محمد بن سلمان کو امریکہ کیوں طلب کیا گیا... ؟!

17 مارچ 2017

وحدت نیوز (آرٹیکل) سوریہ میں ذلت آمیز شکست اور یمن کی دلدل میں غرق ہو جانے کے بعد ، سعودیہ کے پاس کوئی اور چارہ ہی نہیں مگر یہ کہ وہ اپنی جائدادیں نیلام کرے....!اور جب وائٹ ہاؤس کا تخت نشین درجہ اول کا تاجر ، سوداگر  اور ڈیلنگ کا ماہر شخص ہو وہ یقینا اس مایوسی اور دیوالیہ کے دھانے پر پہنچنے والی مملکت کے سب سے بڑے حصے کا سودا کرے گا.  بن سلمان کو طلب کرنے کا اقدام خسارے میں جانے والی امریکی کمپنی کی پراپرٹیز کو اپنی تحویل میں لینے کے مترادف ہےاور سلسلے میں واقعات ،حیثیات ، اعداد وشمار اور حقائق قارئین کرام کے پیش خدمت ہیں۔

1-  محمد بن سلمان کی واشنگٹن ملاقات سے پہلے اس حقیقت کا ادراک بھی ضروری ہے. کہ اس آل سعود حکومت پر اصل کنٹرول امریکن سیکورٹی ٹیم کا ہے جو مختلف امور کے اسپیشلسٹ افراد پر مشتمل ہے. اور وہ دارالحکومت ریاض، امریکی سفارتخانے  میں مقیم ہے.اور وہ سعودیہ کے مختلف اداروں کے افراد سے ملکر ڈائرکٹ کام کرتی ہے. اور یہ ٹیم مختلف ممالک کے ما بین رائج باضابطہ اور تھرو پراپر چینل اسلوب اختیار نہیں کرتی اور نہ اسکی پابند ہے.

1- اس کا مطلب یہ ہوا کہ سعودی حکومت کا کردار فقط عائد کردہ وظائف وفرائض کو ادا کرنا ہے. اور اسی بناء پر ریاض سفارتخانے میں مقیم امریکی سیکورٹی ٹیم مندرجہ ذیل اداروں سے ملکر کام کرتی ہے.
- وزیر دفاع ، محمد بن سلمان
- وزیر داخلہ ، محمد بن نایف
- ڈائریکٹر انٹیلی جینس ، الحمیدان
- وزیر خارجہ ، عادل جبیر

3- اس بات کو واضح کرنے کے لئے کہ امریکی سیکورٹی ٹیم ہی تمام تر معاملات چلاتی ہے اور سعودی حکمران فقط اپنے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں. وہ حال ہی میں امریکی انٹیلی جینس کے سربراہ کا دورہ ہے.ابھی نئے امریکی صدر کی طرف سے جس شخص نے ریاض کا پہلا دورہ کیا وہ سی آئی اے (CIA) کے سربراہ بامبیدو تھے. جنھوں نے سعودی وزیر داخلہ محمد بن نایف سے ملاقات کی اور انھیں CIA کے لئے بہترین خدمات سرانجام دینے پر جورج ٹی نیٹ تمغہ امتیاز پہنایا. اور اس نے نہ ملک سلمان سے ملاقات کی اور نہ ہی انکے بیٹے محمد بن سلمان سے ملاقات کی.

4- اور محمد بن سلمان کو بذات خود امریکہ طلب کرنے کا مقصد یہ ہے. کہ امریکی حکومت اس بات سے آگاہ ہے کہ جب سے اسکا باپ ملک سلمان سعودیہ کا سربراہ بنا ہے اس نے اپنے بیٹے کو مختلف امور میں کافی حد تک با اختیار بنا دیا ہے.اور وہ اہم فیصلے کر سکتا ہے.اور اسی لئے اسے طلب کیا گیا (نہ کہ اسے واشنگٹن دورے) کی  دعوت دی گئی.

5- یاد رہے کہ اس ملاقات کا صدر ٹرامپ کو مشورہ سینیٹر جان مکین نے دیا تھا.  جب اس نے 21 /02 / 2017 کو محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی.اور مختلف امور پر بات چیت کی تھی. جن میں سے اہم بات امریکی اسلحہ کو سعودیہ کے لئے فروخت کرنا تھا. اس کے بعد محمد بن سلمان نے بذات خود امریکی عسکری مصنوعات کی کمپنی (Raytheon) کے مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات بھی کی تھی .

5- جان مکین کے واپس پہنچنے کے بعد اوباما کے دور سے سعودی کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملہ پر جو پابندی عائد کی تھی انہیں  09/03/2017 کو اٹھا لیا گیا. جس کی قیمت ایک ارب ایک سو پندرہ ملین ڈالرز تھی.سعودیہ کی فوری ڈیمانڈ کے پیش نظر ریتھرن کمپنی نے اس اپنے بنائے ہوئے اسلحہ کی ایک مقدار، اسرائیلی سورسز کے مطابق ،  اسرائیل کے اسٹورز سے نکال کر سعودیہ بھیجی.

6-  یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ Raytheon کمپنی پاٹریارٹ میزائل ، توماہونگ میزائل BGM 109 اور Sidewinder Aim 9 میزائل بھی بناتی ہے. اور یہ وہ میزائل ہیں جنہیں امریکی جنگی طیاروں نے یمنیوں کے سروں پر برسایا. اس لے علاوہ Phased Array Radar ریڈار سسٹم بھی بناتی ہے جوکہ ایرانی ویمنی ساخت پلاسٹک میزائل کا سراغ لگاتا ہے. ریتھرن کمپنی کی مصنوعات میں زمین سے فضاء میں ہدف کو نشانہ بنانے والے اور کاندھے پر رکھ کر چلانے والے اسٹنگر میزائل بھی شامل ہیں جو عنقریب امریکہ کی جانب سے شامی باغیوں کو دئیے جائیں گے.

7- امریکی صدر سے 14/03/2017 کی ملاقات سے پہلے محمد بن سلمان کی ملاقات جان ماکین کے بعد Citygroup کے مینجنگ ڈائریکٹر سے بھی کراوئی گئی. سیٹی گروپ مضبوط فنانشل گروپ پے.جس کے مالیاتی ذخائر کی مالیت ایک ٹریلین اور سات سو بانوے بلین ڈالرز ہے.  جس کے حسابدار دو سو ملین افراد ہیں جنکا تعلق سو سے زیادہ ممالک سے ہیں. اور اس کے دو سو اکتالیس ہزار ملازمین ہیں. اور 2008 سے یہ گروپ شدید اقتصادی بحران میں مبتلا ہے.اور امریکی حکومت اس وقت سے اسکی مدد کر رہی ہے. یہ مالیاتی گروپ دنیا کے تین بڑے گروپس میں سے ایک ہے.( اسکے کئی بینک ہیں جن میں ایک سیٹی بینک ہے. اور مختلف فیلڈز کی دسیوں کمپنیاں بھی ہیں.  اس کا ہیڈ آفس منھاتن نیو یارک میں ہے.اور ٹرامپ کی کمپنیوں کا مرکز بھی وہاں ہے.)

8- امریکی صدر سے محمد بن سلمان کی ملاقات کی ماحول سازی کے لئے سعودی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر خالد فالح جوکہ بن سلمان کے قریبی شمار ہوتے ہیں ان سے بیان دلوایا گیا کہ سعودیہ چاہتا ہے کہ الاخفوری پٹرول کو امریکہ میں تیار کرے اور یہ بن سلمان کے 2030 ویژن اور پلان کا حصہ ہے اور اس سلسلے میں ایک سرمایہ گزاری فنڈ امریکہ میں قائم کرنے کا ارادہ بھی ہے.

9- پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت عشائیے پر بن سلمان کی ملاقات امریکی صدر ٹرامپ سے رکھی گئی. جس میں مندرجہ ذیل امور زیر بحث آئے.

ا- سعودیہ کی ارامکو کمپنی کو پرائیویٹ سیکٹر میں دینا، جسکی عالمی منڈی میں قیمت ایک ٹریلین ڈالرز بنتی ہے.اور جس کے شیئرز کی خریداری  میں ٹرامپ گروپ کی دلچسپی ہے۔

ب- پیٹروکیمیکل بڑی سعودی کمپنی " سابک" کی بھی پرائیویٹائزیشن کا امکان ہے. اور اسکے اسرائیلی حیفا ریفائنری کمپنی کے ساتھ ممکنہ تعاون کہ جسے اسرائیلی پیٹروکیمیکل صنعتی کمپنی چلاتی ہے  زیر غور ہے .اور اس ضمن میں حاویات الامونیا جسکی رجسٹریشن کی مینیجمنٹ ٹرمپ کے بھائی کے پاس ہے۔

ج- ایران کا مقابلہ اس سلسلے میں امریکا چاہتا ہے کہ آل سعود اور دیگر خلیجی ممالک امریکی اقدامات کو مالی طور پر سپورٹ فنڈ فراہم کریں خواہ یہ اقدامات اقتصادی اور مالیاتی محاصرے کی شکل میں ہوں یا عسکری ہوں سعودیہ اس ہدف کی خاطر تمام تر امریکی کمپنیوں کے نقصانات اور اخراجات کی ادائیگی کی ضمانت دے. امریکا اسے خلیج میں ایرانی نفوذ کو روکنے اور خلیجی ممالک کی حمایت کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔

د- محمد بن سلمان کو ہدایات جاری کی گئيں کہ وہ عراق اور شام میں امریکی افواج کو مالیاتی فنڈز فراھم کرے.اور اس میں الرقہ ، لیبیا اور یمن کا معرکہ شامل ہے. اور یہ معاملہ طے پایا کہ حمایت بالمقابل اموال.اور اس ڈیل میں سوریہ میں ترکی کی ہم آہنگی کے ساتھ جاری جارحیت اور مختلف دھشگرد گروپوں کی مدد کو جاری رکھنا بھی شامل ہے. اس ملاقات کا لب و لباب ایک امریکی کامیاب تاجر ڈونلڈ ٹرمپ اور  امن کے بھکاری اوباما کے یتیم آل سعود کے نمائندے محمد بن سلمان کے ما بین ایک بھاری مقدار کی تجارتی سودا بازی تھی. ان مختلف اقدامات پر اتفاق ہوا کہ جن سے اس بات کی ضمانت ملے ، اور جس کے ذریعے امریکہ اس خطے اور عربوں کے ذخائر اور ثروت کو لوٹتا رہے. اور مشرق وسطیٰ میں بدامنی جاری رہے. اور غیر معینہ مدت تک امریکہ  ایران کو دھمکیاں دینے کے عوض عربوں سے مال وصول کرتا رہے. اس کے علاوہ پٹرول والے ممالک اور اسرائیل کے مابین سفارتی وتجارتی تعلقات وسیع طور پر قائم ہوں. اور بڑے کامیاب بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر سایہ مشترکہ پراجیکٹس جیسا کہ سعودی کمپنی " سابک " اور اسرئیلی حیفا ریفائنری کمپنی کے مابین تعاون اور تعلقات پروان چڑھیں.
ابھی تک ہم زندہ ہیں کہو یا اللہ۔

 

بقلم : محمد صادق الحسینی
ترجمہ:ڈاکٹر علامہ   شفقت حسین شیرازی



اپنی رائے دیں



مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree