وحدت نیوز (آرٹیکل )خواجہ آصف کے اعترافی بیان کے بعد بین الاقوامی خبررساں اداروں نے اپنا جنرل راحیل شریف کے اس 34 رکنی سعووی اتحاد کے سربراہ کی حیثیت سے تعیناتی کی تصدیق کردی ہے۔ یہ اتحاد بنیادی طور پر یمن پر حملے کیلئے بنایا گیا تھا اور بعد ازاں اسی کو مسلم دنیا کو درپیش دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے عسکری اتحاد کا نام دیا گیا۔ اس کا خالق اور مالک سعودی عرب اور بالخصوص سعودی ولی عہد سلمان ہے جو خطے میں اپنی انتہاپسندانہ پالیسی کی وجہ سے معروف ہے۔ اس تعیناتی نے جہاں راحیل شریف کے بطور آرمی چیف کردار پر بعض سوالات کا جواب دے دیا ہے، وہاں سعودی عرب کی پاکستانی امور میں مداخلت کو بھی واضح کردیا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے فوری بعد سعودی شاہی خاندان خصوصی جہاز کا پاکستان سے راحیل شریف کو لیکر سعودی عرب پہنچانا، اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہ ایک دن کی بات نہیں تھی بلکہ کھچڑی بہت دیر سے پک رہی تھی۔ آل سعود راحیل شریف سے بہت سی ضمانتیں اور رعایتیں پہلے ہی حاصل کرچکے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آل سعودنے راحیل شریف کو ان خدمات کا صلہ اس نئے عہدے کی صورت میں دیا ہے۔ جس کے غبارے سے اس کے قیام سے پہلے ہی ہوا نکل چکی ہے۔ خواجہ آصف نے بھی اپنے بیان میں اس معاہدے کی تائید تو کردی ہے لیکن اس کی تفصیلات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

سبکدوش ہونیوالے جنرل کو ریٹائرمنٹ کے دوسال بعد کسی ایسی نوکری کیلئے پہلے حکومتی اداروں سے اجازت لینے کی ضرورت پڑتی ہے، جو یقیناً آل سعود کے مطالبے پر جاری کی گئی ہوگی۔ 34رکنی اتحاد ایک عجیب سراب، دھوکہ اور مسلم دنیا کے ساتھ غداری کی علامت ہے کہ آج تک اس اتحاد نے مسئلہ فلسطین کے عسکری حل پر بات نہیں کی۔ اسرائیلی مظالم کے مقابلہ میں فلسطینیوں کی عسکری حمایت کا عندیہ نہیں دیا۔ اسرائیلی جارحیت کے شکار مسلم ممالک کی مدد کرنے کا اعلان نہیں کیا اور اردن، شام، لبنان اور مصر کی زمینوں پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ کے حوالے سے عسکری مدد کا کوئی اشارہ تک نہیں دیا۔ عالم اسلام کے قدیم ترین اور عظیم ترین مسئلہ آزادی مسجد اقصیٰ و بیت المقدس کیلئے کسی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا۔ تو پھر یہ اتحاد ہے کن مقاصد کے حصول کیلئے۔؟ مسلم ممالک میں بیرونی جارح قوتوں کی موجودگی بالخصوص امریکہ و اسرائیل کے اڈوں کے خاتمہ کیلئے بات تک نہیں کی گئی۔ مسلمانوں کی برما میں نسل کشی پر کسی جوابی عسکری اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا، تو یہ آیا یہ اتحاد صرف سعودی اور اس کے اتحادیوں کے اہداف کے حصول کیلئے تیار کیا گیا ہے۔؟؟ تو پھر ایسے اتحاد میں پاکستان کی اس درجہ شمولیت انتہائی باعث تشویش اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش محسوس ہوتی ہے۔

بطور پاکستانی ہمارے لیے مسئلہ کشمیر انتہائی اہم ہے۔ کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان کی شہ رگ ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے مودی حکومت سے بے نظیر تعلقات کے بعد ان ممالک سے مسئلہ کشمیر میں کس طرح کی مدد کی بات بھی بعید نظر آتی ہے، جبکہ 34 رکنی اتحاد نے مسئلہ کشمیر کے متعلق اشارے کنائے میں بھی بات کرنے سے انکار کردیا ہے، تو پھر پاکستان کے سابق آرمی چیف کا وزن سعودی اتحاد کے پلڑے میں ڈال کر کس کی خدمت کی جا رہی ہے۔ ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ راحیل شریف کو حق حاصل کہ وہ کوئی ملازمت کرے، لیکن حالیہ قٖضئیہ سادہ نہیں، بلکہ انتہائی اہم ہے۔ راحیل شریف بطور آرمی چیف ملک کے اہم ترین رازوں کے امین رہے ہیں۔ پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کی حفاظت سمیت دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے سرخیل رہے ہیں۔ کیا ان سب رازوں کو آل سعود کو منتقل کرکے وطن عزیز کے خلاف ایک نئی خیانت کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ راحیل شریف سمیت دیگر ذمہ داران نے ملکی رازوں اور ملکی شخصیات کا بہت کم قیمت پر سودا کیا ہے۔ بلی تھیلے سے باہرآتی جارہی ہے اور نواز حکومت کی کرپشن پر راحیل شریف کی خاموش حمایت، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کی پردہ داری اور ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کو سبوتاژ کرکے پاک چائینہ اکنامک کوریڈور پر کاری ضرب لگانے کی کوششوں پر موجود سوالات کے آسان جوابات ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کو سبوتاژ کرنے کیلئے اس سطح کی سازش کی جا سکتی تھی، جو اب آشکار ہو رہی ہے۔ راحٰل شریف کو مستقبل قریب میں ایسے بہت سے سوالات کے جواب دینا ہوں گے۔ تھوڑی سی روشنی اس نام نہاد اتحاد پر ڈالتے ہیں کہ جسے کسی صورت میں ایک باقاعدہ اور باضابطہ اتحاد امہ یا الائنس قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اس اتحاد کے متعلق چند اہم نکات:
1۔ داعش کے خلاف جنگ لڑنے والے مسلم ممالک یعنی عراق، شام، ایران، لبنان وغیرہ اس اتحاد کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ان کو شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
2۔ داعش، القاعدہ، طالبان، النصرہ، بوکوحرام اور دیگر عالمی دہشت گرد گروہوں کے حامی، سہولت کار، خالق اور سپورٹر ممالک اپنی اسی پالیسی کے ساتھ صرف اس اتحاد کا حصہ ہیں، بلکہ اس کے پالیسی ساز بھی ہیں۔
3۔ اس اتحاد نے کشمیر اور فلسطین پر کوئی عسکری پالیسی دینے سے انکار کر دیا ہے۔
4۔ اس اتحاد میں شامل ممالک کی اکثریت اسرائیل کو تسلیم کرنے کی حامی ہے۔
5۔ اس اتحاد میں شامل اور فعال ممالک براہ راست امریکی بلاک کا حصہ اور اس کی پالیسی کے سہولت کار ہیں۔
6۔ اس اتحاد کا ضابطہ کار، اہداف غیر معینہ ہیں جبکہ اس کی سربراہی سعودی عرب کے پاس ہے ۔ جو یمن جیسے مسلم ممالک پر جارحیت کا مرتکب ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ یہ اتحاد امت مسلمہ کے خلاف استعمال ہوگا۔
7 ۔ یہ اتحاد خالصتاً فرقہ ورانہ بنیادوں پر قائم ہے اور فقہ جعفریہ کی اکثریت رکھنے والے ممالک اس اتحاد کا حصہ نہیں ہیں۔

جنرل راحیل شریف جو بطور آرمی چیف اداروں کو اپنی پروجیکشن کیلئے استعمال کرنے کے حوالہ سے معروف ہیں۔ آئی ایس پی آر کے کردار سمیت ملک بھر راحیل شریف کی شخصیت سازی کیلئے فوجی اداروں کا استعمال سب کے علم میں ہے۔ ان کی اس متنازعہ، فرقہ ورانہ، عسکری اتحاد کیلئے نامزدگی نے کئی سوالات بھی کھڑے کر دیئے ہیں۔ اس فیصلہ کا کم از کم نتیجہ ملک میں جاری شورش میں اضافہ، سی پیک کیلئے رکاوٹوں میں اضافہ، نیشنل ایکشن پلان کی تدفین سمیت ملکی سالمیت کیلئے سنگین خطرات کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ وطن عزیز کے سلامتی کے ذمہ داروں اور پاریمنٹ کو اس مسئلہ میں کردار ادا کرنے ضرورت ہے۔ بصورت دیگر یہ رجحان کہ ہمارے اہم جرنیل اور خفیہ اداروں کے سابق سربراہوں رقم اور کچھ دیگر منافع کے حصول کیلئے خود کو یو اے ای، قطر اور سعودی عرب کا نوکر بنا رہے ہیں۔ جس میں ہماری اپنی سلامتی کیلئے خطرہ موجود ہے۔

بس یہ کہتے ہوئے اپنی بات کو ختم کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص نئی ملازمت کیلئے کسی بڑی کمپنی میں انٹرویو دیتا ہے، تو فیصلہ میز پر موجود وہ فائل کرتی ہے کہ جس میں اس کا سابقہ تجربہ، فعالیت، کارکردگی اور معلومات کی تٖصیلات درج ہوتی ہیں۔ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کے بعد سعودی عسکری اتحاد کی سربراہی کی نوکری کیلئے جنرل راحیل شریف نے کیا فائل جمع کرائی ہوگی۔ کن تجربات، معلومات اور فعالیتوں کو اپنی کارکردگی میں شامل کیا ہوگا تاکہ اس نئی ملازمت کو حاصل کرسکیں اور سابقہ تجربات کو نئی ملازمت میں استعمال کرسکیں۔ وطن عزیز کے اہم ترین سلامتی کے اداروں میں کام کرنے کی معلومات اور کارکردگی کسی دوسرے ملک یا اتحاد کو منتقل کی جارہی ہے اور یہ کام قلیل رقم اور عارضی شہرت کے حصول کیلئے کیا جارہا ہے تو وطن سے اس سے بڑی خیانت اور کیا ہوگی۔؟ وطن وزیز میں محب وطن قوتوں، جماعتوں اور اداروں کو اس خیانت کے خلاف رائے ہموار کرنے اور اپنے غم و غصہ کے اظہار کیلئے میدان میں آنا ہوگا تاکہ ملک کے مستقبل کی حفاظت ممکن ہوسکے۔

تحریر: سید ناصر شیرازی
مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل، ایم ڈبلیو ایم

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ صادق جعفری کی زیر قیادت ایم ڈبلیوایم کے وفدنے ضلع غربی کے مختلف چرچوں کا دورہ کیا،کرسمس کے پرمسرت موقع پر قائد وحدت علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی جانب سے کیتھولک چرچ ہائوس میں فادر عطاء سلطان کوپھولوں اور کیک کا تحفہ پیش کیا،اس موقع پر ایم ڈبلیوایم رہنما سبط اصغر،امتیاز علی اور دیگر بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ ) مجلس وحدت مسلمین کے میڈیا سیل سے جاری شدہ بیان میں ڈویژنل سیکریٹری روابط اور کونسلر حلقہ بارہ کربلائی رجب علی نے معاشرے میں اتحاد اور رواداری کو ملکی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم اپنے پیارے وطن کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیںتو معاشرے کے ہر فرد کو روا داری، برداشت اور اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ یہی وہ عناصر ہے جن کی وجہ سے معاشرے کے افراد ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور نفرتیں ختم ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہمارے خوشیوں اور غموں کے پیمانے اور معیارات بدل گئے ہیں اور لوگ یہ بھول بیٹھے ہیں کہ اصل کامیابی اور خوشحالی تو نفرتیں مٹانے سے آسکتی ہے۔انکا کہنا تھا کہ حادثات، سانحات ، مصائب و آفات کی کثرت اور اسکی اذیت سے بچنے اور خود کو بچانے کا سب سے آسان راستہ ہم نے ڈھونڈ لیا ہے اور وہ یہ کہ بڑے سے بڑے حادثے اور سانحے کے اثرات کو اپنے اندر اترنے نہ دے مگر یہ طریقہ ہمیں صرف اور صرف بے حسی کی طرف ڈھکیل رہا ہے ۔ انفرادی تقویت اور محض اپنی ذات کے بارے میں سوچنے کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے دور ہورہے ہیں جبکہ ہمیں معاشرے کے تمام افراد کو ساتھ ساتھ لئے چالنا چاہئے کیونکہ یہی وہ طریقہ سے جس سے ہم اپنے منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام افراد کو اپنا نقطہ نظر تعمیری اور مثبت بنانا ہوگا۔ جب تمام افراد کے درمیان اتحاد اور اتفاق پیدا ہوگی تو سب ایک دوسرے کیلئے کام کرنا شروع کر دیں گے اور رشوت ستانی،بے ایمانی اور بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا۔ بیان میں انہوں نے کہا کہ ہمیں مشکل حالات میں بھی مایوسی ، افسردگی ، حزن و ملال کا رویہ اپنانے کے بجائے مثبت اور تعمیری رویہ اپنانا چاہئے۔ بیان کے آخر میں کراچی میں ٹرینوں کے تصادم پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ وزارت ریلوے کو ریلوے کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) عزاداری سید الشہداءؑ پریزیدیوں کے حملے اور موجودہ صورتحال پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے عزاداروں کے نام خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھ جیسا (یعنی ہر حسینی ) یزید جیسے کی بیعت (کی ذلت اور رسوائی کو قبول ) نہیں کر سکتا.   شهید قائد علامہ عارف حسین الحسینی رہ کا ارشاد ہے کہ عزاداری سید الشہداء ہماری شہ رگ حیات ہے . میرا سلام ہو سید الشہداء  کے عزداروں پر جو پاکستان میں تمام تر خطرات کے باوجود ہر آنے والے سال اور مہینوں میں امام مظلومؑ کی عزاداری کو پہلے سے بهی زیادہ پرشکوہ انداز میں بر پا کرتے ہیں  جس کی مثال اس سال لوگوں کی مجالس اور ماتمی جلوسوں میں بهر پور شرکت ہے اور یہ حقیقت میں ان تکفیری اور یزیدی قوتوں کی شکست بهی ہے جو اپنی تمام تر سازشوں، قتل و غارت گری اور اپنے ملکی اور غیر ملکی آقاؤں کی سرپرستی کے باوجود مظلوم کربلا کی عزاداری کا راستہ نہیں روک سکے،  سنی شیعہ مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کی روز بروز بڑهتی هوئی شرکت  ،یہ سب اس بات پر گواہ ہیں اور ان شاءالله یہ مولا امام حسین علیہ السلام کے عاشقوں اور عزاداروں کا قافلہ تمام رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لاتے بوئے  آگے بڑهتا ہی رہے گا ،موجودہ حالات کو مد نظر رکهتے ہوئے جہاں عزاداری سید الشہداء کے لئے امام بارگاہ،خطیب و ذاکر اور نوحہ خواں  کا اہتمام کیا جاتا ہے وہیں عزاداروں کی جان کی حفاظت کے لئے بندوبست کرنا بهی واجب ہے .میری تمام مومنین ،جوانوں اور سکاؤٹس  سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں ہونے والی مجالس کی سیکورٹی میں شریک ہوں اور اس عمل کو ایک ٹاسک کے طور پر لیں کہ ہم نے مجلس عزا پر آئندہ ہونے والے حملوں کو ناکام بنانا ہے .ہمارا  دشمن  اور اسکے سرپرست انتہائی کمینے اور پست ہیں ،اب وہ خواتین کی مجالس عزا پر حملے کر رہے ہیں یا انہیں شناخت کر کے شهید کر رہے ہیں . ہمیں خواتین  ( کنیزان ثانی زهرا سلام الله علیہا) کی مجالس کی سیکورٹی میں اب کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی انکی جان کی حفاظت ہم پر واجب ہے .مجهے امید ہے کہ ہم سب مل کر دشمنوں کے منحوس عزائم کو خاک میں ملا دینگے ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حسینیت کے پیروکاروں کو یزیدی ہتھکنڈوں سے خائف نہیں کیا جا سکتا۔عزاداری سید الشہدا ہماری شہ رگ حیات ہے جس پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔حق و باطل کا یہ معرکہ چودہ سو سالوں سے جاری ہے ۔ہمارے لیے یہ بات باعث سعادت ہے کہ ہم نے حق کا علم تھاما ہوا ہے۔ ملت تشیع کے وہ نوجوان خراج تحسین کے مستحق ہیں جو عزاداری کو برپا کرنے اور اس کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت میدان میں موجود ہیں۔ان باہمت ماؤں اوربہنوں کے جذبات کو سلام پیش کرتا ہوں جن کے بچے اور بھائی پاکستان میں جاری دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے لیکن ان کے عزم و حوصلے کو شکست نہ دی جا سکی اور عزاداری کے پروگرام مزید پُرشکوہ انداز میں منعقد کیے جانے لگے ۔یہ دراصل ان یزیدی گروہوں کی شکست ہے جو پاکستان دشمن قوتوں کی ایما پر وطن عزیز میں عزاداری سید الشہدا کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ملت تشیع کے علاوہ اہلسنت برادران اور دیگر مسالک کی عزاداری کے پروگراموں میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے امام عالی مقام علیہ السلام سے مودت کے اظہار میں جبر و بربریت کی کوئی کوشش رکاوٹ نہیں بن سکتی۔انہوں نے کہا کہ دشمن کمینگی کے بدترین درجہ پر آگیا ہے اب اس نے چار دیواری کے اندر خواتین کی مجالس کو نشانہ بنانے کی ٹھان لی ہے اور ہماری خواتین کو شناخت کرکے شہید کیا جانے لگا ہے۔دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ملت کے ہر فرد کو انفرادی ذمہ داری ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کے پانچ کروڑ شیعہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں ۔قوم کی عزت و قار کو ذاتی انا کی نذر کرنے والے قومی مجرم ہوں گے۔ملت تشیع کو درپیش اس کڑے وقت میں ہمارا اتحاد و اخوت دشمن کے ناپاک ارادوں کی موت ثابت ہو گا۔ملک کی تمام چھوٹی بڑی شیعہ تنظیمیں علاقائی سطح پر متفقہ ضابطہ اخلاق مرتب کریں جس کے تحت قومی ایشوز پر مشترکہ انداز میں جدو جہد کی جائے۔

وحدت نیوز(لاہور) تحریک اتحاد اتحاد امت مصطفیٰ ﷺکے تحت لاہورکے مقامی ہوٹل میں منعقدہ لبیک یا رسول ﷺاللہ کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے   مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری تربیت علامہ اعجاز حسین بہشتی نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے لبیک یا رسول اللہ کانفرنس کا انعقاد انتہائی اہم ہے جس کا مقصد دنیا کو یہ بتانا ہے کہ شیعہ سنی میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور ہم سب ملکی استحکام اور وحدت بین المسلمین کے لئے ایک پیج پر متحد ہیں،پاکستان کے اندر جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں نہ کوئی شیعہ ملوث ہے اور نہ ہی سنی بلکہ کچھ تکفیری ٹولے موجود ہے جو ملک کے اندر انتشار اور تفرقہ بازی پھیلاتے ہیں، اپنی صفوں میں اتحاد کو قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن و اہلیبت کے دامن کو تھام لیں۔

قرآن نے دشمنوں کی نشاندہی کی ہے کہ یہود و نصاری کبھی ہمارے دوست نہیں ہو سکتے اسی طرح جو یہود و نصاری سے میل جول رکھتے ہیں وہ ان کے ایجنٹ ہیں اور یہی لوگ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ بازی کو فروغ دیتے ہیں،اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری سیاست برادر اسد عباس نقوی، علامہ حسن ہمدانی اور دیگر صوبائی رہنما شریک تھے۔اس کانفرنس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان سمیت  جمعیت علماء پاکستان نیازی ، مجلس تحفظ ناموس رسالت اور دیگر مذہبی تنظیموں کے رہنماوں نے شرکت کی۔

Page 2 of 5

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree