وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے کونسلر کربلائی رجب علی نے علاقے کے عوام کی ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی اور کیسکو کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے ۔ لوگ سردی میں ٹھٹھرنے اور احتجاج پر مجبور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ غریب اور مجبور عوام کے گھروں میں گیس اور بجلی موجود نہیں ، جبکہ معتبر حاکم اور مقتدر طبقات کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ صوبائی حکومت شہریوں کو گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات اُٹھائے۔ گیس اور بجلی نہ ہونے کے باعث ہماری ماوں اور بہنوں کو امور خانہ داری میں مسائل کا سامنا ہے تو دوسری جانب بلوچستان سے نکلنے والی گیس پورے ملک میں میسر ہے مگر صوبائی دارالحکومت کے عوام اس سے محروم ہیں ۔ گیس کی عدم فراہمی کے باعث عام شہری کے معاملات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہو رہا ہے کہ ہر سال گیس پریشر میں کمی کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہوتے ہیں لیکن کمپنی کی نااہل انتظامیہ نے اس مسئلے کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ عوام پر نئے ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔ مگر عوام کو ریلیف دینے لیے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔ وفاق گیس کمی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔ کمپنی درجن بھر کے ٹیکسز کے ساتھ بل بھیج رہی ہے مگر گیس بحران سے بے خبر ہے۔ اگر گیس کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا تو احتجاج پر مجبور وہونگے ، جس کی ذمہ داری حکومت ، گیس کمپنی اور کیسکو پر ہوگی۔

وحدت نیوز (قم) ایم ڈبلیو ایم کےسربراہ علامہ ناصرعباس جعفری کی قیادت میں پاکستانی طلّاب کے وفد نے ایران میں مقیم نائیجیرین  طالب علموں سےشہرگ مہدیہ میں ملاقات کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین ملت پاکستان کی طرف سے نائجیریا کے مظلوم مسلمانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ہم نائیجیرین حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ نائجیریا کے مسلمانوں کے عظیم رہنما شیخ زکزاکی کو فورا رہاکرے۔آیت اللہ ابراہیم زکزاکی کے ایران میں نمائندے  نمائندے شیخ عبداللہ احمد زنغواور ان کے ساتھیوں نے اپنے معزز مہمانوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ملت پاکستان پر فخر ہے کہ وہ پوری امت کا درد محسوس کرتے ہیں۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کراچی کی طرف سے ملک میں داعش کے منظم نیٹ ورک کی موجودگی کے انکشاف پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کی بیغ کنی ملکی سلامتی کے اداروں کے لیے چیلنج بنتی جا رہی ہے۔حکومتی ذمہ داران کا پاکستان میں داعش کی موجودگی سے انکار سیاسی مصلحت اور بیرونی دباو کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔دہشت گردی کا پرچار کرنے والے مدارس کے منتظمین کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروئی سے معذوری ظاہر کرنا حکومتی رٹ کی کمزوری ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کی گرفتاری میں پس و پیش شہدا کے خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔وفاقی وزیر داخلہ ان تمام مدارس کے کوائف منظر عام پر لائیں جوبیرونی امداد کے بل بوتے پراپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ملک میں موجود کالعدم مذہبی جماعتوں کے مضبوط نیٹ ورک ابھی تک فعال ہیں۔ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے دائرہ کار کو جب تک وسعت نہیں جاتی تب تک یہ آنکھ مچولی کا سلسلہ ختم ہوتا نہیں دکھائی دیتا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہر میں ان مذموم عناصر کی موجودگی ہمارے تشخص پر بدنما اثرات مرتب کررہی ہے۔بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے امیج کو بحال کرنے کے لیے دہشت گردی کے عفریت سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا اس کے لیے ریاست کے خلاف متحرک مسلح گروہوں کا خاتمہ ہی کافی نہیں بلکہ ان سہولت کاروں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کرنی بھی ضروری ہے جو ان عناصر کو فکری و مالی سپورٹ کرتے ہیں۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) انسانيت كی تاريخ پر اگر نگاه ڈاليں تو وہ آپ کو جنگ و جدال كے واقعات سے بهری نظر آئے گی۔ انسان كے دل ميں اگر خوف خدا نہ رہے اور اسكے پاس قوت و قدرت كے وسائل اکٹھے ہوجائيں تو وه سركش، ظالم اور باغی ہو جاتا ہے۔ تاريخ نے وه ادوار بهی ديكهے، جب يہ ناتوان انسان غرور و تكبر ميں اتنا آگے بڑھ گیا كہ "انا ربكم الاعلى" كا دعویٰ كر ديا۔ ليكن تاريخ نے جب اپنا رخ بدلا تو نہ نمرود رہے، نہ فرعون، سب خس و خاشاک كی طرح بہ گئے۔ كائنات كے خالق حقیقی نے انہيں فتنوں سے اپنے بندوں كا امتحان بهی ليا اور حق و باطل كے ان معركوں ميں مختلف افراد اور گروہوں كی حقيقت اور اصليت عياں ہوتی گئی كہ كون حق كے ساتھ ہے، كون ظلم و جور اور طغيان كا ساتھ دينے والا ہے اور اپنی ذاتی اور وقتی مصلحتوں كے عوض اپنی توقير و اقدار اور دين کا سودا كرتا ہے۔ جارحيت كا جواز باغيوں نے كبهی نسل و قوم و ملت كی بالادستی قرار ديا تو كبهی دين و مذہب كا غلبہ۔

آج ايک بار پهر عالم مشرق ميں جہان زياده آبادی مسلمانوں كی ہے، وہاں پر مغربی استعماری قوتوں نے اپنے پٹھو حكمرانوں كے ذريعے ايک خوفناک مذہبی جنگ كا نقشہ كهينچا ہے اور وه چاہتے ہیں كہ اسكا ايندھن خطے كے شيعہ اور سنی مسلمان ہوں۔ ايک طرف امريكہ، غرب، اسرائيل اور انكی سياست پر عمل كرنے والے خطے كے ممالک ہیں، جنہوں نے مذہبی جنونيت، تكفير اور طاقت و غلبہ كی روايات كو جنم بخشا ہے۔ دوسری طرف مزاحمت اور مقاومت كا بلاک ہے، جسے صیہونی و امريكی بالادستی گوارا نہیں اور يہ بلاک وسائل كی قلت كے باوجود حكمت و برداشت، صبر و تحمل اور لاجک و منطق سے فقط مقابلہ ہی نہیں كر رہا بلكہ اس كی مقبوليت اور طاقت ميں اضافہ ہو رہا ہے، كيونكہ اس مقاومت كے بلاک كا محور و مركز ايران ہے۔ مكار دشمن نے طے كيا ہے كہ اس کا مقابلہ مذہبی فتنوں سے كيا جائے اور ارض مقدس حجاز پر مسلط كرده خاندان كہ جنہوں نے امريكہ اور غرب سے وفاداری اور اسرائيل كی قيام و حفاظت كی ذمہ داری كے عہد پر حكومت حاصل كی ہے، وه اس وقت سالانہ اربوں اور كهربوں ڈالرز فتنہ تكفير پر خرچ كر رہے ہیں اور متشدد مذہبی جنونی لشكر جہان اسلام ميں تشكيل دیئے ہیں، ليكن ظلم يہ ہے كہ الله تبارک و تعالٰى اور قرآن و اسلام کے نام پر دين اسلام كو بدنام اور مخلوق خدا كو بے دریغ ذبح كر رہے ہیں۔

اسلام كے دو مضبوط بازو اہل سنت اور اہل تشيع ہیں، يہ اسلام كے نام نہاد ٹهيكيدار تكفيری، مسلمانوں كو كمزور كرنے كيلئے اہل سنت كو مشرک اور اہل تشيع كو على الاعلان كافر كہتے ہیں۔ چونکہ مسلمانوں كی اكثريت اہل سنت ہیں، تو اس نومولود تكفيريت و سلفيت نے اپنے آپ كو اہل سنت كا نمائنده قرار ديا ہے، حالانكہ انكی تعداد حقيقی اہل سنت كے مقابلہ ميں بہت كم ہے۔ يہ بهی حقيقت ہے كہ پوري دنيا ميں پائے جانے والے نام نہاد جہادی اور دہشتگرد گروه اسے تكفيری اور سلفی سوچ کی ہی پيداوار ہیں۔ انہوں نے لیبیا ميں لاكهوں اہل سنت كو قتل كيا۔ شام كی 70% سے زياده آبادی اہل سنت كی ہے اور وہاں پر انہوں نے لاكهوں اہل سنت كو قتل كيا ہے۔ عراق و يمن ميں بهی مختلف اہل سنت كے علاقوں پر قبضہ حاصل كرنے كيلئے انہوں نے ہزاروں اہل سنت كو ذبح كيا۔ جب تک داعش شيعہ و سنی مسلمانوں كو قتل كرتی رہی تو امريكہ و غرب انكی حمايت كرتا رہا اور اسلحہ بهی ديتا رہا اور امريكہ نواز خليجی ممالک بهی ہر لحاظ سے انکی مدد كرتے رہے۔ جب حملہ فرانس پر ہوا اور مغرب و امريكہ تک دہشتگردی كی آگ کے شعلے پہنچے تو جان كيری نے آل سعود كے لئے فرمان جاري كيا کہ "داعش اور ہمارے ہر مخالف ملک كے خلاف ايک اسلامی اتحاد بنايا جائے۔"

سعودی حكمرانوں نے اس اتحاد كی تشكيل كے لئے اسلامی ممالک كا اجلاس بلانے كی بهی تكليف گوارا نہیں كی اور 34 اسلامی ممالک كے اتحاد كا اعلان كر ديا۔ اگر يہ اتحاد واقعاً داعش كے خلاف بنايا گیا ہوتا تو وه ممالک جو اس وقت عملی طور پر داعش سے لڑ رہے ہیں، انكو بهی دعوت دی گئی ہوتی، ليكن یہ اتحاد تشکیل دینے والوں کا مقصد جنگ كا خاتمہ نہیں بلكہ اس جاری جنگ كو طول دينا ہے۔ اسی لئے تو امريکہ نے اعلان كيا كہ يہ اتحاد ہماری توقعات کے عین مطابق ہے۔ دوسری طرف مصر كے مشہور اسكالر اور رائیٹر محمد حسنين هيكل نے تعجب كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ يہ كيسا اتحاد ہے كہ جس كے سب ممبران كے ظاہری پر يا باطنی طور پر اسرائيل سے تعلقات ہیں۔ اے كاش سعوديہ بيت المقدس كی آزادی اور مظلوم فلسطينی عوام كے لئے اسرائيل كيخلاف اتحاد كا اعلان كرتا۔ اے كاش يمن میں بيگناه عوام كے قتل اور اس ملک پر چڑھائی كی بجائے صیہونی حكومت پر چڑھائی كرتا، اے كاش داعش، القاعدہ و طالبان سميت مسلح گروہوں كی بجائے فلسطينی جہادی گروہوں كو جديد ترين اسلحہ ديتا اور ان کی مالی مدد كرتا۔

بين الاقوامی ميڈيا ميں يہ خبر بهی عام ہوچکی ہے كہ يہ اسلامی ممالک كا اتحاد نہیں ہے بلكہ امريكہ كے کہنے پر سعوديہ نے سنی ممالک كا اتحاد بنايا ہے۔ اسی لئے ايران و عراق و شام كو اس اتحاد سے خارج رکھنے كا اعلان كيا ہے۔ اس اتحاد سے ان تمام اسلامی ممالک ميں جہاں اہل سنت كے مختلف مذاہب اور اہل تشيع اکٹھے زندگی بسر كر رہے ہیں، وہاں پر ايک نيا فتنہ جنم لے گا۔ مثلاً پاكستان ميں اكثريت اہل سنت كی ہے، ان میں بهی بهاری اكثريت بريلوی اور صوفی مذهب كے ہيروكاروں كی ہے اور وه كبهی بهی آل سعود اور سلفيت و وہابیت کو  قبول نہیں كرتے۔ پھر مسلمانوں كی دوسری اكثريت اہل تشيع ہیں، جنکے خلاف لڑنے کے لئے يہ اتحاد بنايا گيا ہے تو باكستان کی اكثريتی عوام اس کی ہرگز حمايت نہیں كرسکتی۔ پاكستان ايک اسلامی ریاست ہے، شيعہ اور سنی ریاست نہیں، اور نہ ہی اسے بانيان نے اسے شيعہ یا سنی اسٹیٹ بنايا تها۔ حكومت پاكستان كو اس اتحاد ميں شامل ہونے يا نہ ہونے پر بہت غور و فكر اور تامل كرنا ہوگا۔ وزارت خارجہ كے متضاد بيانوں ميں سنجيدگی نظر نہیں آرہی اور حكمرانوں كو معلوم ہونا چاہیئے كہ پاكستانی عوام پاكستان كو اسلامی جمهوريہ پاكستان ہی ركهنا چاہتی ہے، نہ كہ سنی پاكستان اور نہ شيعہ ہی پاكستان۔ اگر كوئی گروه آج اپنی سياسی و عسكری طاقت کے گھمنڈ ميں آکر پاكستان كو ڈی ٹریک كرنا چاہے گا تو وه اس مادر وطن سے تاريخی خيانت كا مرتكب ہوگا اور اس سرزمين كے وفادار بیٹے ایسے لوگوں کو ہرگز معاف نہیں كريں گے۔


تحریر۔۔۔علامہ ڈاکٹرسید شفقت حسین شیرازی

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری امور خارجہ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید شفقت شیرازی نے کہا ہے کہ سعودی وزیر دفاع کے اعلان کے مطابق 34 ملکی اتحادی فوج میں پاکستان کی شمولیت باعث تشويش ہے، جو کہ پاکستان جیسے ایٹمی  ملک کے لئے باعث نگ و عار ہے۔ سعودی عرب دنیا بھر میں دہشت گردوں کی پشت پناہی و مدد اور مذہبی تشدد و جنونیت میں معروف ہے، مسلمان ممالک ہوں یا غیر مسلم، ہر جگہ دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کر رہے ہیں۔ رياض تكفيری دہشتگردی كا منبع اور مركز ہے، اقوام عالم كيسے مان ليں کہ رياض ہی دہشتگردوں کے خلاف جنگ ميں مركز بن سكتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح امريکہ دہشتگردی كے نٹ ورک تشكيل ديتا ہے اور انکی ہر لحاظ سے مدد كرتا ہے اور جديد ترين اسلحہ اور ٹریننگ ديتا ہے، پهر اعلان كرتا ہے کہ وه دہشت گردی كيخلاف جنگ كر رہا ہے۔ آج سعوديہ كا اعلان بھی اسی امريکی سياست کی عملی پيروي كے علاوہ کچھ نہیں، دہشتگردوں کو پالنے والوں کا دہشت گردی ختم کرنے کے دعوئے مضحکہ خیز ہیں۔

سعودی عرب نے عراق، لیبیا، شام اور یمن سمیت بہت سے اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی اور اب تک روزانہ بے گناہ بچے اور خواتين و مرد سعودي و تكفيري دہشت گردی کی بهینٹ چڑھ رہے ہیں۔ یمن میں سعودی اتحاد کی مکمل ناکامی کے بعد اب سعودی اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کیلئے دوسرے اسلامی ممالک کو درگیر کرنا چاتا ہے۔ حالیہ اتحاد میں جن چونتیس ممالک کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں لبنان نے اس اتحاد کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے اپنے آپ کو مقاومت کی فرنٹ لائن کا حصہ قرار دیا، باقی ممالک میں بحرین، قطر، امارات جیسے چهوٹے جزیرے ہیں، جن کی ٹوٹل آبادی پاکستان کے ایک بڑے صوبے سے بھی کم ہے اور ان میں سے اکثر ان ممالک کی ہے، جن کے شہریوں کو اپنے ممالک میں بنیادی انسانی حقوق کے حصول کا حق نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہاں کے شہری عرب بادشاہون كي مداخلت اور پاليسون کے سبب دہشت گردی کے شکار ہیں اور بنيادي حقوق سے محروم ہیں تو ان حالات میں پاکستان جیسے جمہوری، ایٹمی اور امت اسلامیہ کی اتحاد و وحدت کے داعی ممالک کا امريکہ اسرائيل کی رضايت کے حصول کی اس چھوٹے اتحاد میں شامل ہونا ملک و قوم کی توہین ہے۔

یمن کے خلاف نام نہاد اتحاد میں شامل نہ ہو کر پاکستان نے جہاں ملکی عزت بچائی، وہاں مظلوموں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین ہونے سے محفوظ رہا۔ یمن مخالف سعودی اتحاد کے ترجمان کے اعتراف کے مطابق اس جارحانہ جنگ میں ناکامی کے بعد اب سعودی عرب امت اسلامیہ کو ایک اور بڑے امتحان میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا قطعی فائدہ اسلام دشمن قوتون کو ہوگا۔ دوسری طرف پاک فوج آپریشن ضرب عضب میں اب تک سینکڑون جوانوں کی قربانیاں دیکر دہشت گردوں کے خلاف برسر پیکار ہیں اور پوری دنیا جانتی ہے کہ طالبان سمیت دنیا بھر کی متشدد دہشت گرد تنظیموں کی پشت پر سعودی سہارا ہے، لہذا اگر ان دہشت گردوں کے حامیوں کی صف میں پاکستان اپنے آپ کو شامل کرتا ہے تو یہ ضرب عضب میں دی گئی قربانیوں پر پانی پھیرنے اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔ لہذا پاکستان حکومت اور ارباب اختیار عوام کو دھوکہ نہ دیں اور واضح باليسي اختيار كريں، یا تو دہشت گردوں اور انکے حامیوں کے خلاف ہر سطح پر آپریشن کریں یا اس جیسے اتحاد میں شامل ہوکر دہشتگردوں کا ساتھ دیں۔

وحدت نیوز (لاہور) نیشنل ایکشن پلان پر آئی ایس پی آر کے بیان سے ملت تشیع کا موقف درست ثابت ہو گیا،کرپٹ،نااہل اور متعصب حکمران دہشت گردی کے خاتمہ کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں،اقتدار بچانے کیلئے کالعدم جماعتوں کو گلے لگایا جا رہا ہے جو آئین پاکستان سے غداری کے مترادف ہے ،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے لاہور میںورکرز اجلاس سے خطاب میں کیا،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ موجودہ حکمران نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں بری طرح ناکام دکھائی دیتے ہیں ،دہشت گرد اور کالعدم گروہ اسلام آباد میں ان کی ناک تلے آئین و دستور پاکستان کو روند رہے ہیں مگر ان کی طرف انگشت نمائی کرنا جرم بن گیا ہے،انہوں نے کہا کہ ذاتی مفادات کیلئے ملک کو قربان کیا جارہا ہے،ملکی سلامتی دائو پر لگی ہوئی ہے،افواج پاکستان اور پاکستانی قوم کی عظیم قربانیاں حکمرانوں کیلئے کوئی وقعت نہیں رکھتیں،اگر حکمرانوں نے رویہ نہ بدلا تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔انہوں نے اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواہ،بلوچستان اور سند ھ میں ہمارے لوگوں کو چن چن کر مارا جا رہاہے، پنجاب کی متعصب حکومت نیشنل ایکشن پلان کو صرف ہمارے لوگوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے،عزاداری کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں اور اس ملک کے دشمن دہشت گردوں کو کھل کھیلنے کی چھٹی دے دی گئی ،دہشت گرد آزاد اور ملک کے وفادار بانیان مجالس وعزاداران پر پابندیاں لاگو ہیں،یہ رویہ ہمارے لیئے کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہے،اگر حکمران ملک سے مخلص ہیں تو نیشنل ایکشن پلان پر غیر جانبدارانہ عمل درآمد کروائیں ہم دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہر قسم کا تعاون کریں گے۔
    
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بلدیاتی انتخابات میں کالعدم گروہ سے اتحاد کرنے والی سیاسی جماعتوں کی پالیسیز کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ نیشنل ایکشن پلان کی خلاف ورزی ہے ،الیکشن کمیشن اور حکمرانوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیئے ،کالعدم گروہ کے ساتھ قومی جماعتوں کے پرچم لہرائے جا رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان جماعتوں کو صرف اقتدار سے پیار ہے،یہ کرسی کے پجاری ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے والے گروہ کو اپنا کاندھا پیش کر کے ملکی آئین کا مذاق اڑا رہے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ ہم جمہوریت اور ملک کے آئین پر یقین رکھتے ہیں اور نام نہاد جمہوری جماعتوں اور حکمرانوں کی طرف سے غیر جمہوری رویہ اور آئین پاکستان کو تسلیم نا کرنے والے دہشت گردوں کے سرپرستوں کے خلاف خاموشی لمحہ فکریہ ہے،آج پاکستان میں ایک مخصوص سوچ اور نظریہ کو مسلط کرنے کی کوشش ہو رہی ہے،ہم اس انتہا پسندانہ سوچ کو مسلط نہیں ہونے دینگے،آئین پاکستان میں تمام مکاتب فکر کو یکساں آزادی حاصل ہے،عالمی دہشت گرد داعش کے پیروکار وں کے نظریہ اور سوچ کو دنیا اسلام کے ہر مہذب مسلمانوں نے نفی کی ہے۔

Page 4 of 6

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree