وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری اورجماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے درمیان وفود کے ہمراہ ملاقات ہوئی جس میں ملکی سیاست اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔علامہ ناصر عباس نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کے پاس اقتدار سے الگ ہونے کے علاوہ اور کوئی آپشن موجود نہیں۔ اپنے وعدے کا پاس رکھتے ہوئے خاموشی سے گھر چلے جانا ہی وزیر اعظم کے حق میں بہتر ہے۔نواز شریف کے مستعفی ہونے کا نہ صرف اپوزیشن جماعتیں مطالبہ کر رہی ہیں بلکہ مسلم لیگ نون کے اندر بھی یہی آواز اٹھ رہی ہے۔اس صورتحال میں بے جا ہٹ دھرمی نواز شریف کی ساکھ کو مزید داغ دار کرے گی۔ جے آئی ٹی کی شفاف تحقیقات پاکستان کی سیاست کا رخ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔پاکستان کی عوام کو کرپٹ اور موروثی سیاست سے نجات ملنے کا مژدہ سنا دیا گیا ہے ۔نواز شریف کا وزارت عظمی سے محض الگ ہونا انصاف کا تقاضہ نہیں بلکہ عوام کی لوٹی ہوئی دولت کی واپس منتقلی بھی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک قرضوں میں جھکڑا ہوا ہے۔عوام غربت کے باعث خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں اور حکمرانوں کا پورا زور اپنی کرپشن کو چھپانے پر لگا ہوا ہے۔

سینٹر سراج الحق نے جمہوری اقدار کی پاسداری اور کرپشن کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کے موقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ قومی ایشوز پر دونوں مذہبی جماعتوں کو مشترکہ لائحہ عمل طے کر کے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔باہمی ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔پارا چنار میں دہشت گردی کے واقعات افسوسناک اور وحدت و اخوت کے خلاف مذموم عناصر کی ناپاک سازش ہے جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اس واقعہ کو پارلیمنٹ میں اٹھا یا جائے گا۔انہوں نے کہا سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خاندان کی کرپشن کو بے نقاب کیا ہے جس کے بعد ان کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی بھی اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والی اس ملاقات میں ناصر شیرازی ڈپٹی سیکریٹری،جنرل ایم ڈبلیوایم ، اسدعباس نقوی سیکریٹری سیاسیات ایم ڈبلیوایم ، علامہ اقبال بہشتی سیکریٹری جنرل ایم ڈبلیوایم خیبرپختونخوا، ثاقب اکبر ڈپٹی سیکریٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل، میاں محمد اسلم نائب امیر جماعت اسلامی اوررکن قومی اسمبلی جماعت اسلامی صاحبزادہ محمد یعقوب بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز(ڈیرہ غازی خان) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری روابط خواہر لبانہ کاظمی نےڈیرہ غازی خان میں خواتین کی جانب سےحضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے یوم شہادت کی مناسبت سے منعقدہ مجلس عزاء سےخطاب کرتے ہوئے کہاکہ دنیا و آخرت کی بدترین سزا رسوائی اور ندامت ہے ۔ انسان جتنا اس مادی دور میں ترقی کی جانب گامزن ہے اتنا ہی دنیا پرست اور لالچی ہوتا جا رہا ہے ۔ اسی لئے تو اس کو آئے دن ایک نہ ایک رسوائی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔ یہ تو اس دنیا کی سزا ہے ۔جس سے ہمیں سبق حاصل کرنا ہے ۔ آخرت میں تو ہمیشہ کی رسوائی اور ندامت ہو گی جو کبھی ختم نہ ہو گی ۔ اگر انسان آج بھی سیرت پیغمبر اسلام ﷺ اور آل بیت اطہار ؑپر عمل کر لے تو نہ صرف اس دنیا میں سرخرو ہو سکتا ہے بلکہ آخرت میں بلند مرتبہ حاصل کر سکتا ہے ۔ مگر کیا کرے! شیطان کے ہاتھوں گرفتار ہے ۔ جب پیٹ میں لقمہ حرام ہو گا تو اسے یہ کیسے توفیق نصیب ہو سکتی ہے کہ وہ ان پاکیزہ ہستیوں کے فرامین پر عمل کر سکے ۔
    
جب انسان کے پاس اقتدار ہوتا ہے تو اسے زیادہ پاکیزہ ، صادق ا ور امین ہونے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسے تو ضرورت ہی پیش نہ آئے کہ عدالت اسے سرٹیفکیٹ دے کہ تم صادق اور امین ہو لیکن حیف کہ ایسا نہیں ہے ۔ اب جبکہ عدالت عالیہ نے بھی یہ کہہ دیا ہے کہ فلاں شخص صادق اور امین نہیں اور تین محترم ججز نے تو ملزم ٹھرا دیا ہے کہ اس کی جے آئی ٹی بننی چاہئے ۔ یہ ایسا کیوں ہوا!! صرف اور صرف سیرت طیبہ سے دوری کا نتیجہ ہے ۔ یہ ہمارے لئے بھی ایک عبرت کا مقام ہے ۔ کہ اگر آج ہم بھی قرآن و اہبیت ؑ کے بتائے ہوئے فرامین سے دور ہو گئے تو اس کا نتیجہ سوائے رسوائی اور ندامت کے کچھ نہیں ۔ آج کائنات کی جس ہستی کا یوم شہادت ہے ۔ہمارے ساتویں مظلوم امام حضرت موسی ٰ کاظم علیہ السلام کا دنیا کے سامنے یہی تو قصور تھا کہ امام قرآن اور سیرت طیبہ پر صحیح معنوں میں عمل پیرا تھے ۔ مگر اس وقت کے حکمران اقتدار کے نشے میں مست تھے ۔ان کو امام کی اس روش سے اختلاف تھا ۔حضرت امام موسیٰ کاظم ؑ نے مدینہ طیبہ کو چھوڑنا گواراکیا مگر حکومت سے سے سمجھوتہ نہ کیا اور دنیا والوں کو بتا دیا کہ حق اور صداقت کی بنیاد یہ ہے کہ حق کبھی بھی باطل کے سامنے نہیں جھک سکتا ۔حق کی ہمیشہ جیت ہے اور باطل ذلت و رسوائی کا نام ہے ۔

جس دن حق اور صداقت نے باطل سے سمجھوتہ کرلیا سمجھ لینا ذلت اور رسوائی اس قوم کا مقدر بن گیاہے ۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے ۔ یہ دین سے دوری اور ایمان سے غداری ہے ۔ انسان چاہئے عام آدمی ہو، عالم یا حکمران اسے دیندار اور باایمان ہونا چاہئے ۔ ورنہ آئے دن عذاب الہی کا مستحق ٹھرے گا ۔ ہمیں خوش نہیں ہونا چاہئے کہ فیصلہ آ گیا اور ہم بری الذمہ ہو گئے ۔ نہیں! ہماری ذمہ داری اور بڑھ گئی ہے ۔ ہمیں اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی آگاہی دلانا ہے ۔ کہ اگر ہم اس ذلت و رسوائی پر خاموش رہے تو ہم بھی اس جرم میں شریک ہو جائیں گے ۔ اگر شراکت جرم سے بچناہے تو متحد ہو کر اپنے برادران کے ساتھ ہم آواز ہو کر میدان میں حاضر رہنا پڑے گا ۔ اس کے لئے سختیاں بھی جھیلنا پڑیں تو حاضر رہیں ۔اپنے بچوں کو آگاہ کریں ۔اپنی قریبی عزیز رشتہ دار اور حلقہ احباب خواتین کو آگاہی دیں ۔ مرکز سے رابطے میں رہیں ۔ حالات حاضرہ سے باخبر رہیں ۔ اس ساری صورتحال میں آپ نے کسی سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچانا ۔ کسی مکتب فکر کے خلاف نعرہ بازی نہیں کرنی ۔ اتحاد بین المسلمین کے ساتھ ساتھ اتحاد بین المومنین پر بھی توجہ دینی ہے ۔ ہمیں صحیح معنوں میں اپنے فرزندان کی تربیت کرنی ہے اور اس وطن عزیز کے لئے محب وطن ،جانثار سپاہی تیار کرنے ہیں جو ہمار ی پاک افواج کا دست وبازو بن سکیں ۔ ہمیں نفرت ،تشدد اور فتنہ و فساد سے دوری اختیار کرنی ہے ۔ اور ہمیں اپنے قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس کا ساتھ دینا ہے ۔ یہ ہماری ذمہ داریوں میں سے ہے ۔ آج سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ہم گھر پر رہیں فضولیات کی بجائے ہم اپنے قائد وحدت کے اخلاقی ،سیاسی اور بابصیرت خطابات سنیں تاکہ ہم صحیح معنوں میں آگاہ اور بیدار ہو سکیں ۔ سنی سنائی باتوں کا دور گزر گیا ۔ امید ہے خواہران جس جذبے کے ساتھ کام کررہی ہیں۔اپنے کام کو جاری و ساری رکھیں گی ۔

 آخر میں میں اپنی عزیز خواہر لیلیٰ رباب صاحبہ(ڈی جی خان شعبہ خواتین کی سیکرٹری جنرل ) کا تہہ دل سےشکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے اتنی بابرکت اور پرفضیلت محفل کا انعقاد کیا اور ہمیں موقع دیا کہ ہم آپ جیسی عظیم خواہران کی خدمت میں حاضر ہو سکیں ۔میں خواہر لیلیٰ رباب کی خدمت میں سلام پیش کرتی ہوں جنہیں کچھ عرصہ پہلے یہاں کی سی ٹی ڈی نے ان کےگھرآ کر ہراساں کیا کہ آپ کیوں خطاب کررہی ہیں جس پرتنظیمی برادران نے قائد وحدت تک اس واقعہ کی اطلاع دی اور علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے بروقت نوٹس لینےسے انتظامیہ انہیں گرفتار نہ کر سکی۔ وہ انتظامیہ کے پریشر سےگبھرائی نہیں بلکہ انہوں نے یہی کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ ہم حق پر ہیں ۔ ڈیرہ غازی خان کےاس سفر میں خواہر فاطمہ زیدی چنیوٹ سےخواہر لبانہ کاظمی کے ہمراہ تھیں ۔

وحدت نیوز(لاہور) سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کی سربراہی میں مسلم لیگ قاف،مجلس وحدت مسلمین، سنی اتحاد کونسل اور پاکستان عوامی تحریک کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو دی جانے والی جے آئی ٹی کی 15 روزہ رپورٹ کو پبلک کیا جائے، اجلاس میں پاناما ایشو پر گرینڈ الائنس بنانے کی منظوری بھی دی گئی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاناما فیصلے کی روح کے مطابق وزیراعظم ایک ملزم کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے وزیراعظم فوری طور پر مستعفی ہوں۔ سیاسی اتحاد کے رہنماؤں نے جے آئی ٹی کی رپورٹ پندرہ دن میں پبلک کرنے کا مطالبہ کیا اور گرینڈ الائنس بنانے کی منظوری دینے کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے رابطوں کیلئے کمیٹی بھی قائم کی۔اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصرعباس شیرازی اور مرکزی سیکریٹری سیاسیات اسد عباس شاہ بھی موجود تھے جنہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کرپٹ حکمرانوں کے احتساب تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے،پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم اخلاقی طور پر حق حکمرانی کھو چکے ہیں، ایم ڈبلیوایم کرپشن کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی بھی ممکنہ تحریک کا ہر اول دستہ ثابت ہو گی،  چودھری شجاعت حسین نے جے آئی ٹی سے پہلے نواز شریف کے مستعفی ہونے کی پیشگوئی بھی کی۔ اس موقع پر چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ حکومت اور کرپشن کے خلاف اتحاد بننا چاہئے، حکومت نے فیصلہ پڑھے بغیر مٹھائیاں تقسیم کیں۔ دریں اثناء، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے بھی مسلم لیگ قاف کی قیادت سے ملاقات کی۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو صادق اور امین کی بجائے ملزم ٹھرایا، نواز شریف کو پانامہ کیس کے فیصلے کے داغ کے ساتھ وزیراعظم نہیں رہنا چاہئے۔ واضح رہے کہ اتحاد کے معاملات کو آگے بڑھانے کے لئے چار جماعتی اتحاد کی قیادت پیر کو منصورہ جائے گی۔

وحدت نیوز(گلگت) مجلس وحدت مسلمین کے گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ سپیکر کے فیصلے سے ضمیر کا سودا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔کاچو امتیاز نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے استعفیٰ میں واضح طور پر سپیکر سے گزارش کی ہے کہ میری اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ قبول کی جائے جو سپیکر کو نظر نہیں آتا اور الفاظ کے ہیر پھیر سے اپنے حق میں دلیل قائم کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سپیکر صاحب سخت دباؤ کا شکار رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کاچو امتیاز کے جانب سے مجلس کا ٹکٹ لیتے وقت جمع کرایا ہوا حلف نامہ بھی سپیکر کو پیش کیا تھا جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان حضرت حجت کی بارگاہ میں اقرار کیا ہے کہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی صورت میں پارٹی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ میری بنیادی رکنیت ختم کرکے اسمبلی رکنیت ختم کرواسکے۔اس کے علاوہ ہم نے سپیکر کو وہ ویڈیو ریکارڈنگ بھی پیش کی جس میں کاچو امتیاز نے کہا ہے کہ میں نے یہ استعفیٰ اپنی پارٹی قیادت کو جمع کروایا ہے اور پارٹی کا فیصلہ میرے لئے قابل قبول ہوگا۔ان تمام شواہد کی موجودگی کے باوجود ایک لفظ سے اپنا مطلب نکالنا اور ایک قومی مجرم کی پشت پناہی کرکے سپیکر نے تمام اخلاقی حدوں کو عبور کردیا ہے اور ایم ڈبلیو ایم کی دشمنی میں دین اسلام کا پیش کردہ قول و قرار کے عالمگیر اصول کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ناسور جو ہماری جماعت میں داخل ہوا تھا ہم نے اسے کاٹ کر پھینک دیا ہے اور یہی ہماری فتح ہے جبکہ سپیکر نے اس کی اسمبلی رکنیت بحال رکھ کر لوٹا کریسی کو فروغ دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کاچو امتیاز کی اسمبلی رکنیت کے بحالی کے فیصلے سے پیپلز پارٹی کی جانب سے خوشی کے اظہار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی اس سارے کھیل کا حصہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپیکر کے فیصلے کے خلاف اور کاچو امتیاز کی اسمبلی رکنیت کی منسوخی کیلئے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کیا جائیگا۔

وحدت نیوز (گلگت) حکومت نے کاچو امتیاز کو بچا کر اپنی مکرو چہرا چپانے کی ناکام کوشش کی ہے،عوامی مینڈیٹ کا سودہ کرنے والے کاچوامتیاز کو بچاکر سپیکر نے قانون اور جمہوریت کی توہین کی ہے ۔مجلس وحدت مسلمین نے اپنے اصولی سیاست کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بے ضمیر کو پارٹی سے بے دخل کی اور عوام کے حقیقی نمائندہ ہونے کا حق ادا کیا ۔

ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان ڈسٹرکٹ نگر کے رہنماء حسین علی مشکور نے اپنے ایک بیان میں کیا ،ان کا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ کاچو امتیاز حیدر کے بحالی پر خوش ہیں وہ در حقیقت عوامی مینڈیٹ کا مزاق اڑاتے ہیں ،جس شخص نے چند پیسوں کے اوس قومی وقار کا سودہ کیا اس کی بحالی کے خوشی منانے والے درحقیقت اپنے بے ضمیری کا جشن منارہے ہیں ۔کاچو امتیاز سید افضل کے ہاتھوں پر بیت کر چھکے ہیں اب اس کی اپنی کو ئی حثیت نہیں وہ رشوت کی قرض تلے دبا ہوا ہے ۔حکومت چاہیے جیتنا بچائے عوام کاچو کو کبھی معاف نہیں کرینگے ۔کاچو امتیاز اور دیگر ممبران اسمبلی نے گلگت بلتستان میں بے ضمیری کے کلچر کو فروغ دینے کا بنیاد رکھا اس پر جو بھی جشن منارہے ہیں وہ قوم سے خیانت کر رہے ہیں۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی کونسل کے انتخابات میں پیدا ہونے والے بحران پر مجلس وحدت مسلمین کی اعلی سطح کمیٹی کا اجلاس علامہ شیخ صلاح الدین اور علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی صدارت  مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں منعقد ہوا ، اجلاس میں گلگت بلتستان کونسل انتخابات کے حوالے سے بننے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے ، بحران کے حل کے لیے رکن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کاچو امتیاز حیدرخان نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کا اقرارکرتے ہوئے اپنی غلطی کو تسلیم کیااورسیاسی کونسل کو سپیکر اسمبلی کے نام اپنا استعفی پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ میری اسمبلی رکنیت کے حوالے سے جو فیصلہ سیاسی کونسل یا سربراہ مجلس وحدت مسلمین کریں گے میں اس پر مکمل طور پر رضامند ہوں۔

Page 1 of 2

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree