عدد اور عقل

29 اگست 2014

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک)جب بحث چلی کہ عقل بڑی یا بھینس تو ابتأامیں تو سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ بھینس اور عقل کی آپس میں کیا مشابہت ہے اور کیوں ان دونوں غیر مشابہ چیزوں کا موازنہ کیا جاتا ہے لیکن حالیہ واقعات اور ان پر ہونے والے تبصروں نے یہ معاملہ سلجھا دیا ۔جب ہم نے دیکھا کہ میڈیا ،حکمرانوں اور حکمرانو ں کے خیرخواہ بڑے بڑے عقلمند یہ کہتے نظر آئے کہ اگر یہ روایت پڑ گئی کہ کوئی بھی شخص یا جماعت کچھ ہزار کا لشکر لے کر اسلام آباد آجائے تو کیا اس کے سب مطالبے مان لئے جائیں اور ایسی روایت میں کیاحکومت کی رٹ باقی رہ سکے گی اور کیا کوئی آنے والی حکومت چل سکے گی۔

 

ان کے اس تبصرے یا بہانے ،نے یہ بات ثابت کردی کہ عقل کے مقابلے پر بھینس ہی آسکتی ہے کیونکہ دورِ گذشتہ میں محاوروں کے ایجاد کرنے والوں نے ان ہی کے لئے ایسے محاورے بنائے تھے۔جو عقل کی تلنا عدد سے کریں گے۔یعنی یہ نہ تو اب دیکھا جارہا ہے اور نہ ہی آئیندہ دیکھا جائے گا کہ مطالبے کیا ہیں ان کی سچائی کیا ہے ان مطالبوں کی اسساس کیا ہے ان کی بنیاد کیا ہے اور وہ مطالبے کون کررہے ہیں اور یہ مطالبے کس وجہ سے ہو رہے ہیں یا ان میں علم اور عقل کا کتنا عمل دخل ہے کن کن عوامل کی وجہ سے یہ مطالبات معرض وجود میں آئے ملکی بقاء اور اس میں رہنے والوں کے حقوق کا اس میں تحفظ ہے یا نہیں اور دیگر عسکری ،معاشی اور سماجی پہلوکا عقلی جائزہ لینے کے بجائے ۔یہ دیکھا جائے گا کہ جلوس کتنا بڑا ہے لوگوں کی تعداد کتنی ہے یہ اسلام آبادمیں ہے یا کسی اور علائقے میں ہے اس جلوس سے ہماری یا ہمارے جیسوں کی حکومت بچ جائے گی یا چلی جائے گی۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ انھوں نے عقل کے مقابلے پر بھینس کو ہی ترجیح دی اور سب نے مل کر اپنی اور اپنے جیسوں کی حکومت اور عہدے بچانے کے لئے یہ بہانہ گھڑ لیا کہ کل کوئی اس سے بڑالشکر لے کر آئے تو وزیر اعظم استعفے دے دے یا کوئی اور مطالبہ مان لیاجائے۔یعنی حقائق کی بنیاد پر جائزہ لینے کی بجائے لوگوں کی تعداد اور ان کے دھرنے کامقام دیکھا جائے۔حیرت ہے ان کے عقل پر جو عدد کو عقل پر فوقیت دیتے ہیں اور اس بے عقلی کو جمہوریت کا نام بھی دیدیتے ہیں۔اور اس پر ڈٹ بھی جاتے ہیں شاید انہی سے یہ سوال ہے کہ عقل بڑی یا بھینس ۔

تحریر:عبداللہ مطہری



اپنی رائے دیں



مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree