وحدت نیوز(جیکب آباد) ایس ایس پی ہٹاؤ ۔۔۔جیکب آباد بچاؤ تحریک آٹھویں روز میں داخل ہوگئی، مسلسل آٹھویں روز بھی پریس کلب پر مجلس وحدت مسلمین اور آل شیعہ تنظیموں کے رہنماوں نے بھوک ہڑتال جاری رکھی۔ پریس کلب جیکب آباد کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ 21 رمضان شہادت امیر المومنین امام عــــلی علیہ السلام کے پور امن جلوس پر پولیس کی طرف سے کی گئی کروائی کی شدید الفاظ میـــں مذمت کرتے ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ یہ کہا کا قانون ہے کہ ایس او پی صرف ذکر اہلبیت ع کے پور امن جلوسوں پر نافذ ھوتی ہے، عزاداری سید الشہدا امام حســـین ع ہمارا بنیادی اور قانونی حق ہے ہم مسلسل سراپا احتجاج ہیں، ایس ایس پی بشیر بروھی کے خلاف ہم مطالبہ کرتے آئی جی سندھ، وزیر اعلی سندھ اور چیف چسٹس آف پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد صاحب سے کے فوری طور پر ایس پی بشیر بروھی کو معطل کیا جائے اور عدالتی انکوائری کی جائے بصورت دیگر ملت جعفریہ پاکستان بھرپور احتجاج کرنے کا حق رکہتی ہے ۔یہ کہا کا قانون ہے کہ آزاد میڈیا کو دہمکایا جار رہا ہے ہم اس بات کی بھی شدید الفاظ میـــں مذمت کرتے ہیں۔

وحدت نیوز(آرٹیکل)2011 سے اب تک شام کی سر زمین پر ایک ملین کے قریب انسانوں کے قتل، اور پانچ ملین کے قریب انسانوں کو ملک کے اندر اور باہر ہجرت پر مجبور کرنے کے بعد کوئی بھی عقل مند شخص یہ بات قبول نہیں کر سکتا کہ "قانون قیصر " امریکی کانگریس  نے شامی عوام کی محبت اور انکے دفاع کی خاطر بنایا ہے. سیرین عوام کیسے قبول کر سکتے ہیں، کہ امریکہ انکا ہمدرد ہے، جبکہ اس نے غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کو فلسطین کی سرزمین پر مسلط کیا، اور ہمیشہ فلسطین کے علاوہ اردن ، مصر ، لبنان اور شام کی سرزمینوں پر ناجائز اسرائیلی قبضے کی مکمل پشت پناہی کی. اور حال ہی میں ٹرامپ نے اعلان کیا کہ مقبوضہ جولان بھی اسرائیل کی قانونی ملکیت ہے. تاریخ میں ایک مرتبہ بھی اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر امریکہ نے شامی عوام کے حق کی کبھی بھی حمایت نہیں کی. لاکھوں دھشتگردوں کو دنیا بھر سے لا کر تباہی وبربادی پھیلانے اور بے گناہ عوام کے قتل عام کے لئے جدید ترین اسلحہ فراہم کرنے اور ان درندوں کی ہر طرح کی مدد کرنے کے بعد امریکہ آخر میں پوری دنیا کے سامنے یہ جھوٹ بولے کہ اسے شامی عوام کی فکر وہمدردی ہے یہ ہر گز قابل قبول نہیں.  

بلکہ حقیقت یہ کہ اس قانون کا مقصد جنگ زدہ شامی عوام کی انسانی بنیادوں پر مدد کرنے کے اقوام متحدہ کے فیصلے کے سامنے رکاوٹیں حائل کرنا ہے. تاکہ شامی عوام کا مزید اقتصادی استحصال ہو. اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم اور کسم پرسی و شدید غربت وفقر وافلاس میں مبتلا بیگناہ عوام کو زندہ رہنے کے حق سے بھی محروم کیا جا سکے. وہ امریکہ کہ جس نے چند سالوں سے ملک شام کی  سرزمین کے ایک حصے پر ناجائز غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے اور اپنے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں. اور اس ملک کے معدنیات اور تیل کے ذخائر کو لوٹ رہا ہے امریکی صدر ٹرامپ پوری وقاحت سے دنیا کے سامنے اعلان کرتا ہے کہ شام کے تیل کے ذخائر میرے اختیار میں ہیں. اتنے بڑے جنایتکار اور کھلے دشمن کو شامی عوام سے ہرگز ہمدردی ہو نہیں سکتی.  اور نہ ان تکفیری پراکسیز اور امریکی اتحادی ممالک کو ہمدردی ہو سکتی ہے، جو اس ملک کی تباہی اور عوام کے قتل عام میں شریک ہیں.  اور انکے میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا چلتا رہتا ہے.

داعش کی شکست اور امریکی وترکی واسرائیلی خوابوں پر پانی پھر جانے اور مقاومت کے بلاک کی مسلسل کامیابیوں کے بعد بہت سے ممالک نے شام کے ساتھ دوبارہ سفارتی تعلقات بڑھانا شروع کئے. کئی سالوں سے مختلف ممالک کے بند سفارتخانے اور قنصل خانے فعال ہوئے. شام کے بارے میں امریکی سیاست کو تنہائی کا احساس ہوا. اقوام متحدہ کی تائید اور روس ، ایران ، ترکی وشام حکومت واپوزیشن کے مابین آستانہ اور سوچی شہروں میں شامی بحران  کے سیاسی حل کے لئے مذاکرات کا سلسہ شروع ہوا، اور شام میں جنگ کے خاتمے کے مرحلے کا آغاز ہوا تو امریکی تنہائی اور بڑھ گئی. امریکہ نے دیکھا کہ اربوں اور کھربوں ڈالرز خرچ کرنے بعد نہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور نہ ہی شام کی تعمیر نو اور مستقبل کی سیاست میں اسکا کو کردار ہو گا. اس لئے شام کے مستقبل کے مذاکرات میں شرکت کرنے اور سیاسی مفادات حاصل کرنے اور اپنا دباؤ بڑھانے کے لئے قانون قیصر کا سہارا لیا. اور شام پر مزید اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دی. اس اندھے قانون کی شقوں کے مطابق "قانون قیصر " کی زد میں فقط شام حکومت ہی نہیں آتی، بلکہ اسکی زد میں ہر وہ ملک بھی آتا ہے جو شام کے ساتھ تجارتی و اقتصادی تعلقات بڑھائے گا. اور جو کسی قسم کی امپورٹ وایکسپورٹ کرے گا، یا شام کو ضروریات زندگی فراہم کرنے اور تعمیر نو میں اسکی مدد کرے گا. بلکہ اس کی زد میں وہ کمپنیاں ، بنک اور دیگر ادارے وافراد بھی آتے ہیں جو کسی قسم کے علمی تجربات ومعلومات ، مینجنگ اینڈ پلاننگ خدمات وغیرہ فراہم کریں گے.

لیکن جیسے ملک شام اس طولانی جنگ میں تنہا نہیں تھا.  اب بھی تنہا نہیں رہے گا. شام کے اتحادی اور دوست ممالک کل بھی شام کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی شام کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے. اور امریکہ کا یہ حربہ بھی سابقہ حربوں کی مانند بری طرح ناکام ہوگا. اور امید تو یہی ہے کہ روس ، چین ، ایران اور دیگر دوست واتحادی ممالک اس اقتصادی جنگ میں بھی امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو شکست دیں گے. جیسے وینزویلا پر امریکی پابندیوں کو چیرتے ہوئے ایرانی تیل سے بھرے بحری جہاز کاراکاس پہنچے تھے اور اقتصادی حصار کو توڑا تھا ایسا ہی کل 13/06/2020 کو ملک شام کے وفادار و اتحادی اور بردار ملک ایران کا امدادی  سامان سے بھرا بحری بیڑہ (شہر کرد ) تمام تر امریکی پابندیوں کو روندتے ہوئے شام کے لاذقیہ شہر کے ساحل پر لنگر انداز ہوا ہے، اور اس سفر کے دوران ایرانی جنگی آبدوزیں پورا راستہ اسکی حفاظت کے لئے تیار اس کے ہمراہ رہیں.

تحریر: علامہ ڈاکٹر شفقت شیرازی

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ سید باقرعباس زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں،پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردی ملکی معیشت پر حملہ ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں ملوث دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو فوری گرفتار کیا جائے۔حکومت کو دہشتگردوں کے خلاف سابقہ کامیاب کاروائیوں کی طرح سخت آپریشن کاسلسلہ جاری رکھنا ہوگا۔حملے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے اہلخانہ کے درد میں شریک غم ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیکورٹی اہلکاروں کی موثر کاروائی کے نتیجے میں پاکستان دشمن عناصر کو ناکامی ہوئی۔ دہشتگردی کے واقعے میں شہید ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی ہے۔واقعے میں زخمی سیکورٹی اہلکاروں کی جلد از جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔

 

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک )پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں واقع بازارِ حصص، پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر پیر کو شدت پسندوں نے حملے کی کوشش میں چار حملہ آوروں سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مجید بریگیڈ کے ارکان نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق یہ واقعہ صبح دس بجے کے قریب پیش آیا اور ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور پارکنگ کے راستے عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے اور انھوں نے دستی بم پھینک کر رسائی حاصل کی۔

نامہ نگار کے مطابق کراچی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی جانب سے فائرنگ اور دستی بم کے حملے میں داخلی دروازے پر ڈیوٹی پر موجود کراچی پولیس کا ایک سب انسپکٹر اور سٹاک ایکسچینج کے دو محافظ ہلاک ہوئے۔

ترجمان کے مطابق پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں تین پولیس اہلکار، دو سکیورٹی گارڈ اور سٹاک ایکسچینج کے ملازم سمیت دو شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل ایک بیان میں پولیس کے ترجمان کی جانب سے اس واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد دس بتائی گئی تھی۔

پولیس سرجن ڈاکٹر قرار عباسی کے مطابق ان کے پاس اب تک سات لاشیں آئی ہیں جن میں چار حملہ آور، دو سکیورٹی گارڈ اور ایک پولیس اہلکار کی لاش شامل ہیں۔

پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے پاس موجود جدید اسلحہ، دستی بم اور دیگر اشیا کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری اس واقعے کے بعد عمارت کے باہر موجود رہی اور کراچی پولیس کے ترجمان کے مطابق علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت اور اطراف کی بھی تلاشی لی گئی ہے۔

سندھ کے ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور ایک سِلور رنگ کی کرولا گاڑی میں آئے اور انھیں پولیس کی جانب سے باہر گیٹ پر روکا گیا جہاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو حملہ آور گیٹ کے باہر مارے گئے جبکہ دو اندر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تاہم انھیں بھی مار دیا گیا ہے۔

غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ حملہ آور مرکزی عمارت میں داخل نہیں ہوسکے اور ان سے دستی بم، دھماکہ خیز مواد اور دیگر اسلحہ برآمد ہوئے۔

سٹاک ایکسچینج کے ایم ڈی فرخ خان نے بھی جیو ٹی وی کو بتایا کہ حملہ آور عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوئے اور سٹاک ایکسچینج کے احاطے میں ہی داخل ہو پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریڈنگ فلور پر کاروباری سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئی۔

کراچی سٹاک ایکسچینج کا دفتر کراچی کے 'وال سٹریٹ' آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے اور اس کے ساتھ سٹیٹ بینک پاکستان، پولیس ہیڈ کوارٹر اور کئی دیگر بینکس اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر ہیں۔

سندھ رینجرز کا مرکزی دفتر بھی ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس عمارت میں روزانہ کئی سو افراد کاروبار اور روزگار کے سلسلے میں آتے ہیں۔

بلوچ لبریشن آرمی کے جس مجید بریگیڈ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اسے مجید بلوچ نامی شدت پسند کے نام پر تشکیل دیا گیا جس نے 1970 کی دہائی میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر دستی بم سے حملے کی کوشش کی تھی۔

یہ وہی بریگیڈ ہے جس نے گذشتہ برس گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے گذشتہ ماہ کے دوران بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں پر تین حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی گئی تھی۔

اس کالعدم شدت پسند تنظیم کی جانب سے ماضی میں جن حملوں کی ذمہ داری قبول کی جاتی رہی ہے، ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

    مئی 2020: فوجی اہلکاروں پر خودکش حملہ، چھ اہلکار ہلاک، ایک زخمی (کیچ، بلوچستان)
    مئی 2020: فرنٹیئر کور کی گاڑی پر حملہ، چھ اہلکار ہلاک، چار زخمی (مچھ، ضلع کیچ، بلوچستان)
    مئی 2020: سیکیورٹی فورسز پر حملے میں فرنٹیئر کور کا ایک اہلکار ہلاک (مند، ضلع کیچ، بلوچستان)
    مئی 2019: پرل کانٹیننٹل ہوٹل پر حملہ، تین حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک (گوادر، بلوچستان)
    نومبر 2018: چینی قونصل خانے پر حملہ، سات افراد ہلاک (کراچی، سندھ)
    اگست 2018: سیندک منصوبے کے کارکنان کی بس پر حملہ، تین چینی انجینیئرز سمیت پانچ زخمی (دالبندین، بلوچستان)

وحدت نیوز(ملتان) مجلس وحدت مسلمین صوبہ جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ سید اقتدار حسین نقوی نے کہا ہے کہ حکومت کا بنیادی کام عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنا ہوتا ہے مگر موجودہ حکومت نے عوام پر پٹرول بم گرا کر انہیں مزید مشکلات کا شکار کردیا ہے۔ گذشتہ تین ماہ سے جاری لاک ڈاون کی وجہ سے بیشمار لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں، کاروبار تباہ اور معمولات زندگی ابتر ہوچکے ہیں، ایسی صورتحال میں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رعایا کو ہر ممکن سہولت اور آسانی مہیا کرے، مگر اچانک پٹرولیم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہوجائے گی۔

 جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تو اس کا فائدہ بھی عام آدمی تک نہیں پہنچ سکا، اب جبکہ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے تو اس سے مہنگائی کا ناختم ہونیوالا طوفان آئے گا۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ضروری اقدامات کریں نہ کہ اپنی ناقص اور عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کریں۔ ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے اور ہمہ قسم بحرانوں سے نجات کیلئے عام آدمی کو خوشحال کرنا ہوگا۔

وحدت نیوز(گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کی پولیٹکل کونسل نے صوبائی اسمبلی انتخابات 2020ء کے لئے تمام حلقوں سے اُمیدواروں سے درخواستیں طلب کر لیں۔ اُمیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ صوبائی سیکرٹریٹ ہسپتال روڈ گلگت سے دفتری اوقات میں فارم وصول کریں اور 5 جولائی 2020ء تک جمع کروا دیں۔ ضروری جانچ پڑتال کے بعد حتمی اُمیدواروں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار اچھی شہرت، کردار، تعلیم یافتہ ہوں نیز مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نصب العین سے متفق ہو۔

مجلس وحدت مسلمین جی بی کے سیکرٹری سیاسیات غلام عباس کا کہنا ہے کہ چونکہ ایم ڈبلیو ایم ایک پارلیمانی سیاسی جماعت ہے اور جمہوری اقدار پر یقین رکھتی ہے۔ جماعت کے نصب العین سے متفق تعلیم یافتہ، باکردار اور اچھی شہرت کے حامل اُمیدواروں سے درخواستیں 5 جولائی تک طلب کر لی گئیں ہیں۔ وہ تمام اُمیدوار جو اس جمہوری، سیاسی عمل کا حصہ بننے کے لئے الیکشن 2020ء میں حصہ لینا چاہتے ہیں, ایم ڈبلیو ایم ان تمام اُمیدواروں کو خوش آمدید کہتی ہے، البتہ ٹکٹ کا فیصلہ میرٹ پر ہوگا اور مرکزی پولیٹکل کونسل بہت جلد ٹکٹوں کا اعلان کرے گی۔

Page 2 of 1473

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree