وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ملک میں کورونا کی سنگین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہنگامی صورتحال کی نشاندہی کر رہا ہے۔ عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا کسی بڑے انسانی المیے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔موجودہ حالات کے تناظر میں جنگی لائحہ عمل اپناتے ہوئے عملی اقدامات میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف جنگ جیتنا اجتماعی کوششوں کے بغیر ممکن نہیں۔اس عالمی وبا سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے عوام اور حکومت کو یکساں اندازاپنانا ہوگا۔کورونا وائرس کے حوالے سے غیر سنجیدہ طرز عمل نہ صرف انفرادی نقصان کا باعث بن سکتا بلکہ پورے معاشرے کو سنگین خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔عوامی آگہی مہم میں تیزی لانے کے ساتھ ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے قانونی ضابطوں میں سختی لا کر بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کے پھیلاؤ میں تیزی کا بنیادی سبب غیر ذمہ دارانہ میل جول اور ایس او پیز کی ڈھٹائی کے ساتھ خلاف ورزی ہے۔ ماسک و سینی ٹائزر کا استعمال اور مطلوبہ فاصلہ قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اگر دانشمندی اور بصیرت کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو پوری قوم کا مستقبل داؤ پر لگ سکتا ہے۔کورونا پر قابو پانے کے لئے قانون میں سختی لانا ہو گی۔جولوگ بے احتیاطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوانین کی صریحاََ خلاف ورزی کرتے ہیں وہ بائیس کروڑ عوام کو جانوں سے کھیل رہے ہیں ان کی سرزنش یا انتباہ کافی نہیں بلکہ وہ قابل گرفت بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہنگامی صورتحال میں حکومتیں مصلحتی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سخت اقدامات بھی کرتی ہیں۔حکومت کی قابلیت کا اندازہ اس کی فیصلہ ساز صلاحیتوں سے لگایا جاتا ہے۔اگر کورونا کو روکنے کے لیے سخت فیصلے نہ کیے گئے تو پوری قوم کو نہ صرف بے یقینی صورتحال اور اضطراب کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ ان کی صحت و سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

وحدت نیوز (ملتان) مجلس وحدت مسلمین ضلع ملتان کے پولیٹیکل سیکریٹری حسنین رضا کربلائی نے چیئرمین وزیر اعلیٰ پنجاب شکایت سیل ملتان جناب طاہر حمید قریشی سے اُن کے دفتر میں ملاقات کی ۔

 اس موقع پرحسنین رضا کربلائی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے نادرا کے اختیارات میں رد و بدل کی بدولت لوگوں کو میرج سرٹیفکیٹ ، برتھ سرٹیفکیٹ ، طلاق ، و نکاح نامے کی اندراج کے بابت شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کےباعث عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے ۔ چنانچہ حکومت فی الفور اس حوالے سے عوامی مشکلات کا تدارک کرے۔

ایم ڈبلیوایم رہنما حسنین رضا کربلائی کی جانب سے بیان کردہ عوامی مسائل اور اس اہم قومی مسئلے پر شکایات کو چیئرمین صاحب کی جانب سے بھرپور توجہ کے ساتھ سُنا گیا اوران شکایات کےفوری حل کی مکمل یقین دہانی کروائی ۔

وحدت نیوز(گلگت) گلگت بلتستان میں خطرناک حد تک کرونا کے پھیلاؤ میں صوبائی حکومت کا ہاتھ ہے ۔ شروع دن سے لاک ڈاؤن میں سختی اور باہر سے آنے والوں کو روک دیا جاتا تو آج گلگت بلتستان کرونا فری علاقہ قرار پاتا لیکن صوبائی حکومت نے کرونا پر سیاست کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ۔ بسین اور محمد آباد میں کرونا ہسپتال تو قائم کئے لیکن ان ہسپتالوں میں مطلوبہ سہولتیں مہیا نہیں کی گئیں ۔ پی ایچ کیو ہسپتال پر مریضوں کا دباءو بڑھ رہا ہے اور یہاں بھی ڈاکٹرز اورپیرامیڈیکل سٹاف کو ضروری حفاظتی سامان کی عدم فراہمی سے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کا عملہ خود کرونا کی زد میں آگئے ہیں ۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمدالیاس صدیقی نے کہا کہ حکومت کرونا سے نمٹنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے ۔ جس طرح سے کرونا گلگت بلتستان کے عوام پر حملہ آور ہے اس کی تمام تر ذمہ حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے ۔ انتظامیہ عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے وبا پھیلتی چلی گئی اور آج اس خطرناک وبا سے کوئی شخص محفوظ نہیں رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جن ہسپتالوں کو کرونا ہسپتال ڈیکلیئر کیا وہاں نہ تو آکسیجن فراہم کیا ہے اور نہ ہی وینٹلیٹرز کی مطلوبہ تعداد فراہم کیا ۔ کرونا کے مشتبہ مریضوں کی ٹیسٹ رپورٹس آنے میں ہفتے لگادیئے جاتے ہیں ۔ ہسپتالوں کا عملہ احتجاج کرتے کرتے تھک چکا ہے لیکن حکومت کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی ۔ ماہرین صحت کے بروقت انتباہ کے باوجود اقدامات نہ کرنے سے لیگی حکومت کی عوام دشمنی کھل کر سامنے آچکی ہے ۔

 انہوں نے کہاکہ اب بھی وقت ہے حکومت اپنے اقتدار کے دن پورے کرنے کی بجائے عوام کو ریلیف دینے پر غور کرے ۔ جن ہسپتالوں کو کرونا کے مریضوں کیلئے مختص کیا ہے وہاں ٹیسٹ لیب اور دیگر سازوسامان سے آراستہ کیا جائے ۔ ٹیسٹ رپورٹس میں تیزی لاکر متعلقہ علاقوں کو سیل کرکے وبا کے پھیلاءو کو کم کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ روزگار کی بجائے اپنی جان کی فکر کریں ا ور ماہرین صحت کے بتائے ہوئے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرکے اپنی اور دوسروں کی قیمتی جانوں کے تحفظ کویقینی بنائیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین گرینڈ ہیلتھ الائنس کے مطالبات کی بھرپور حمایت کرتی ہے ۔

وحدت نیوز (کراچی) کراچی میں گندگی کے ڈھیراور سیوریج کے گندےپانی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے، عوام پہلے ہی کورونا وائرس کے سبب ذہنی اذیت میں مبتلا اور صحت کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہے اوپر سے یہ گندگی مزید بیماریوں اور جراثم کی افزائش کا سبب بن رہی ہے ۔ سندھ حکومت اور شہری حکومت عوام کی حالت پر رحم کرے ۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ غلام محمد فاضلی نے وحدت ہاؤس ملیرمیں مختلف وفودسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملیر جعفرطیار سوسائٹی اور ملحقہ آبادیوں میں جگہ جگہ گڑابل رہے ہیں، کچرا کنڈیاں بھری پڑی ہیں،علاقہ مکینوں کو آمد رفت سمیت نمازیوں کو بھی مساجد تک پہنچنےمیں شدید مشکلات کا سامناہے، بلدیاتی اداروں نے علاقے میں موجود گندگی سے منہ موڑ لیا ہے، شہریوں کو کورونا کے بعد کچرے اور سیوریج کی گندگی کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیاہے ۔ مون سون کا موسم بھی قریب ہے ، اگر شدیدبارشیں ہوئیں تو کچرے کے یہ ڈھیر اور سیوریج کا گندا پانی مزید وبائی امراض کے پھیلاؤ کا سبب بننے گا۔

علامہ غلام محمد فاضلی نے وزیر اعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ، میئر کراچی وسیم اختر اور چیئرمین ڈی ایم سی ملیر جان محمد بلوچ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ملیر ، جعفرطیار سوسائٹی ، سعودآباد اور دیگر علاقوں میں صفائی ستھرائی کے فوری موثر اقدامات کیئے جائیں تاکہ عوام کی جانوں کو مزید کسی وبائی مرض کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) آج جب پوری دنیا کورونا وائرس جیسی موذی وباء میں مبتلا ہے. اس نے ہر رنگ ونسل ، قوم و ملک اور ہر طبقے کے ملینز افراد کو متاثر کیا، اور اب تک لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں. دنیا بھر کے افراد ہوں یا فلاحی انجمنیں وتنظیمیں یا حکومتی وغیر حکومتی ادارے، وہ سب ملکر انسانیت کو بچانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں. اور اس وباء کے پھیلاو سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا مقابلہ کر رہے ہیں. حتی کہ انسانی ہمدردی ، خیر سگالی کے جذے کے تحت بین الاقوامی سطح پر بھی مختلف ممالک مثلا روس ، چین ، ایران ، کوبا ودوسرے ممالک کو اس مشکل وقت میں طبی الات وسہولیات وتجربات فراہم کرنے کی فقط پیش کش ہی نہیں کی بلکہ انسانی جانوں کو بچانے کے لئے عملی اقدامات بھی کئے ہیں.  

لیکن دوسری طرف انسانیت کا قاتل اور دشمن ملک امریکہ ہے کہ جو کورونا وائرس کے پھیلاو کے ساتھ ساتھ  داخلی طور پر نسل پرستی کی آگ میں جل رہا ہے. اسکی فورسسز کا وحشیانہ رویہ اور  انسانی حقوق کی برسرعام بین الاقوامی میڈیا کے سامنے پامالی آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے. حقوق بشر ، حقوق نسواں اور جمہوریت  کے کھوکھلے نعروں کی حقیقت آج پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکی ہے . یہ فرعونی سرمایہ دارانہ نظام  نہ اسکے نزدیک انسانی اقدار کی قدرو منزلت اور نہ ہی بین الاقوامی قوانین وضوابط اور معاہدوں کی پاسداری کی کوئی اہمیت ہے. پوری دنیا کے امن وامان کو گذشتہ تقریبا دو صدیوں سے پامال کر رہا ہے.  اور دوسری اقوام وممالک کے وسائل کو لوٹنا، انکے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنا، انہیں غلامی کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کرنا اور انکار کرنے یا مقاومت کرنے والوں کے خلاف بے دریغ طاقت کا استعمال کرنا، تباہی وبربادی پھیلانا اسکا وطیرہ بن چکا ہے.  

اس استبدادی، استکباری اور چنگیزی سیاست کے چند آثار ملاحظہ ہوں۔

1- اس وقت امریکہ داخلی طور پر مکافات عمل کا شکار ہو چکا ہے.

2- بین الاقوامی سطح پر اسکی آزاد وخود مختار ممالک واقوام کے خلاف جارحانہ پالیسیاں جاری وساری ہیں.  

3- چین کے ساتھ سرد جنگ میں اس قدر شدت آ چکی ہے جو کسی نئے بڑے عالمی بحران کو جنم دے سکتی ہے .

4- ایک لمبے عرصے سے مقاومت اور عزت کی راہ اختیار کرنے والے ممالک کے عوام کو سزا دینے اور ارادوں کو توڑنے کے لئے شدید ترین اقتصادی دباو اور انکا زمینی وفضائی محاصرہ کر رکھا ہے.

5- یمن پر لاکھوں ٹن بارود اسی کے ایماء اور پشت پناہی سے آل سعود وآل زید نے گرایا ہے، اور وہاں بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا ہے اور فقر وفاقہ اور وباء امراض کو پھیلایا ہے. مجبور وبیگناہ انسانیت اس ترقی یافتہ دور میں سسکیاں لے رہی ہے لیکن دنیا بھر کے آزاد میڈیا کی زبانوں پر تالے لگے ہوئے ہیں اور سب اندھے اور بہرے دکھائی دیتے ہیں.  

5- ملک شام گذشتہ دس سال سے اسرائیل وامریکا کی جلائی ہوئی آگ کی لپیٹ میں ہے. جنوب سے اسرائیلی جارحیت ، مشرق سے امریکی فوجی اڈے ،اور مسلسل فضائی حملے اور شمال اور شمال مغرب سے ترکی فورسسز کی جارحیت وزمینی وفضائی حملے تباہی وبربادی پھیلا رہے ہیں.  

7- 2011 کی ابتداء میں یہ جنگ ان شام دشمن ممالک نے اپنی تیار کردہ تکفیری پراکسیز سے شروع کی . یہ مسلط کردہ جنگ داعش ، جبھۃ النصرہ ، جیش الحر ، احرار الشام ، قسد وغیرہ سیکڑوں دہشتگرد مسلح گروہوں کے ذریعے  امریکی واسرائیلی منصوبہ بندی اور سعودیہ وقطر وبحرین وامارات جیسے ممالک کی مالی امداد اور ترکی و اردن ولبنان کی لوجسٹک خدمات سے شروع کی گئی.  اور دنیا بھر کے 90 سے زیادہ ممالک سے تکفیری وھابی فکر کے حامل دھشتگرد لاکھوں کی تعداد میں ملک شام وارد کئے گئے. جنکو شامی حکومت نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے بری طرح شکست دی.

8- اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فورمز پر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کا مقابلہ چائنا و روس کے متعدد بار ڈبل ویٹو سے کیا گیا.اور امریکیوں کو رسوائی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا. اور میدان جنگ میں امریکہ اور اسکے سب اتحادیوں  کا مقابلہ مقاومت کے بلاک یعنی شامی آرمی نے اپنی رضا کار فورسسز ،  ایران وروس وحزب اللہ ودیگر اتحادیوں کی عسکری مدد سے امریکی واسرائیلی پراکسیز کو شکست فاش دی اور تکفیری گروہوں کی کمر توڑ دی.

9- پراکسیز کی شکست کے بعد شام کے اصلی دشمنوں امریکہ اسرائیل اور ترکی نے ملکر چاروں طرف سے حملے شروع کئے جنکا شامی فورسز اور اسکے اتحادیوں نے منہ توڑ جواب دیا اور حلب شہر کو مکمل آزاد کروایا اور دمشق ودرعا ، وحلب وادلب ، دیرالزور ، الرقہ والحسکہ کے سینکڑوں علاقے آزاد ہوئے.  

عسکری میدان میں ناکامیوں کے بعد گذشتہ چند سالوں سے اس ملک کو اقتصادی طور پر تباہ کرنے کے لئے اسکا شدید ترین محاصرہ کیا گیا ہے.   اور اقوام متحدہ سے الگ یک طرفہ امریکی ظالمانہ اقتصادی پابندیوں میں روز بروز اضافہ کیا جا رہا ہے. جسکی ایک مثال امریکی کانگرس کا ملک شام کے خلاف " قانون قیصر " یا " قانون سیزر " ہے جسے ابھی نافذ کیا جا رہا ہے.  

یہ قانون قیصر کیا ہے؟
اسے قانون قیصر کیوں کہتے؟
اسے نافذ کرنے کے بعد شام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
 اس کی تفصیلات جاننے کے لئے کے ہمارے  اگلے کالم کا انتظار کریں.

تحریر: ڈاکٹر علامہ سید شفقت حسین شیرازی

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان مقصود علی ڈومکی نے تحریک اسلامی نائجیریا کے رہنما جناب موسی نافیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ علامہ ابراہیم زکزاکی اور ان کی اہلیہ محترمہ بے جرم و خطا حکومت نائجیریا کی قید میں ہیں اور ان کا جرم ان کا انقلابی نظریہ ہے۔ نائجیرین فوج کی طرف سے وہاں کے مظلوم عوام پر مسلسل جبر و تشدد اور معصوم انسانوں کا قتل عام نا قابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ علامہ ابراہیم زکزاکی اس وقت قید تنہائی میں ہیں اور بیمار ہونے کے  باوجود ان کے علاج کے سلسلے میں نائجیرین حکومت کوئی اقدام نہیں کر رہی ہے اس لیے ہم نائجیرین حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ علامہ ابراہیم زکزاکی کو فی الفور آزاد کیا جائے اور ان کے علاج و معالجہ کا بندوبست کیا جائے گا۔ شیخ زکزاکی فقط نائجیریا کے ہی لیڈر نہیں ہیں بلکہ وہ عالم اسلام کے عظیم انقلابی رہنما ہیں۔

انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے چھ بیٹے قربان کردیئے یوم القدس کے موقع پر قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی کے لئے ان کے تین بیٹے شہید ہوگئے اور پھر زار یہ سانحہ سن 2015   کے حملے میں ان کے مزید تین بیٹے شہید ہوگئے۔ لہٰذا عالم اسلام کوشیخ زکزاکی کے عظیم کردار پر فخر ہے، نہ بکنے والا زکزاکی اورنہ جھکنے والا زکزاکی۔

 انہوں نے تحریک اسلامی نائیجیریا کے رہنما جناب موسی نافیو سے کہا کہ پاکستان کی عظیم قوم کی طرف سے مجاہد اسلام حضرت علامہ محمد ابراہیم زکزاکی اور ان کے محترم خانوادے کو سلام عقیدت پہنچادیں۔ ہم شیخ زکزاکی کی آزادی کے لئے ہمیشہ آواز بلند کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر جناب موسی نافیو نے ملت پاکستان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہمیشہ علامہ ابراہیم زکزاکی کی رہائی کے لیے صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ ابراہیم زکزاکی کا کوئی قصور نہیں ہے مگر حکومت نائجیریا انہیں انصاف دینے کے لئےبا اختیار نہیں ہے۔

Page 5 of 628

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree