وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن و آئی ایس او پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی کی عدم بازیابی اور پنجاب حکومت کی ظالمانہ و جابرانہ اقدامات کیخلاف نماز جمعہ کے بعد ملک گیر یوم احتجاج منایا گیا، کراچی میں جامع مسجد المصطفیٰ عباس ٹاؤن، جامع مسجد حیدری اورنگی ٹاون، جامع مسجد حسین آباد ملیر برف خانہ، جامع مسجد امامیہ ڈرگ روڈ، جامع مسجد امام موسیٰ کاظم کورنگی کراسنگ، جامع مسجد بن قاسم، جبکہ مرکزی احتجاجی مظاہرہ جامع مسجد نور ایمان ناظم آباد کے باہر کیا گیا۔ احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مرزا یوسف حسین، علی حسین نقوی، علامہ مبشر حسن، مولانا صادق جعفری، مولانا علی انور، تقی ظفر، آئی ایس او کراچی ڈویژن کے صدر محمد یاسین، ثمر عباس، علامہ یعقوب صابری، میثم عابدی و دیگر نے کہا کہ بانیان پاکستان کی اولادوں کو دیوار سے لگانے والے سن لیں کہ ہمیں یقین ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اس مملکت خداداد کو ہم نے بنایا تھا اور ہم ہی بچائیں گے۔ علمائے کرام و رہنماؤں نے کہا کہ ریاست کی سرپرستی میں پالے گئے ملک دشمن دہشتگرد ٹولہ آج وطن کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، افغان جہاد کے نام پر ملک میں دہشتگردی اور کلاشنکوف کلچر درآمد کرنے والے آج ہماری حب الوطنی پر شک کر رہے ہیں، ہم اس وطن کے وارث ہیں، ہم پنجاب حکومت اور اس میں شامل دہشتگردوں کے سرپرست رانا ثنااللہ کے عزائم سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سید ناصر شیرازی مادر وطن کا باوفا سپوت ہے، اس کا جرم پاکستان میں اداروں کی تقدس کی بحالی اور اتحاد بین المسلمین کیلئے جدو جہد کرنا ہے، ہم مکتب اہلیبیتؑ کے پیروکار وں کو کوئی بھی دنیا کا ظالم و جابر حکمران جھکا نہیں سکتا، آج اس ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد حالات تبدیل نہ ہوئے، تو ہم شاہراہوں اور ایوانوں کا رخ کرینگے۔

علامہ مرزا یوسف حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثنااللہ اور شہباز شریف ملکی سالمیت کیخلاف سازش میں مصروف ہیں، ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم سڑکوں اور حکومتی ایوانوں کا رخ کرے، ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم نے جس دشمن کا بھی پیچھا کیا ہے، وہ دنیا اور آخرت دونوں کیلئے رسوا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں رانا ثنااللہ کالعدم تکفیری دہشتگردوں کا سہولت کار ہے، ناصر شیرازی کو دہشتگردوں کے ایماء پر رانا ثنااللہ نے اغوا کیا ہے، ہم ریاستی اداروں اور مقتدر قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملت جعفریہ کیخلاف انتقامی کاروائیوں کا نوٹس لیں۔ علی حسین نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت ہوش کے ناخن لے، جس قوم سے الجھنے کی کوشش کر رہے ہو، یہ وہ قوم ہے، جس نے چودہ سو سالوں سے یزید کا پیچھا نہیں چھوڑا، آل شریف کونسی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں، سید ناصر شیرازی ملت تشیع پاکستان کا رہنما ہے، ہم تمام شیعہ تنظیمیں، بانیان مجالس، عزاداران قومی جماعت مجلس وحدت مسلمین کے شانہ بشانہ ہیں اور ناصر شیرازی کی بازیابی کیلئے جس حد تک بھی جانا پڑے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور سپہ سالار افواج پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ناانصافی اور غیر قانونی اقدام کا نوٹس لیں اور ملک کو کسی نئے بحران کی طرف دھکیلنے سے بچائیں۔

وحدت نیوز(کراچی) سانحہ پارہ چنار کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام آج ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔شہر قائدمیں مرکزی احتجاجی مظاہرہ جامع مسجد نورایمان ناظم آباد کے باہر منعقد کیا گیاآئمہ مساجد نے جمعہ کے خطبات میں سانحہ پارہ چنار پر حکومتی بے حسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارا چنار کے معاملے پروزیر اعظم کی خاموشی تکفیری قوتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہے۔ریاست کے شہریوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔جو حکومت عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی اس کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔اگر پارا چنار کے لوگوں کے مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جاتا تو آج اس علاقے کو دہشت گردی کا المناک واقعات کاسامنا نہ کرنا پڑتا۔پارہ چنار کے عوام سے حب الوطنی کی بھار ی قیمت وصول کی جا رہی ہے۔نماز جمعہ کے بعدمرکزی احتجاجی مظاہرہ جامع مسجد نورایمان ،جامع مسجد دربار حسینی ملیر،جامع مسجد حسینی ماروی گوٹھ ،جامع مسجد مصطفیٰ عباس ٹاون ،جامع مسجدحیدری اورنگی ٹاون جن میں سینکڑوں کی تعداد دمیں لوگوں نے شرکت کی۔شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر پارا چنار کی عوام کی حمایت اور حکومت کے خلاف نعرے درج تھے جس کی قیادت مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں نے کی۔

مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مرزا یوسف حسین ،علامہ نثار قلندری ،علامہ نشان حیدر ساجدی، علامہ زاہد حسین ہاشمی ،علامہ صادق جعفری ،علامہ مبشر حسن ،علی حسین نقوی ،علامہ علی انور،علامہ سجاد شبیر،علامہ اظہرحسین نقوی نے کہا نواز شریف نے پارا چنار کو نظر انداز کر کے وزارت عظمی کے عہدے سے غداری کی ہے۔وزیر اعظم کا تعلق کسی مخصوص فکر یا طبقے سے نہیں ہوتا بلکہ پورے ملک کی عوام سے ہوتا ہے۔پارا چنار کے لوگوں کی تضحیک ناقابل برداشت ہے پارا چنار کے لوگ مظلوم ہیں مگر حق کے لیے آواز بلند کرنا جانتے ہیں۔ ان مظلومین کی آواز کو طاقت یا اختیارات کے ناجائز استعمال سے دبایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اور پارا چنار کے عوام اپنے آئینی حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ہم پورے عزم کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ان کے مطالبات کی منظور ی بغیر ہم اپنے اصولی موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارا چنار جا کر یہ ثابت کیا ہے انہیں عوامی مسائل کا بخوبی درک ہے۔دہشت گردی کے خلاف ان کی بلاتفریق کوششیں لائق ستائش ہیں۔

وحدت نیوز ( کراچی) عراق میں صحابہء کرامؓ ،اہلبیت اطہارؓ اور اکابرین امت کے مزارات کی توہین یہودی منصوبہ ہے ،صیہونی عراق میں فتنوں کو جنم دے کر اسے گریٹر اسرائیل میں شامل کرناچاہتے ہیں، ISIS(داعش )کے دہشتگرد اس دورمیں خوارج کی بدترین شکل ہیں ،جن کی سرپرستی امریکا کررہاہے، نجف اشرف، کربلائے معلی اور بغداد سے دنیابھر کے مسلمانوں کاروحانی وقلبی تعلق ہے جسے کوئی ختم نہیں کرسکتا،ان خیالات کا اظہارجمعیت علماء پاکستان کے زیراہتمام شام کے بعد عراق میں داعش نامی انتہاپسند تنظیم کی جانب سے علماء کرام ومشائخ عظام اورنہتے مسلمانوں کی شہادت اور مزارات مقدسہ کو مسمارکرنے کے ناپاک منصوبے کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء پاکستان کے صوبائی ناظم اعلیٰ علامہ السید عقیل انجم قادری، کراچی ڈویژن کے صدرعلامہ قاضی احمدنورانی صدیقی، جنرل سیکریٹری مفتی بشیرالقادری، سینئرنائب صدر مفتی رفیع الرحمان نورانی، علامہ غلام غوث گولڑوی، علامہ خلیل احمدنورانی، پروفیسرانواراحمدشیخ، عبدالوحیدیونس نورانی،مولاناہارون نعیمی،مولاناشاہد قادری،حافظ شاہداللہ نورانی ودیگر نے کیا۔

 

 اس موقع پر مظاہرین نے ISIS(داعش) نامی انتہاپسند تنظیم کی عراق میں مذموم کارروائیوں کے خلاف بینرزاور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے، جن پر درج تھاکہ داعش کا اہلسنّت سے کوئی تعلق نہیں ہے، داعش ایک دہشتگرد تنظیم ہے، جسے اسرائیل اور امریکاکی کی سرپرستی حاصل ہے۔بعض پلے کارڈز پر حضرت سیدناعلی کرم اللہ وجہہ الکریم ،حضرت سیدناامام حسینؓ،حضرت عباسؓ،حضرت امام اعظم ابوحنیفہؓ ، حضرت غوث الاعظمؓ ،حضرت سری سقطیؒ ، حضرت جنیدبغدادیؒ اور دیگر اکابرین کے مزارات کے تحفظ کے حوالے سے سے عبارات درج تھیں، جبکہ شرکاء نے کلمہء طیبہ اور گنبدخضراء سے مزین سبز جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے جومسلسل نعرہء تکبیر ،نعرہء رسالت اور دہشتگردوں کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ امریکاعراق کی خانہ جنگی میں ملوث ہونے کے بجائے ویت نام کی جنگ سے سبق حاصل کرے، سرزمین عراق کسی بھی فرقہ پرستانہ سوچ کی متحمل نہیں ہوسکتی، عراق کی خانہ جنگی اس ملک کا اندرونی معاملہ ہے لہٰذاOICاوراقوام متحدہ القاعدہ کی ذیلی تنظیم دولت اسلامی شام وعراق (داعش) کے عالمی دہشتگردوں کو عراقی مسلمانوں کے قتل عام سے بازرکھے،امریکا اور اس کے حواری داعش کی دہشتگردانہ کارروائیوں کو سنّی ردعمل سے موسوم نہ کرے،دنیابھرکے مسلمانان اہلسنّت جواس امت کے سواداعظم ہیں انتہائی پرامن ہیں اور ہمیشہ اسلام کے امن وسلامتی کے پیغام کو عام کرتے ہیں۔

 

علماء ومشائخ اہلسنّت نے اپنے خطاب میں کہاکہ عراق عقیدتوں کی سرزمین ہے جس سے اسلام کے ماننے والے مختلف فرقوں کی روحانی اور جذباتی وابستگیاں قائم ہیں،جن کے لئے ہرمسلمان تن من اور دھن قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیارہے،دنیاکے مختلف خطوں میں اسلام کی من مانی تشریح کرنے والے اور مسلمانوں کی واضح اکثریت پر کفروشرک کے فتوے لگانے والے انتہاپسند مختلف ناموں کے بعد اب داعش کے نام پر عراق کے مختلف شہروں میں نہتے مسلمانوں ،علماء اور مشائخ کا بہیمانہ قتل عام کررہے ہیں جبکہ وہ صدیوں سے قائم مساجد، مدارس اور ان سے ملحق کتب خانوں پر قبضہ کرنے، صحابہ واہلبیت اور مشائخ کے مزارات کو مسمار کرنے کے مذموم ارادوں کا اظہارکررہے ہیں، المیہ یہ ہے کہ عراق کے شہروں موصل، کرکوک، فلوجہ، تکریت ،صلاح الدینیہ میں وحشیانہ قتل عام اور قبضہ کرنے کے بعد یہ انتہاپسند بغداد کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

 

انہوں نے سواداعظم اہلسنّت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیابھرمیں موجودسواداعظم اہلسنّت سے اس داعش نامی گروہ کا کوئی علمی ،فکری اور قلبی تعلق نہیں،نہ ہی دنیابھرمیں موجودسنی مسلمان ان کے قبیح افعال کی حمایت کرسکتے ہیں،دوسری طرف امریکا ان دہشتگردوں کی آڑ لے کر عراق کے مختلف شہروں پر بمباری کا ایک بارپھر عندیہ دے رہاہے،ایسامحسوس ہوتاہے کہ امریکا عراق کے داخلی معاملات میں ملوث ہونے کی غلطی دہرانے جارہاہے،انہوں نے کہاکہ شام کی طرح عراق میں بھی اولیاء اللہ کے مزارات مقدسہ موجود ہیں اور ہم نے شام میں بھی دیکھا ہے کہ کس طرح ان دہشت گردوں نے حضرت حجر بن عدیؓ اور دیگر اصحاب رسول اکرمؓ کے مزارات مقدسہ کو نقصان پہنچایا اور ان مزارات کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا تاہم ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ عراق میں بھی صحابہ اہلبیت ،اولیائے کاملین ،آئمہ اور ا ن کے شاگردوں اور اصحا ب کے مزارات بھی موجود ہیں، اگر ان مقدس مقامات پر آنچ آئی تو اہل سنت عوام خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ان اسلام دشمن عناصر کے خلاف سخت احتجاجی رد عمل اختیار کیا جائے گا۔ گذشتہ دنوں داعش نامی دہشت گرد گروہ نے حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مقد س پر حملہ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ موصل کے مضافاتی علاقوں میں بھی جناب غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے اصحاب کے مزارات کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

 

واضح رہے کہ داعش نے موصل پر قبضے کے پہلے روز بغداد اور نجف سمیت کربلا کی طرف حملے کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہم افواج پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور انکی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں ، کیونکہ یہ وہی دہشت گرد ٹولہ ہے جو شام اور عراق میں انسانوں کو ذبح کر کے انسانوں کے کلیجے چبا رہا ہے اور انہی کے ہم نوا یہاں پاکستان میں بھی معصوم پاکستانیوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں تاہم افواج پاکستان کی جانب سے ان دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن بالکل راست اقدام ہے اور اہل سنت عوام اس آپریشن کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی ہے، ہم نے ماضی میں بھی کہا تھا کہ ان دہشت گردوں کا جو سنی مکتب فکر کا نام استعمال کر رہے ہیں اور سنی عوام کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا سنی مکتب سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم آج ایک مرتبہ پھر اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اہل سنت کسی ایسے دہشت گرد گروہ کو قبول نہیں کرتے جو دوسرے مسلمانو ں کو کافر قرار دیتا ہو یا انسانوں کو قتل کرتا ہو۔انہوں نے کہاکہ عالمی استعمارکی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عالم اسلام متحدہواور کفریہ طاقتوں کے سامنے سیسہ پلائی دیواربن کر مسلمانوں کادفاع کرے۔

وحدت نیوز(کراچی) 11 مئی ملکی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے، جس دن جمہوریت کے نام پر موجودہ حکمران انجینئرڈ الیکشن کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوئے، نواز شریف نے ایک سال کے دور حکومت میں ملک کو مذاکرات کے نام پر طالبان کے حوالے کردیا ہے، وطن عزیز میں بڑھتی ہوئی امریکی و سعودی مداخلت نے ہماری سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، پاک فوج ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فی الفور آپریشن کا آغاز کرے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن نے 11 مئی کو یوم سیاہ کے موقع پر کراچی پریس کلب پر منعقدہ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین میں صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ صادق رضا تقوی، کراچی ڈویژن کے رہنما علامہ علی انور جعفری، علامہ مبشر حسن، علامہ صادق جعفری، علی حسین نقوی ہندو برادری کے رہنما ڈاکٹر جے پال و دیگر شامل تھے۔ احتجاجی مظاہرے میں خواتین اور بچوں سمیت ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان کی بڑی تعداد شریک تھی۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے نواز حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور طالبان سے مذاکرات اور امریکی و سعودی مداخلت کو ملک کی عوام کے لئے زہر قاتل قرار دیا۔ اپنے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا موجودہ حکومت انتظامی امور کے ہر پہلو سے ناکام ہے، موجودہ حکمرانوں نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے نعرے کو بنیاد بنا کر اقتدار میں آئے تھے لیکن آج توانائی کا بحران بدترین سطح پر پہنچ گیا ہے، ستم بالائے ستم یہ کہ توانائی بحران کے حل کی واحد امید پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو بھی ملک دشمن عالمی طاقتوں کے دباؤ میں آ کر پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

 

مقررین نے کہا کہ طالبان دہشت گردوں سے مذاکرات کے نام پر پورے ملک کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، لاقانونیت عروج پر پہنچ گئی ہے، تاریخ میں پہلی بار پاکستانی شہریوں پر عالمی سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی دہشت گردوں کی جنت چکا ہے، امریکہ اور سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ملکوں کی دہشت گردانہ خارجہ پالیسی کی بے جا حمایت کی وجہ سے پاکستان عالمی سفارتی تنہائی کا شکار ہوگیا ہے، اداروں کے درمیان تصادم کی فضاء ہے جبکہ خود حکومتی صفوں میں گروہ بندی عروج پر ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ملک کے محروم علاقے بدترین تنہائی کا شکار ہیں جبکہ ریاستی کنٹرول ملک میں کہیں نظر نہیں آتا، اقتدار ایک گھر کے اندر تقسیم کر دیا گیا ہے جبکہ لیپ ٹاپ سکیم اور یوتھ فیسٹول کے نام پر کرپشن اور سیاسی رشوت کا بازار گرم ہے۔ مقررین کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں شیعہ نسل کشی میں اضافہ اس بات کی غمازی کررہا ہے کہ میاں صاحبان نے کالعدم جماعتوں کو کھلی چھٹی دی ہوئی ہے، پاک فوج ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فی الفور آپریشن کا آغاز کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خودکشیوں کی شرح بلند ترین سطح پر ہے، جو عوام کی ناگفتہ بہ حالت کی عکاس ہے، ایسے حالات میں کوئی بھی محب وطن خاموش نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا حکمرانوں نے ایک سال میں سوائے دلاسوں اور جھوٹے وعدوں کے کچھ نہیں دیا، ایسے حکمرانوں کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین لیڈیز وونگ کے صوبائی سیکریٹری جنرل خانم زہرا نجفی نے کہا ہے کہ دہشت گردی ، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکے ملک کو غیر مستحکم کر نے کی سازش ہے ، کراچی انسانی خون کا کنواں بن چکا ہے ، روزانہ ایک درجن سے زائد بے گناہ شہریوں کا قتل معمول بن چکا ہے، حکمرانوں کی بے حسی ملک کو مذید نقصان پہنچا رہی ہے جنہوں نے ملک کے کسی شہری کی جان نہیں بخشی حکمران ان سے اپنے اقتدار کی بخشش کی بھیک مانگ رہے ہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب پرایم ڈبلیوایم خواتین ونگ کراچی کے زیر اہتمام ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔ اس موقع پر شہر قائد میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے والے افراد کے لواحقین سمیت خواتین کارکنان اور معصوم بچوں کی بڑی تعداد احتجاجی مظاہرے میں شریک تھی جنہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر نامنظور نا منظور دہشت گردی نا منظور ، ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کرو، امریکہ مردہ ، طالبان مردہ باد، اسرائیل نامنظور اور مذاکرات نامنظور کے نعرے درج تھے۔

 

خانم زہرا نجفی نے کہا کہ وطن عزیز کو کسی بیرونی نہیں بلکہ داخلی دشمن سے خطرہ ہے، طالبان اور ان کے پشت پناہ سیاسی و مذہبی جماعتیں پاکستان اور پاکستانی عوام کے لئے زہر قاتل ہیں ، ایک منظم پلاننگ کے تحت ملک کو غیر ملکی ایجنڈے پر دہشت گردوں کے سپرد کیا جا رہا ہے، مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی صورتحال اور شام میں تکفیری دہشت گردوں کو اسلامی مقاومت کے ہاتھوں ہو نے والی تاریخی شکست کے بعد پاکستان تکفیری دہشت گردوں کے آقاؤں کا تختہ مشق بننے جا رہا ہے ، پاکستان کے نا عاقبت اندیش حکمران محض چند ڈالروں اور ریالوں کے خاطر قومی سالمیت اور استحکام کو داؤپر لگانے میں مصروف ہیں ،انہوں نے مذید کہا کہ کراچی میں جاری مسلسل ٹارگٹ کلنگ خصوصاً شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز کی اندہوناک قتل و غارت گری بے حس حکمرانوں ، قانون نافذ کر نے والے اداروں اور عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہے، شدید مالی پریشانیوں ، تنگ دستیوں اور معاشی مشکلات کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر، انجینئر اور وکیل بننے والے افراد کو بلاجواز دن دھاڑے قتل کر دیا جانا قومی المیے کا سبب بننے گا، یہ تمام کاروائیاں ملک کو پڑھے لکھے لوگوں سے نجات دلاکر جاہل انپڑھ دہشت گردوں کو مسلط کر نے کے لئے کی جارہی ہیں ۔روزانہ کی بنیاد پر شہید ہو نے والے بے گناہ شہریوں کے معصوم بچوں ، بیواؤں ، بوڑھی ماؤں کی آہیں اور سسکیاں بے حس حکمرانوں کے قتدار کے زوال کو سبب بنیں گی۔ انہوں نے صوبائی وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ، گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، آئی جی پولیس، ڈی جی رینجرز اور اعلیٰ حکام کو متنبہ کیا کے اگر ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام اور گرفتار دہشت گردوں کو فوری سزا دینے میں مذید سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کیاتو ایم ڈبلیو ایم شہداء کے اہل خانہ کے ہمراہ سڑکوں پر سراپا احتجاج ہو گی اور پھر ہمارا احتجاج دہشت گردوں اور نا اہل حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گا ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سعودیہ اور بحرین کی پاکستانی معاملات میں براہ راست مداخلت خطے سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اس سے نہ صرف دنیا کے امن و سکون کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے بلکہ پاکستان کی سلامتی بھی خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔ بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ امریکی و سعودی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے جو سودابازی کرنے آئے ہیں پاکستان اس کا کسی صورت بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔شام کے معاملات میں پاکستان کو زبردستی فریق بنانے کی سازش کو کسی صورت کامیاب نہیں ہو نے دیا جائے گا۔آل سعود نے ہمیشہ دین کی آڑ میں امت مسلمہ کی عزت و عظمت کو پامال کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے رہنما حجت الاسلام علامہ ضیغم عباس، علامہ علی شیر انصاری، ظہیر عباس نقوی اورامامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنمانے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بحرین کے ڈکٹیٹر شاہ حمد بن عیسیٰ کی پاکستان آمد اور خفیہ فوجی معاہدے کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت جس نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اس کی بنیادی وجہ بیرونی مداخلت ہے۔ یہ مسلمان نما صیہونی ایجنٹ ذاتی مفاد کی تکمیل کے لیے امت مسلمہ کے مفادات کے منافی سرگرمیوں میں مشغول ہیں اور ہر مسلم ملک کی خود مختاری کے لیے خطرے کی علامت ہیں۔پاکستان کی سا لمیت و بقا روز ازل سے ان کی آنکھ کا کانٹا بنی ہوئی ہے۔حکومت پاکستان کو خارجہ پالیسی طے کرتے وقت داخلی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دانشمندانہ اور پُر بصیرت فیصلے کرنے ہوں گے۔ چند ڈالروں کے عوض ملکی سلامتی کو گروی رکھ دینا سراسر ناانصافی اور ارض پاک کے ساتھ غداری ہے۔پاکستانی قوم کسی بھی ایسے فیصلے کو قطعی تسلیم نہیں کرے گی جس سے ہماری خودمختاری پر آنچ آتی ہو یا دہشت گردی کو فروغ ملتا ہو۔ انہوں نے کہا دہشت پسندوں نے ملک و قوم کاسکون تباہ کر رکھا ہے۔انہیں مراعات دینا کہاں کی منصفی ہے ۔ انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ انہیں سخت اور عبرتناک سزائیں دی جائیں لیکن حکومت سعودیہ کی ایما ء پر ان سے مذاکرات چاہتی ہے۔ دراصل سعودی حکومت کی آنکھوں پر تعصب کی چربی چڑھی ہوئی اور وہ ہر اس ملک پر فیصلہ کن جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے جہاں ملت تشیع کے لوگ امن و سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔بحرین کے شاہ کی آمد بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

 

انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو کسی بھی اسلامی ملک کے خلاف استعمال کرنے سے باز رہے۔اگر ذاتی اغراض و مقاصد کی خاطر ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا شام حکومت کے خلاف دہشت گردوں کے ساتھ ساز باز خارجہ پالیسی کے تقاضوں کے برعکس بھی ہے اور ایک غیر اخلاقی عمل بھی۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ سعودیہ، بحرین سمیت کسی بھی ملک کے اس ایجنڈے کا حصہ نہ بنے۔

Page 1 of 4

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree