وحدت نیوز(ملتان) مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے زیراہتمام ولادت باسعادت حضرت محمد (ص) کے سلسلے میں سالانہ میلادالنبی ریلی نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد الحسین نیوملتان سے نکالی گئی ،ریلی کی قیادت علامہ قاضی نادر حسین علوی، علامہ غلام مصطفی انصاری، متحدہ میلاد کونسل کے رہنمائوں راو محمد عارف رضوی، رکن الدین حامدی، مولانا وسیم عباس معصومی، مولانا عمران ظفر، مولانا غلام جعفر انصاری، مولانا فرمان حیدر، سلیم عباس صدیقی،مرزا وجاہت علی، مظہر عباس کات، وسیم عباس زیدی، سید دلاور عباس زیدی، سید ندیم عباس کاظمی، عاطف حسین نے کی۔

ریلی گلشن مارکیٹ، مدنی چوک، چوک کمہارانوالہ، معصوم شاہ روڈ ، علی چوک، دولت گیٹ چوک ، حسین آگاہی سے ہوتی ہوئی گھنٹہ گھر چوک پہنچی ، جہاں قائدین نے خطاب کیا، راستے میں جگہ جگہ ریلی کے شرکاء کا استقبال کیا گیا، چوک کمہاراں والا ، کچی سرائے اور دولت گیٹ چوک پر استقبال کیا گیا،ریلی میں مسجد نبوی کے ماڈل اور سبز پرچم نمایاں تھے، ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت اتحاد و وحدت کی اشد ضرورت ہے، رسول خدا کی ذات تمام عالم اسلام کے لئے نقطہ اتحاد ہے، ہمیں رسول خدا کی محبت میں ایک ہونے کی ضرورت ہے، شیعہ سنی وحدت وقت کی اہم ضرورت ہے، ہم اس ملک میں شیعہ سنی وحدت کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، حکومت کی جانب سے عید میلادالنبی کے موقع پر انتظامات قابل تحسین ہیں۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ میلاد کونسل کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ الحمداللہ ہر سال عاشقان مصطفی کے جوش و جذبے اور ولولے میں اضافہ نظر آرہا ہے، متحدہ میلاد کونسل ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے میلادالنبی ریلی کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتی ہے، ہمیں اس شہر اور ملک کو خوبصورت بنانے کے لئے اسی اخوت اور محبت کی ضرورت ہے، ہم عاشقان مصطفی کے خادم ہیں،علامہ قاضی نادر علوی کا کہنا تھا کہ اس وقت جو ملکی صورتحال ہے اس میں رسول خدا کی عملی سیرت کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صرف زبانی دعوے خرچ سے معاشرہ میں امن قائم نہیں ہو سکتا، ہر شخص اپنی ذمہ داری ادا کرے گا تب ملک میں امن اور خوشحالی آئے گی۔ ریلی میں فخر نسیم، رانا فیضان الحسینی، ثقلین نقوی اور دیگر نے شرکت کی۔ ریلی کے آخر میں ملکی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کرائی گئی۔

وحدت نیوز(کراچی) شہر قائد میں آوارہ کتوں کی بہتات نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔مختلف علاقوں میں بچوں اور خواتین کو آوارہ اور پاگل کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ تشویش ناک ہے۔ حکومت سندھ اور شہری حکومت ان واقعات کا فوری نوٹس لیکر کتوں کے خاتمے کیلئے اقدامات کریں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کراچی ضلع ملیر کے سیکریٹری جنرل سید عارف رضازیدی نےضلعی سیکریٹریٹ وحدت ہاؤس جعفرطیار سوسائٹی ملیر میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہاکہ پورے شہر بالخصوص ضلع ملیر میں آوارہ اور پاگل کتوں کی بھرمار ہے۔ دن ہویا رات شہریوں کی آمد ورفت مشکل بن گئی ہے ۔موقع پاتے ہی آوارہ اور پاگل کتے معصوم بچوں، خواتین ، بزرگوں اور جوانوں پر حملہ کردیتےہیں ۔ گذشتہ روز جعفرطیار سوسائٹی میں اسکول جاتی بچی بھی ایک آوارہ کتے کے کاٹنے سے شدید زخمی ہوئی ۔

عارف رضا زیدی نےکہاکہ ایک جانب حکام ان کتوں کے خلاف کوئی کاروائی کرتے نظر نہیں آتے تو دوسری جانب کتوں کے کاٹے کی ویکسین بھی اسپتالوں میں دستیاب نہیں جس سے شہریوں کی قیمتی زندگیاں داؤ پرلگی ہوئی ہیں ۔ عارف رضا زیدی نے سندھ اور شہری حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور شہر میں موجود آوارہ اور پاگل کتوں کے خاتمے کیلئے موثر اقدامات بروئے کار لائے جائیںاور اسپتالوں میں کتوں کے کاٹے کی ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے17نومبر بروز اتوار ایوان اقبال لاہور میں منعقدہ وحدت کانفرنس کی دعوتی مہم زوروشور سے جاری ہے ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان مرکزی سیکریٹری امور سیاسیات اور فوکل پرسن حکومت پنجاب برائے بین المذاہب ہم آہنگی سید اسدعباس نقوی نے اس سلسلے میں دربار شاہ شمس ؒپر حاضری دی اور سجادہ نشین مخدوم طارق عباس شمسی سے ملاقات کی اور وحدت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

بعد ازاں انہوں نے سجادہ نشین تونسہ شریف خواجہ عطاءاللہ تونسوی، سجادہ نشین غوث پاک نورانی سید غوث العالمین گیلانی  ؒ، مہتمم جامعہ احیاء العلوم پھول نگر مفتی محمد ضیاالحسنین سےعلیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور انہیں وحدت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

اس موقع پر جمعیت علمائے پاکستان نیازی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر امجد چشتی ، ایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ قاضی نادر علوی، انجینئر سخاوت علی مہر بھی اسد عباس نقوی کےہمراہ تھے۔

تاریخ کے مجبور کردار

وحدت نیوز (آرٹیکل) گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں، غلطی جس کی بھی تھی، دونوں کے ڈرائیور آپس میں الجھے، ڈرائیور بھی کوئی ان پڑھ نہیں تھے، پڑھے لکھے تھے، دونوں نے ایک دوسرے کو زدوکوب کیا، لوگوں نے آکر چھڑوایا،  لیکن پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو مارنے کیلئے اچھل رہے تھے، ایسے واقعات ہم میں سے کون ہے جس نے نہ دیکھے ہونگے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں بچپن سے یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ اگر کو ئی حادثہ ہو جائے تو اس کے بعد فریقِ مخالف کے ساتھ کیسے برتاو کرنا چاہیے!؟

ہم بحیثیت قوم حادثہ ہوجانے کی صورت میں اتنا صبر نہیں کرسکتے کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کو حل کریں، حادثے صرف سڑکوں پر نہیں ہوتے، بلکہ گھروں، تنظیموں اور پارٹیوں  میں بھی ہوجاتے ہیں، اتفاق سے وہ حادثے جو ہمارے گھروں، ، تنظیموں اور پارٹیوں  میں ہوتے ہیں وہ ٹریفک حادثات سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہوتے ہیں، اگر گھروں، تنظیموں اور پارٹیوں کے لوگ غیر متوقع  واقعات اور حادثات سے نمٹنا نہ جانتے ہوں  تو  بعض اوقات کسی کی ایک غلطی سے گھر، تنظیم یا پارٹی کا شیرازہ ہی بکھر جاتا ہے۔

اسی طرح دی کی دنیا میں بھی حادثات رونما ہوتے ہیں، بعض اوقات ایک اچھا خاصا معتبر انسان  بھی دین کے اساسی اور بنیادی عقائد کے بارے میں ایسی بات کرجاتا ہے کہ جس سے عوام النّاس گمراہ ہو جاتے ہیں۔ گمراہی کو معاشرہ نہیں روک سکتا، چونکہ ہمارا معاشرہ ابھی تک ہمیں گاڑی کی ٹکر کے بعد جو کرنا چاہیے وہ بھی نہیں سکھا سکا وہ ہمیں عقائد کیا سکھا ئے گا۔

لوگوں کو گمراہی سے بچانا اور انہیں درست عقائد سمجھانا یہ  معاشرے کا نہیں بلکہ خواص یعنی متخصصین کا کام ہے۔ ایک آدمی جس نے علمِ کلام اور عقائد کو تخصص کے ساتھ حاصل نہیں کیا تو یہ واضح ہے کہ وہ عقیدے کی دنیا میں ایک غیر ماہر شخص ہےاور غیر ماہر ہونے کے لحاظ سے ایک نومولود اور ستر سال کے آدمی میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔دونوں غیرماہر ہونے کے اعتبار سے ایک جیسے ہوتے ہیں، بلکہ عقائد کے سلسلے میں بالکل کورے جاہل کی نسبت ایک نیم حکیم زیادہ مضر اور مہلک ہوتا ہے۔

جب ہم عقیدے کی منبر پر کسی غیر متخصص اور غیر ماہر کو بٹھا دیں گے تو وہ اپنی عدم مہارت کے باعث اپنی محبوب شخصیات کو ایسے بڑھا چڑھا کر پیش کرے گا کہ غلو، شرک اور کفر کا مرتکب ہوگا اور اپنی ناپسندیدہ شخصیات کے بارے میں ایسی گالی گلوچ اور لعن طعن سے کام لے گا کہ دین کے ساسی حکم وحدتِ اسلامی کو ہی پامال کر دے گا۔

ایسا شخص چونکہ مطلوبہ علم میں مہارت نہیں رکھتا ، اس لئے وہ غلو اورشرک کی حدوں کو نہیں پہچانتا اور اسی وجہ سے وہ اکتلافاتی ابحاث میں بھی کسی حدومرز کی شناخت اور منطقی و کلامی استدلال سے عاری ہوتا ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اب علوم اس حد تک زیادہ ہو چکے ہیں کہ کسی بھی علم میں متخصص کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی رائے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔اس دور میں قرآن مجید کی یہ آیہ مجیدہ ماضی کی نسبت کئی گنا زیادہ شدت کے ساتھ ہمیں جھنجوڑ رہی ہے کہ کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں۔[1]

البتہ یہ ایک عقلی مسئلہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں  ایک باشعور اور عقلمند انسان اپنے دل  کے آپریشن کیلئے کسی ان پڑھ یا نیم حکیم کے پاس نہیں جاتا چونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسا کرنے سے اس کی زندگی ختم ہو جائے گی۔جسمانی زندگی کے حوالے سے ہمارا معاشرہ اتنا بالغ ہوچکا ہے کہ وہ کسی غیر متخصص یا نیم حکیم سے علاج کروانے کو قبیح سمجھتا ہے۔لیکن  ابھی تک ہمارا معاشرہ  اس بات کو نہیں سمجھا کہ  ایک مسلمان کیلئے  جسم کی زندگی کی طرح اس کے عقیدے کی زندگی بھی ضروری ہے۔

جس طرح انسان کے دل کے ساتھ اگر کوئی نالائق آدمی چھیڑ چھاڑ کرے تو اس سے بدن کی موت واقع ہو جاتی ہے اسی طرح اگر مسلمان کے عقیدے کے ساتھ کوئی ان پڑھ چھیڑخانی کرے تو  اس سے عقیدے کی موت واقع ہو جاتی ہے جس سے انسان مشرک اور کافر ہوجاتا ہے۔

آج اسلامی معاشرے میں کو غلو، کفر، شرک ،مقصریت اور ناصبیت کا سکہ چل رہا ہے ، اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ منبر پر ان پڑھ اور نیم حکیم حضرات کا غلبہ ہے، اور یہ  ایک حقیقت ہے کہ اہلِ زر اپنی ہوا و ہوس کی تسکین کیلئے جید اور ماہر علمائے کرام کو نہیں خرید سکتے بلکہ وہ غیرمتخصص اور نیم حکیم  افراد کو خرید لیتے ہیں۔ اورجب بِکے ہوئے، نیم حکیم منبر پر بیٹھتے ہیں تو وہ غلو اور شرک کوغلط سمجھتے ہوئے بھی اس کا ظاہری طور پر دفاع کرتے ہیں چونکہ یہ ان کی مجبوری ہے۔

یہی تو تاریخ کے وہ مجبور کردار ہیں، جن کے بارے میں امیرالمومنین ؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے (زبردستى ) اپنا نام عالم ركھ ليا ہے حالانكہ وہ عالم نہيں ہے، اس نے جاہلوں اور گمراہوں سے جہالتوں اور گمراہيوں كو بٹور ليا ہے ،اس نے لوگوں كے لئے مكر و فريب كے پھندے اور غلط سلط باتوں كے جال بچھا ركھے ہيں، قرآن كو اپنى رائے  اورحق كو اپنى خواہشوں کے مطابق بیان کرتا ہے ۔

یہ بڑے سے بڑے جرائم كا خوف لوگوں كے دلوں سے نكال ديتا ہے اور كبيرہ گناہوں كى اہميت كو كم كرتا ہے ۔كہتا تو يہ ہے كہ ميں شبہات ميں توقف كرتا  ہوں حالانكہ انہيں ميں پڑا ہوا ہے۔

اس كا کہنايہ ہے كہ ميں بدعتوں سے الگ تھلگ رہتا ہوں حالانكہ انہى ميں اس كا اٹھنا بيٹھنا ہے ۔صورت تو اس كى انسانوں كى سى ہے اور دل حيوانوں كا سا ۔نہ اسے ہدايت كا دروازہ معلوم ہے كہ وہاں تک آسكے اور نہ گمراہى كا دروازہ پہچانتا ہے كہ اس سے اپنا رخ موڑ سكے۔يہ تو زندوں ميں (چلتى پھرتى ) لاش ہے۔[2]

 
تحریر: نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.


 

[1] هَلْ یسْتَوی الذینَ یعْلَمُونَ والذینَ لَا یعْلَمُونَ۔زمر ۹

[2] نهج البلاغه ، خطبه نمبر ۸۵ ، ص:

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام ملک بھر میں عید میلادالنبی ﷺ کے جلوسوں کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔درود و سلام اور لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے نعرے ہر طرف فضا میں گونجتے رہے۔اتحاد بین المسلمین کے اس فقیدالمثال مظاہرہ کو شیعہ سنی علما کی طرف سے زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد علمائے کرام اور عمائدین نے جشن عید میلاد النبی کے جلوسوں میں بھرپور شرکت کی۔ایم ڈبلیو ایم کی طرف سے مختلف مقامات پر استقبالیہ کیمپ اور سبیلوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔

کراچی میں سولجر بازار،بلدیا ٹاؤن،مارٹن روڈ،ایف سی ایریا،انچولی،نیو کراچی،گلشن اقبال،گلستان جوہر،ڈرگ کالونی،شاہ فیصل،ملیر جعفر طیار سوسائٹی،لانڈھی،کورنگی،بن قاسم،اسٹیل ٹاؤن سمیت مختلف جہگوں پر مجلس وحدت مسلمین کراچی کے عہدیداران اور علمائے کرام نے جلوس ہائے میلاد مبار ک کیلئے استقبالیہ کیمپ، سبیلیں لگائیں اور دن بھر جلوسوں میں شریک رہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پیغمبر اعظم ﷺ کی یوم ولادت کے مناسبت سے ملک بھر میں ۲۱ تا۷۱ ربیع الاول تک ہفتہ وحدت منانے کا اعلان بھی کیا ہے جس کی پر نور محافلوں کا آغاز ہوکر دیا گیا۔ صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ باقر عباس زیدی نے عید میلاد النبی ﷺ پر امت مسلمہ و عالم بشریت کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ سرورکائنات رحمت للعالمین کی ذات اقدس ہی مسلم امہ کے درمیان مرکزی وحدت ہے۔

انہوںنے کہاکہ عید میلادالنبی ﷺ کے جلوسوں میں جس اتحاد و یگانگت کے ساتھ شیعہ سنی عوام شریک ہوئے اس سے بخوبی اس بات کا انداز لگا یا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں شیعہ سنی یک جان اور متحد ہیں،نفرت اور دہشت گردی پھیلانے والوں کا دونوں مکتب سے کوئی تعلق نہیں،ماہ ربیع الاول کے اس بابرکت ایام میں جس عملی وحدت کا مظاہرہ دیکھنے آیا یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے ہیں،دہشت گرد دراصل ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دے کر مسلمانوں کو آپس میں دست و گریبان کرکے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

ایم ڈبلیو ایم رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا مملکت خداداد پاکستان کے حکمران اور سیاست دان اگر رسول کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرے تو ملک کو درپیش مشکلات اور دہشت گردی جیسے عفریت سے مکمل چھٹکارہ ممکن ہے۔

دریں اثناء جشن میلاد النبی پر مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کی جانب سے پچاس سے زائد مقامات پر استقبالیہ کیمپ و سبیلیں لگائی گی جبکہ مجلس وحدت مسلمین کراچی کی جانب سے مرکزی جلو س جشن ولادت با سعادت سرور کائنات ﷺ نشتر پارک کے شرکاء کیلئے  سولجربازارمیںاستقبالیہ کیمپ و سبیل لگائی گئی جس میں صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ باقر عباس زیدی،علامہ صادق جعفری،مولانا،احسان دانش علامہ مبشر حسن،میر تقی ظفر،ناصر حسینی سمیت کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔

وحدت نیوز(فیصل آباد) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین فیصل آباد کی جانب سے گستاخ امام زمانہ عج عبدالستار جمالی کے خلاف ضلع کونسل فیصل آباد میں احتجاجی مظاھرہ کیا گیا جس میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور ملعون عبدالستار جمالی کی فرزند رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم امام مھدی علیہ سلام کی شان میں کی گئ گستاخی پر پرزور مذمت کی۔

 اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری فلاح و بہبود محترمہ فرحانہ گلزیب نے حکومت وقت کو مخاطب کرتے ہوے کہا کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں اور احتجاج ہمارا حق ہے۔

 انھوں نے کہا کہ ہم پر امن پاکستانی ہیں لیکن ہم کسی صورت توھین رسولؐ خدا و اھلبیت رسولؐ برداشت نہیں کرینگے اھلبیت علیھم السلام اور رسول خدا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری جانشین اور شیعان اھلبیت ع کے آخری امام ، امام مھدی علیہ سلام کی حرمت پر ھماری جانیں قربان ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ توھین امام مھدی عج دراصل توھین رسالت مآب (ص) ہے حکومت کو چاہیے کہ شجرہ خبیثہ کی مثال بننے والے اس گستاخ کو جلد از جلد پھانسی کی سزا دی جاۓ اور اس کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جائے۔

Page 5 of 193

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree