وحدت نیوز(اسلام آباد) پشاورسانحہ میں معصوم طالبعلموں کے قتل سے طالبان نے بربریت کی سیاہ تاریخ رقم کردی ان کے اس اقدام نے ثابت کردیا کہ یہ انسانیت کے دشمن ہیں اور جہالت ان کی میراث ہے ۔ علم کے گہوارے میں پروان چڑھنے والے معصوم طالبعلموں کو موت کی نیند سلاکر ان انتہا پسندوں نے ثابت کیا کہ ان کے خمیرمیں سفاکیت او ر گمراہی رچی بسی ہے۔کہاں ہیں اسلام کے وہ نام نہاد ٹھیکیدارسیاست دان جو ان کی وکالت میں ان سے بھی زیادہ آگے نکل جاتے ہیں آج ان کی زبانیں کیوں بند ہیں ۔ ان خیالات کا اظہارنثارعلی فیضی مرکزی سیکرٹری فلاح بہبود مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کیا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ افواج پاکستان کو اس بزدلانہ حملے کا نہایت دندان شکن جواب دیتے ہوئے ان کی تمام نرسریز کے خلاف آپریشن کرنا چاہیے ۔ پوری قوم اس وقت سوگوار ہے اور اس واقعے پر اشک بار ہے یقیناًیہ ننھے پھول واپس تو نہیں آسکتے اور ان کی ماؤوں کے کلیجے میں ٹھنڈک تو نہیں پڑسکتی لیکن فورسز کی فیصلہ کن آپریشن کے نتیجے میں ان کے زخموں پر مرحم ضرور رکھا جاسکتا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان اس قومی سانحہ پر تمام سوگوار خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) سیاسی جماعتیں دوغلی پالیسی ترک کریں پارلیمنٹ میں حکومت کے حامی ٹیلی ویژن پر شوز میں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے مطالبات کی تائید کرنے والے اپنے آپ کو کسی ایک پلڑے میں ڈالیں، اس وقت پاکستان میں عملی طور پر آمرانہ نظام حکومت قائم ہے ، جمہوریت ہے ہی نہیں ، بچائی یا گرائی کیسے جائے گی، جو جمہوریت کے تحفظ کی بات کرتے ہیں وہ دراصل جمہوریت نہیں بلکہ اپنی اپنی کرسی بچانے اور باری پوری کروا کر اپنی باری کے تحفظ کی بات کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہارسیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں و کشمیر علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی نے ایم ڈبلیوایم آزاد کشمیر کی ریاستی کابینہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ جو کچھ اسلام آباد میں ہو رہا ہے ، نہ کہیں آئین ہے اور نہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں، ایک ڈکٹیٹر کی حکومت یا بادشاہت کا سسٹم قائم ہے، بادشاہ کی ذاتی پولیس بغیر کسی قانون سے بے گناہ شہریوں کو ہوٹلوں ، بازاروں اور گیسٹ ہاؤسز سے بلا جواز اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنا رہی ے ، ایف آئی آر پہلے سے تیار ہے ، افراد کو اٹھانا اور اس میں ڈالناہے۔ ہمارے ساتھیوں کو بغیر کسی ورانٹ کے کمرے میں داخل ہو کر گرفتار کیا گیا ، ابھی تک نہ ضمانت لی گئی اور نہ کسی کو ان سے ملنے دیا جا رہا ہے ایسے اقدام تو مارشل لاء میں بھی نہیں کیئے جاتے ۔ ہمارا ذاتی نقطہ نگاہ ہے کہ اگر یہی جمہوریت ہے تو اس سے مارشل لاء بدرجہ ہا بہتر ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی مہذب اقوام پرامن احتجاج کی حمایت کرتی ہیں ، دنیا میں جہاں بھی احتجاج ہوتا ہے کہیں تشدد نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی لیکن بادشاہانِ رائیونڈ نے دنیا کے تمام اصول ایک طرف رکھتے ہوئے کرسی بچاؤ پالیسی کے تحت عوام کو طاقت کے زور پر کچلنا شروع کر رکھا ہے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عملی طور پر اگر قانون نافذ ہے تو ہم سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے شریف برداران سمیت جن افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر سابقہ دور میں دو وزیراعظم کورٹ میں پیش ہو سکتے ہیں تو وہ کونسا قانون ہے جس کے تحت موجودہ حکمرانوں کو استثنیٰ حاصل ہے، ابھی حال ہی میں وزیراعظم و رفقاء پر دو ایف آئی آر مذید درج ہوئیں کیوں نہیں قانون حرکت میں آتا؟ کیا قانون صرف پرامن و نہتے شہریوں کے لیئے ہے۔ جہاں عدالتیں آزاد قانون کی عمل داری اور جمہوری نظام قائم ہوتا ہے وہاں تو کوئی ملزم یا مجرم حق حکمرانی نہیں رکھتا۔ اسے آئین اور قانون کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کی ہمیشہ قدر کرتے ہیں ، ہمارے جوانوں اور آفیسرز نے ہمیشہ ناموس وطن کے تحفظ کے لیئے قربانیاں دیں ہیں، دہشتگردی کا مقابلہ فوج کرے، زلزلہ زدگان کی مدد فوج کرے ، سیلاب زدگان کو فوج ریسکیو کرے، ملک کی سرحدوں کی حفاظت فوج کرے تو ہر سطح پر فوج خدمات سرانجام دے، لیکن بعض سیاسی لوگ ڈھکے چھپے اور بعض واضح الفاظ میں افواج پاکستان پر تنقید کر رہے ہیں، افواج پاکستان کی کردار کشی کرنے والے میڈیا ہاؤس کو بھی وزیراعظم سپورٹ کرتے ہیں ، انقلاب و آزادی مارچ کے مسئلہ کے حل کے لیئے پہلے فوج کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا، فوج کو مداخلت کا کہا گیا لیکن بالآخر افواج پاکستان کو بدنام کیا گیا ، آئی ایس پی آر کی سٹیٹمنٹ کے بعد وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں جو جھوٹ بولا تھا اس میں وہ بے نقاب ہو گئے تو ایک ایسا شخص جو صادق و امین نہ ہو وہ کس قانون کے تحت وزیراعظم رہ سکتا ہے؟ ہم ایک پھر اس مطالبہ کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہمارے گرفتار عہدیداران کو فی الفور رہا کرتے ہوئے جھوٹے مقدمات کو ختم کیا جائے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)49ویں یوم دفاع پاکستان کے موقع پر مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اپنے تہنتی پیغام میں سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ آج 49برس بعد بھی شہدائے وطن کی قربانیاں ہمارے دلوں میں زندہ ہیں ،6 ستمبر1965کا عظیم دن پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا ہوا ہے، پاک افواج کے بہادر سپوتوں نے ہندوستان کے ناقابل تسخیر ہونے کے دعوے کو خاک میں ملا دیا، اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے دشمن کے ناپاک عزائم کوخاک میں ملانے والے فوجی جوانوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں ، 1965سے شروع ہونے والی افواج پاکستان کی استقامت و ایثار آج ضرب عضب تک جاری ہے، افسوس آج ہمارے نا عاقبت اندیش حکمران دفاع وطن کی ضامن افواج پاکستان کے خلاف محاذآرائی میں مصروف ہیں ،افواج پاکستان لٹیرےسیاست دانوں سے زیادہ محب وطن ہیں ۔ ان کامذید کہنا تھا افواج پاکستان کی تاریخ جذبہ ایثار و فدا کاری سے عبارت ہے، بھارتی جارحیت ہو یا طالبانی لشکر کشی، ضرب عضب ہو یا سیلاب و زلزلہ فوجی جوان ہر لمحہ ملک و قوم کی خدمت میں پیش پیش نظر آتے ہیں ،حالیہ ملکی سیاسی حالات میں بھی پاک فوج کا کردار قابل تحسین ہے ، انتہائی درجے کی سازشوں کے باوجود افواج پاکستان نے سیاسی معاملات میں دخل اندازی سے گریز گیااور سیاسی مسائل کے حل کے لئے اپنا غیر جانبدار قابل ستائش قردار اد اکیا، لیکن دوسری جانب ملک دشمن ایجنڈے پر کاربند قومی وسائل ہڑپ کرجانے والے بعض حکمران صبح وشام افواج پاکستان کا استحقاق مجروح کرنے میں مصروف ہیں ، جن کا مقصد ملت پاکستان اور افواج پاکستان کے درمیان کشیدگی کو پروان چڑھا کر اپنے غیر ملکی آقائوں کے ایجنڈے کو عملی جامع پہنانا اورقومی دفاع کو کمزور کر نا ہے، لیکن ملت پاکستان بیدار اور ہوشیار ہے افواج پاکستان کے خلاف حکمران جماعت ، بعض ذرائع ابلاغ اورغیر ملکی ایجنسیوں کسی بھی سازش کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

وحدت نیوز(مانیٹرنگ ڈیسک) ایم ڈبلیوایم پاکستان کے مرکزی ترجمان کا ”اسلام ٹائمز“ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ حکومت فوج کو بلائے تو جمہوریت اور عوام فوج کو بلائے تو غیر جمہوری ہونے کی الزام تراشیاں، یہ فوج کیا بھارت کی فوج ہے، کیا وہ امریکہ اور اسرائیل کی فوج ہے، کہاں کی فوج ہے، پاکستانی فوج ہے نا، جب یہ فوج سیلاب، زلزلوں اور دہشتگردی کیخلاف ہماری مدد کو آسکتی ہے تو عوام کو بھی ظلم و ستم سے نجات دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتی ہے، جیسا کہ سب اعتراف کرتے ہیں ہمارے تمام اداروں میں سب سے مضبوط و منظم ادارہ فوج کا ہے۔


معروف اہل تشیع عالم دین و خطیب مولانا سید حسن ظفر نقوی مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ترجمان ہیں، آپ کا تعلق شہر قائد کراچی ہے، گذشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد میں انقلاب مارچ کے شرکاء کے ساتھ پارلیمنٹ کے سامنے ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان کے ہمراہ دھرنے میں شریک تھے۔ ”اسلام ٹائمز“ نے کراچی پہنچنے کے بعد مولانا حسن ظفر نقوی کے ساتھ ریڈ زون پر حکومت اور مظاہرین کے تصادم کے بعد ملکی سیاسی بحران میں افواج پاکستان کے کردار کے حوالے انکی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر آپ کے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

 

اسلام ٹائمز: پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کے پس منظر میں نواز حکومت مخالف جماعتوں کی انقلابی تحریک پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ ان کی حکومت مخالف تحریک کے پیچھے فوج ہے، نیز ملکی سیاسی منظر نامے کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
مولانا حسن ظفر نقوی: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ سب سے پہلے تو میں عوام کے ردعمل پر بات کرنا چاہتا ہوں کہ ایسا ہو کیوں رہا ہے، یہاں تک نوبت آئی کیوں ہے کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ ملکی ادارے اس میں ملوث ہیں، اداروں کی جنگ شروع ہوچکی ہے، اس کا پس منظر کیا ہے، اس اصل مسئلہ یہ ہے، اس کی طرف لوگ توجہ کم دے رہے ہیں، 66 سال کے یہ جو ہمارا بوسیدہ اور فرسودہ نظام ہے جس میں چند درجن یا چند سو لوگ وہی ہیر پیر کرکے اس لوٹ مار کے نظام کو چلا رہے ہیں، اسی سے انکے مفادات وابستہ ہیں، اس کا سب سے واضح ثبوت ہے کہ اب سے چند ہفتوں قبل وہ سیاسی جماعتیں جو ایک دوسرے کو میڈیا میں نوچ رہی تھیں یعنی حزب اقتدار اور حزب اختلاف، ایسے ایک دوسرے کیخلاف لگے ہوئے تھے کہ جو بھی دوسرا حکومت میں رہا، یا آیا تو ملک ختم ہوجائے گا، لیکن جب اس فرسودہ نظام کو الٹنے کی بات آئی کہ جس سے ان سب کے مفادات وابستہ ہیں تو سب کو اپنی فکر پڑگئی، کیونکہ سب نے اس کرپٹ نظام کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔
آج جو یہ پاک فوج کے حوالے سے الزام تراشیاں کرکے رہے ہیں تو مجھے افسوس کے ساتھ ہنسی بھی آتی ہے کہ ماضی میں جب جس حکومت کو فوج کی ضرورت پڑی تو بلا لیا اور جب حکومت مخالف کسی نے ایسی بات کی تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ ہم نے کبھی بھی فوجی اقتدار کی بات نہیں کی، لیکن حکومت خواہ مخواہ خود فوج کو اس معاملے میں گھسیٹ رہی ہے کہ مخالفین کے پیچھے فوج ہوگی، اس کے پیچھے فوجی ہونگے، ان سے خود تو پوچھو انہیں کون لایا ہے، تمہیں کس نے جنم دیا ہے، ایوب خان کن کن سیاستدانوں کو لایا تھا، یحییٰ خان کے دور میں کون کون سیاستدان آئے، ضیاءالحق کو کس نے سپورٹ کیا اور اسکی دی ہوئی وزارتوں کو کس کس نے قبول کیا، جنرل (ر) مشرف کے دور میں بیٹھی ہوئیں اور بیٹھے ہوئے آج جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں، ابھی کل تک تو تم مشرف کی کابینہ میں تھے، مشرف کی محترمہ وزیر بھی تھیں، اور محترم وزیر بھی تھے، اصل میں اس کرپٹ اور فرسودہ نظام جس سے ان مفاد پرستوں کے مفادات وابستہ ہیں، اس کے لپٹنے سے خوفزدہ ہیں۔ پرویز مشرف کے لائے ہوئے بلدیاتی نظام کو انہوں نے لپیٹ دیا، اصلاحات کرکے بھی نہیں لا رہے کہ نیچے تک عوام کو کوئی فائدہ پہنچے، یہ بلدیاتی نظام تو دنیا بھر میں رائج ہے، اس لئے نہیں لاتے کہ آمر کا لایا ہوا ہے، مگر یہ اصلاحات کرکے بھی نہیں لائے لیکن جب اسی آمر نے جب اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں دیں تھیں تو اسے نہیں ختم کر رہے، جس پر آج حکومت کی محترم خواتین، بہنیں بیٹھی ہوئی ہیں، اسے کیوں ختم نہیں کیا اگر آمر کا لایا ہوا تھا تو، یعنی آمر کا جو کام آپ کے فائدے کا ہو وہ ٹھیک اور جو کام کہ جس سے اختیارات عوام کو نچلے درجے تک منتقل ہو رہا ہو وہ غلط۔
تو ابھی جو یہ سب کرپٹ نظام کے دلدادہ لوگ تڑپ رہے ہیں، وجوہات بیان کر رہے ہیں اور ہاں ہوسکتا ہے کہ تیسری قوت فائدہ اٹھا جائے لیکن عوامی بغاوت اس کرپٹ نظام کے خلاف ہے، آپ اپنے اس جاگیرداری، وڈیرہ شاہی نظام کو جمہوریت کا نام دے رہے ہیں، یہ اصل میں نیم جاگیردارانہ، نیم سرمایہ دارانہ نظام ہے، جمہوریت نام کی کوئی شے تو یہاں ہے ہی نہیں، تو یہ جو کل کے دشمن اور آج کے دوست بن گئے ہیں، یہ سب اپنے اس کرپٹ نظام کو بچانے کیلئے چیخ رہے ہیں، یہ سب سرمایہ دار، جاگیر دار، وڈیرے ایک ہوگئے ہیں کیونکہ سب کے مفادات اسی کرپٹ اور فرسودہ نظام سے وابستہ ہیں۔ اب اگر کوئی تیسری قوت فائدہ اٹھاتی ہے تو موقع تو آپ خود فراہم کر رہے ہو۔ ریکارڈ پر ہے کہ دنیا کے کتنے ہی ایسے وزیراعظم اور صدور ہیں جنہوں نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر استعفے دیدیئے ہیں، آپ کے پڑوس میں جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو وی پی سنگھ کی جماعت نے نہیں کیا تھا مگر اس نے بطور وزیراعظم استعفٰی دیدیا۔ اس طرح اس نے اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھی، آپ کو بھی جمہوریت عزیز ہوتی تو آپ بھی استعفٰی دیتے اور کمیشن بنا کر ہیرو بن جاتے اور دوبارہ انتخابات کراکر پھر جیت جاتے، کمیشن اپنا کام کرتا رہتا، مگر آپ نے حالات ایسے پیدا کئے کہ کوئی تیسری قوت آئے اور آپ الزام لگائیں کہ یہ لوگ تیسری قوت لیکر آئے ہیں جبکہ حکومت مخالفیں  میں کوئی بھی تیسری قوت کو لانے کا نہیں کہہ رہا۔
یہ لوگ تو بیچارے سیدھے سیدھے نعرے لگا رہے ہیں، انہیں حقوق چاہئیں، یہ تو ظلم و تشدد کے خلاف، کرپٹ نظام کےخلاف نعرے لگا رہے ہیں اور اب جب یہ معاملات اتنے آگے بڑھ گئے اور آپ کی جمہوریت کی ڈھول کا پول کھل گیا کیونکہ اس لوٹ مار کے نظام کی پیداوار سب کے سب اکٹھے ہو کر عوام کے سامنے ننگے ہوچکے ہیں، کیسے اس کرپٹ نظام میں ووٹ حاصل کرتے ہیں، یہ لاکھوں کروڑوں ایکڑ کے مالک، یہ سرمایہ دار، وڈیرے، جاگیردار، کارخانوں ملوں کا مالکان، یہ سب عوام کو بھیٹ بکریوں کی طرح، ڈرا دھمکا کر لے جاتے ہیں اور ان سے مہریں لگوائی جاتی ہیں، سیدھی سیدھی سی بات ہے کہ جس کرپٹ نظام کے ذریعے یہ عوام پر مسلط ہیں اسے لپٹتا دیکھ کر یہ کیسے خاموش رہتے، تو یہ سب آج ایک دوسرے کے ساتھ ملکر چیخ چلا رہے ہیں اور عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں جبکہ حقوق انسانی کی تنظیمیں اور این جی اوز خاموش ہیں۔

 

اسلام ٹائمز: کیا وجہ ہے کہ حقوق انسانی کی تنظیمیں اور این جی اوز جو بہت فعال نظر آتی ہیں، وہ آج عوام پر ہونیوالے ظلم و ستم پر خاموش ہیں۔؟
مولانا حسن ظفر نقوی: اگر گاﺅں دیہات میں ہماری کسی مظلوم عورت پر ظلم ہوتا ہے تو ان کیلئے یہ حقوق انسانی کی تنظیمیں اور این جی اوز میدان میں آتی تھیں تو ہمیں خوشی ہوتی تھی کہ کوئی تو آواز بلند کر رہا ہے، کیا کسی نے مختاراں مائی کو پکڑ لیا، وہ بھی مظلوم عورت تھی، اس کے ساتھ بھی ظلم ہوا، اب ایک این جی او اسے امریکہ لے جاری ہے، کوئی این جی او اسے کسی مغربی ملک لے کر جارہی ہے، سب ڈالر پونڈ اکٹھے کر رہی ہیں، سیلاب، زلزلے آتے ہیں سب کی لاٹریاں نکل آتی ہیں جبکہ غریب متاثرین تو آج تک ایسے ہی بے حال پڑے ہیں، مر رہے ہیں، آج جب یہ عوام پر ظلم و ستم ہو رہا ہے تو یہ این جی اوز کہاں ہیں، کیوں چپ ہیں تو یہ اس لئے نہیں بول رہے کہ یہ دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور مغرب کس طرف ہیں، اب جب امریکہ اور مغرب نے نواز حکومت کی حمایت کر دی، تو یہ سب حقوق انسانی کی تنظیمیں اور این جی اوز خاموش ہیں، کیونکہ اگر انہوں نے نواز حکومت کی مخالفت کی تو ان کی ساری دال روٹی بند ہو جائے گی، ڈونیشن کے نام پر آنے والے ڈالرز پونڈز سب بند ہوجائیں گے، لہٰذا یہ سب خاموش ہیں۔ ایک ملالہ کیلئے ساری دنیا چیخ رہی تھی مگر آج کتنی ہی ملالہ شہید اور زخمی کر دی گئیں، مگر آج وہ ایک ملالہ بھی خاموش اور ملالہ والے بھی سب خاموش، ملالہ پر یقیناً ظلم ہوا تھا، ہم نے بھی مذمت کی مگر آج جو دیگر ملالہ ظلم و ستم کا شکار ہیں، ان کیلئے سب خاموش کیوں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج امریکہ اور مغرب اگر نواز حکومت کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لیں تو یہ تمام حقوق انسانی کی تنظیمیں اور این جی اوز نواز حکومت کو فرعون، نمرود اور یزید قرار دے دینگے۔ بہرحال لوگ اس کرپٹ نظام سے تنگ آکر سڑکوں پر آچکے ہیں، اس کا نتیجہ کیا اور کب نکلے گا، اس کی پیش بینی کوئی نہیں کرسکتا۔

 

اسلام ٹائمز: آپ نے کہا کہ نواز حکومت امریکہ اور مغرب نواز ہے اور یہ بھی اسکی حمایت کر رہے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں عالمی قوتیں پاکستان میں اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہی ہیں۔؟
مولانا حسن ظفر نقوی: ہماری گذشتہ حکومت نے تو خود عالمی قوتوں کیلئے پاکستان میں نرسریاں لگائیں تھی، آمر جنرل ضیاء کا دور اس میں سرفہرست ہے، تو ہماری حکومتوں نے تو خود سب کو میدان فراہم کیا تھا کہ آو ساری عالمی خفیہ ایجنسیاں آو اور یہاں پر پریکٹس کرو، روس امریکہ سمیت سب کی پراکسی وار یہاں لڑی گئیں، افغان جہاد کے نام پر آپ نے عالمی استعمار و سامراج کو پاکستان میں جگہ دی، عالمی سامراج کیلئے آپ استعمال ہوئے، آج سب بھگت رہے ہیں، آمر جنرل ضیاء کا تو کوئی نام ہی نہیں لیتا، ہم تو کہتے ہیں کہ کم از کم جنرل ضیاء تک تو جاو جہاں سے معاملہ شروع ہوا ہے، پرویز مشرف تو بعد کی پیداوار ہے، پہلے تو آمر ضیاء سے معاملہ شروع ہوا ہے کہ نواز شریف اور اسکی حکومت اسی کی تو پیداوار اور پھل ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو کوئی نطر انداز نہیں کرسکتا، عالمی قوتیں یہاں آنا چاہتی تھیں اور حکومتوں نے انہیں میدان فراہم کیا، آج آپ نے پورا ملک انہیں عالمی قوتوں کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے۔
نواز حکومت کی مغرب و امریکہ نواز ہونے کی تازہ مثال کہ حکومت مخالف انقلابی تحریک میں سنی شیعہ اتحاد و وحدت کا عظیم مظاہرہ پوری دنیا نے دیکھا اور سراہا، تو عالمی سامراج و استعمار امریکہ و اسرائیل اور انکے حواری مغربی ممالک جو کہ دنیا بھر میں فرقہ واریت پھیلا کر اتحاد بین المسلمین کو نقصان پہنچانے کی سازشیں رچانے میں مصروف ہیں، انہیں کی ایما پر نواز حکومت نے اپنے حمایتی تکفیری دہشتگردوں اور گروہوں کو سنی شیعہ مسلمانوں کے اتحاد کے مظاہرے کو ناکام بنانے کیلئے میدان میں لے آئی کہ میری حکومت بچ جائے، باقی ملک و قوم کو جو چاہے نقصان پہنچے۔ اس سے ہماری یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ نواز حکومت دہشتگردوں کی سرغنہ ہے، تکفیری دہشتگرد عناصر سے ان کے تعلقات ہے، یہ ایک دوسرے کے حمایتی ہیں، آج دنیا دیکھ چکی ہے کہ کون نواز حکومت کے ساتھ کھڑا ہے اور کون پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

 

اسلام ٹائمز: فوج اگر معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے تو کیا مجلس وحدت مسلمین اسے خوش آمدید کہے گی۔؟
مولانا حسن ظفر نقوی: مجلس وحدت مسلمین نہ تو فوج کیلئے لڑ رہی ہے، نہ فوج کے کہنے پر لڑ رہی ہے اور نہ ہی فوج کو بلانے کیلئے لڑ رہی ہے، ہم تو شروع سے یہ چاہتے تھے کہ تمام مظلوم طبقات ملکر ملک پر مسلط فاسد و فاسق کرپٹ نظام کو لپیٹ دیں، خاتمہ کر دیں، آج کتنی خوش آئند بات ہے کہ سنی شیعہ سمیت تمام مظلوم طبقات ملکر اس فرسودہ کرپٹ نظام کیخلاف میدان عمل میں آچکے ہیں، آج حکمرانوں کی نااہلی، ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، اب کیا نتائج نکلتے ہیں، کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا، اچھے اور برے دونوں ہوسکتے ہیں، 245 لگا کر خود نواز حکومت نے پہلے فوج کو بلا لیا، زلزلہ سیلاب آتا ہے فوج کو بلاتے ہیں، کرفیو لگا کر فوج کو بلاتے ہیں، جب حکومت کی مرضی ہو، جب حکومت کو مشکل ہو، جب فوج آجائے لیکن عوام کی آواز پر فوج نہ آئے، ہمارا بھی مؤقف یہ ہے کہ ملکی سیاسی معاملات میں فوج کو مداخلت نہیں کرنی چاہئیے، لیکن اب جب ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، ہر محلے میں ہر جگہ دھاندلی ہو رہی ہے، جہاں جس کا زور چل رہا ہے وہ بکوں کی بکوں پر مہریں لگائی جا رہی ہیں، تو بھئی کب تک یہ سلسلہ چلے گا۔ بہرحال ہم نہ پہلے مارشل لا کے حامی تھے اور نہ اب ہیں، ہم تو چاہتے ہیں کہ انصاف ہو، صاف و شفاف نظام ہو، عوام کو یکساں حقوق ملیں۔ یہاں تک تو عوام کو شعور آچکا ہے کہ یہ موجودہ نظام ناکارہ ہے، ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔

 

اسلام ٹائمز: موجودہ ملکی صورتحال میں افواج پاکستان کا کردار کیا ہونا چاہئیے۔؟
مولانا حسن ظفر نقوی: جیسا کہ میں پہلے کہا کہ حکومت فوج کو بلائے تو جمہوریت اور عوام فوج کو بلائے تو غیر جمہوری ہونے کی الزام تراشیاں، ارے بھئی یہ فوج کیا بھارت کی فوج ہے، کیا وہ امریکہ اور اسرائیل کی فوج ہے، کہاں کی فوج ہے، بھئی پاکستانی فوج ہے نا، جب یہ فوج سیلاب، زلزلوں اور دہشتگردی کیخلاف ہماری مدد کو آسکتی ہے تو عوام کو بھی ظلم و ستم سے نجات دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتی ہے، جیسا کہ سب اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے تمام اداروں میں سب سے مضبوط و منظم ادارہ فوج کا ہے، لیکن ہم بھی یہی کہتے ہیں مارشل لا نہیں، فوجی حکومت نہیں، مگر جب حالات ایسے ہوجائیں، عوام ظلم و ستم کی چکی میں پس رہی ہو تو فوج کا اتنا کردار ضرور ہونا چاہئیے کہ وہ ان کو بٹھا کر جیسا کہ پہلے بھی کیا ہے، قومی حکومت کی طرف ان کو لے کر آئیں، اور معاملات اس طرف جا رہے تھے کہ نواز شریف صاحب نے قومی اسمبلی میں سارا معاملہ الٹا کر دیا، پہلے آپ نے خود فوج کو دعوت دی، کیونکہ آپ سے معاملات کنٹرول نہیں ہو رہے تھے، فوج اپنا کردار ادا کرنے آگئی، فوج کی دعوت پر سب لبیک کہہ رہے تھے لیکن نواز حکومت نے قومی اسمبلی کے فلور پر فوج کو گندا کیا، یہاں تک کہ آئی ایس پی آر کو بیان جاری کرنا پڑا کہ ہمیں نواز حکومت نے کردار ادا کرنے کو کہا تھا۔ لہٰذا پہلے نواز حکومت نے انہیں کردار ادا کرنے کو کہا پھر انہیں گندا کیا، تو اب جو فوج کرتی ہے وہ انکی صوابدید پر ہے، اب پاکستان ہے، پاکستانی قوم ہے، خدا ہمارا حامی و ناصر ہو، یہ عوامی جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی، آج نہیں تو کل اس کا نتیجہ انتہائی مثبت آئے گا، انشاءاللہ ایک دن ضرور اس فرسودہ اور کرپٹ نظام اور اس کی پیداوار جو لوگ ہیں، سیاستدان ہیں، وڈیرے، جاگیردار، سرمایہ دار ہیں، انکے چمچے اور انکے حامی ہیں، انکا بوریا بستر لپٹ جائے گا۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کے زیراہتمام افواج پاکستان اور شہدائے پاکستان سے اظہار یکجہتی کیلئے پیامِ شہداء و اتحادِ امت کانفرنس منعقد ہوئی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ حسن ظفر نقوی، مرکزی مسئول شعبہ خواتین محترمہ سکینہ مہدوی، منہاج القرآن کے ناظم اعلٰی خرم گنڈا پور،  علامہ ابوزر مہدوی، علامہ حسن ہمدانی، مولانا ہاشم موسوی، ممبر بلوچستان اسمبلی آغا سید رضا، مسیحی برادری سے بشپ نذیر عالم نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب میں مرکزی ترجمان اور مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ آج ان کی یاد منائی جا رہی ہے جن کے بارے میں یہ سوال ہے کہ کس جرم میں مارے گئے، اگر میں کہوں کہ پاکستان میں شریعت کے تحت حکومت قائم کی جائے تو کوئی غیر مسلم بھی انکار نہیں کرے گا، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ اسلام امن کا دین ہے، آج اسلام کے نام پر جو تماشہ کیا جا رہا ہے اس کی وجہ سے لوگ شریعت سے ڈر رہے ہیں، یہ بزدل حکومت اپنے پانچ سال پورے کرنے کیلئے حیلے بہانے بنا رہی ہے، نام نہاد اسلامی جماعتوں کے رہنماء طالبان کی محبت میں اتنا گر گئے کہ یہ کہہ گئے کہ کربلا میں دونوں طرف صحابی تھے، یہ بغض چودہ سو سال سے ان کے دلوں میں تھا، قاتل و مقتول کی تمیز بھول گئے ہیں۔

 

کانفرنس سے خطاب میں ممبر صوبائی اسمبلی مجلس وحدت مسلمین بلوچستان سید محمد رضا آغا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے دھرنے میں ہم بہت سی باتیں سن کر خاموش تھے، لوگوں کی باتیں بھی سنیں، طعنے بھی سنے، مگر خدا کے کرم سے ہمارے فیصلہ جات سے ثمرات ملے، میں ایک مدرس کی حیثیت سے کام کرتا تھا، مجھے مجلس وحدت نے اتنی ہمت دی کہ میں ملت کیلئے کچھ کر سکوں، طویل انتظار کے بعد خدا نے ہمیں ایسی قیادت بخشی جس نے ہمیں راہِ حل دکھائی، میں نے وزیراعظم کو بھی یہ کہا کہ پاکستان میں موجودہ حالات اور کوئٹہ کے حالات کو درست کرنے سے آپ کا بھاری مینڈیٹ رکاؤٹ ہے؟؟ ہم پاکستان کی بات کرنیوالے 6 کروڑ امن پسند شیعہ، امن پسند اقلیتیں آپ کو نظر نہیں آتے، آپ کو دہشت گردوں کا ساتھ زیادہ عزیز ہے؟ خدا کی قسم آپ ان کیخلاف فیصلہ کریں پوری قوم آپ کیساتھ ہے، اس بھاری مینڈیٹ کا کیا فائدہ ہوا، کیا آپ کو عوام نے اسی لئے منتخب کیا ہے؟؟ اُن کا کہنا تھا کہ ہماری قیادت نے ہمیں اس قابل بنایا ہے کہ ہم ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں، اس کربلائی درس کا استعمال ہماری موجودہ قیادت نے دیا۔ میں لاہور کی خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے پاکستان میں جاری کرائسز میں شہداء کی یاد میں پروگرام منعقد کیا، آج کا پروگرام شاہد ہے کہ شہید زندہ رہتا ہے اور ظالم ذلیل و خوار ہوتا ہے، وہ دن دور نہیں کہ ان شہداء کا لہو ملک میں امن کی صورت میں مہکے گا۔

 

سید محمد رضا کا مزید کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر امن کیلئے ملک میں کوشاں ہے، ہم کبھی شہداء کے ورثاء کو تنہاء نہیں چھوڑیں گے، اسلامی معاشرے میں خواتین کا کردار امتیازی حیثیت کا حامل ہے، مغرب آزادی کے نام پر آوارگی پھیلاتا ہے جبکہ  اسلامی معاشرے میں خواتین کا کردار عزت و حرمت، عفت و شرافت کا ہے، مجلس وحدت مسلمین میں مردوں کیساتھ خواتین سیاسی و مذہبی عمل میں شانہ بشانہ ہیں، طالبان خواتین کی حیثیت کو کم کرنا چاہتے ہیں، ظلم کا نشانہ بناتے ہیں، ہماری خواتین حقوق کی جنگ میں ملک میں اہم ترین کردار ادا کر رہی ہیں۔ ہم امن کیساتھ، جیو اور جینے دو کی پالیسی پر گامزن ہیں، اقلیتوں کو اسلام کے مطابق حقوق دینے کے حامی ہیں، ہم وطن کی خاطر اپنا سب کچھ لُٹا سکتے ہیں، ہماری خواتین نے اپنے بیٹے، بھائی، شوہر، اسلام اور پاکستان پر قربان کئے، ہم ان ماؤں، بہنوں کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں، آپ کی قربانی کامیابی کا باعث بنے گی، عالمی سطح پر انقلابات میں خواتین کا کردار برابر کا ہے۔ طالبان جیسے ظالموں سے مذاکرات نہیں کئے جانے چاہئیں، ہم ہر سطح پر اس کی مذمت کرتے ہیں۔ مٹھی بھر دہشت گردوں کے ہاتھوں ملک کو ہرغمال بنا دیا گیا ہے۔

 

مسیحی رہنما بشپ نذیر عالم نے اپنے خطاب میں کہا کہ امن کی اس کوشش میں سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت مسلمین کیساتھ ہمارا بھی نام ساتھ رکھا جائے، ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، ہم اولادِ آدم ہیں، ہم حق کیلئے ایک ہیں، نبیوں کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر انسان کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے، معاشرے میں بہتری کیلئے ایک دوسرے کا احترام انسانیت کے ناطے ضروری ہے، ان شہداء کو ان لوگوں نے شہید کیا جو انسان کے روپ میں بھیڑیئے ہیں۔ آئیں مل کر اس وطن کو بچائیں، انسان کی عزت کریں، انسانیت کی قدر کریں۔ ہم دہشت گردی کیخلاف سخت اقدام کی حمایت کریں گے، افواجِ پاکستان جب بھی دہشت گردوں کیخلاف کھڑے ہوں گے ہم سب ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بات یاد رکھی جائے جب تک پاکستان میں ایک بھی کربلائی زندہ ہے، تم جھک سکتے ہو، ہم ان یزیدی طاقتوں کے سامنے نہیں جھک سکتے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ گواہ ہے ہم پوری دنیا کو پیغام دے رہے ہیں کہ ہم دہشتگردوں کے سامنے جھکیں گے نہیں۔ لبیک یاحسین (ع) کا نعرہ انسانیت کا نعرہ ہے، یہ نعرہ انسانیت کی فلاح کا باعث ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ حسین سب کا ہے، دنیا میں جہاں بھی حُسینیوں سے مقابلہ ہے، وہاں ان کا حال دیکھنے والا ہے، پناہ مانگتے ہیں تو پناہ نہیں ملتی۔ یہ دہشت گرد اولیاء اللہ کے دشمن ہیں، اللہ کے دشمن ہیں۔ شہداء کے ورثاء کو سلام پیش کرتا ہوں جو استقامت کیساتھ ہماری استقامت میں اضافے کا باعث ہیں۔ ہم اعلان کر رہے ہیں کہ فوج ہمت کرے ہمیں اپنے آگے پائے گی، ہمارے سینے حاضر ہیں۔ کانفرنس کے آخر میں طالبان سے مذاکرات کیخلاف قراردار منظور کی گئی اور کہا گیا کہ شہداء کے ورثاء اس خون کا سودا نہیں ہونے دیں گے، ہم پاک فوج کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے، وطن عزیز کو دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے۔

وحدت نیوز (گلگت) مستونگ میں زائرین کی بس پر حملہ پوری قوم پر حملہ ہے۔ اس سے پہلے بنوں اور راولپنڈی میں افواج پاکستان اور پیرا ملٹری فورسز پر حملوں نے پوری قوم کو اذیت میں مبتلا کیا ہے۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان طالبان کے انسان کش حملوں کو پوری انسانیت پر حملوں سے تعبیر کرتی ہے اور شروع دن سے یہ مطالبہ کرتی آئی ہے کہ ملک اور انسان دشمنوں سے مذاکرات بے معنی اور پوری پاکستان قوم کے ساتھ مذاق ہے۔ دنیا میں کہیں پر بھی دہشت گردوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان دہشت گردوں کو طاقت سے کچل دیا جاتا ہے۔ پاک افواج کے آفیسروں اور جوانوں کے قاتلوں کے ساتھ مذاکرات یقیناًبزدلی اور بے غیرتی ہے۔ طالبان کے سفاک قاتل کسی رحم کے قابل نہیں۔ ان سفاک قاتلوں نے مسجدوں، امامبارگاہوں، جلوس عزا، جلوس میلاد ، مارکیٹوں، مندروں، گرجا گروں، حساس اداروں کے مراکز ، اہم فوجی تنصیبات پر حملے کرکے پاکستان دشمن ہونے پر مہر ثبت کردیا ہے۔ یہ کیسے حکمران ہیں کہ جن کے ہاتھ پورے پاکستانیوں کے خون سے رنگین ہیں، سے امن کی بھیک مانگتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ نیئر عباس مصطفوی نے مستونگ میں بیگناہ زائرین کے بہیمانہ قتل کے خلاف گلگت میں جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔


انہوں نے کہا کہ بے حس اور بزدل حکمرانوں کا رویہ انتہائی قابل مذمت ہے کہ ملک کی سالمیت کو داؤ پر لگانے والوں سے اب بھی مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی سرزمین مظلوم ملت تشیع کے خون سے رنگین ہے اور اب ہم مزید تحمل نہیں کرسکتے کہ ہمارا خون بہایا جائے اور ہم خاموش رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم افواج پاکستان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ از خود فوری طور پر ان سفاک قاتلوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرے ، پاکستان عوام اپنی بہادر فوج کا بھرپور ساتھ دے گی۔


انہوں نے مزید کہا کہ طالبان آئین پاکستان کے مجرم اور ریاست کے دشمن ہیں ، ایسے ظالموں سے جنگ کی جاتی ہے نہ کہ مذاکرات۔ اب بھی حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور 24 گھنٹوں کے اندر اندر آپریشن کا فیصلہ نہ کیا گیا تو مظلوموں کا یہ سمندر حکمرانوں کو بہا لے جائیگا۔ یہ دھرنے اس وقت تک ختم نہیں ہونگے جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہونگے۔

Page 1 of 2

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree