وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام ایم ڈبلیو ایم کے مختلف صوبائی و ضلعی دفاتر میں یوم پاکستان کی تقریبات کا انعقاد ہوا۔جن سے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے حب الوطنی ،قومی یکجہتی ،رواداری اور پُرامن پاکستان کی ضرورت پر زور دیا۔مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں مرکزی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ عالمی طاقتیں دہشت گردی کا تعلق اسلام اور پاکستان سے جوڑنے کے لیے اپنے تمام وسائل استعمال کر رہی ہیں۔ پاکستانی قوم کو دانش و بصیرت کے ساتھ ایسے عناصر کو شکست دینا ہو گی۔پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور جغرافیائی اعتبار سے بھی بے پناہ اہمیت کا حامل ہے۔پاکستانی قوم کو طبقاتی کشمکش میں الجھا کر دشمن اپنے مذموم عزائم کی تکمیل چاہتا ہے۔باہمی اخوت و اتحاد کے جذبات سے دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنایاجا سکتا ہے۔ وطن عزیز سے محبت کا جذبہ ہر ایک کے دل میں موجزن ہے جس کا اظہار مختلف ممالک کے مابین کھیلوں کے مقابلوں اور قومی تہواروں کے موقعوں پر نمایاں ہوتا ہے۔کسی بھی قوم کے ان جذبات کو ہی حب الوطنی کا نام دیا جاتا۔مادر وطن سے محبت ہمارے لیے ایک واجب عمل ہے۔اس محبت پر سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا تکفیریت ان اسلام دشمن قوتوں کی پیداوار ہے جو اسلام کی روشن تعلیمات کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسلام کے روشن خیال تشخص اور شناخت کو ایسے پیشہ ورقاتلوں کے ذریعے داغدار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا آپریشن رد الفساد سے پوری قوم کو بہت ساری امیدیں وابستہ ہیں۔دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہی مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے جس کی کامیابی کے لیے بیس کروڑ عوام پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے

وحدت نیوز (کوئٹہ) جنت کے شہزادے اور نواسہ رسول ؐ امام حسین علیہ السلام کی قربانی صرف عالم اسلام کیلئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے ایک عظیم درس ہے۔ کربلاء سے ہمیں ایک ایسا درس ملتا ہے جو انسانیت کی رہنمائی کرتی ہے۔ان خیالات کا اظہار علامہ سید ھاشم موسوی نے کیا۔مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء اورآئمہ جمعہ فارم کے سیکریٹری جنرل علامہ سید ھاشم موسوی کی جانب سے جاری شدہ بیان میں انہوں نے واقعہ کربلاء کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کیلئے حق کا انتخاب کیا اور نسل انسان کی بہتری کیلئے ان کے انبیاء کرام ؑ نے جدو جہد کیں اور بلآخر دین حق یعنی اسلام رسول خدا ؐ کے ذریعے اپنے تکمیل کو پہنچی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کیلئے اسلام کو بہترین طرز حیات کے طور پر پسند کیا مگر رسول خدا ؐ کی رحلت کے چند عرصے بعد ہی یزید نے اسلام کو حق سے جدا اور محروم کرنے کی کوشش کی اور سید الشہداء امام حسین ؑ نے اس ظلم کے خلاف قیام کیا ۔ علامہ ھاشم موسوی نے سرزمین کربلاء میں نواسہ رسول ؐ کی عظیم قربانی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ امام علیہ السلام نے اپنے سہ ماہ کے علی اصغر ؑ سے لے کر اپنے آپ تک، اپنے پورے خاندان کو دین حق کی بقاء کیلئے قربان کیا یہی وجہ ہے کہ آج آذان، نماز، احکام اورمسلمانوں کی تمام خوبیان اپنی اصل شکل میں برقرار ہیں۔ انہوں نے جلوسوں اور عزاداری کو تاریخ کے سب سے بڑے ظالم یزید کے خلاف احتجاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ اس عظیم قربانی کیلئے امام حسین علیہ السلام کی یاد کو ہمیشہ تازہ رکھیں ۔ امام حسین ؑ کی قربانی اصل میں انسانیت کیلئے ایک آواز ہے جو ضمیر کو دستک دیتی ہے اور جسکے نتیجے میںتمام افراد انسانی اقدار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ دین اسلام ہمیں انسانیت سیکھاتی ہے۔ انسان اللہ کے مخلوق ہیں اور اسلام انسانیت کی رہنمائی کرنے والی دین ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقع کربلاء نے ہمیں بے شماد درس دیئے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ظالم چاہے جتنی بڑی تعداد میں کیوں نہ ہو اور ظلم اپنے انتہاء کو ہی کیوں نہ پہنچے آخر میں اسے ختم ہی ہونا ہے۔ یزید بھی بڑے لشکر اور دنیاوی دولت کا مالک تھا مگر اسکے باوجود اسے نابودی کا سامنا ہوا اور آج تک مسلسل احتجاج کا سامنا ہو رہا ہے۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) سعودی عرب دنیا میں امریکی اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اس کا دفاعی بجٹ 60 سے 70 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ اڑھائی لاکھ افراد پر مشتمل فوج ہے۔ امریکہ کے 5 ائیر بیس سعودی عرب میں موجود ہیں۔ جہاں 20000 امریکی سپاہی حفاظت کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ پاکستانی افواج بھی کثیر تعداد میں پہلے سے ہی موجود ہیں۔ 9 دیگر ممالک بشمول متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، سوڈان، اردن اور مصر بھی شامل ہیں، جبکہ امریکی افواج انہیں مکمل جاسوسی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے مقابلے میں اس ’’عظیم ترین لشکر‘‘ نے جن لوگوں پر حملہ کیا ہے، ان کی تعداد محض 20 سے 30 ہزار ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے تن پر ڈھنگ کا لباس ہے نہ پاؤں میں جوتی۔

 

رپورٹ کے مطابق دنیا میں موجود ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہوگا، جسے حرمین شریفین اپنی جان سے بڑھ کر عزیز نہ ہو۔ البتہ یہ موضوع ضرور قابل بحث ہے کہ آیا سعودی عرب اور یمنی قبائل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ سے حرمین کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہے یا نہیں؟ یمن حضرت اویس قرنی کا دیس اور عشاق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نگری ہے۔ یہاں اسلام کی روشنی خواجہ اویس نے پھیلائی اور اس طرح پھیلائی کہ 99 فیصد لوگ مسلمان ہیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جس کے بارے میں روایات ملتی ہیں کہ اس زمین سے جنت کی خوشبو آتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یمن کی جانب اشارہ کرکے فرمایا: سنو! ایمان اہل یمن میں ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)۔ مزید فرمایا ’’ایمان یمنی ہے، فقہ یمنی ہے، حکمت یمنی ہے۔

‘‘

26 مارچ کو سعودی عرب نے 9 اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر یمن پر حملہ کیا۔ تادم تحریر ان اتحادی ممالک کے حملوں میں یمن کے 2571 سے زائد شہری شہید ہوچکے ہیں۔ جن میں 172 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد دو ہزار سے متجاوز ہے۔ سعودی فرمانروا سے لے کر کسی بھی چھوٹے یا بڑے حکومتی عہدیدار نے یہ خدشہ ظاہر نہیں کیا کہ خدانخواستہ اس جنگ کے نتیجے میں کعبہ شریف یا روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطرے میں ہے۔ آپ کوشش کریں اور گوگل کریں کہ 26 مارچ یمن پر حملہ کرنے کے دن سے آج تک سعودی عرب یا 9 اتحادی ممالک میں کسی ایک ملک میں بھی ’’حفاظت حرمین‘‘ کے حوالے سے کوئی ایک جلسہ ہوا ہو، کوئی جلوس نکلا ہو، کوئی ریلی برآمد ہوئی ہو یا کوئی کانفرنس منعقد ہوئی ہو۔ وہاں کے عوام بہت اچھی طرح یہ جانتے ہیں کہ حرمین کو دور دور تک کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ البتہ پاکستان میں کچھ جماعتوں کے ہاتھ ’’مال کماؤ پروگرام‘‘ آگیا ہے اور وہ حرمین کے مقدس ترین نام پر اپنی دکانیں چمکا رہے ہیں۔

 

میں حیران رہ گیا کہ اسلام آباد کے ایک پنچ ستارہ ہوٹل میں ’’حفاظت حرمین کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی ہے۔ یہ پیسہ کون دے رہا ہے اور کسے دے رہا ہے، خدا کی ذات بہتر جانتی ہے۔ زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو سعودی عرب دنیا میں امریکی اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اس کا دفاعی بجٹ 60 سے 70 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ اڑھائی لاکھ افراد پر مشتمل فوج ہے۔ امریکہ کے 5 ائیر بیس سعودی عرب میں موجود ہیں۔ جہاں 20000 امریکی سپاہی حفاظت کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ پاکستانی افواج بھی کثیر تعداد میں پہلے سے ہی موجود ہیں۔ 9 دیگر ممالک بشمول متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، سوڈان، اردن اور مصر بھی شامل ہیں، جبکہ امریکی افواج انہیں مکمل جاسوسی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے مقابلے میں اس ’’عظیم ترین لشکر‘‘ نے جن لوگوں پر حملہ کیا ہے۔ ان کی تعداد محض 20 سے 30 ہزار ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے تن پر ڈھنگ کا لباس ہے نہ پاؤں میں جوتی۔

 

یمن کی آبادی تقریباً 40 فیصد زیدی شیعہ یعنی انصاراللہ اور 60 فیصد سنی افراد پر مشتمل ہے۔ جن میں اکثریت شافعی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ یمنی صدر ہادی کے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریک میں شیعہ اور سنی دونوں مسلمان شامل ہیں اور ان کے بنیادی مطالبات بدعنوانی کا خاتمہ، پٹرول کی قیمتوں میں کمی اور قومی حکومت کی تشکیل ہے۔ صدر ہادی ملک سے فرار ہوا تو انہی افراد نے حکومت تشکیل دی اور تمام طبقوں کو آئینی حقوق اور آزادی دی۔ سابق صدر علی عبداللہ صالح اور اس کی حامی افواج بھی انصاراللہ کی حمایت کر رہی ہیں۔ البتہ سعودی عرب کو مسلکی حوالوں سے فکر لاحق ہوئی کہ انصاراللہ بھی حزب اللہ کی طرح ایران کا حمایتی گروپ نہ بن جائے۔ اس حوالے سے ایران پر حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام بھی لگایا گیا۔ جس کی ایران نے سختی سے تردید کی۔ بالآخر سعودی عرب نے اتحادیوں کی حمایت اور امریکہ کی مشاورت سے یمن پر حملہ کر دیا۔

انصاراللہ اور اس سے منسلک یمنی اتحادیوں کی امن پسندی کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان علی الاعلان سعودی عرب کا اتحادی ہے، انہوں نے یمن میں موجود کسی بھی پاکستانی کو نہ صرف گزند نہیں پہنچائی بلکہ ان کی بحفاظت واپسی کو بھی یقینی بنایا اور پرنم آنکھوں سے انہیں وداع کیا۔ کیا یہی پاکستانی طالبان یا داعش کے علاقے میں ہوتے، تو کیا انکی زندہ واپسی کا تصور کیا جاسکتا تھا۔؟ حیرت ہے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر جو اس مسئلہ پر اہل یمن کی بجائے سعودی عرب کا شکریہ ادا کر رہے تھے، ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔‘‘ پاکستان اس وقت بہت نازک پوزیشن میں ہے۔ افواج پاکستان کو اندرونی و بیرونی دونوں جگہ دشمن کا سامنا ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ سات سال بعد پہلی دفعہ افواج پاکستان نے 23 مارچ کو پریڈ کرنے کا ’’رسک‘‘ لیا۔ بہت عرصہ بعد عوام اور افواج دہشت گردوں کے خلاف ایک صفحہ پر موجود ہیں، مگر ابھی تو ابتدا ہے۔

 

فاٹا بدستور دہشتگردوں سے بھرا ہوا ہے، کراچی جل رہا ہے، مساجد امام بارگاہیں، چرچ، سکولز، مارکیٹیں حتؑی کہ آرمی کے مراکز اور پولیس سنٹرز بھی محفوظ نہیں ہیں۔ سرحدوں کے پار انڈیا جبڑے کھولے کھڑا ہے۔ افغانستان سے ابھی بھی دہشتگرد داخل ہو رہے ہیں۔ ایسے میں افواج پاکستان کو سعودی عرب بھیجنا ایسا ہی ہے جیسے آپ کے گھر چور گھسے ہوں اور آپ اپنے چوکیداروں کو ہمسائیہ کی حفاظت کے لئے بھیج دیں۔ کہنے والے تو یہاں تک کہہ رہے کہ یمن پر حملہ سعودی عرب نے نہیں کیا بلکہ امریکہ نے کروایا ہے۔ بالکل اس طرح جس طرح صدام سے پہلے ایران پر حملہ کرایا، پھر کویت پر اور اسی کی آڑ میں امریکی افواج ’’حفاظت‘‘ کی غرض سے سعودی عرب میں داخل ہوگئیں۔ اس حملہ کا مقصد دراصل پاکستان کو ایک نئی جنگ میں الجھا کر کمزور کرنا اور پھر مکمل ختم کرنا ہے۔ ہماری مقتدر قوتوں کو اس نازک وقت میں اپنا ملک بچانے کی فکر کرنی چاہیئے۔ جنگیں شروع کرنا اپنے اختیار میں ہوتا ہے مگر ختم اپنی مرضی سے نہیں ہوتیں۔

 


تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اعجاز ممنائی

وحدت نیوز (لاہور) تربت میں بے گناہ پاکستانیوں کے قتل میں راء ملوث ہے،بھارت پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرتا ہے،بلوچستان میں بھارتی مداخلت روز بروز بڑھتی جارہی ہے،بلوچ قوم کو بدنام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کا قلعہ قمہ ضروری ہے،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے  صوبائی سیکرٹریٹ مجلس وحدت مسلمین پنجاب میں ضلع لاہور کے اجلاس سے خطاب میں کیا ،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام تر مشکلات کا اصل ذمہ دار امریکہ ہے جو اپنی دوغلہ پالیسی کے تحت پاکستان مخالف قوتوں کو ہر قسم کی معاونت کرتا ہے،امریکہ اور بھارت کو مستحکم پاکستان قبول نہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اس سر زمین پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہیں ،آپریشن ضرب عضب کو ناکام بنانے کے لئے دشمن بھر پور کوششوں میں ہیں،پاکستان کو اپنی سرزمین سے ہزاروں میل دور یمن کی جنگ میں دھکیلنے کی کوشش جاری ہے،پاکستانی پارلیمنٹ،مذہبی و سیاسی رہنما،صحافی،سول سوسائٹی غرض یہ کہ ہر ذی شعورفرد نے حکمرانوںکو اس آگ سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے،ہمیں سب سے پہلے پاکستان کے اندر موجود دشمن جو اس وقت ملکی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے کو متحد ہوکر ختم کرنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کی افواج ملکی تاریخ کے فیصلہ کن آپریشن میں مصروف ہوں اور اس میں الحمدللہ کامیابیاں بھی ان کے قدم چوم رہے ہوں،ان کو کسی اور جنگ میں دھکیلنا دراصل آپریشن ضرب عضب کو ناکام بنانے کی بڑی سازش ہے،پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور غیرت مند ملت ہے،یو اے ای کے وزیر خارجہ کا بیان پاکستانیوں کی توہین ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔

وحدت نیوز(لاڑکانہ) سعودی عرب کے ظالم حکمران آل سعود اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے یمن کے نہتے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف اور مظلوم یمنی بھائیوں سے اظہار یکجہتی کی خاطر آج بعد نماز جمعہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع لاڑکانہ، آئی ایس او،اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن  اور اصغریہ آرگنائیزیشن پاکستان ضلع لاڑکانہ  کی جانب سے مرکزی امام بارگاه و جامع مسجد جعفریہ سے پریس کلب لاڑکانہ تک مشترکہ احتجاجی ریلی نکالی گئی. ریلی کے اختتام پر ایم ڈبلیو ایم لاڑکانہ کے سیکریٹری جنرل جناب طارق حسین بدوی، سیکریٹری سیاسیات مشتاق علی میمن، اصغریہ آرگنائیزیشن ضلع لاڑکانہ کے صدر فیاض حسین حسینی، جنرل سیکریٹری اطہر علی اطہر نے اپنے خطابات میں یمن کے نہتے اور بیگناہ مسلمانوں پر گذشتہ کئی دنوں سے جاری سعودی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ حکومت پاکستان یمن کے بارے میں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور اس اہم معاملے میں بجائے فریق بننے کے ثالث کا کردار ادا کرے. اگر پاکستانی فوج یمن بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تو عوامی طاقت کا مظاہره کرتے ہوئے، حکومتی نمائندوں کا گھیراؤ کیا جائیگا. دہشتگردی پاکستان میں ہو یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہم شیعان حیدر کرار ہر دور میں ہر مظلوم کے حمائیتی اور ہر ظالم کے مخالف رہے ہیں. یہ ہی مؤقف هہارے دیگر معتدل سنی برادران کا ہے. یمنی حوثی انقلابیوں سے حرمین شریفین کو کوئی خطره نہیں ہے بلکہ آل سعود خاندان کی بادشاہت کو خطره ہے.  حرمین شریفین کو اگر کسی سے خطره ہے تو وه آل سعود خاندان سے ہے. جنہوں نے 1916 میں دختر رسول سیده فاطمة الزهره سلام الله علیہا، ائمہ معصومین علیہم السلام اور امہات المومنین کی مقدس مزارات کو منہدم کیا تھا. اب بھی حرمین شریفین کو انہی آل سعود سے خطره ہے. یہ حقیقت میں آل یہود ہیں.اس کے علاوه گذشتہ دنوں گلگت بلتستان میں ریلی نکالنے پر علماء کے خلاف حکومت کی طرف سے غیر قانونی دشتگردی کی FIR درج کرنے اور صوبائی رابطہ سیکرٹری برادر عارف قمبری اور دیگر کارکنان کی گرفتاری پر شدید مذمت کا اظہار کیا گیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔

وحدت نیوز(کوہاٹ) شہدائے کچئی ضلع کوہاٹ کی برسی کے موقع پر محفل دعا سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے صوبائی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ لاکھوں قربانیوں، فداکاریوں اور اقبال کے خوابوں کی تعبیر کے نتیجہ میں معرض وجود میں آنے والا پاکستان اتفاق فاونڈری نہیں، جسے حکمران اپنی مرضی سے چلائیں اور ذاتی مفادات کے حصول کے لئے استعمار کے آلہ کار بن کر خود اپنے ملک کی سلامتی کو داو پر لگائیں۔ کیا حوثی حملہ آور ہیں؟ کیا ایک بڑے سیاسی و عسکری ملک کو ایک محدود تعداد میں موجود حریت پسندوں اور جبر و استبداد کے شکنجوں کو توڑنے والے عظیم انسانوں سے کوئی خطرہ ہے۔ اسلامیان پاکستان استکبار کے مکروہ عزائم سے واقف ہیں اور وہ کسی صورت میں بھی حکمرانوں کو یمن میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہمارا اپنا ملک دہشت گردی کا شکار ہے۔ ہر سو افراتفری کا منظر ہے۔ پھر ان حالات میں دوسروں کی حفاظت کا بہانہ بنا کر ملکی سالمیت کو داو پر لگانا کہاں کی دانشمندی ہے۔

Page 1 of 3

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree