وحدت نیوز(لاہور) کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں شیعہ نسل کشی کیخلاف مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ مظاہرے کی قیادت سابق سیکرٹری پنجاب علامہ مبارک موسوی نے کی جبکہ مردو خواتین نے بھی بچوںکے ساتھ مظاہرے میں بھرپور شرکت کی۔ مظاہرین نے شیعہ نسل کشی کیخلاف نعرے بازی بھی کی۔علامہ مبارک موسوی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کفر سے تو باقی رہ سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں، کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں منظم انداز میں ہماری نسل کشی جاری ہے لیکن حکمران طفل تسلیاں دےکر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔

 انہوں نے کہاکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ انٹرنیشنل گیم کا حصہ ہے تاکہ ہم مظلومین جہان کی حمایت سے دور رہے لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ظالم قوتوں کا تعاقب کرتے رہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ شیعہ نسل کشی کا سلسلہ کبھی نہیں رکا، لیکن ہم بھی مظلوم کے حق میں آواز اٹھاتے رہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے ہمیشہ ظالم کا ہاتھ روکا اور مظلوم کا ساتھ دیا ہے، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں مظلوموں کی آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتی۔

وحدت نیوز(سمہ سٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سالانہ مرکزی کنونشن سے واپس آنے والےدرجنوں کارکنان کو لیکر راولپنڈی سے کراچی آنے والی پاکستان ایکسپریس سمہ سٹہ کے مقام پر گذشتہ8گھنٹوں سے تاخیر کا شکارہے،بیابان میں کھڑی ٹرین میں کھانے پینے کی اشیاءکی شدیدقلت کا سامناہے، گرمی اور حبس کے باعث مسافر بے حال ہیں،ٹرین میں موجود عہدیداران نے وحدت نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ مسافروں کے صبرکا پیمانہ اس وقت لبریز ہوگیا جب گذشتہ دنوں افتتاح کی جانے والی جناح ایکسپریس کو متبادل ٹریک سے کراچی روانہ کیا گیا اور پاکستان ایکسپریس کو آگے جانے کی اجازت نا دی گئی،ریلوے حکام کے اس اقدام کے بعد پاکستان ایکسپریس کے مسافروںریلوے ٹریک بلاک کرکے شدید احتجاج کیا، بعد ازاں پولیس حکام نے مسافروں سے مذاکرات کیئے اور کہاکہ آگے ایک مال گاڑی کی چند بوگیاں پٹری سے اتر گئی ہیں اس لئے ٹرین تاخیر کاشکار ہے ، انشاءاللہ ایک گھنٹے میں ٹریک کلیئرہونے پر ٹرین روانہ ہوجائے گی ،آخری اطلاعات موصول ہونے تک ٹرین تاحال اسی مقام پر کھڑی ہے ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) ڈیرہ اسماعیل خان کے مظلومین کو آج آپ کی حمایت کی ضرورت ہے،ڈیرہ اسماعیل کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار ہے، مائیں جوانوں کے لاشے دیکھ دیکھ کر تھک چکی ہیں، بہنوں کے اشک خشک ہوچکے ہیں، بوڑھے کاندھوں میں جوان بیٹوں کے مزید جنازے اٹھانے کی ہمت نہیں رہی، گھر یتیم بچوں سے بھر چکے ہیں، خواتین کے سہاگ روز اجڑ رہے ہیں، بھائیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے، ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی مرکزی تنظیم سازی کمیٹی کے رکن سید عدیل عباس زیدی نے اپنے ایک بیان میں کیا۔

انہوں نے کہاکہ آج ڈیرہ اسماعیل خان کے مظلومین پورے پاکستان کیطرف دیکھ رہے ہیں، جس طرح ہم سب نے ملکر پاراچنار کا محاصرہ توڑا، کوئٹہ سانحہ پر ملک گیر دھرنوں سے رئیسانی حکومت ختم کی، اب وقت آگیا ہے کہ پورے پاکستان کے شیعہ ڈیرہ اسماعیل خان کے مظلوم مومنین کی مدد کیلئے آگے بڑھیں اور جمعتہ المبارک کو ملک گیر احتجاج کے دوران پرامن طریقہ سے اپنی مضبوط آواز بلند کریں۔ نوجوان سوشل میڈیا پر بھرپور طریقہ سے اس ایشو کو اجاگر کریں، سیاسی و سماجی طبقات کو اپنا ہم آواز بنائیں، بیرون ملک پاکستانی اس انسانی المیہ پر اپنا رول ادا کریں، پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا کو متحرک کریں،تاکہ اس قتل عام کے سلسلے کو روکا جاسکے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے شیعہ مکتب فکر کی توہین اور اس پر سنگین الزامات پر مبنی نوٹیفکیشن کے اجراءپر ملت جعفریہ کے شدید غم وغصے ، مجلس وحدت مسلمین کےسربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کے وزیر اعظم عمران خان سےنوٹس لینے کے مطالبے اور مرکزی پولیٹیکل سیکریٹری سید اسدعباس نقوی کے وفاقی حکومت سے بھرپوراحتجاج ، خدشات اور اعتراضات کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر ٹویٹ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کی طرف سے جاری مبینہ نوٹیفکیشن کے مواد کا سختی سے نوٹس لے لیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے نوٹیفکیشن مخصوص طبقے کیلئے جاری کیا گیا، جس میں ایک خاص مکتب فکر کا ذکر کیا گیا ہے، جس کا وزیراعظم نے نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو فوری تحقیقات کا حکم دیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ایسے موقع پر نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہاہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ہم اس مندجہ زیل متنازعہ نوٹیفکیشن کا جائزہ لے رہے ہیں جوکہ ہماری حکومت کی پالیسی میں شامل ہی نہیں ہے،پاکستان سب کاہے اور سب کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی آوازبلند کرے اورنئے پاکستان میں کسی کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کے مسلک یا عقیدے کی بنیادپر اسے چیلنج کرے ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) اہلیاں ضلع کرم پاراچنار نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں عمائدین کرم نوجوانان اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کی خستہ حالی ،اسٹاف کی کمی و سہولیات کی عدم دستیابی پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے نعرے لگائے اور احتجاجی بینرز اُٹھا رکھے تھے۔اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنما مولانا مزمل حسین ،شبیر ساجدی اور یوتھ آف پاراچنار کے ذاکر طور ی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی ریاست کے بنیادی حقوق میں تعلیم ، صحت ، بجلی او ر پانی میسر ہوتے ہیں۔مگر بد قسمتی سے پاراچنار کی عوام بعض اوقات سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہم ان سہولیات سے بالکل محروم ہیں۔ پاراچنار میں تعلیم پرائیوٹ اداروں کے رحم وکرم پر ہے۔ سرکاری ادارے اپنی آخری سسکیاں لے رہے ہیں۔تحفظ کے نام پر بے شمار چیک پوسٹوں، تلاشیوں اور NIL دیکھا کر پارا چنار میں داخل ہونے سے عوام بے زار ہو چکے ہیں۔

خوش قسمتی سے کچھ دہائیاں پہلے ایک ہسپتال بنا کر دیا گیا۔لیکن افتتاح کے بعد کسی نے وہاں کا حال پوچھنا گورا نہیں کیا۔جو ساڑھے چھ لاکھ آبادی کے لئے قائم یہ اکلوتا ہسپتال ہر قسم کی بنیادی ضروریات سے عاری ہے۔کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر موجود نہیں MOs پر پورے ہسپتال کی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ ICU کیلئے جگہ مختص تو کردی گئی ہے لیکن امراض قلب جیسے موذی مرض کیلئے بھی نہ کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہے نہ ہی ICU میں کوئی بنیادی سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ گائنی میں صرف دو ڈاکٹر موجود ہیں جو دن رات ڈیوٹی میں مصروف رہی ہیں لیکن اتنی بڑی آبادی کو صرف دو ڈاکٹر ز کسی صورت کنٹرول نہیں کر سکتیں۔کسی ایمرجنسی کی صورت میں ڈھائی سو کلو میٹر دور پشاور تک مریض پہنچائے جاتے ہیں۔ اتنے لمبے سفر کے بعد کوئی قسمت سے ہی زندہ بچ پاتا ہے۔

جبکہ 10 میڈیکل آفیسر ، 09 اسپشلسٹ ڈاکٹرز، 04 فی میل میڈیکل آفیسرز ،08 چارج نرس، 02 ہیڈ نرس، 08 ٹیکنیکل سٹاف اور انکے علاوہ 30 سے زائد لوئر اسٹاف کی آسامیاں گزشتہ کئی سالوں سے خالی پڑی ہیں۔ان کے علاوہ MRI اورسی ٹی سکین جیسی ضروری مشینری بھی دستیاب نہیں۔ نہ کسی اسٹنڈرڈ لیبارٹری کی سہولت موجود ہے۔ 30 سے زائد ڈاکٹرز اسٹاف کی ضرورت والے ہسپتال کا پورا بوجھ صرف 6,7ڈاکٹروں کے کندھے پر ڈالا گیا ہے۔ جن کے پاس بنیادی تشخیص کی سہولت بھی نہیں ایسی صورت میں ان کے پاس پشاور ریفر کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا،پچھلے دھرنے کے بنیادی مطالبات میں اس ہسپتال کے اے کیٹگری تک اپ گریڈیشن بھی شامل تھی۔ چیف آف آرمی اسٹاف قمر باجوہ صاحب نے منظوری کا وعدہ بھی کیا تھا۔لیکن افسوس اگر ایک آرمی چیف بھی اپنا وعدہ پورا نہ کرے تو باقی گلہ کس سے کریں۔اپ گریڈیشن کے نام ایک ٹرامہ سنٹر بنا کر دیا گیا۔ لیکن وہ بھی خالی بت ہی اس ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کیا گیا۔ہر روز عوام کے طرف سے مطالبات آتے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بنیادی ضروریات کی فراہمی سرکار کی ذمہ داری ہے۔ اس بنیادی حق کیلئے بھی ہمیں سرکار کی منتیں کرنے پڑتی ہیں۔

اس احتجاجی مظاہرے کے ذریعے آج ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ
    ۱۔پاراچنار ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے احکامات جاری کیئے جائیں۔
    ۲۔ٹرامہ سنٹر فوراً عوام کی بہبود کیلئے کھول دیا جائے۔
    ۳۔DHQ ہسپتال اور باقی ضلع کرم کے دیگرBHU اورہسپتالوں میں اسٹاف کی کمی فوری طور پر پوری کی جائے۔
    ۴۔ بالشخیل سمیت تمام اراضی تنازعات کاغذات ِ مال کے مطابق جلد از جلد حل کیئے جائیں اور تجاوزات قائم کرنے والے افراد
         سے جلد از جلد اراضی رہا کروا کے اصل مالکان کے حوالے کیئے جائیں تاکہ علاقے کا امن برقرار ہو۔

    ہم اس احتجاجی مظاہرے کے ذریعے اپنے مطالبات کو احکام بالا تک پہنچاتے ہیں تاکہ ان پرفوری طور پر عمل در آمد کا حکم جاری کیا جائے۔
        
                       

وحدت نیوز(شکارپور) وارثان شہداء کمیٹی شکارپور کے زیر اہتمام شکارپور میں شیعہ مراکز مساجد اور امام بارگاہوں کی سیکورٹی کلوز کرنے اور ایس ایس پی کے متعصبانہ رویئے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت مجلس وحدت مسلمین سندہ کے سیکریٹری جنرل اور شہداء کمیٹی کے چیئرمین علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کی جبکہ ریلی میں وارثان شہداء قمر الدین شیخ، محمد عظیم سومرو، شہداء کمیٹی کے رہنما سکندر علی دل؛ ، ایم ڈبلیو ایم کے ضلعی سیکریٹری جنر ل برادر فدا عباس لاڑک ، برادر اصغر علی سیٹھار، و دیگر شریک ہوئے۔

اس موقعہ پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا کہ شکارپور جیسے حساس ضلعے میں سیکورٹی کلوز کرکے دھشت گردوں کو آسان ٹارگٹ دیا گیا ہے جبکہ وارثان شہداء اور جو وکلاء اس کیس کی پیروی کر رہے ہیں ، انہیں مسلسل دھشت گردوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اہم شیعہ مراکز، شخصیات اور امام بارگاہوں سے کل 64 پولیس ہٹا کر انہیں غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے، جبکہ ایس ایس پی شکارپور ساجد سدوزئی کے متعصبانہ روئے نے شکارپور ضلع کے حالات کو تشویش ناک بنا دیا ہے۔ آئی جی پولیس اور سندہ حکومت اس منفی اور متعصبانہ رویئے کا فوری نوٹس لیں۔

انہوں نے کہا کہ وارثان شہداء نے جمعہ21 دسمبر کو یوم احتجاج منانے کا فیصلہ کیا ہے میں سندہ کے عوام خصوصا عاشقان اہل بیت ؑ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ وارثان شہداء کی اپیل پر جمعہ 21 دسمبر کو یوم احتجاج منائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ شیعہ مراکز کو حسب ضرورت سیکورٹی دی جائے اور وارثان شہداء سے کئے گئے معاہدے پر مکمل عمل در آمد کیا جائے۔

Page 2 of 43

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree