وحدت نیوز (اسلام آباد) جنگ جیو، دی نیوز گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان نے اسلام آباد میں مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی سے اُن کی رہائشگاہ پر ملاقات کی جس میں انہوں نے 22 فروری کو جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں مہمان احمد لودھیانوی کی طرف سے اہل تشیع کی تکفیر ہونے اور متنازع مواد نشر ہونے پر دلی معذرت کی اور یقین دہانی کرائی کہ آئند جیو مکمل طور پر کوشش کریگا کہ ایسا عمل نہ ہو جس سے کسی بھی مکتب فکر کی توہین ہو یا تکفیر ہو۔ انہوں نے کہا کہ جیو پر چلنے والا مواد قابل مواخذہ ہے جس کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی۔ میر شکیل الرحمان نے کہا کہ اہل تشیع کے مطالبے پر وہ خود پیش ہو کر باضابطہ طور پر معافی کے خواستگار ہیں۔ دوسری طرف آج شام آٹھ بجے جیو کے پروگرام نیا پاکستان میں علامہ امین شہیدی ٹاک شو میں شرکت کریں گے اور مکتب اہل بیت (ع) پر لگائے جانے والے الزامات کا دفاع کریں گے۔ یاد رہے کہ 22 فروری کو احمد لودھیانوی کو طلعت حسین کے پروگرام میں مدعا کیا گیا تھا جس میں کالعدم تنظیم کے سرپرست نے مکتب اہل بیت کی توہین کی تھی۔

وحدت نیوز ( کراچی) جیو نیوز چینل پر کالعدم دہشت گرد گروہ کے سرغنہ کا انٹرویو اور تکفیری نظریات نشر کرنے کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کی اپیل پر احتجاج کا سلسلہ منگل کے روز بھی جاری رہا۔ کراچی میں ریلی نکالی گئی جس کے شرکاء نے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع جیو ٹی وی کے دفتر کے باہرمظاہرہ کیا اور جیو نیوز چینل کو پاکستان دشمن ، اسلام دشمن اور انسانیت دشمن نیوز چینل قرار دیا۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء وذاکرین نے کہا کہ پاکستان میں شیعہ سنی اتحاد نے تکفیری عناصر کی نیندیں حرام کرتے ہوئے ان کی تیس سالہ سازشی کوششو ں پر پانی پھر دیا ہے، پاکستان کے عوام نے بھی پاک وطن کو فرقہ وارانہ کشیدگی کی جانب دھکیلنے والے عناصر کو مسترد کردیا ہے، ملک میں بسنے والے شیعہ سنی ایک ہیں اور تکفیریت کے خلاف متحد ہیں اور اپنے اتحاد سے بھارتی ایجنٹوں کی تمام سازشو ں کو ناکام بنائیں گے۔

 

 علامہ علی انور جعفری، علی حسین نقوی اور علامہ مبشر حسن نے پاکستان میں تکفیری دہشت گردی کی بانی جماعت کے سرغنہ اور ان کے تکفیری نظریات کی شدید مذمت کی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی و اسلامی قوانین کے تحت تکفیری نظریات رکھنا اور اس کی تبلیغ کرنا دونوں جرم ہیں اور جیو نیوز پر اینکر سید طلعت حسین کی جانب سے لدھیانوی کو مدعو کرنا صحافتی اخلاقیات کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کیا پاکستان کے عوام بانی پاکستان محمد علی جناح کے بارے میں نہیں جانتے کہ وہ خوجہ شیعہ مسلمان تھے اور خوجہ برادری شیعہ ہی ہوتی ہے ، اس شناخت کا مطلب ہی شیعہ ہونا ہے خواہ وہ اثنا عشری ہوں یا اسماعیلی، بوہرہ یا آغا خانی؟ بانی پاکستان کی خاندانی وراثت کے سلسلے میں ان کی بہن فاطمہ جناح نے پاکستانی عدالت کو بتایا تھا کہ وراثت شیعہ طریقے سے ہوگی۔مولانا شبیر احمد عثمانی کو بھی معلوم تھا کہ بانی پاکستان کی ایک نماز جنازہ ان کے گھر میں ہی شیعہ طریقے سے ادا کی جاچکی تھی اور بانی پاکستان جناح کے جسد خاکی کوخوجہ اثنا عشری جامع مسجد و امام بارگاہ کے خدمت گار شیعہ غسال نے غسل و کفن دیا تھا۔ان کی نماز جنازہ کے ساتھ سیاہ علم مرنے والے کے لئے کی جانے والی عزاداری کا منہ بولتا ثبوت تھا اور آج بھی تصاویر میں سیاہ پرچم اور اس پر شیعہ اسلامی شعار تحریر نظر آتے ہیں۔محمد علی جناح کا نکاح بھی شیعہ عالم دین نے پڑھایا تھا اور اس کا بھی دستاویزی ثبوت موجود ہے۔جس مکتب سے تعلق کا کالعدم گروہ کا سرغنہ دعویٰ کرتا ہے ، اس کے کفر پر بھی سنی علماء کے واضح فتوے اور کتابیں موجود ہیں، جب کہیں میڈیا پر پیش کردیں گے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بانی ایک شیعہ مسلمان تھا، آل انڈیا مسلم لیگ میں جسٹس امیر علی، اصفھانی خاندان، ہلالی خاندان، سر آغا خان ، راجہ صاحب محمود آباد سمیت کئی شیعہ شخصیات اور خاندان شامل تھے اور پاکستان کا بینکنگ نظام اور ایوی ایشن کا نظام شیعہ بزرگان کی مہربانیوں کی وجہ سے ہی قائم اور مستحکم ہوا۔

 

آئین کی اکیسویں ترمیم میں یہ بات واضح ہے کہ کالعدم جماعتوں کے بیانات نشر کرنے پر پابندی ہوگی چہ جائیکہ ان جماعتوں کے رہنماؤں کے انٹرویو نشر کئے جائیں ، ایسا کرکے جیو ٹی وی نے قومی ایکشن پلان کو کمزور کرکے پاک فوج کے خلاف سازش کی ہے، دہشت گردی کو ابھارنے اور آئین کی خلاف ورزی پر جیو ٹی وی کیخلاف فوجی عدالت اور عام عدالتوں میں مقدمہ قائم کیا جائے اور جیو ٹی کے پروگرام نیا پاکستان کو بند کرکے اس میں ایک اصلی اسلامی مکتب فکر کو کافر قرار دینے والوں کو گرفتار کیا جائے۔جناح سمیت دیگر شیعہ بانیان پاکستان کو کافر قرار دینے والے تکفیری مفتیوں اور کالعدم جماعت کے سرغنہ کو وطن سے غداری کے جرم میں گرفتار کیا جائے اور فوجی عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں نے جیو ٹی کے اینکر طلعت حسین کے پروگرام نیاپاکستان میں کالعدم جماعت کے سربراہ کو بلانے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں واقع جیو ٹی وی کے دفتر کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں جڑواں شہروں سے بڑی تعداد میں مظاہرین شریک ہوئے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم کے رہنماوں علامہ اصغر عسکری، اقرار ملک اور دیگر کا کہنا تھا کہ طلعت حسین نے کالعدم اہل سنت و الجماعت جماعت کے تکفیری سربراہ کو اپنے پروگرام میں بلاکر اکیسویں آئینی ترمیم اور نیشنل ایکشن پلان کی دھجیاں بکھیر دی ہیں، ہم اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ رہنماوں  کا کہنا تھا کہ حکومت طلعت حسین کو توہن مذہب کا مرکتب ہونے اور کالعدم جماعت کے تکفیری سربراہ احمد لدھیانوی کی طرف سے تکفیر اور قتل وقتال کی قبولیت پر نیشنل ایکشن پلان کے تحت گرفتار کرکے ان کے مقدمات فوجی عدالت میں چلائے جائیں ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کیلئے یہ ٹیسٹ کیس ہے، اگر حکومت واقعی نیشنل ایکشن پلان  پر عمل درآمد میں سنجیدہ ہے  تواس کیس کو  فوجی عدالتوں میں چلاکر ایک مثال قائم کرے۔ اس موقع پر جنگ جیو کیخلاف نعرے بازی بھی کی گئی اور جیو مخالف بینر بھی آویزاں کیے گئے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) جیوٹی وی اور جنگ اخبار اسلامی اقدار کی پامالی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ،جنگ گروپ کی  اسلام و پاکستان دشمنی پر مبنی طویل تاریخ ہے، طلعت حسین کے پروگرام نیا پاکستان میں پاکستان کی کالعدم دہشت گرد تکفیری جماعت کےے سرغنہ کی آمد اورمسلمہ مسلک اہل تشیع کی توہین اور کفریہ فتویٰ قومی  ایکشن پلان کو ناکام بنانے کی سازش ہے، پیمرا کٹھ پتلی بننے کے بجائے اپنا قومی قردار ادا کرے، پاک فوج نیشنل ایکشن پلان کی رو سے جیو ٹی وی اور تکفیری سرغنہ احمد لدھیانوی  کے خلاف کیس ملٹری کورٹ میں لے کر جائے،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات سید مہدی عابدی نے جیوٹی وی کے ٹالک شو میں کالعدم تکفیری گروہ کے سرغنہ کی جانب سے مکتب اہل تشیع کو کافر قرار دیئے جانے کے خلاف اپنے مذمتی بیان میں کیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ طلعت حسین جو کے خود کو پاکستان کے صف اول کے منجھے ہوئے صحافیوں کی فہرست میں سے قرار دیتے ہیں کی جانب سے آئین وقانون کی رو سے کالعدم قرار دی جانے والی جماعت کے تکفیری سرغنہ کو اپنے ٹالک شو میں مہمان بلانا اور ایک مسلمہ اسلامی مسلک کے خلاف ہرزہ سرائی کروانا انتہائی قابل مذمت فعل ہے، جس سے پاکستان کے پانچ کڑوڑ اہل تشیع شہریوں کی نا فقط دل آذاری ہوئی بلکہ ان میں شدید اشتعال بھی پایا جاتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جنگ گروپ امریکی، اسرائیلی ، بھارتی اور سعودی ایماء پر پاکستان میں قومی ہم آہنگی کی فضاء کو ثبوتاژ کرنے کے لئے برسرپیکار ہے، پاکستان میں موجود اہل تشیع اور اہل تسنن کے ہزاروں شہداء کے قتل عام میں ملوث شخص کو کس نے یہ حق دیا کہ وہ مسلمہ اسلامی مسلک کو کافر قرار دے،پاکستان میں ایسے وقت میں کہ جب پوری قوم دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے پشت پر موجود ہےاور وطن عزیز سے تکفیریت اور انتہاپسندی کے خاتمے کر لیئے پر عزم ہے ایسے موقع پر اہل تشیع مکتب کے خلاف ہرزہ سرائی اس گروہ کی ملک اور اسلام دشمنی کی واضح دلیل ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جیو ٹی وی کی نشریات بند کی جائے، جیوٹی وی کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائےاور کالعدم تکفیری گروہ کے سرغنہ احمد لدھیانوی کو فوری چور پر گرفتار کیا جائے، اگر حکومت ان اقدامات میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو پاک فوج جیو ٹی وی اور احمد لدھیانوی کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماعلامہ سید ہاشم موسوی نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی انسان کی زندگی کے لئے خطرہ ہے۔ انسان آلودہ ماحول میں سانس لے کر اپنے جسم میں بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔ ہماری صحت، ہمارے ماحول سے بہت حد تک وابستہ ہے۔ ہم جس ماحول میں رہتے ہیں، اِس میں انسان، جانور، موسمی حالات، چرندپرند، پودے اور درخت، ہوا ، پانی، سورج، بادل، کھیت اور کھلیان، دریا اور نہریں سب کچھ شامل ہے۔ اگر ہم تھوڑی دیر ماحول کو فراموش کرنے کی کوشش کریں تو یہ بیکار ہوگا کیونکہ ماحول ایک دائمی چیز ہے۔ گھر کا ماحول، باہر کا ماحول، اسکول کا ماحول، آفس کا ماحول غرض کہ ماحول سے ہمیں کوئی جدا نہیں کرسکتا۔ انسان کے اندر کا ماحول اس کو بیرونی ماحول سے نبردآزما ہونے میں مدد دیتا ہے۔ علاوہ ازیں صاف پانی کو انتہائی احتیاط کیساتھ استعمال کرنا لازمی ہے۔ پانی نعمت خداوندی ہے، جسکا ضائع ہونا کفرانِ نعمت میں شمار ہوتا ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی میں انتہائی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس پر قابو پانا ضروری ہے۔

 

امام جمعہ کوئٹہ کا مزید کہنا تھا کہ نواز حکومت کا سعودی عرب سے پیسے لیکر دہشتگردوں کے سرپرست احمد لدھیانوی کو قومی اسمبلی میں حصہ دینا، سعودی عرب کی جانب سے دیئے گئے 1.5 ارب ڈالر کے تحفے کا نتیجہ ہے، جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کیساتھ کسی بھی قسم کی نرمی برتنا خود ریاست کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ بےگناہ انسانوں کا خون بہانے والے دہشتگرد بیرونی ممالک کے ایجنڈے پر کار فرما ہیں، جن کا مقصد پیسے لیکر کرائے کے قاتل بننا اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ لہذا جن دہشتگردوں کا پیشہ ہی انسانیت کا قتل عام ہے، ان سے مذاکرات کے ذریعے امن کی بات کرنا، وقت ضائع کرنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ لہذا ملکی سلامتی کی خاطر ان دہشتگردوں کیخلاف بلاتفریق کاروائی کی جائے۔

وحدت نیوز(کراچی) متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان نے گورنر ہاؤس میں آج شیعہ و سنی عمائدین کے ساتھ ایک اجلاس میں کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ احمد لدھیانوی کے ساتھ دوستانہ روابط کا انکشاف کیا اور کہا کہ وہ احمد لدھیانوی سے درخواست کریں گے کہ محرم الحرام میں امن قائم رکھیں۔ اس مؤقف پر شیعہ و سنی عمائدین نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ مجلس وحدت مسلمین کے وفد کی قیادت کرنے والے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ صادق رضا تقوی اور دیگر شیعہ عمائدین نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گروہ کے سربراہ کو اس کی اور اس کے گروہ کی دہشت گردی سے روکنے کے لئے سخت انتظامی اقدامات کرنے کے بجائے گورنرسندھ دہشت گرد سے درخواست کریں گے، یہ مؤقف آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ ان کے اس غیر آئینی و غیر قانونی مؤقف کا مطلب یہ ہے کہ وہ کالعدم سپاہ صحابہ سے ملے ہوئے ہیں۔ لہذا ایسے بزدل اور ڈرپوک گورنر کے ساتھ کہ جو دہشت گردوں سے درخواست کرتا پھرے، ایسے گورنر کی صدارت میں کسی اجلاس میں شرکت کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے گورنر سندھ کے اس مذموم مؤقف کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

 

یاد رہے کہ اجلاس کے باقاعدہ آغاز سے قبل گورنر سندھ کو سنی و شیعہ عمائدین نے کالعدم تنظیم کی جانب سے امام بارگاہ پر حملہ اور سنی مساجد پر قبضہ کی صورت میں ہونے والی دہشت گردی کی تفصیلات سے آگاہ کردیا تھا۔ انہوں نے شکایت کی تھی کہ دہشت گرد کھلے عام سنی مساجد پر ناجائز قبضہ کر رہے ہیں اور اپنی تقاریر میں شیعوں او ر سنی بریلویوں کے خلاف نازیبا اور تکفیری کلمات اور نظریات کا پرچار کرکے اپنے دہشت گردوں کو تشدد پر اکساتے ہیں۔ ان کی ریلیوں اور مظاہروں میں سرعام کافر کافر اور مارو مارو کے نعرے لگائے جاتے ہیں لیکن گورنر سندھ کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ اس مؤقف کے اظہار کے بعد مجلس وحدت مسلمین نے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کردیا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree