وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین نے اتحاد بین المومنین کی خاطر ایک مرتبہ پھر ایک بڑی قربانی دے دی ، گلگت حلقہ نگر 4کے ضمنی انتخاب میں مجلس وحدت مسلمین کے نامزد امیدوار ڈاکٹرعلی محمد اسلامی تحریک پاکستان کے نامزد امیدوار شیخ محمد باقر کے حق میں دستبردار، تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل علامہ سید علی رضوی نے اسلامی تحریک(شیعہ علماءکونسل) کی دعوت پر شیخ ہائوس میں پر یس کانفرنس کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم کے امیدوار برائے حلقہ نگر 4ڈاکٹر علی محمد کی اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار شیخ محمد باقر کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد علی نوری ، ڈاکٹرعلی گوہر، الیاس صدیقی ودیگر سمیت اسلامی تحریک پاکستان کے صوبائی رہنما علامہ شیخ مرزاعلی ، دیدار علی اور دیگر رہنما موجود تھے ۔

علامہ سید علی رضوی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ خطہ گلگت بلتستان کے عوام کو ہر ادوار میں اقتدار پر براجمان حکمرانوں نے مختلف حیلے بہانوں اور جھوٹے نعروں کے ذریعے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہے ۔عوامی حقوق کے حصول کیلئے جب بھی کوئی موثر آواز اٹھائی گئی اسے دبانے کی بھرپور کوشش کی گئی اور اپنے من پسند افراد کو اقتدار تک پہنچانے کیلئے ہر حربہ آزمایا گیا۔سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے اپنے ایجنڈے اور منشور کو لیکر عوامی عدالت میں پیش ہوتے آئے ہیں اور گزشتہ جنرل الیکشن 2015 میں مسلم لیگ نواز کو بھاری مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار تک پہنچایا گیا۔بہت سارے اسباب و علل کے علاوہ مسلم لیگ نواز کی جیت میں ایک اہم سبب مذہبی جماعتوں کی آپس میں چپقلش کو قرار دیا گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے بد ترین شکست سے دوچار ہوئی لیکن ان کے رہنمائوں نے مسلم لیگ نواز کی جیت کا ملبہ مذہبی جماعتوں کے سرتھونپ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الحمد للہ ملی خواہشات کے مطابق آج ملت تشیع کی دو نمائندہ جماعتیں قومی و ملی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کے عزم کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیںجو کہ ملت تشیع کیلئے ایک خوشخبری ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف حلقہ 4 نگر کے انتخابات کے حوالے سے ہے بلکہ تمام ملی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنے عنوان سے ہے۔انشاء اللہ اس اتحاد کے ذریعے ملت تشیع کے ساتھ ہونے والے مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائیگا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ان سیاسی جماعتوں نے اپنے دور حکومت میں محض جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت کا جائزہ لیں تو ان کے دور حکومت میں لاشوں کے تحفے دیئے گئے،شاہراہ قراقرم پر درجنوں افراد کو شناخت کرکے قتل کردئیے گئے اور ستم ظریفی یہ کہ ان بزدل حکمرانوں نے کسی ایک واقعہ میں ملوچ قاتلوں کو گرفتار تک نہیں کیا بلکہ تشیع کو ہی مظالم کا نشانہ بناتے ہوئے شہداء کے لاشوں پر رونے کے جرم میں شیعہ اکابرین کو 16 ایم پی او کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا اور ملت تشیع کے وہ ادارے جو کہ پاکستان بننے سے اب تک سماجی کاموں میں مصروف تھے ان پر پابندیاں لگادی گئیں ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہگلگت بلتستان کے دیرینہ مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ سکردو روڈ ہے جو کہ تاحال وفاقی حکمران جماعتوں کی سیاست کی نذر ہے ۔سکردو کے عوام اور مسافر اس خونی سڑک پر سینکڑوں جانیں گنوانے کے باوجود عرصہ دراز سے ان پارٹیوں کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ستم بالائے ستم سابق حکمران جماعت پیپلز پاڑی کا سی ایم سکردو سے تعلق ہونے اور وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود سکردو کے عوام کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیااور اس دفعہ وفاقی بجٹ میں سکردو روڈ کیلئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔ بالآخر شیخ محمد حسن جعفری امام جمعہ والجماعت نے بلتستان ریجن کے ممبران اسمبلی سے اجتماعی استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے جس کی ہم بھرپور تائید کرتے ہیں۔

آغا علی رضوی نےمذید کہاکہ  مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور اسلامی تحریک پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کی حمایت کی تھی لیکن ساتھ ساتھ اس خدشے کا اظہار بھی کیاتھا کہ سیاسی بنیادوں پر اس قانون کا استعمال کرکے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا جائیگا اور آج وقت نے ہمارے خدشات کو ثابت کیا اور معروف علمائے کرام اور ملت کے اکابرین کو آج  دہشت گردوں کی صف میں کھڑا کیا گیا ہے جو کہ اس ملت کے ساتھ انتہائی مذاق ہے۔مجلس وحد ت مسلمین کے رہنما اور امام جمعہ والجماعت نومل اس وقت جیل میں ہیں اور دیگر علمائے کرام شیخ مرزا علی امام جمعہ والجماعت دنیور، شیخ شبیر حکیمی، عابد حسین و دیگر کو شیڈول فور میں رکھنا اس پرامن ملت کیساتھ انتہائی ظلم ہے جس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ہماراحکمرانوں سے سوال ہے کہ کالعدم جماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی کو ضلع دیامر میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرنے کی اجازت کس نے دی جبکہ اسی لدھیانوی پر گلگت سٹی تھانے میں ایف آئی آر نمبر  29/15درج ہے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دے رکھا ہے اس کے باوجود صوبائی حکومت نے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے لدھیانوی کو ضلع دیامر کے حدود میں جلسہ کرنے کی اجازت دیکر نیشنل ایکشن پلان کی روح کو تڑپادیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شیعہ نشین علاقوں میں زمینوں کو حکومتی تحویل میں دیا گیا اور آج وہی لوگ عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے حق ملکیت کے نعرے لگارہے ہیں ۔اگر یہ لوگ واقعی اپنے ان نعروں میں سچے ہیں تو سینٹ میں پیپلز پارتی کی اکثریت ہے وہاں پر بل کیوں پیش نہیں کیا جاتا ۔اپنے دور اقتدار میں یوسف رضا گیلانی کے چلاس دورے کے موقع پر چلاس کے عوام کو مالکانہ حقوق دلوادیئے اور یہی آرڈر گلگت بلتستان بھر کے لئے کیوں نہیں کیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی کو جب بھی پذیرائی ملی ہے گلگت اور بلتستان ریجن سے ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا آئینی حقوق کا مسئلہ تاحال تعطل کا شکار ہے ائور یہ جماعتیں جب اقتدار میں ہوتی ہیں تو ان کو یاد نہیں رہتا  اور جب یہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو پھر نعرے لگانا شروع کردیتے ہیں۔سی پیک گلگت بلتستان کا معاشی موت اور زندگی کا مسئلہ ہے اگر ہم مصلحت پسندی کا مظاہرہ کریں اوراس اہم منصوبے کے ثمرات اور سی پیک میں گلگت بلتستان کا حصہ حاصل نہ کرسکے تو آنے والی نسلیں ہمیں ہرگز معاف نہیں کرینگی۔حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان سی کے گیٹ وے پر ہونے کے باوجود اب تک کوئی بھی پراجیکٹ شامل نہیں ۔ہم صوبائی حکومت کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ اقتدار کے نشے میں سی پیک میں گلگت بلتستان کے مفادات کا سودا کیا تو تاریخ میں غدار قرار پائینگے اور حکومت پاکستا ن کو بھی بتادینا چاہتے ہیں کہ سی پیک میں کسی صورت گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔ گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ پاکستان کے وفادر رہے ہیں اور مشکل گھڑی میں یہاں کے بہادر جوانوں نے اپنی قربانیاں پیش کی ہیں۔دیامر بھاشا ڈیم ، بونجی ڈیم جو کہ پاکستان میں انرجی کرائسس کے حل کا ضامن منصوبے ہیں ۔دیامر بھاشا ڈیم میں ضلع دیامر کی پوری آبادی لپیٹ میں آنے کے باوجود علاقے کے عوام پاکستان کیلئے قربانی دے رہے ہیں جبکہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ یہ پاکستان کی ترقی کا ضامن منصوبہ ہے لیکن اس کے باوجود دیگر صوبوں کے پریشر میں آکر حکومتیں اس منصوبے کی تعمیر پر تیار نہیں۔حکومت کو چاہئے کہ گلگت بلتستان کے خلوص اور شرافت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔

ا ن کاکہنا تھا کہ ہمیں تعجب ہے کہ پیپلز پارٹی نگر کو اپنا گڑھ کیسے سمجھ رہی ہے اور نگر کے غیور عوام ان کو کیوں ووٹ دیں ۔کیا اس لئے ووٹ دیں کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں تاریخی کرپشن کی ہے اور ملازمتوں کو بیچا اور کیا اس لئے ووٹ دیں کہ محکمہ ایجوکیشن میں 500 سے زائد لوگ تین تین لاکھ روپے دیکراب بھی نوکری سے محروم ہیں۔کیا اس لئے ووٹ دیں کہ نگر کے ہر ایک گائوں میں ایک شہید آیا اور آج بھی ان کے قاتل نہ صرف گرفتار نہیں بلکہ ان قاتلوں کے ساتھ جنرل الیکشن میں ساز باز کی گئی۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ حلقہ 4 نگر میں دونوں مجلس وحدت مسلمین اور اسلامی تحریک پاکستان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا اعلان کرتے ہیں اور محمد باقر تحریک اسلامی اور وحدت مسلمین کا مشترکہ امیدوار ہوگا اور عوام سے اپیل ہے کہ بھاری اکثریت سے ووٹ دیکر محمد باقر کو کامیاب کریں۔مجلس وحدت مسلمین کے کارکنوں سے اپیل ہے کہ وہ صف اول کا کردار ادا کرکے ملی بیداری کا ثبوت دیں ۔انشاء اللہ حلقہ 4 نگر میں ہونے والی اس اتحاد کے ثمرات نہ صرف گلگت بلتستان ہونگے بلکہ پورے پاکستان میں اس اتحاد کے دور رس نتائج حاصل ہونگے۔

واضح رہے کہ حلقہ نگر 4 میں آئندہ چند روز میں منعقدہ ضمنی انتخاب میں سیاسی جوڑ توڑ نے اس وقت دم توڑ دیا جب مجلس وحدت مسلمین نے قومی وملی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے امیدوار کو اسلامی تحریک کے امیدوار کے حق میں دستبردار کروانے کا اعلان کیا ، اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سابق چیئرمین سینٹ سید نیئر حسین بخاری ودیگر قائدین نے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری سےملاقات میں نگر الیکشن میںاسلامی تحریک کے مقابل سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی آفر دی تھی اور ساتھ ہی پرکشش مراعات سمیت آئندہ قومی انتخابات میں ملک بھر میں سیاسی اتحاد کا عندیہ بھی دیا تھا ، جبکہ اسلامی تحریک پاکستان (شیعہ علماءکونسل )کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر علامہ عارف حسین واحدی نے بھی علامہ راجہ ناصرعباس جعفری سےگذشتہ ہفتے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات میں ایم ڈبلیوایم کے امیدوارکی اسلامی تحریک کے حق میں دستبرداری کی اپیل کی تھی جس پر علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مقامی تنظیمی عہدیداران کو اعتماد میں لینے کاوقت مانگا جبکہ دو رو ز قبل اسلامی تحریک کا صوبائی سطح کا وفد سابق وزیر پانی وبجلی دیدار علی کی سربراہی میں وحدت ہائوس گلگت تشریف لایا اور ایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ آغاسید علی رضوی سے ملاقات میں باضابطہ طور پر نگر انتخاب میں اپنے امیدوار کی حمایت کی اپیل کی اور بعد ازاں پی پی پی کی تمام تر آفرزکو ٹھکراتے ہوئے ایم ڈبلیوایم نے اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیا ، یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ایم ڈبلیوایم اور اس کی مرکزی قیادت جہاں وطن عزیز میں اتحاد بین المسلمین کے لئے ہمہ وقت کوشاں نظر آتی ہے اتحاد بین المومنین کیلئے بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ، اس سے قبل سولجر بازار کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں بھی ایم ڈبلیوایم نے اپنے دو نامزد اور ایک آزاد امیدوار کو اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار علی رضا لالجی کے حق میں دستبردار کروائے تھے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین بلتستان ریجن کے سیکریٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے اسلامی تحریک گلگت بلتستان کے صدرآغا عباس رضوی کی عیادت کے لیے جی ایچ کیو ہسپتال پہنچ گئے ، جہاں وہ گزشتہ روزسے بیماری کے باعث داخل تھے۔ آغا علی رضوی نے گلگت بلتستان کے نامور عالم دین حجت الاسلام آغا عباس رضوی سے ہسپتال میں ملاقات کی اور انکی خیریت دریافت کی۔ آغا علی رضوی نے آغا عباس رضوی کی جلد صحت یابی کے لیے دعا مانگی ۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ آغا عباس رضوی کے علاج معالجے کے لیے خصوصی خیال رکھیں اور کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔ آغا عباس رضوی نے اس موقع پر آغا علی رضوی اور مجلس وحدت مسلمین کے کابینہ اراکین کا شکریہ ادا کیا ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی جانب سے گلگت بلتستان کے ممبران اسمبلی کو ایک پرتکلف عشائیہ دیا گیا۔جس میں گلگت بلتستان اسمبلی کے اسپیکر فدا محمد ناشاد، ڈپٹی اسپیکر جعفر اللہ خان اور سینئر وزیر اکبر تابان سمیت پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان تحریک انصاف،اسلامی تحریک ،مسلم لیگ نون اور ایم ڈبلیو ایم کے اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔عشائیہ میں متفقہ طور پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے گا۔

مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے اپنی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی راہداری سمیت گلگت بلتستان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہم ایک انچ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ۔خطے کی ترقی و استحکام اور عوامی فلاح و بہبور کے تمام پروجیکٹس پر جی بی کی حکومت کو ہماری بھرپور حمایت حاصل رہے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ خطہ قدرتی وسائل اور معدنی دولت سے مالا مال ہے۔ ان وسائل سے استفادے کے لیے اپنی توانائیاں تعمیری انداز میں صرف کی جائیں تو خطے کی تقدیر کو بدلا جا سکتا ہے۔تعلیم کے شعبے میں اشد توجہ ازحد ضروری ہے۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لیے نوجوانوں کو پاکستان کے دوردراز شہروں میں جانا پڑتا ہے ۔بیشتر باصلاحیت افراد وسائل کی عدم دستیابی کے باعث اعلی تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ہمیں اس خلا کو پُر کرنا ہو گا۔اعلی تعلیمی اداروں کا قیام ہماری ترجیحات میں سرفہرست ہونا چاہیے۔

سینئر وزیر اکبر تابان نے کہا کہ خطے کی ترقی کے لیے ایم ڈبلیوایم کی یہ کاوش بلاشبہ مخلصانہ اور لائق تحسین ہے۔گلگت بلتستان کی موجودہ حکومت علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے پوری تندہی سے کوشاں ہے۔وزیر اعظم پاکستان نواز شریف اس علاقے کے عوام کے لیے انتہائی درد رکھتے ہیں ۔تمام جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ہماری حکومت کی تائید کریں۔اگر مسلم لیگ نون عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی تو اس کا انجام پیپلز پارٹی سے بھی بدتر ہو گا۔جی بی اسمبلی کے سپیکر فدا محمد ناشاد نے کہا کہ اس خطے کی آئینی حیثیت کے تعین کے لیے اس سے قبل کسی بھی حکومت میں حوصلہ پیدا نہ ہو سکا۔یہ نواز شریف کی حکومت کو اعزاز جاتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں۔اکنامک کوریڈور منصوبہ میں گلگت بلتستان کو نظر انداز کر کے کامیابی حاصل کرنے کی امید خام خیالی ہے۔ روشن مستقبل کے لیے ماضی کی تلخیوں کو فراموش کر کے مشترکہ جدوجہد کرنا ہو گی۔ڈپٹی سپیکر جعفر اللہ نے کہا کہ تحریک پاکستان کی حمایت اور ڈوگرا راج کے خلاف اس خطے کی عوام کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔لیکن ہماری قربانیوں کو ہر دور میں نظر انداز کیا گیا۔ہمیں دانستہ طور پر مراعات سے محروم رکھا گیا۔دنیا کے اسی فیصد معدنیات اس علاقے میں پائے جاتے ہیں ۔ ہمیں مسلکی حدبندیوں سے نکل کر اس علاقے کے لیے سعی کرنا ہو گی تاکہ یہاں کے وسائل سے مستفید ہوا جا سکے۔امن و امان کے قیام اور علاقے کی ترقی کے لیے ہم مجلس وحدت مسلمین کے ہم قدم رہیں گے۔

عشائیہ میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی، وزیر تعلیم ابراہیم سنائی، پارلیمانی سیکرٹریز اورنگزیب جوئیہ،فدا خان،اقبال حسین ،اسماعیلی ریجنل کونسل کے چیئرمین امان اللہ، ممبران اسمبلی حاجی رضوان، کاچو امتیازحیدرخان ،راجہ جہانزیب،عمران ندیم،محمد علی شیخ، کیپٹن (ر)محمدشفیع، کیپٹن (ر)سکندر،میجر(ر) امین،محمد شفیق،غلام حسین ،ایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی سمیت گلگت بلتستان کی نامورسیاسی وسرکاری شخصیات بھی موجود تھیں۔

وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ شیخ نیئرعباس مصطفویٰ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایم ڈبلیوایم اسلامی تحریک پاکستان سمیت تمام اسلامی وغیر مسلم جماعتوں اور مسالک کے کا احترام واجب سمجھتی ہےاور سب کے ساتھ اتحاد وبھائی چارے کی حامی ہے،ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تحریک پاکستان برادرملی جماعت ہے اس کے خلاف کسی بھی قسم کی سازشوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے، آئی ٹی پی کے اراکین اسمبلی نے جذبات میں آکرمجلس وحدت پر الزام لگا دیا،چند غیر نظریاتی افراد نے سارا ماحول آلودہ کردیا ہے،قومیت اور دیگر مسائل کودرمیان میں لاکرمذہبی جماعتوں کے سرمیان  دراڑڈالنے کی کوشش کی جارہی ہیں مگر وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتےہم آئندہ بھی ماضی کی طرح قومی اتحاد ویگانگت کیلئے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے،جی بی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ، سپیکراورڈپٹی سپیکر کیلئے اسلامی تحریک نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہی نہیں جبکہ اپوزیشن لیڈر کے لیئے ان کے پاس تمام کے تمام تین امیدوار تیار تھے ،ایسی صورت حال میں اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ان کے رویے سے بدظن ہوا،اپوزیشن لیڈر کا انتخاب جمہوری انداز میں ہواکسی کے ساتھ کسی قسم کی کوئی زیادتی عمل میں نہیں آئی۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویژن کے سیکرٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کی طرح پاکستان میں اسلامی تحریک پاکستان کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، روش و نظریات میں اختلافات کے باوجود اسلامی تحریک دینی جماعت ہونے کے ناطے سب سے زیادہ قابل احترام ہے۔ ایک دوسرے سے سیاسی اختلاف، اختلاف نظری و اختلاف عملی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسلامی تحریک اور مجلس وحدت مسلمین دشمن جماعت ہوں، ہر کسی کی اپنی پالیسی اور اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔ جیسا کہ انتخابات میں بعض مقامات پر اسلامی تحریک کی پالیسی کچھ تھی بعض پر کچھ اور تھی، ان تمام فیصلوں کا وہ لوگ اختیار رکھتے تھے اور مجلس وحدت بھی اپنی پالیسی اور اپنا طریقہ کار رکھتی تھی۔ لہٰذا ایک دوسرے کے خلاف بدترین الزامات عائد کرنا اور توہین آمیز بیانات دینا دینی جماعت ہونے کے ناطے یوں تو عام حالت میں نامناسب ہے بالخصوص رمضان المبارک میں انتہائی نامناسب ہے۔ رمضان المبارک رحمتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے، ایک دوسرے سے اختلافات اور دوریاں ہوں بھی تو بخشش کا مہینہ ہے، کسی کی شان نہیں کہ وہ اپنی پالیسی کے مطابق دوسری جماعت نہ چلے تو اس کے خلاف ایسی باتیں، ایسے الزامات لگائیں جو دینی جماعت ہونے کے ناطے میل نہ کھاتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں دونوں جماعتوں کے رہنماوں سے گزارش کرتا ہوں کہ جس طرح انتخابات میں ایک دوسرے کی پالیسی مختلف تھی، اپوزیشن بناتے وقت بھی پالیسی اختلاف تھا، اس کی وجوہات جو بھی ہوں، لیکن دونوں طرف سے ایسے بیانات دینا جو دوریوں کو جنم دیں، مناسب نہیں ہیں۔

اسلامی تحریک کے سربراہان ہمارے لئے دیگر تمام جماعتوں کے سربراہوں سے بہت عزیز ہیں اور ہمارے نزدیک انکا بہت احترام ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا میں جس طرح یہ جماعتیں ایک دوسرے کے پیچھے ہیں، نہایت نامناسب ہے۔ کم از کم رمضان کے احترام میں ہی اپنی سرگرمیوں پر نظر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ملک بھر میں اسلامی تحریک سربراہ ایم ایم اے کا حصہ ہیں اور جے یو آئی کی حمایت کرتے ہیں اور رابطے میں ہیں، اسی طرح گلگت بلتستان کے مخصوص حالات اور اتحاد بین المسلمین کے تناظر میں لیبرل سیاسی جماعتوں کی نسبت جے یو آئی کے کسی ایک فرد کی حمایت کرنا، وہ بھی مخصوص حالات کے سبب، جنکا ذکر مناسب نہیں، کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام اسلامی جماعتوں کو ملک بھر میں اتحاد کی دعوت دیتے ہیں، خلوص نیت سے دعوت دیتے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ عالم اسلام اتحاد و اتفاق کی ایک عظیم کڑی میں منسلک ہو، تکفیری اپنی روش اور دہشتگرد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوں۔ گلگت بلتستان میں مسلمانوں کی تمام جماعتوں اور گروہوں اور حق کی خاطر آواز بلند کرنے والوں کو اتحاد کی لڑی میں پرونا ہماری آرزو ہے۔ دیامر سے سیاچن اور سست سے کھرمنگ تک اتحاد و محبت کی فضا قائم کرنے کے لئے ہر در پہ جانے کے لئے اور ہر مشکل سہنے کے لئے تیار ہیں، چاہے اس راہ میں ہمیں جانیں بھی دینی پڑیں، ہم اتحاد بین المسلمین کی راہ میں دے دیں گے اور انشاءاللہ ہمارا یہ سفر جاری رہے گا۔

وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین کا کسی سیاسی جماعت سے اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنت کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے ،کارکن افواہوں پر کان نہ دھریں اور اپنی انتخابی مہم زور و شور سے چلائیں۔ اسلامی تحریک سے ہنزہ نگر حلقہ 4 اور گلگت حلقہ 3 میں مجلس وحدت کے امیدواروں کو بٹھانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری سیاسیات سید ناصر عباس شیرازی نے اپنے اخباری بیان میں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں کے کارکن محض افواہیں پھیلاکر کارکنوں کے درمیان مایوسی پھیلانے کی مذموم کوشش کررہے ہیں فی الحال ان افواہوں کی کوئی صداقت نہیں۔ کارکن مجلس کے امیدواروں کی کمپین جاری رکھیں اگر کسی انتخابی حلقے کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوا تو ہماری قیادت کی جانب سے باقاعداعلان کیاجائیگا۔مجلس وحدت مسلمین کی قیادت نے سید راحت حسین کے ہرحکم پرغیرمشروط لبیک کہنے کا اعلان کیا ہے اور سید محترم کی خواہش پرکسی ممکنہ اتحاد تک پہنچنے کیلئے مشاورت جاری ہے ۔ انہوں نے افواہیں پھیلانے والوں کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بغیر تصدیق کے افواہوں پر رد عمل نہ دکھائیں۔

Page 1 of 2

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree