وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے زیر اہتمام ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماء سید ناصر عباس شیرازی کے اغواء کے خلاف آل پارٹیز پریس کانفرنس کا انعقاد پریس کلب اسکردو میں ہوا۔ جس کی صدارت ایم ڈبلیوا یم جی بی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ احمد علی نوری نے کی، آل پارٹیز پریس کانفرنس میںامامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلتستان ڈویژن کے صدر سعید شگری،پاکستان تحریک انصاف جی بی کے رہنماء چیئرمین احمد علی، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء عبدا للہ حیدری ، آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنماء حاجی منظور یولتر،جی بی یوتھ الائنس کے چیئرمین شیخ حسن جوہری، گلگت بلتستان تھنکرز فورم کے سپیکر حاجی رزمست خان، بلتستان یوتھ الائنس کے رہنما علی شفاء سمیت درجنوں کارکنان شریک تھے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم جی بی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ پریس کانفرنس ملک بھر میں ملت کے جعفریہ کے بے گناہ افراد کی جبری گمشدگی اور ماورائے آئین گرفتاریوں پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتی ہے اور  پنجاب حکومت کی جانب سے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماء سید ناصر عباس شیرازی کے اغواء کو ریاستی دہشتگردی اور آپریشن ردالفساد پر سوالیہ نشان قرار دیتی ہے۔ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ  ناصر شیرازی سمیت دیگر جبری گمشدگان کا اغواء ماورائے آئین اور جمہوری اقدار کے منافی ہے پاکستان کی معزز عدلیہ کی بار بار اصرار کے باوجود مغوی کو عدالت میں پیش نہ کرنا عدالت کے ساتھ مذاق اور توہین عدالت کے مترادف ہے۔ناصر شیرازی کو اغواء کر کے پنجاب حکومت نے ریاستی دہشتگردی کی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لاہور کی اہم شاہراہ سے ایلیٹ فورس کی گاڑی میں آکرمسلح اہلکاروں کی جانب سے ناصر شیرازی کو اغواء کرنا اور اس پر حساس اداروں کی جانب سے لاعلمی کا اظہار جہاں ان اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے وہیں ملکی سا  لمیت کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ پنجاب میں ریاستی اداروں کی رٹ یا تو مکمل طور پرختم ہو چکی ہے یا پنجاب حکومت کی ایماء پر ماورئے آئین و قانون عمل کرنے پر مجبور ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں انہیں فوری طور پر رہا کرنے میں چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف اپنا کردار ادا کرے۔ علاوہ از یں ملک بھر میں ماورائے آئین و عدالت جبری گمشدگی کا سلسلہ انتہائی تشویشناک ہے انہیں فوری طور پر بازیاب کرکے آئین کی عملداری کو یقینی بنائی جائے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا  کہ آئین پاکستان کی رو سے سیاسی جدوجہد تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت تمام مذاہب کا بنیادی حق ہے۔ یہ ملک ان تمام مذاہب و مسالک کے ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور آج پاکستان میں موجود ہیں۔ اقبال و جناح کے پاکستان میں نظریات کی بنیاد پر دیوار سے لگانے کی کوشش ملک دشمنی ہے۔ ہم ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کو ناکام بنا کر تمام مسالک و مذاہب کو انکی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ پاکستان کی عدالت عالیہ کو فرقہ وارنہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والے نام نہاد وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو برطرف کر کے انہیں سخت سزا دی جائے۔
 
انہوں نے کہا کہ گلگت  بلتستان میں پرامن علمائے کرام کو شیڈول فور میں ڈال کر برابری کی کوشش کی گئی ہے انہیں شیڈول فور سے نکالا جائے بلخصوص یمن جنگ میں آرمی کو دھکیلنے کی حکومتی کوشش کے خلاف احتجاج پر ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء شیخ نیئر عباس کو قید کرنا سراسر ناانصافی اور غنڈہ گردی ہے انہیںفورا رہا کیا جائے۔ عوام کی جان ، مال ، عزت و آبرو کی حفاظت اور بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے لہٰذا بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے ریاستی ادارے اپنا کردار ادا کریں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک بھر میں نیشنل ایکشن پلان کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرنے کی بجائے اسکی روح کے ساتھ نافذ کرکے دہشتگردوںاور سہولت کاروں کو عبرتناک سز ا دی جائے۔آج جی بی سمیت ملک بھر نیشنل ایکشن ایکشن پلان کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہورہا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گلگت  بلتستان میں آئینی حقوق کے بغیر ٹیکس کا نفاذ غیر آئینی عمل ہے یہاں پر عائد تمام ٹیکسز کو واپس لے کر سٹیٹ سبجیکٹ رول سمیت متنازعہ خطے کے حقوق کو بحال کیے جائیں یا باقاعدہ آئینی حصہ بنایا جائے۔اورگلگت  بلتستان میں خالصہ سرکاری کی آڑ میں عوامی زمینوں پر قبضے کا سلسلہ ختم کیا جائے اور سی پیک میں جی بی کو بھی مناسب حصہ دیا جائے۔پریس کانفرنس کے شرکاء نے مزید کہا کہ ناصر عباس شیرازی سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی تک حکمرانوں اور ریاستی اداروں کو اپنی حکومت کے لیے استعمال کرنے والوں کا تعاقب جاری رکھیں گے اور اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما اور آئی ایس او پاکستان کے رکن مرکزی نظارت سید ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کی عدم بازیابی اور پنجاب حکومت کی بے حسی کے خلاف پریس کلب کراچی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی،جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی،مجلس علمائے شیعہ پاکستان کے سربراہ علامہ مرزا یوسف حسین اورآئی ایس او کے صدرمحمد یاسین سمیت مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی،شرکا نے پنجاب حکومت،شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کے خلاف زبردست نعرہ بازی بھی کی۔

مقررین نے کہا کہ ایک ملک گیر سیاسی و مذہبی جماعت کے سینئر رہنما کو بیس روز قبل اغوا کیا گیاجس کے ذمہ دار رشہباز شریف،حمزہ شریف اور رانا ثنا اللہ ہیںCTD کے ذریعے ناصر شیرازی کو اغوا کرایا گیا اورآج بھی وہ سی ٹی ڈی کی غیر قانونی قید میں ہیں۔اس ملک میں جنگل کاقانون ہے،شریف خاندان نے وطن عزیز کو سلطنت شریفہ میں بدل دیا ہے، عدالتی احکامات کے باوجود ناصر شیرازی کی بازیابی کو پولیس انتظامیہ نے جان بوجھ کر معمہ بنایا ہوا ہے۔پنجاب پولیس آئین و قانون کی پاسداری کی بجائے شہباز شریف کی تابعداری کا حق ادا کرر ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی کی بازیابی میں دانستہ تاخیر ملت تشیع کے اضطراب میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ ہم نے اپنے حقوق کے لیے ہمیشہ آئینی راستہ اختیار کیا۔ناصر شیرازی کا جرم محض یہ تھا کہ انہوں نے اعلی عدلیہ کو فرقہ واریت کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش پر رانا ثنا اللہ کے خلاف پٹیشن دائر کی اور لاپتا افراد کی بازیابی اور ملک میں آئین کی بالادستی کی بات کی۔انہیں ریاستی اداروں کے ذریعے اغوا کر کے ملت تشیع کو دبانے کی کوشش دیوانے کا خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ظالم حکمرانوں کے خلاف ہماری رآئینی جدوجہد اسی عزم و استقامت کے ساتھ جاری رہے گی۔ملک میں تکفیری اور کالعدم مذہبی جماعتوں کو حکومت پنجاب کی مکمل حمایت حاصل ہے جب کہ محب وطن طاقتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔رانا ثنا اللہ حکومتی صفوں میں رہ کر کالعدم جماعتوں کی کھلم کھلا سرپرستی کر رہے ہیں جو ملک و قوم کے ساتھ سنگین غداری ہے۔ شریف خاندان نے وطن عزیز کو سلطنت شریفہ میں بدل دیا ہے۔ان خائن اور کرپٹ ملک دشمن حکمرانوں کہ دن گنے جاچکے ہیں۔کارکنان اور عوام جاتی امراء لاہور کے گھیراو کی تیاری کریں،نواز شریف کی طرح شہباز شریف اور پنجاب کے صوبائی وزرا بہت جلد انصاف کے کٹہرے میں نظر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک لوٹنے والوں کو صرف سزائیں دینا کافی نہیں بلکہ ملک و قوم کی لوٹی ہوئی رقم کی ایک ایک پائی ان سے وصول ہونی چاہیے تاکہ ملک ترقی و استحکام کی جانب سفر کر سکے۔

شرکا نے شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کے پُتلوں کو بھی نذر آتش کیا۔مقررین نے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، اور چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے گزارش کی ہے کہ پنجاب حکومت کی اس لاقانونیت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اور ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی،سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ناصر شیرازی کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔۔مذہبی شخصیات میں مولانا حید عباس،مولانا عقیل موسی،علامہ مبشر حسن،علامہ صادق جعفری،علامہ احسان دانش،علامہ اظہر نقوی اور محمد یاسین سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز(پاراچنار) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردوں کی مدد کے الزامات کے خلاف پاراچنار پریس کلب کے سامنے مجلس وحدت مسلمین نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے, جن پر امریکہ کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے پریس کلب کے باہر امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔ اس موقع پر شفیق طوری سیکریٹری وحدت یوتھ کے پی کے،مجلس علما کے صدر مولانا باقر حیدری اور تحریک حسینی کے صدر مولانا یوسف حسین  نے  اپنے خطاب میں کہاکہ داعش، طالبان اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کا خالق ملک امریکہ، پاکستان پر الزامات عائد کر رہا ہے, جو افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام اور فورسز نے بڑی بہادری سے دہشت گردی کا مقابلہ کرکے شدت پسندوں کی کمر توڑ دی ہے، امریکی الزامات سے امن کو فروغ نہیں ملے گا بلکہ دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ مقررین  نے مطالبہ کیا کہ امریکی صدر اپنا متنازعہ پالیسی بیان فی الفور واپس لیں۔

وحدت نیوز(کراچی) ناصرِ ملت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی جانب سے 25 اگست بروز جمعہ یومِ مردہ امریکہ منائے جانے کی اپیل پر مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی کی جانب سے آج بعد نماز جمعہ مسجدِ نورِ ایمان ناظم آباد پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے سے مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے رہنماء علامہ سید اظہر حسین نقوی اور امامِ جمعہ مسجدِ نورِ ایمان علامہ مرزا زاہد حسین نے خطاب کیا، اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین ضلع وسطی کے سیکریٹری جنرل ثمر زیدی اور ضلعی کابینہ کے اراکین اور کارکنان سمیت مومنین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

وحدت نیوز(کراچی) سانحہ مستونگ، کوئٹہ و پاراچنار سمیت ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی، شیعہ علمائے کرام و جوانوں کے اغوا اور سندھ بھر میں مختلف سانحات میں گرفتار کالعدم تنظیموں کے دہشتگردوں کی رہائی کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی دویژن کے زیر اہتمام جامع مسجد نور ایمان کے باہر مرکزی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، احتجاجی مظاہرے سے علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ اظہر حسین نقوی، علامہ مبشر حسن و دیگر نے خطاب کئے۔ شرکائے احتجاج نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے خلاف فوجی آپریشن اور سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائی کے مطالبات درج تھے۔ ایم ڈبلیو ایم کے تحت جامع مسجد و امام بارگاہ بو تراب عزیز آباد، جامع مسجد جعفریہ نارتھ کراچی سیکٹر 5D، جامع مسجد حسن مجتبیٰ گلشن معمار، جامع مسجد العباس وزیر بروہی گوٹھ کے باہر بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔جن میں میر تقی ظفر، ناصر حسینی، ثمر زیدی سمیت دیگر رہنما وں، کارکنان اور مومنین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام نے کہا کہ گذشتہ 18 سالوں میں جس طرح ایک منظم سازش کے تحت کوئٹہ اور اسکے گرد و نواح میں شیعہ ہزارہ قوم کی ٹارگٹ کلنگ اور پھر منظم طور پر ہماری نسل کشی کا منصوبہ بنایا گیا، ملک بھر میں خصوصاً کوئٹہ، پارا چنار اور کراچی میں معصوم عوام کے قتل عام سے حکومت بالکل بیگانہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کے دشمن کالعدم شدت پسند ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے درپے ہیں، بلوچستان حکومت امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں، دہشتگردوں کے نرسری کالعدم شدت پسند گروہ کو بلوچستان میں مکمل آزادی دینا دہشتگردی کیخلاف جنگ کو ناکام بنانے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دہشتگردوں گروہوں نے نام بدل کر پورے پاکستان کو یرغمال بنایا ہوا ہے، اب یہ سارے دہشتگرد گروہ داعش کے جھنڈے تلے منظم ہوکر پاکستان کو اپنی آماجگاہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں، ہر سانحے کے بعد باقاعدہ طور پر داعش واقعے کی ذمہ داری نہ صرف قبول کرتی ہے، بلکہ آئندہ بھی اسی طرح کے حملوں کی دھمکیاں دیتی ہے۔ وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی اگر عوام کی جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکتے یا پھر وزیر داخلہ کے پاس اختیارات نہیں ہے تو اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی کالعدم تنظیموں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کریں۔

علمائے کرام نے کہا کہ ہمارے علماءو جوان مسلسل پنجاب سے اغواءہو رہے ہیں، ایک طرف تو ملک بھر میں محب وطن شیعہ مسلمانوں کو بدترین دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو دوسری جانب محب وطن شیعہ علمائے کرام اور جوانوں کے اغوا کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے، گزشتہ چند دنوں میں پنجاب سے ہمارے کئی بے گناہ علماءکرام اغوا ہو چکے ہیں، مسلم لیگ (ن) کی متعصب پنجاب حکومت سی ٹی ڈی کے ذریعے محب وطن ملت تشیع کیخلاف بدترین انتقامی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے، اس سے پہلے کے ملت تشیع کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو حکمران ہوش کے ناخن لیں، ورنہ ملت تشیع پنجاب حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوگی جو حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی، لہٰذا اعلیٰ عدلیہ اور ریاستی ادارے شیعہ دشمن پنجاب حکومت کی متعصبانہ انتقامی کارروائیوں کا نوٹس لیں اور دہشتگردوں کیخلاف بننے والی فورس سی ٹی ڈی کو اپنے شیطانی عزائم کیلئے استعمال کرنے کے پنجاب حکومت کے عمل کو روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں مختلف سانحات میں گرفتار کالعدم تنظیموں کے دہشتگردوں کو رہا کیا جا رہا ہے، سانحہ جیکب آباد و سیہون شریف میں ملوث دہشتگردوں کی رہائی باعث تشویش و اضطراب ہے، ایک طرف تو سندھ میں دہشتگردوں کو رہا کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب سندھ بھر میں دہشتگردوں کے ہمدرد اور سہولت کار پیدا کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پورے ملک کے امن کے لیے خطرہ ہیں، سندھ بھر سے دہشتگردی کے جن مراکز کی نشاندہی کی تھی ان کیخلاف بھرپور ایکشن لیا جائے، چیف جسٹس، آرمی چیف اور بلاول بھٹو سانحہ سہون و جیکب آباد کے دہشتگردوں کی رہائی کا فوری نوٹس لیں۔

وحدت نیوز(ملتان) سانحہ پارہ چنار کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام آج ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔آئمہ مساجد نے جمعہ کے خطبات میں سانحہ پارہ چنار پر حکومتی بے حسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارا چنار کے معاملے پروزیر اعظم کی خاموشی تکفیری قوتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہے۔ریاست کے شہریوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔جو حکومت عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی اس کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔اگر پارا چنار کے لوگوں کے مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جاتا تو آج اس علاقے کو دہشت گردی کا المناک واقعات کاسامنا نہ کرنا پڑتا ۔پارہ چنار کے عوام سے حب الوطنی کی بھار ی قیمت وصول کی جا رہی ہے۔نماز جمعہ کے بعد اسلام آباد، لاہور،کراچی،کوئٹہ،ملتان اور پشاور سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں جن میں سینکڑوں کی تعداد دمیں لوگوں نے شرکت کی۔شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر پارا چنار کی عوام کی حمایت اور حکومت کے خلاف نعرے درج تھے،جنوبی پنجاب کے اضلاع ملتان،مظفرگڑھ،ڈیرہ غازیخان،لیہ،چوک اعظم،رحیم یار خان ،علی پور اور اوچشریف میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں، ملتان میں مرکزی ریلی نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد الحسین سے نکالی گئی ،ریلی کی قیادت صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی، علامہ قاضی نادر حسین علوی،صوبائی رہنما محمد عباس صدیقی،مہر سخاوت سیال اور ضلعی سیکرٹری جنرل سید ندیم عباس کاظمی نے کی۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اقتدار نقوی نے کہا نواز شریف نے پارا چنار کو نظر انداز کر کے وزارت عظمی کے عہدے سے غداری کی ہے۔وزیر اعظم کا تعلق کسی مخصوص فکر یا طبقے سے نہیں ہوتا بلکہ پورے ملک کی عوام سے ہوتا ہے۔پارا چنار کے لوگوں کی تضحیک ناقابل برداشت ہے پارا چنار کے لوگ مظلوم ہیں مگر حق کے لیے آواز بلند کرنا جانتے ہیں۔ ان مظلومین کی آواز کو طاقت یا اختیارات کے ناجائز استعمال سے دبایا نہیں جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اور پارا چنار کے عوام اپنے آئینی حق کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ہم پورے عزم کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ان کے مطالبات کی منظور ی بغیر ہم اپنے اصولی موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارا چنار جا کر یہ ثابت کیا ہے انہیں عوامی مسائل کا بخوبی درک ہے ۔دہشت گردی کے خلاف ان کی بلاتفریق کوششیں لائق ستائش ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے پاراچنار کے شہریوں کے مطالبات ماننے پر اُن کے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ملتان کے علاوہ مظفرگڑھ میں نماز جمعہ کے بعد کچہری چوک سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ڈیرہ غازیخان میں نماز جمعہ کے بعد ٹریفک چوک پر احتجاجی دھرنا دیا گیا، رحیم یار خان میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا گیا، لیہ اور چوک اعظم میں پریس کلب اور یادگار چوک پر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔

Page 1 of 11

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree