبنان سے تعلق رکھنے والے فزکس کے طالب علم کو فرانس میں قتل کیا گیا۔ 25 مارچ کو فلسطینی نوجوان سائنسدان کو اسرائیلی فوجیوں نے قتل کیا۔ موساد کی جانب سے مسلمان سائنسدانوں کے قتل کا سلسلہ پرانا ہے۔ ان میں چند مندرجہ ذیل ہیں۔ حسن رمال فزکس کے میدان کے مانے ہوئے سائنسدان جنہیں 1991میں قتل کیا گیا۔

سعید بدیر میزائل ٹیکنالوجی میں ماہر تھے انہیں 1989 میں قتل کیا گیا۔ سمیر نجیب نامی مصری سائنسدان ایٹمی ٹیکنالوجی میں معروف تھے انہیں 1967 میں قتل کیا گیا۔ سلوی حبیب نامی محققہ جو کہ صہیونی سازشوں کو بے نقاب کرتی تھیں، انہیں اپنے ہی فلیٹ میں بیدردی سے ذبح کیا گیا۔ حسن کامل الصباح لبنانی سائنسدان جنہیں عرب کا ایڈیسن کہا گیا انہیں امریکہ میں قتل کیا گیا۔ مصطفیٰ مشرفہ نامی ماہر فزکس کو زہر دیکر فرانس میں قتل کیا گیا۔

 ڈاکٹر نبیل القلینی نامی سائنسدان جن کا تعلق مصر سے انہیں 1975 میں اس طرح جبری لاپتہ کیا گیا کہ آج تک ان کا سراغ نہ مل سکا۔ ڈاکٹر سامعیہ میمنی نامی ڈاکٹر کہ جن کی تحقیق نے دل کے آپریشن کے زاویے ہی بدل دیئے، انہیں 2005 میں قتل کرکے ان کے ایجاد کردہ آلے اور علمی تحقیقاتی مسودات کو بھی چرالیا گیا۔ یحییٰ المشدنامی جوہری سائنسدان کو فرانس میں قتل کیا گیا۔ سمیرہ موسیٰ نامی سائنسدان کہ جنہوں نے ایٹمی توانائی کے طبی مقاصد میں استعمال سے متعلق ایجادات اور تحقیق کی، انہیں بھی قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایران کے متعدد سائنسدان بالخصوص دفاعی ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد کو موساد کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں ہوگا لیکن اس کے باوجود وہ کوشش کریں گے کہ یہ ملبہ بھی کسی نہ کسی طرح تکفیریوں پر ہی ڈال دیا جائے۔

جب تک ہم  فرقوں کی منافرت، مقامی مسائل، گلی محلے کی لڑائیوں اور انتقامی سوچ سے باہر نہیں نکلتے ، تب تک ہم استشراق، دشمن کے جاسوسی اداروں اور استعمار و استکبار کی سازشوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ عصر حاضر میں امت مسلمہ کا دشمن کون ہے!اس کی تاریخ کیا ہے؟ اس کے اہداف کیا ہیں، اس کا طریقہ واردات کیا ہے؟دشمن کس طرف مورچہ زن ہے ؟ اور دشمن کی سپلائی لائن کہاں ہے؟ ان سب باتوں کو سمجھے بغیر  دشمن کی سازشوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔


تحریر:نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز(اسلام آباد) اہلیاں ضلع کرم پاراچنار نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں عمائدین کرم نوجوانان اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کی خستہ حالی ،اسٹاف کی کمی و سہولیات کی عدم دستیابی پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے نعرے لگائے اور احتجاجی بینرز اُٹھا رکھے تھے۔اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنما مولانا مزمل حسین ،شبیر ساجدی اور یوتھ آف پاراچنار کے ذاکر طور ی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی ریاست کے بنیادی حقوق میں تعلیم ، صحت ، بجلی او ر پانی میسر ہوتے ہیں۔مگر بد قسمتی سے پاراچنار کی عوام بعض اوقات سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہم ان سہولیات سے بالکل محروم ہیں۔ پاراچنار میں تعلیم پرائیوٹ اداروں کے رحم وکرم پر ہے۔ سرکاری ادارے اپنی آخری سسکیاں لے رہے ہیں۔تحفظ کے نام پر بے شمار چیک پوسٹوں، تلاشیوں اور NIL دیکھا کر پارا چنار میں داخل ہونے سے عوام بے زار ہو چکے ہیں۔

خوش قسمتی سے کچھ دہائیاں پہلے ایک ہسپتال بنا کر دیا گیا۔لیکن افتتاح کے بعد کسی نے وہاں کا حال پوچھنا گورا نہیں کیا۔جو ساڑھے چھ لاکھ آبادی کے لئے قائم یہ اکلوتا ہسپتال ہر قسم کی بنیادی ضروریات سے عاری ہے۔کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر موجود نہیں MOs پر پورے ہسپتال کی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ ICU کیلئے جگہ مختص تو کردی گئی ہے لیکن امراض قلب جیسے موذی مرض کیلئے بھی نہ کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہے نہ ہی ICU میں کوئی بنیادی سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ گائنی میں صرف دو ڈاکٹر موجود ہیں جو دن رات ڈیوٹی میں مصروف رہی ہیں لیکن اتنی بڑی آبادی کو صرف دو ڈاکٹر ز کسی صورت کنٹرول نہیں کر سکتیں۔کسی ایمرجنسی کی صورت میں ڈھائی سو کلو میٹر دور پشاور تک مریض پہنچائے جاتے ہیں۔ اتنے لمبے سفر کے بعد کوئی قسمت سے ہی زندہ بچ پاتا ہے۔

جبکہ 10 میڈیکل آفیسر ، 09 اسپشلسٹ ڈاکٹرز، 04 فی میل میڈیکل آفیسرز ،08 چارج نرس، 02 ہیڈ نرس، 08 ٹیکنیکل سٹاف اور انکے علاوہ 30 سے زائد لوئر اسٹاف کی آسامیاں گزشتہ کئی سالوں سے خالی پڑی ہیں۔ان کے علاوہ MRI اورسی ٹی سکین جیسی ضروری مشینری بھی دستیاب نہیں۔ نہ کسی اسٹنڈرڈ لیبارٹری کی سہولت موجود ہے۔ 30 سے زائد ڈاکٹرز اسٹاف کی ضرورت والے ہسپتال کا پورا بوجھ صرف 6,7ڈاکٹروں کے کندھے پر ڈالا گیا ہے۔ جن کے پاس بنیادی تشخیص کی سہولت بھی نہیں ایسی صورت میں ان کے پاس پشاور ریفر کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا،پچھلے دھرنے کے بنیادی مطالبات میں اس ہسپتال کے اے کیٹگری تک اپ گریڈیشن بھی شامل تھی۔ چیف آف آرمی اسٹاف قمر باجوہ صاحب نے منظوری کا وعدہ بھی کیا تھا۔لیکن افسوس اگر ایک آرمی چیف بھی اپنا وعدہ پورا نہ کرے تو باقی گلہ کس سے کریں۔اپ گریڈیشن کے نام ایک ٹرامہ سنٹر بنا کر دیا گیا۔ لیکن وہ بھی خالی بت ہی اس ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کیا گیا۔ہر روز عوام کے طرف سے مطالبات آتے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بنیادی ضروریات کی فراہمی سرکار کی ذمہ داری ہے۔ اس بنیادی حق کیلئے بھی ہمیں سرکار کی منتیں کرنے پڑتی ہیں۔

اس احتجاجی مظاہرے کے ذریعے آج ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ
    ۱۔پاراچنار ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے احکامات جاری کیئے جائیں۔
    ۲۔ٹرامہ سنٹر فوراً عوام کی بہبود کیلئے کھول دیا جائے۔
    ۳۔DHQ ہسپتال اور باقی ضلع کرم کے دیگرBHU اورہسپتالوں میں اسٹاف کی کمی فوری طور پر پوری کی جائے۔
    ۴۔ بالشخیل سمیت تمام اراضی تنازعات کاغذات ِ مال کے مطابق جلد از جلد حل کیئے جائیں اور تجاوزات قائم کرنے والے افراد
         سے جلد از جلد اراضی رہا کروا کے اصل مالکان کے حوالے کیئے جائیں تاکہ علاقے کا امن برقرار ہو۔

    ہم اس احتجاجی مظاہرے کے ذریعے اپنے مطالبات کو احکام بالا تک پہنچاتے ہیں تاکہ ان پرفوری طور پر عمل در آمد کا حکم جاری کیا جائے۔
        
                       

وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ پیرامیڈیکل سٹاف کے مطالبات جائز ہیں، حکومت فوری طور پر ان کے مطالبات کو تسلیم کرے اور احتجاج ختم کروائے، پیرامیڈیکل سٹاف کے احتجاج سے غریب عوام متاثر ہو رہے ہیں، احتجاج کے دوران کسی قیمتی جان کا ضیاع ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ اپنے ایک بیان میں الیاس صدیقی کا کہنا تھا کہ پیرامیڈیکل سٹاف کے اپنے جائز حقوق کیلئے جاری احتجاج پر حکومت کی بے حسی افسوس ناک ہے، انسانیت کی خدمت کرنے والوں کے جائز حقوق کو پس پشت ڈالنا انتہائی زیادتی ہے۔

حکومت اپنی عیاشیوں پر تو کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں لیکن قوم کے خدمت گاروں کو کھڈے لائن لگانا سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے سے پورے گلگت بلتستان کا پیرامیڈیکل اسٹاف احتجاج پر ہے اور کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے ابھی تک اس احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لیا، جو کہ حکومتی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیرامیڈیکل سٹاف کے مطالبات کو سنیں اور ان کے حل کیلئے راست اقدامات کرکے پیرامیڈیکل سٹاف کی بے چینی کو دور کیا جائے۔

وحدت نیوز (سندھ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے فلاحی ادارے خیرالعمل ویلفیئر اینڈ ڈیولپمنٹ ٹرسٹ صوبہ سندھ کی جانب صوبہ بھر میںسے 11 تا 13 جنوری ایام خیرالعمل منانے کا اعلان کیا گیا۔ اس سلسلے میں تمام اضلاع کو ان تین روز میں عمل خیر کے طور پر مندرجہ ذیل سرگرمیاں انجام دہی کا کہا گیا۔1۔ صفائی کے سلسلے میں لوگوں کو آگاہی دیں اپنے محلے، مسجد، امام بارگاہ اسکول یا شہر میں صفائی کا اہتمام کریں2۔ مریضوں سے ہمدردی کے عنوان سے ہسپتالوں میں جا کر مریضوں کو فروٹ،  دوا ، کھلونے بلڈ ڈونیش یا صرف ایک پھول دے کر عیادت کریں3۔ غربہ و مسکینوں کی مدد اس سلسلے میں غریبوں کے گھروں میں راشن بیگ تقسیم کرکے سردی کی مناسبت سے گرم اشیاء دے کر غریب طلبہ میں کتابیں یا ڈریس دے کر یا کچھ وقت غریبوں کے ساتھ گزار کر بھی مدد کی جاسکتی ہے۔اس پروگرام پر عمل پہرا ہوتے سندھ کے مختلف اضلاع میں بھرپور انداز میں حصہ لیا جن کی مختصر تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

ضلع دادو میں 11 جنوری کے دن ضلعی سیکرٹری جنرل اصغر حسینی کی سربراہی میں صفائی کا اہتمام کیا گیا، 12 جنوری کو تعلقہ اسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی اور پھل اور پھول پیش کیا اور  13 جنوری کے دن غریبوں کو گرم کپڑے دیے گئے اور ضلعی سیکرٹری جنرل نے غریب بچوں کے ساتھ وقت گزار۔ضلع سانگھڑ میں 12 جنوری کے دن ضلعی سیکرٹری جنرل سید عمران شاہ نے کابینہ کے ساتھ مل سید محلے کی صفائی کی اور ضلعی سیکرٹری فلاح و بہبود کی جانب سے ہسپتال میں جا کر مریضوں کے ساتھ ہمدردی کرتے ہوئے ان کی عیادت کی۔ضلع بدین  12 جنوری کے دن تحصیل ماتلی میں صوبائی اسمبلی کی ایم پی اے، ادی تنزیلا قمبرانی کے ساتھ صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم یعقوب حسینی نے ماتلی کے ہسپتال میں مریضوں کی عیادت کی اور پھل اور پھول پیش، ضلعی سیکرٹری جنرل سید نادر شاہ نے بھی بدین کے ایک ہسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی اس کے علاوہ ایم پی اے صوبہ سندھ آدی تنزیلا کی جانب سے ایام خیرالعمل کے مناسبت سے اسکول کے بچوں کتابیں اور دوسری ایشیا بھی تقسیم کی گئی۔ضلع نواب شاہ کی تحصیل دولتپور میں 11 جنوری کے دن صوبائی رہنما برادر شفقت لانگا کی قیادت میں لانگا محلے میں صفائی کا اہتمام کیا گیا۔

ضلع ٹنڈو محمد خان میں 12 جنوری کے دن شہر کے معززین کے ساتھ مل کر شجر کاری کی گئی اور 13 جنوری کے دن غریبوں کو گرم کپڑے دیے گئے۔ اور اسی ضلعی سیکرٹری فلاح وبہبود کی جانب سے ایک یونٹ میں صفائی کا اہتمام بھی کیا گیا ضلع ٹنڈو الہیار میں 12 جنوری کے دن امامبارگاہ بڑا پڑ پر صفائی کی گئی۔ضلع گھوٹکی میں 12 جنوری کے دن ضلعی سیکرٹری جنرل مولانا معشوق علی کی قیادت میں شجر کاری کی گئیضلع خیرپور کی تحصیل کنب میں صوبائی رہنما مولانا نقی حیدری نے 12 جنوری کے دن مدرسہ علی میں صفائی کا اہتمام کیا۔ضلع شکارپور میں 12 جنوری کے دن ضلعی سیکرٹری جنرل برادر فدا حسین کی قیادت میں سول ہسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی اور پھل اور پھول پیش کیا گیا ان کے ہمراہ شہر کے مشہور سرجن آفتاب احمد پٹھان بھی تھے ضلع عمر کوٹ میں 12 جنوری کے دن ضلعی سیکرٹری جنرل نے غریب بچوں میں کپڑے اور جوتے تقسیم کیا۔ضلع سجاول کی تحصیل دڑو میں 13 جنوری کے دن صوبائی رہنما مختار دائو کی وفد کے ساتھ ہسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی۔

کراچی ڈویژن میں ڈویژنل سیکرٹری فلاح و بہبود زین رضوی کی جانب سے 12 جنوری کے دن غریبوں میں رضائیں تقسیم کی اور 13 جنوری کو مولانا نشان حیدر کی جانب سے مریضوں کی عیادت کی اور جوگی موڑ یونٹ میں صفائی کا اہتمام کیا گیاکراچی ڈویژن سیکرٹری جنرل و سیکرٹری فلاح وبہبود، ضلع جنوبی کی کابینہ اور صوبائی رہنما ناصر حسینی نے ایک وفد کی صورت میں 13 جنوری کے دن جناح ہسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں کی عیادت کی اور پھل اور جوس پیش کیا ،کراچی ڈویژنل عہدے دار و ضلع شرقی عہدے داروں نے کےوفد نے 13 جنوری کے دن جے ڈی سی کے اولڈ ایج ھوم و یتیم بچوں کی رہائش کے مرکز گلستان زینبیہ س عباس ٹاؤن کا دورہ کیا اور وہاں مقیم افراد کی خیریت دریافت کی, انہیں پھل اور جوس پیش کیئے اور ان کےساتھ وقت گزارا ۔ 13 جنوری کے دن ہی ایم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن اور ضلع وسطی کےوفد نے ایام خیر العمل کی مناسبت سے مجلس علمائے شیعہ پاکستان کے مرکزی صدر, امام جمعہ مسجد نور ایمان اور بزرگ عالم دین علامہ مرزا یوسف حسین کی عیادت کی , وفد میں ایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ صادق جعفری, ناصرحسینی, زین رضوی, کاظم محمد,  عباس زیدی, اقتدارحسین شامل تھے،یم ڈبلیوایم کراچی ڈویژن اور ضلع غربی کےوفد نے ایام خیر العمل کی مناسبت سے قطر اسپتال اورنگی ٹائون کا دورہ کیا اور اسپتال میں موجود مریضوں کی خیریت دریافت کی, ان کو تحائف پیش کیےاور ان کےساتھ وقت گزارا ،قطر اسپتال کی انتظامیہ نے مجلس وحدت مسلمین کے اس پر خلوص عمل کو سراہا اور مجلس کے حق میں دعاکی۔ وفد میں ایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ صادق جعفری, , زین رضوی,امتیاز زیدی علی، اصغر جعفری ،امجد بیگ، حسنین علی اور قطر اسپتال کے امتیاز بھائی اور دیگر شامل تھے۔

ضلع حیدرآباد میں 13 جنوری کے دن ضلعی سیکرٹری لیڈیز ونگ کے تعاون سے ضلعی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم رحمان رضا نے غریبوں کو گرم کپڑے دیے گئے اور رضائیں تقسیم کی گئی?اظہار تشکر?♥ ہم ایام خیرالعمل کے سلسلے میں تین روز میں سرگرمیاں انجام دینے والے ان تمام اضلاع سیکرٹری جنرل و سیکرٹری فلاح و بہبود کابینہ کے افراد اسی طرح سے ڈویژن کراچی کے سیکرٹری جنرل و سیکرٹری فلاح و بہبود، صوبائی کابینہ میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل برادر یعقوب حسینی ، سیکرٹری رابطہ شفقت لانگا آفس سیکرٹری ناصر حسینی، سیکرٹری فنائس برادر ظہیر اور مختار دائو اور خواہر عظمی تقوی سیکرٹری جنرل لیڈیزونگ ضلع حیدرآباد کا دل کی گہرائیوں سے بہت بہت شکریہ ادا کرتے ہیں اس کے ساتھ ہم خاص طور پر ایم پی اے سندھ آدی تنزیلا کا بھی جنھوں نے ایم ڈبلیو ایم صوبہ سندھ کی اس مہم میں اپنا حصہ ڈالااس موقع پر چیئرمین خیرالعمل آقا باقر زیدی کا بھی شکریہ ادا کرتے جنھوں نے ان ایام کو منانے میں ادارے کی طرف رہنمائی کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی فرمائی۔

Page 1 of 870

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree