گلگت بلتستان کی پسماندگی اور سیکولر مائنڈ سیٹ

02 جنوری 2020

وحدت نیوز (آرٹیکل) گلگت بلتستان کے جس علاقے میں بھی جاتا ہوں ہر کوئی مذہب پہ یا کسی مذہبی شخصیت پہ انگلی اٹھاتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ بلکہ یوں کہے تو شاید غلط نہ ہوگا کہ مذہب پر انگلی اٹھانا تو اب فیشن بن گیا ہے۔یہاں تک کہ پڑھا لکھا طبقہ تو ہمیشہ مذہبی بہت سارے معاملات میں خود اجتھاد کرتا ہے اور اپنی ذاتی سوچ کو ہی حرف آخر سمجھنا ضروری سمجھتا ہے۔ دینی معاملات میں بھی بعض افراد یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ میرا دل نہیں مانتا۔ اس میں خود مذاہب، فرقوں اور علماء کا اختلاف ہے لھذا اس مسئلے میں میں وہ کرتا ہوں جو میرا دل مانے۔ جس طرح مذہب مورد تنقید ہوتا ہے ویسے ہی مذہبی فرد بھی تنقید کا نشانہ ہوتا ہے۔ خصوصا اگر کوئی دینی طالب علم ہو جو دینی علوم کے حوالے سے کوئی بات کرے، یہاں تک کہ بعض تو وہ ہیں جو دینی طلبا کو خاطر میں لاتے ہی نہیں۔ بلکہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے کو قدامت پسند اور تیسری دنیا کے مخلوق سمجھتے ہیں، کیونکہ ان نفسانی خواہشات کے اسیر بظاہر اہل علم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی علمائے دین ہیں۔ جو بے حیائی و عریانی اور مخلوط پروگرامز وغیرہ کے انعقاد کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں۔ ان پہ سرعام تنقید کرتے ہیں۔ وہی افراد جو قوم کے بچوں کے ساتھ ایسے اجتماعات کرتے ہیں جو وہ اپنے بچوں کے ساتھ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں ۔ جبکہ دینی تعلیم و تربیت سے عاری ایسے ڈگری یافتہ افراد نے معاشرے کی بنیادوں کو جس طرح دیمک کی طرح چاٹ کر اور اور دانتوں سے چبا کر رکھا ہے اس کی ایک لمبی داستان ہے، جس کو ہم کسی اور موقع پہ بیان کریں گے۔

جس طرح مذہب کے خلاف بولنا فیشن ہے اسی طرح دینی طلبا کے خلاف زہر اگلنا بھی فیشن ہے۔ حیرت کی انتہا تب ہوتی ہے جب یہ سننے کو ملتی ہے کہ اگر مذہب کے ساتھ رہے تو ترقی نہیں ہو سکتی۔ مذہبی پارٹیوں نے بلتستان کو تاریک میں رکھا۔ اب مذہبی پارٹیوں کونہیں بلکہ وفاقی پارٹیوں کو ووٹ دے کر جتوانا چاہئے تاکہ ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جائے۔ ہمارا مستقبل روشن تب ہوگا جب ہم وفاقی پارٹی کے ساتھ رہیں گے۔" بلتستان حلقہ 2 میں اب باقاعدہ یہ کہا جارہا ہے کہ مذہبی پارٹیوں کی وجہ سے یہ حلقہ پسماندہ رہا ہے لھذا اب وفاقی پارٹی کا جیتنا ضروری ہے۔ در اصل یہ ماضی سے انجان ہونے کی نشانی ہے۔ یادش بخیر گلگت بلتستان میں ایک وفاقی پارٹی جیت گئی تھی یہاں تک اسی مذکورہ حلقے میں بھی وفاقی پارٹی کا نمائندہ بھاری اکثریت سے جیتا تھا اس کا تعلق کسی مذہبی پارٹی سے نہیں تھا۔ اس کے دس سالہ دور اقتدار میں کونسا بڑا کارنامہ انجام دیا گیا؟ کون سا ایسا تیر مارا وفاقی سیکولر پارٹی ہونے کے ناطے۔ سوائے کرپشن، لوٹ مار، اقربا پروی اور لاقانونیت کی انتہاءکے۔ جب پہلے ایک وفاقی پارٹی کے دس سالہ دور اقتدار میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوا تو آپ کی پارٹی سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے جبکہ اس میں وہی پرانے لوٹے جمع ہیں۔

آپ پھر کہتے ہیں کہ ہمارا خطہ مذہبی پارٹی کی وجہ سے پسماندہ رہا۔ لگتا ہے آپ کی نظر بہت ہی محدود ہے۔ آپ کو ابھی تک آپ کے بنیادی مسائل سے واقفیت ہی نہیں ہے تو آپ کیا ترقی کی بات اور ترقی کے راز بتاتے ہیں؟ آپ کی نظر میں ترقی سے مراد سڑک کشادہ ہو، گلی کوچے پکے ہوں، بجلی کے فراوانی ہو، آپ کی تفریح کے لئے پارک اور سیرگاہ ہوں۔ توجناب یہ تو ترقی نہیں ہے بلکہ یہ تو آپ کی بنیادی ضروریات ہیں جن کو پورا کرنا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے یہ تو آپ کے بنیادی مسائل ہیں جس کو حل کرنے کے لئے ذمہ دار افراد بیٹھے ہیں مگر ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ہے۔ حقیقت میں آپ کی ترقی یہ ہے کہ اپ کی تقدیر کے فیصلے آپ کے ہاتھوں میں ہو۔ آپ کی تعلیم کا نظام آپ کا اپنا بنایا ہوا نظام تعلیم ہو۔ آپ کا اقتصاد آپ کے ہاتھوں میں ہو۔ ہمارے آباؤاجداد نے جس نظریے کی خاطر پاکستان میں شامل کیا تھا اس نظریئے کا تحفظ اپ کریں اور اس کی ترویج کا اختیار آپ کے پاس ہو تو ہم کہیں گے کہ آپ ترقی یافتہ ہیں۔ جبکہ حقیقت بلکل اس کے برعکس ہے۔ یہ خود کسی این جی او کے ملازم ہیں اور کسی دوسرے کے ایجنڈے پہ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ چند ختم ہونے والے پیسوں کے عوض اپنی قوم وملت کا سودا کرتے ہیں آپ کو کیا پتہ کہ قوم کی ترقی کا راز کیا ہے؟

یہ وہ لوگ ہیں جن کو قوم کی عزت سے ذیادہ اپنا پیٹ عزیز ہے اپ کہتے ہیں کہ اس حلقے کو مذہب نے پسماندہ رکھا۔ میں تو کہتا ہوں اس حلقے کو آپ جیسے مفاد پرستوں ، شکم پرستوں اور مغربی این جی اوز کے فضلہ خوروں نے پسماندہ رکھا۔ اس حلقے کو سیاسی ضمیر فروش لوگوں نے پسماندہ رکھا۔ اس علاقے کو پسماندہ ان وفاق پرست پارٹیوں نے رکھا جن کا ہم و غم الیکشن میں جیت کر پانچ سال لوٹنا ہوتا ہے۔ نتیجہ تمام لوٹے پانچ سال مفادکے لئے جمع ہوتے ہیں نظریئے کے لئے نہیں جمع ہوتے۔ یہی وجہ ہے جب اگلے پانچ سال کے لئے کوئی دوسری پارٹی برسر اقتدار آ جائے تو یہ مٹھی بھر کمیشن خور وفاقی پارٹی ڈھونڈتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا نظریہ بس پیسہ اور اقتدار ہے۔ یوں پوری زندگی لوٹا کریسی اور ضمیر فروشی میں گزر جاتی ہے اور اسی کو اپنی بہترین حکمت عملی سمجھتے ہیں ۔ جس کی نظیر بھی اب میرے شمار سے باہر ہے۔ میرے بھائی آپ اگر اہل علم میں سے ہیں تو چشم بصیرت کے ساتھ دیکھ لوتاکی کچھ حقیقت آپ کو نظر آجائے۔

میں اس بات کا ببانگ دہل اعتراف کرتا ہوں کہ بلتستان میں حلقہ 2 نے ہمیشہ مذہبی حلقہ ہونے کا ثبوت دیا ہے اور باقی حلقوں کی نسبت ایک باشعور حلقہ تصور کیا جاتا ہے۔ مگر افسوس اس حلقے میں ذمہ داری، حکمت عملی اورپلاننگ کے ساتھ باقاعدہ کوئی تربیتی، تعلیمی، معاشرتی ، سیاسی وسماجی اور ترقیاتی خصوصا کوئی فکری اور نظریاتی کام نہیں ہوا ، پھر بھی کسی حد تک کام ہوا ہے۔ جو کہ نہ ہونے کے برابرہے۔

اسوقت قوم کی زیادہ سے ذیادہ فکری اور نظریاتی تربیت ضروری  اور واجب ہے۔ قومیں  سڑکوں، عمارتوں اور مادی ترقیوں سے باقی اور قائم نہیں رہتی، بلکہ قومیں افکار اور نظریات کی بنیاد پر قائم رہتی ہیں۔ ہرقوم کو اس کے پائیدار نظریات سے پہچانا جاتا ہے اور انقلاب کا دارومدار بھی نظریات ہی ہوا کرتا ہے۔ اسی لئے سامراجی طاقتوں نے تمام حربوں کو آزمایا، جب ناکام ثابت ہوئے تو ایک خطرناک حربہ آزمایا جس سے پوری قوم ملیامیٹ ہوجاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس قوم کو اس کے نظریئے سے ہٹادو۔ مثلا عراقی قوم میں سیکولر نظریات کو پھیلانے کے لئے عبد الکریم اور حسن بکر نے ایڑی  چوٹی کا زور لگایا اور اس کا آغاز سکول کے بچوں سے کیا۔ جس کی سزا آج عراقی بھگت رہاہے۔ اسی طرح آپ ترکی کو دیکھ لیں۔ اب ایک عرصے سے ایران نشانہ پر ہے۔ جس طرح ان ملکوں کو تباہ کرنے کے لئے ان ملکوں کے باشندوں سے ان کے نظریات چھیننے کی کوششیں کی جارہیں ہیں آج گلگت بلتستان سے بھی ان کے اس نظریہ کو چھینا جارہا ہے جس نظریہ کی وجہ سے اس خطے کا پاکستان کے ساتھ سب سے مضبوط رشتہ قائم ہے۔اور وہ نظریہ توحید، اسلام ، قرآن کا نظریہ ہے۔ نظریہ توحید ہی وہ بنیادی نظریہ ہے جس سے انسان اقدارپرست 'قانون 'اخلاق اور ظالم سے نفرت اورمظلوم کا ہمدردبنتاہے۔ جس طرح حکیم امت نے فرمایا

زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کھبی
آج کیا ہے ، فقط اک مسئلہ علم کلام

عقیدہ توحید کا نظریہ وہ بنیادی نظریہ ہے جس سے انسانی زندگی میں انقلاب آتا ہے۔ انسان نہ ظلم کرتا ہے نہ ظالم کو برداشت کرتا ہے بلکہ ظلم اور ظالم کے راستے کو روکنے کاجذبہ پیدا کرتا ہے۔ ایسے میں بحیثیت مسلمان ہر برائی کے خلاف قیام کرنا ضروری ہے۔ گلگت بلتستان کا ہر فرد اسی جذبے سے سرشار ہے اور ظلم و ظالم کا راستہ روکنے کے لئے تیارہے جس کی وجہ سے اب گلگت بلتستان میں اسی جذبے کوختم کرنے کے لئے باقاعدہ سکیم اور پلاننگ کے ساتھ سیکولر نظریات کی ترویج کی جارہی ہے اور نوجوانوں کوٹارگت کیا جارہا ہے جوکی سب سے خطرناک اور ہولناک سازش ہے جس کی روک تھام ضروری ہے وگرنہ انے والے سالوں میں یہ خطہ بے مثال  جرائم و کرائم ، بدامنی اورتمام منکرات کا مرکز ہوگا۔ جس کا خمیازہ یہاں کے  ہر ایک باسی کو بھگتنا پڑے گااور وہ نقصان کہیں ذیادہ ہوگا موجودہ پسماندگی سے (بقول بعض)۔ جس طرح سابقہ کمشنر حمزہ سالک نے بلتستان کے لوگوں کو سیکولر ہی قرار دیا تھا۔ جس کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ اس خطے کو ایک مذہبی خطے سے نکال کر ایک بے دین، لاابالے، لا تعلق اور بے حس خطہ بنانے کی پوری کوشش ہورہی ہے تاکہ عالمی طاقتوں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔ ایسے میں گلگت بلتستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ مذہب نہیں ہے بلکہ یہ نظریہ ہے جس کی ترویج ہر جگہ خصوصا تعلیم کے نام پر تعلیمی اداروں میں کی جا رہی ہے۔اور اب انے والے الیکشن میں سیکولر، بے دین، روشن خیال، خائن، ضمیر فروش اور دین و مذہب مخالف افراد کو لایا جائے گا اور مذہبی پارٹیوں کا صفایا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایسے میں ہمیں بھی باریک بینی کے ساتھ ان سازشوں کے خلاف ہمت و ہوشیاری سے مقابلہ کرکے ان باطل نظریات کی روک تھام کرنا ہوگی۔ ورنہ تمہاری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔


تحریر: شیخ فداعلی ذیشان



اپنی رائے دیں



مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree