برما اور آزاد کشمیر

05 ستمبر 2017

وحدت نیوز(آرٹیکل) کچھ توکم ہے، کسی چیز کی تو کمی ہے! اگرچہ ہمارے پاس ایٹم بم بھی ہے! اگرچہ اسلامی عسکری اتحاد کا سربراہ بھی ہمارا ہی ایک ریٹائرڈ جنرل ہے  لیکن بحیثیٹ قوم  ہم ابھی تک اپنی ذمہ داریوں کا تعین نہیں کر سکے۔  دوسری طرف  لاکھوں ہندی اور کشمیری مسلمانوں کے قاتل مسٹر مودی  اس وقت برما پہنچ چکےہیں جہاں وہ  میانمار کے صدر ہیٹن کیاؤ سے ملاقات کریں گے۔ یعنی مسلمانوں کے دو مسلمہ قاتل آپس میں مل بیٹھیں گےاور اس کے بعد مسلمانوں کے حوالے سے  وہ  دونوں کیا منصوبہ بندی  کریں گے اس کا فی الحال  ہم کچھ بھی اندازہ نہیں لگا سکتے ۔

اس دوران اچھا ہواکہ  پاکستان سےمولانا سمیع الحق نے  اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک خط لکھا ہے لیکن یہی خط اگر سعودی فوجی اتحاد کی طرف سے  لکھاجاتا تو اس  کی تاثیر بھی کئی گنا زیادہ ہوتی اور سعودی فوجی اتحاد کے بارے میں اٹھنے والے شکوک و شبہات بھی کچھ کم ہو جاتے۔

یہاں پر میانمار کی  نوبل انعام یافتہ خاتون رہنما آنگ سان سوچی کی برمی مسلمانوں کے قتل عام پر خاموشی کا ذکر ہر گز ضروری نہیں چونکہ ظلم پر خاموش رہنا تو ہم پاکستانیوں کی بھی عادت ہے۔ ہم بھی تو صرف  اپنی پارٹی ، اپنے مسلک ، اپنے گروہ، اپنے مدرسے اور صرف اپنے ہی فرقے کے لئے بولتے ہیں۔

ابھی ہم سب کے سامنے  برما اور مقبوضہ کشمیر کی طرح  آزاد کشمیر کو بھی فرقہ واریت کی آگ میں جھلسانے کی سازش تیارہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ چند سالوں میں جہاں دیگر متعدد واقعات  رونما ہوئے وہیں ٹارگٹ کلنگ کے آپشن کو بھی استعمال کیا گیا ہے۔

 اس سلسلے میں فروری ۲۰۱۷ میں علامہ تصور جوادی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔  ان پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ موٹر سائیکل پر کہیں جارہے تھے، علامہ  تصور جوادی کے چار گولیاں لگیں جن میں سے ایک ان کے  گلے میں لگی۔

اب  یہ بھی  ایک واضح حقیقت ہے کہ  آزاد کشمیر کے لوگوں میں مسلکی وحدت اور بھائی چارہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ،  اسی طرح تحریکِ آزادی کا بیس کیمپ ہونے کی وجہ سے بھی یہ علاقہ انتہائی حساس ہے ، ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس علاقے میں مین روڈ بھی صرف ایک ہی ہے جس پر کوئی کارروائی کر کے فرار ہونا ممکن ہی نہیں لیکن نجانے وہ کونسی قوت ہے جس نے ابھی تک حملہ آوروں کو پناہ  دی ہوئی ہے۔

یاد رہےکہ جب کسی بھی منطقے میں کچھ قوتیں دہشت گردوں کی سہولت کاری شروع کر دیتی ہیں تو پھر وہاں  پر  برما جیسے سانحات معمول بن جاتے ہیں۔

اس وقت جس طرح برما کے مسلمانوں کی خاطر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی  فرقہ واریت  اور ٹارگٹ کلنگ کا آغازکرنے والوں کو بے نقاب کرنے اور کیفرکردار تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

اس امر کے لئے برما کے اعلی حکام کو فیکس اور ای میلز کرنے کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر کے اعلی حکام کو بھی فیکس اور ای میلز کئے جانے چاہیے۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آزاد کشمیر جیسے حساس علاقے  کے دارالحکومت  میں ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ پیش آئے اور ملک کی خفیہ ایجنسیاں حملہ آوروں کو گرفتار کرنے میں ناکام ہو جائیں۔

 اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے پاس   کچھ توکم ہے، کسی چیز کی تو کمی ہے! اگرچہ ہمارے پاس ایٹم بم بھی ہے! اگرچہ اسلامی عسکری اتحاد کا سربراہ بھی ہمارا ہی ایک ریٹائرڈ جنرل ہے  لیکن بحیثیت قوم  ہم ابھی تک اپنی ذمہ داریوں کا تعین نہیں کر سکے۔ جس طرح مسٹر مودی ہم سے پہلے برما میں پہنچ چکا ہے اسی طرح را کے ایجنٹ ہم سے پہلے آزاد کشمیر میں بھی سرگرم ہو چکے ہیں۔

ہمارے سیکورٹی اداروں کو آزاد کشمیر میں  ڈٹ کر را کے ایجنٹوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ وہ لوگ جو تحریکِ آزادی کے بیس کیمپ میں ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ واریت کا ماحول بنا رہے ہیں وہ   یقینا! را کے ٹاوٹ ہیں  اور کسی لانگ ٹرم منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہیں، ایسے لوگوں کے نیٹ ورکس کے خلاف فوری طور پر کارروائی ہونی چاہیے۔

اس سے پہلے کہ بلوچستان کی طرح  آزاد کشمیر میں بھی  را اپنے قدم جمالے  اور اپنے نیٹ ورکس کو پھیلا دے،   ہمارے حساس اداروں نیز فوج اور پولیس کو اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

اس وقت  سات مہینے گزرنے کے باوجود ٹارگٹ کلرز کا گرفتار نہ ہونا آزاد کشمیر میں فعال سیکورٹی اداروں کی سلامتی پر سوالیہ نشان ہے۔

یہ ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے کہ ہم  برما اور آزاد کشمیر میں را کے نیٹ ورکس کے خلاف آواز اٹھائیں اور تحریک آزادی کے اس بیس کیمپ کو دہشت گردی سے پاک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔یاد رکھئے کہ  جو آگ بھارت کی ایما پر برما میں جل رہی ہے اسی کو را آزادکشمیر میں سلگانے میں مصروف ہے۔

تحریر۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.



اپنی رائے دیں



مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree