کراچی تا خیبرکوئٹہ تا گلگت شیعہ قتل عام جاری ہے اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ، علامہ آغا سید علی رضوی

16 مئی 2016

وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان کے زیراہتمام ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کے خلاف ایم ڈبلیو ایم بلتستان کے سیکرٹریٹ میں منعقدہ پریس بریفنگ سے آغا علی رضوی، شیخ احمد نوری ، وزیرسلیم، فدا حسین، شیخ علی محمد کریمی نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ وطن عزیز پاکستان میں دہشتگردی سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے جہاں اس عفریت نے ملک کو کمزور کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے وہاں اسلام کا چہرہ بھی مسخ کر کے رکھ دیا ہے،کراچی تا خیبرکوئٹہ تا گلگت شیعہ قتل عام جاری ہے اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ۔ اس لعنت کے خلاف پاک فوج کا آپریشن لائق تحسین ہے اور دہشتگردی کو ختم کرنے میں انہوں نے جو قربانیاں دی ہیں وہ عظیم قربانیاں ہیں۔ ہم نے اول روز سے دہشتگردوں اور دہشتگردوں کے پشت پناہوں کے ساتھ آہنی اور سخت ترین ہاتھوں سے نمٹنے کا مطالبہ کیا ہے اور آج بھی ہم یہی سمجھتے ہیں کہ دہشتگردوں کو اس کے سہولت کار دونوں اس جرم میں برابر کے شریک ہیں دونوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن محدود مقامات پر جاری ہے جبکہ سہولت کاروں کے خلاف تاحال کوئی راست اقدام نہیں اٹھا ہے یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز کے صدر مقام پر بھی بدنام زمانہ دہشتگرد جماعت داعش کے پرچم بھی لہرایا جاتا ہے اور وال چاکنگ بھی کی جاتی ہے۔ جہاں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ہمارا مطالبہ تھا وہیں ہمارا یہ بھی مطالبہ تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف ملک گیر آپریشن کیا جائے۔ جب تک دہشتگردوں کے خلاف ملک گیر آپریشن نہیں کیا جاتا دہشتگردی ختم نہیں ہوسکتی۔گزشتہ چند دنوں میں آپ نے دیکھا کہ کراچی اور ڈی آئی خان میں دہشتگردی کا رخ شیعہ مکتب فکر کی طرف مڑ گیا ہے اور چن چن کے شیعہ پروفیشنل کو شہید کیے جا رہے ہیں۔ ملک بھر میں جس منظم انداز میں شیعہ مکتب فکر کے خلاف دہشتگرد عناصر حملے کر رہے ہیں اس نے نہ صرف آپریشن ضرب عضب بلخصوص کراچی آپریشن کو زیر سوال لایا ہے بلکہ انہیں دہشتگردوں کی مخالفت اور حب الوطنی کی سزا دی جارہی ہے۔ کراچی میں معروف سماجی شخصیت خرم ذکی کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑ ی ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کلعدم جماعتوں کے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں سنجیدہ نہیں ۔ ڈیرہ اسماعیل خان اور کراچی میں جن اہم شخصیات کو چن چن کے قتل کیے جا رہے ہیں وہ قومی ایکشن پلان اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اسی گزشتہ دنوں کرم ایجنسی میں جشن میلاد پر پابندی کی کوشش اور بے گناہوں کی شہادتوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی پر امن محب وطن شہریوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کی جا رہی ہے ۔ پورے علاقے میں قومی ایکشن پلان کی آڑ میں سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے اور دہشتگرد مخالف جماعتوں کو حب الوطنی کی سزا دی جا رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں شیڈول فور میں حکمران جماعت کے مخالفوں کا شامل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لسٹ بدنیتی پر مبنی ہے اور حکمران جماعت کی سیاسی انتقام کا تسلسل ہے۔ گیارہ سال پہلے کے کیس کو فوجی عدالت میں بھیج کر صوبائی حکومت نے جانبدار کارروائی کا ثبوت فراہم کیا ہے جبکہ سانحہ چلاس،سانحہ کوہستان،سانحہ بابوسر کے دہشتگردوں کو سزا نہ ملنا قومی ایکشن پلان کے ناقص ہونے کی دلیل ہے۔

انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں سیکیورٹی صورتحال چندان حوصلہ افزا نہیں ہے ۔ ہم سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شاہراہ قراقرم سمیت گلگت بلتستان کے حساس مقامات کو فول پرول سیکیورٹی فراہم کریں اور یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی تمام مذہبی و سیاسی شخصیات کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔ ملک بھر میں منظم نسل کشی کا جو سلسلہ جاری ہے اس سے گلگت بلتستان میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور موجودہ صوبائی حکومت میں جی بی کی تمام سیاسی و مذہبی شخصیات عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہے۔ سیکیورٹی نکتہ نگاہ سے اگر کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر عائد ہوگی۔ ہم بروقت ایک بار پھر آگاہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں حکومت مخالف مذہبی و سیاسی شخصیات کو سیکیورٹی خدشات لاحق ہے انکی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا کے توسط سے ملک بھر میں جاری پر امن اور دہشتگرد مخالف نظریے کے حامل افراد کی ٹارگنگ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ملک بھر میں ٹارگٹ کلنگ کی جو لہر دوڑ گئی ہے وہ قومی ایکشن پلان پر سوالیہ نشان ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آرمی چیف ملک بھر میں جاری ٹارگٹ کلنگ پر نوٹس لیتے ہوئے ملک گیر آپریشن کیا جائے اور دہشتگردوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ ملک گیر آپریشن اور دہشتگردوں کے تمام سہولت کاروں کے خلاف سخت ترین اقدامات ملکی سلامتی کا ضامن ہے۔



اپنی رائے دیں



مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree