وحدت نیوز(کراچی) جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کے تحت کراچی کے چہلم امام حسین (ع) کے مرکزی جلوس میں شیعہ لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کیخلاف مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ احتجاجی مظاہروں سے کمیٹی کے رکن اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی اور علامہ مختار امامی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شیعہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ سمیت ہزاروں عزاداروں نے جبری گمشدگیوں کیخلاف احتجاج کیا۔ اپنے خطاب میں رہنماؤں نے کہا کہ ہم آج مظلوں کی حمایت میں کھڑے ہیں، 14 سو سالوں سے ہم ظالم کی مذمت کررہے ہیں اور مظلوموں کی حمایت کیلئے ہماری جانیں قربان ہیں، ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کو شیعہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا درد نظر نہیں آتا، مسنگ پرسنز کی آواز ملک گیر آواز بن چکی ہے، ہم حکومت وقت کو متنبہ کرتے ہیں کہ مسنگ پرسن کو فی الفور رہا کیا جائے۔

رہنماؤں نے مزید کہا کہ ملت جعفریہ کے پچیس ہزار سے زائد شہداء کے لواحقین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں، یاد رکھیں حکومتیں کفر سے تو باقی رہ سکتی ہیں مگر ظلم سے نہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے گمشدہ افراد کو بازیاب کرایا جائے، اگر ان میں سے کوئی کسی بھی جرم میں ملوث ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، ہماری عدالتیں آزاد ہیں، سزا و جزا کا حق صرف عدالتوں کو ہے، ہم اس ملک کے محب وطن اور باوفا بیٹے ہیں، وطن عزیز کو ہم بنانا ریپبلک نہیں بننے دیں گے، ہم گمشدہ افراد کے لواحقین کے ہر قسم کے آئینی و قانونی اقدامات کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنا سب پر فرض ہے دنیائے اسلام مظلوم کشمیریوں کا ساتھ دے۔ان خیالات کا اظہار مرکزی ترجمان ایم ڈبلیوایم علامہ مقصود ڈومکی نے میڈیا سیل اسے جاری بیان میں کیا۔

 انہوں نے کہا کہ تین ماہ سے مقبوضہ وادی کشمیر میں جاری بدترین کرفیوپر دنیا کی خاموشی مجرمانہ ہے ۔ دنیائے اسلام کوکشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں یک زبان ہو کر آواز بلند کرنا ہو گی ۔ پاکستان ہر اسلامی ملک کے مسائل میں ان کے ساتھ کھڑا نظر آیا اب وقت ہے کہ مسلم ممالک کشمیر ایشو پر مظلوم کشمیروں کے ساتھ پاکستان کے موقف کی تائید میں دنیا بھر میں پاکستان کا ساتھ دیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکی غلامی کی بجائے ایک آزاد اور خودمختار قوم کی حیثیت سے بننی چاہئے جو ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت پر مبنی ہو۔ ہمیں امت مسلمہ کے درمیان اتحاد و وحدت کیلیے کام کرنا چاہیے اور حق کا ساتھ دینا چاہئے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کے وزیر خارجہ انسانی حقوق کونسل میں کشمیر کے عنوان پر قرار داد جمع کروانے کے لئے سولہ ممالک کی حمایت لینے میں ناکام رہے جس کے باعث یہ قرار داد فلور پر پیش ہونے سے قاصر رہی حالانکہ اسی انسانی حقوق کونسل میں سولہ سے زائد مسلمان اسلامی ممالک بھی موجود تھے جن کے لئے پاکستان ہر مقام پر گاہے بہ گاہے اپنی خارجہ پالیسی کی بھی پروا نہیں کرتا لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان تمام ممالک میں سولہ ایسے ممالک بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار نہیں تھے کہ جو اس قرار داد کو جمع کروانے کے لئے اس پر دستخط ہی کر دیتے۔


یہ خبریں دیکھ کر پاکستان کی خارجہ پالیسی پر شدید دکھ کا احساس ہوا کہ آخر ہماری پالیسی کو کیا ہو اہے؟ کیوں آخر پاکستان جیسے بڑے اسلامی ملک کے ساتھ کھڑے ہونے والے سولہ ممالک بھی نہیں ہیں؟آخر کیوں شاہ محمود قریشی کے ہاتھوں کشمیر کا مقدمہ روزانہ کی بنیادوں پر کمزور سے کمزور ہو رہا ہے؟ ان سوالات کے جواب کے لئے جستجو کرنے سے معلوم ہو اکہ ماضی قریب میں یہی وزیر خارجہ جب اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا بیان دے سکتے ہیں تو پھر کس منہ سے کشمیر میں ہونے والی بھارتی مظالم کو ظلم کہہ سکتے ہیں؟

اسی طرح کی ایک اور قرار داد بھی انسانی حقوق کی کونسل میں پیش کی گئی، یہ قرار داد یمن کے عنوان سے پیش کی گئی تھی کہ جہاں سعودی حکومت کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے باعث دسیوں ہزار بے گناہ انسان موت کی نیند سو چکے ہیں۔

اس قرار داد پر پاکستان نے دستخط نہیں کئے یقینا یہ قرار داد شاہ محمود قریشی صاحب کی میز پر پہنچی ہو گی جس کو انہوں نے پڑھنے یا نہ پڑھنے کے بعد اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا ہو گا کیونکہ اس قرار داد میں سعودی حکومت کے ظلم کی داستانیں موجود تھیں۔ اب ذرا خود بتائیے کہ ایک طرف کشمیر میں ہونے والا ظلم و بربریت ہے جس کی ذمہ دار بھارتی افواج و حکومت ہیں اور دوسری طرف یمن پر مسلسل چار برس سے سعودی افواج کی بمباری اور حملوں کے نتیجہ میں ہونے والی دسیوں ہزار اموات اور بمباری اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال کے سبب وبائی امراض کا شکار ہونے والے لاکھوں بے گناہ انسان ہی۔

کیا کشمیر اور یمن کے مظلوموں میں کسی قسم کا فرق موجود ہے؟ کیا بھارت کے اور سعودی عرب کے مظالم میں کسی قسم کا فرق موجود ہے؟ کیا اسرائیل کی غاصب افواج کی جانب سے فلسطینیوں کا قتل عام ظلم نہیں کہلائے گا؟

جب اسرائیل ظالم ہے، بھارت بھی ظالم ہے تو پھر سعودی عرب کی حمایت میں کیوں وزیر خارجہ نے قرار داد پر دستخط نہیں کئے؟ کیوں پاکستان کو ایسے موڑ پر کھڑا کر دیا کہ جہاں یمن کے مظلوموں اور کشیر کے مظلوموں میں تقسیم پیدا کر دی؟

اب میرا سوال پاکستان کے تمام ذی شعور انسانوں سے ہے کہ جب پاکستان ایک طرف انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کے عنوان سے پیش ہونے والی قرار داد پر دستخط نہیں کرے گا تو دوسری طرف خود کس منہ سے کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کے لئے قرار داد پر دوسرے ممالک کی حمایت مانگے گا؟ کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اس طرز عمل نے پاکستان کے آئین و دستور کے خلاف اقدامات نہیں کئے؟ کیا قائد اعظم محمد علی جناح کی تعلیمات یہی ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ دوستانہ کرو؟ کیا قائد اعظم نے یہی دستور بنایا تھا کہ یمن میں انسان قتل ہوں تو پاکستان قاتل کے ساتھ کھڑا ہو جائے اور کشمیر میں انسان قتل ہو جائیں تو پاکستان مقتول کے ساتھ ہو؟ آخر ایک ہی مقام پر کس طرح پاکستان ایک کیس میں قاتل اور دوسرے میں مقتول کا ہمدرد بن کر کشمیر کا مقدمہ جیت سکتا ہے؟بہر حا ل پاکستان نے یمن کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرار داد پر دستخط تو نہیں کئے لیکن یہ قرار داد دیگر ممالک کی حمایت سے بحث کے لئے منتخب کر لی گئی البتہ پاکستان کی جانب سے کشمیر کے موضوع پر پیش کردہ قرار داد مطلوبہ حمایت نہ حاصل ہونے کے باعث ناکامی کا شکار ہو گئی۔

ہماری غلط پالیسیوں نے ہی ہمیشہ ہمیں رسوا کیا ہے۔ آج اگر ہم دنیا میں مظلوم اقوام میں تقسیم کرنا شروع کر دیں گے تو پھر کبھی بھی کشمیر کا مقدمہ موثر انداز میں
 پیش نہیں کیا جا سکتا ہے۔مظلوم چاہے فلسطین کا ہو، کشمیر کا ہو، یمن کا ہو،لبنان و شام کا ہو، عراق و ایران کا ہو، افغانستان کا ہو یا پھر برما کا ہو یا پھر کسی اور خطے کا ہو، مظلوم کی پہچان صرف یہی ہے کہ مظلوم مظلوم ہی ہے۔

اسی طرح ظالم چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر ہو، ظالم چاہے کسی بھی شکل میں ہو، بھارت کی شکل میں، اسرائیل کی صورت میں، سعودی عرب یا امریکہ کی صورت میں، اسی طرح کسی اور صورت میں موجود ہو ظالم کی پہچان صرف اورصرف ظالم ہے۔

یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک طرف قاتل کی حمایت کرے اور دوسری طرف دوسرے قاتل کو ظالم و قاتل ثابت کرنے کی کوشش کرے تو کس طرح مطلوبہ نتائج حاصل ہو پائیں گے۔

کہ جب ایک مقام پر ایک قاتل کی حمایت اور دوسرے مقام پر دوسرے قاتل کی مخالفت؟

خلاصہ یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب فی الفور وزارت خارجہ کے عنوان سے تفصیلی جائزہ لیں اور شاہ محمود قریشی صاحب کو کچھ عرصہ کے لئے ذہنی سکون کرنے کے لئے رخصت دے دیں۔پاکستان کی خارجہ پالیسی قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے بنائے گئے سنہرے اصولوں کی روشنی میں مرتب کی جائے اور اس پر عمل بھی کیا جائے اور آئین پاکستان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے وطن عزیز اور ملت پاکستان کے وقار اور عزت و سربلند ی کے لئے ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو دنیا میں پاکستان کے لئے ہزیمت و پشیمانی کا باعث بنیں۔


از قلم : صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
 پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر ، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

وحدت نیوز(نجف اشرف)سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصرعباس جعفری اربعین حسینی ؑمیں شرکت کیلئے نجف اشرف پہنچ چکے ہیں ۔ ان کے ہمراہ ایم ڈبلیوایم کے مرکزی سیکریٹری امورمالیات علامہ شیخ اقبال بہشتی، مرکزی سیکریٹری امور تعلیم نثارعلی فیضی،مسئول دفتر شعبہ امور خارجہ علامہ ضیغم عباس بھی نجف اشرف پہنچے ہیں ۔

علامہ راجہ ناصرعباس جعفری ایم ڈبلیوایم کے رہنماؤں اور پاکستان سمیت دیگر ممالک سے آنے والے عہدیداران وکارکنان کے ہمراہ آج قبل از مغربین مشی از نجف تا کربلا کا آغاز کریں گے۔ جبکہ ایم ڈبلیوایم شعبہ امور خارجہ کے زیر اہتمام20 صفر المظفر، 19اکتوبر بروز ہفتہ،بوقت9 بجے شب،برمکان حرم حضرت ابا عبداللہ الحسین ع، باب الرجاء، خاتم الانبياء ہال، کربلائے معلیٰ میں دوسری سالانہ بین الاقوامی سید الشہداء ؑکانفرنس سے خصوصی خطاب کریں گے ۔

وحدت نیوز(پشاور)مجلس وحدت مسلمین خیبرپختونخواہ کے وفدکی صوبائی وزیر عاطف خان سے ملاقات ۔ ضلع ہنگو کے جلوس پر ایف ائی آر کے اندراج سمیت ضلع کوہاٹ کے ڈی اے مسجد پر پابندی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو اس موقع پر صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ایم ڈبلیو ایم علامہ جہانزیب جعفری نے معزز شخصیات کو فورشیڈول میں ڈالنے پر بھی مفصل گفتگو کی اس ملاقات میں کوٹلی امام حسینؑ ڈی ائی خان کی زمین سے متعلق وزیراعلیٰ محمود خان صاحب کا وعدہ بھی یاد دلایاگیا۔ وفد نے پاراچنار، بالشخیل سمیت ہری پور کے مسائل پر بھی بات چیت کی۔ جلوس اور مجالس کے مسائل متعلقہ ذمہ داروں سے حل کروانے کا مطالبہ کیا۔

صوبائی وزیر عاطف خان نے اس موقع پر متعلقہ حکام سے دوبارہ میٹنگ کرانے کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ ہم متعلقہ حکام سے آپ کے دوبارہ میٹنگ بلا کر آپ کے مسائل کا حل نکالیں گے اور ہم حتی الوسع کوشش کرینگے کہ آپ کے مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر بہترسے بہتر حل نکالا جائے۔ وفد میں صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ جہانزیب جعفری، صوبائی رہنما علامہ عبدالحسین الحسینی، علامہ مرتضی عابدی اوربرادار نیر عباس جعفری بھی موجودتھے۔

 

وحدت نیوز(گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے پولیٹیکل سیکریٹری غلام عباس کی ضمانت منسوخ کرکے احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا گیا۔ گزشتہ پیشی پر عدالت کے روبروپیش ناہونے کی پاداش میں عدالت نے بغیر کسی وارننگ اور تنبیہ کے غلام عباس کی گرفتاری کا جلد بازی میں فیصلہ دے دیا۔

واضح رہے کہ 2015میں یمن میں سعودی حملے کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی نکالنے پرغلام عباس سمیت متعدد علماء اور شیعہ رہنماؤں کیخلاف اس وقت کے عبوری حکومت نے دہشتگردی کے مقدمات بنائے تھےاور سب ضمانت پر تھے، عدالت نے عدم حاضری پرغلام عباس و دیگر رہنماؤں کی ضمانت منسوخ کرکے گرفتار کرنے کا حکم جاری کیاہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی اور ایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان کے رہنماؤں نے غلام عباس کی گرفتاری پر مذمتی بیان میں کہاکہ داعی اتحاد بین المسلمین، عوامی ایکشن کمیٹی کے سرگرم مرکزی رہنما و صوبائی رہنما مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان غلام عباس کی گرفتاری بدترین ریاست گردی اور غیر آئینی علاقے میں پر امن محب وطن شہریوں کیخلاف نام نہاد دہشتگردی کے قوانین کے بےجا استعمال کا واضح ثبوت ہے۔

Page 10 of 193

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree