وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین کراچی کے سیکرٹری جنرل میثم عابدی نے کہا ہے کہ بارہا متوجہ کرنے کے باوجود کراچی بھر میں جلوس عزا کی گزرگاہوں اور امام بارگاہوں و مساجد کے اطراف کچرے، گندگی کے ڈھیر، سیوریج کے پانی کی موجودگی، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، گڑھوں کی بھرمار جیسے مسائل تاحال حل نہیں کئے جا سکے، محرم الحرام کے دوران ضلع ملیر میں کالا بورڈ، ملیر پندرہ، جعفر طیار سوسائٹی، غازی ٹاون، عمار یاسر سوسائٹی سمیت کراچی کی متعدد شاہرائیں ٹوٹی ہوئی اور گندگی و غلاظت سے بھری پڑی ہیں، سندھ بلدیات و شہری حکومتوں نے محرم سے پہلے یقین دہانی کرائی تھی کہ محرم الحرام سے قبل مجالس و جلوس عزاء کی گزرگاہوں بشمول شہر کی اہم شاہراوں سڑکوں کی ازسر نو تعمیرات و پیوند کاری سمیت صفائی ستھرائی اور لائٹنگ کے تمام مسائل حل کر دیئے جائیں گے، لیکن سندھ و شہری حکومت کے یہ دعوے محض طفل تسلی ثابت ہوئے۔ ان خیالات اظہار ایم ڈبلیو ایم کراچی کے سیکریٹری جنرل میثم عابدی سمیت عزاداری سیل میں شامل مولانا غلام محمد فاضلی، حسن عباس رضوی، احسن رضوی، عارف رضا سمیت دیگر رہنماوں نے نیشنل ہائی وے ملیر پندرہ پر جاری احتجاجی مظاہرے و علامتی دھرنے سے خطاب میں کیا۔ احتجاجی مظاہرے و علامتی دھرنے میں مظاہرین نے بینرز و پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے، جس پر سندھ و شہری حکومت کے خلاف نعرے درج تھے، جبکہ مظاہریں نے سندھ حکومت و شہری حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔ رہنماوں نے کہا کہ بلدیہ اور کے ایم سی کی اس عدم توجہی کے باعث یکم محرم الحرام سے مختلف علاقوں سے نکلنے والے جلوسوں میں شریک مومنین، مستورات، بزرگوں اور بچوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ٹوٹی سڑکیں، گندگی کے ڈھیر او ر سوریج سے ابلتی ہوئی گندگی سندھ و شہری حکومت کی ”اعلی کارکردگی“ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کی دانستہ غفلت نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے، متعدد بار اس حساس معاملے کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے لیکن متعلقہ حکام زبانی جمع خرچ سے کام چلا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے وزیراعلی و گورنر اور میئر نے عوامی مسائل سے خود کو بری الذمہ سمجھ رکھا ہے، حکومت کا یہ طرز عمل عوام سے انہیں دور کر دے گا۔ ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ کمشنر کراچی انتظامی حوالے سے نااہل ہیں، انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے برطرف کیا جائے، فرائض سے پیشہ وارانہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے اور کراچی کی تمام شاہراوں اورمحلوں کی ہنگامی بنیادوں پر صفائی کے احکامات جاری کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں، ان کے خلاف فوری آپریشن کیا جائے، صوبائی حکومت عزاداری و عزاداروں کیخلاف پرمٹ، لاوڈ اسپیکر ایکٹ کے نام پر عزاداروں کو تنگ کرنا بند کرے، محب وطن شیعہ علمائے کرام کو مجالس پڑھنے کی بیجا پابندیوں کو فوری ختم کیا جائے۔ دریں اثنا ایم ڈبلیو ایم کے احتجاجی مظاہرین سے ایم ڈی واٹر اینڈ سوریج بورڈ ہاشم رضا اور ڈی ایم سی چیئرمین نیئر رضا نے مذاکرات کئے اور انہیں یقین دھانی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے ضلع ملیر کے ترقیاتی کاموں کو بہتر بنانے اور مسائل کے حل کیلئے 23 کروڑ روپے کے فنڈ سے انشاءاللہ یہ مسائل رواں ماہ میں جلد از جلد مکمل کر لئے جائیں گے اور 5 محرم الحرام کے جلوس سے قبل گندے پانی اور خستہ حال سڑکوں کی پیوند کاری کو بھی مکمل کر لیا جائے گا، حکومتی یقین دہانی اور مذاکرات کے بعد ایم ڈبلیو ایم کے پر امن احتجاجی مظاہرے و علامتی دھرنے کو ختم کر دیا گیا اور ٹریفک کی روانی کو بحال کر دیا گیا۔

وحدت نیوز(ڈی آئی خان) ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ہفتہ کے دوران تین شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف دھرنا جاری ہے۔گزشتہ روزشہید ہونے والے مظہر شیرازی کی لاش کے ہمراہ ورثا اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد دھرنے میں شریک ہے۔مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی رہنما علامہ اقتدار نقوی بھی اپنے کارکنوں کے ہمراہ دھرنے میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ڈیر اسماعیل خان کو ملت تشیع کی مقتل گاہ بنا دیا گیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو آئے روز شہید کیا جا رہا ہے اور قاتل حکومتی گرفت سے آزادی دندناتے پھرتے ہیں۔ گزشتہ روز شہید ہونے والے مظہر شیرازی کے بھتیجے ایڈووکیٹ شاہد شیرازی کو ایک سال قبل شہید کر دیا گیا۔خیبر پختونخواہ کی حکومت ملت تشیع کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔آج لوگ جشن آزادی منا رہا ہیں اور ہم اپنے شہدا کی لاشیں رکھ کر انصاف کے حصو ل کے لیے تڑپ رہے ہیں۔خیبر پخونخواہ کے وزیر اعلی ایک نا اہل شخص ہیں ۔وہ عوام کو جان و مال کا تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔خیبر پختونخواہ حکومت کی طرف سے ملت تشیع کو اگر یونہی نظر انداز کیا جاتا رہا توپھر ہماری جانب سے کسی بھی تعاون کی امید دل سے نکال دیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات کی منظوری تک دھرنا ختم نہیں ہو گا۔

*مٹی کا قرض اور ھمارا فرض*

وحدت نیوز(آرٹیکل) ہاں ہم جذباتی قوم ہیں ہاں ہم جذباتی ہیں حرمت رسول ص کے بارے میں ہاں ہم جذباتی ہیں  عزادری سید الشہداء سے متعلق ہاں ہم جذباتی ہیں اپنے ارض پاک کے بارے میں ہاں ہم جذباتی ہیں اپنی پاک فوج کے بارے میں. ہاں ہم ہیں جذباتی کیوں کہ ہمیں اپنی مٹی سے پیار ہے ہمیں پاکستان سے عشق ہے اور اس وطن کے غیور بہادر سپوتوں اس وطن کے محافظوں سے جنون کی حد تک محبت ہے،ہاں ہم جذباتی قوم ہیں کیونکہ ہم اپنے وطن کیخلاف اور اپنے قومی  سلامتی کے ضامن اداروں کیخلاف کسی کی بکواس سننے کو قطعی طور پرتیار نہیں. ہاں ہم ہیں جذباتی کیوں کہ ہمیں اپنے نیشنل انٹرسٹ سے بڑھ کر اور کچھ عزیز نہیں،ہاں ہم جذباتی قوم ہیں مگر پاراچنار میں دہشتگردی کے واقعہ کے بعد ساوتھ افریقہ لندن بھارت اور ملک کے اندر موجود چند ضمیر فروشوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم اور انکے مذموم مقاصد سے بخوبی آگاہ ہیں،ہاں ہم جذباتی قوم ہیں مگر فورتھ جنریشن وار فیئر سے بخوبی آگاہ ہیں۔

ہاں ہم جانتے ہیں کہ امریکی اسرائیلی اور بھارتی خفیہ مشترکہ اتحاد پاکستان کے خلاف ایک ایسی جنگی حکمت عملی ترتیب دے چکا ہےجس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ھے اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف  محاذ بنانا ھے ۔ درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن ہے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ھے اور اب تک ھمارے  20 ہزار سے زائد فوجی جوان اس مٹی کا قرض چکانے اور پاکستان کی سالمیت کے لیئے ہمیں پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں جو پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔

اس جنگ کے لئے امریکہ اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ھے اور اسرائیل کی تیکنیکی مدد حاصل ھے۔ حال میں پاراچنار سمیت ملک کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کی وارداتیں کروائی گئیں جبکہ ماضی میں کرم ایجنسی اور ہنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کے لئے مجبوراً پاک فوج کو پہلی بار انکے خلاف ان وادیوں میں داخل ہونا پڑا ۔ پاک فوج نے عملی طور پر انکو پیچھے دھکیل دیا لیکن نظریاتی طور پر ابھی بھی انکو  بہت سے جاہلوں اور احمق نام نہاد فساد فی الارض کے متمنی مذہبی جنونی افرادکی حمایت حاصل ہے۔

فورتھ جنریشن وار (Fourth-generation warfare) ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جسکے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ہے، مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ہے ، صوبائیت کو ہوا دی جاتی ہے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے ۔ اسکے ذریعے کسی ملک کا میڈیا خریدا جاتا ہے اور اسکے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔

فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا کا حشر کر دیا اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان  پر آزمایا جا رھا ھے اور یہ ہماری خوش قسمتی ہیکہ اس میں انہیں ابھی تک وہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی جسکا وہ خواب دیکھ رہے تھے،پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں، باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے، آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لئے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائینگی جبکہ انڈیا کا پاکستانی میڈیا پر اثرورسوخ دیکھا جا سکتا ہے ، پاکستان کی ساری قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ہے۔

یہ واحد جنگ ھوتی ھے جسکا جواب فوج نے نہیں قوم نے دینا ہوتا ہے،فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ہوتی ہے اور اسکا جواب سول حکومتیں میڈیا اور محب وطن عوام دیتی ہے ۔ پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں سول حکومتوں سے کوئی امید نہیں اسلئے عوام میں سے ھر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ہوگا،اس حملے کا سادہ جواب یہی ہے کہ عوام ہر اس چیز کو رد کر دیں جو پاکستان ، نظریہ پاکستان اور دفاع پاکستان یا قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہو،اگر اس مٹی کا قرض اور اپنا فرض ادا کرنا ہے تو ہم سب محب وطن عوام پاکستان پر یہ واجب ہیکہ ہم من حیث القوم متحد ہوں پاکستان اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اس مسلط کردہ جنگ سے نجات کے لیئے اپنا اپنا کردار ادا کریں.اور تفرقہ پیدا کرنے والوں کو شٹ اپ کال دیں۔

 پاکستان پائندہ باد

تحریر۔۔۔سید علی حسین نقوی
(سیکریٹری امور سیاسیات ایم ڈبلیوایم صوبہ سندھ)

وحدت نیوز(مظفرآباد) مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کی ریاستی کابینہ کا انتہائی اہم اجلاس وحدت ہائوس مظفرآباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت ڈپٹی سیکرٹری سید طالب حسین ہمدانی نے کی۔اجلاس میںپاکستان و ریاست آزاد جموں و کشمیر میں ہوینوالے اہم واقعات پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید طالب حسین ہمدانی نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ایک با ر اپنی بے حسی اور بے غیرتی کی تمام حدیں پار کر دیں ہیں،سانحہ پاراچنار ،کوئٹہ اور ملک میں دیگر دہشت گردی کے واقعات پر مجرمانہ خاموشی حکومت پاکستان کا وطیرہ بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے ایک بار پھر عوام کے دل جیت لیے ہیں اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ملک کے اندر کوئی طاقت موجود ہے تو وہ صرف پاک افواج ہیں اور سیاسی جماعتیں پانامہ پانامہ کھیلنے میں مصروف ہیں۔وزیراعظم پاکستان کا پارا چنار کا دورہ کرنا تو درکنار وہاں کی مظلوم عوام سے ہمدردی کرنے کے لیے ایک لفظ بھی ادا نہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ نواز شریف کی کرپشن کا دیدہ دلیری سے دفاع کرنیوالے وفاقی وزراء بھی پاراچنار کے سانحہ پر خاموش رہے۔ وفاقی حکومت کا دہشت گردی کے واقعات کے خلاف منہ نہ کھولنا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ یہ خود ان واقعات میں ملوث ہے یا پھر دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوںنے کہا کہ آل شریف یاد رکھیں حکومت کفر سے تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں،پاکستان کو شیعہ سنی نے مل کر بنایا تھا انشااللہ ہم مل کر بچائیں گے،آرمی چیف نے پاراچنار میں مظلومین کے زخموں پر مرہم رکھ کر ثابت کیا کہ پاکستان اور پاکستانیوں کا اصل وارث کون ہے،انہوں نے کہا ہمیں محب وطن اور دہشتگردوں کے ہمدروں کے درمیان لکیر کھینچنا ہوگی،پاکستان کے مظلوم عوام لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکی ہے۔اجلاس میں بات کرتے ہوئے عابد قریشی نے کہا کہ آزاد حکومت کا حال بھی حکومت پاکستان جیسا ہے۔ خطہ میں وحدت کے لیے کوشاں شخصیت علامہ تصور جوادی اور ان کی اہلیہ پر دن دیہاڑے حملہ کر کے فرار ہونیوالے شر پسند عناصر کا قانون کی گرفت میں نہ آنا ریاستی حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ہم نے صبرو تحمل سے انتظامیہ کے ساتھ تعا ون کیا لیکن انہوں نے سخت مایوس کیا۔لہذا اب ہم بھی پاراچنار کے غیور عوام کی طرح سڑکوں پر نکلیں گے اور اپنے ساتھ ہونیوالی نا انصافی پر صدائے احتجاج بلند کریں گے۔  انہوں نے کہا کہ اب ہمارا احتجاج صرف مظفرآباد کی حد تک محدود نہ ہو گا بلکہ اس کو پاکستان تک پھیلایا  جائے گا۔

وحدت نیوز (قم) جمعہ الوداع کے دن پارا چنار میں قیامت صغریٰ بپا ہوئی اور سیکڑوں خاندان ایک لمحے میں اجڑ گئے،عصر حاضر کے خوارج نے یکے بعد دیگرے دو دھماکوں سے بیگناہ انسانیت کا قتل عام کیا،لیکن پاراچنار کے غیرتمند جوانوں اور تمام شہریوں نے مسلسل ایک ہفتہ دھرنا دیکر بزدل دہشتگردوں اور انکے سہولتکاروں کو پوری دنیا میں رسوا کیااور خون کو تلوار پر فتح نصیب ہوئی،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری امور خارجہ علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے وارثان شہدائے پاراچنار کے دھرنے کے کامیاب اختتام پر اپنے تہنیتی پیغام میں کیا ۔

انہوں نے مذید کہا کہ اس پوری جدوجہد میں عنایت الٰہی شامل تھی، پاکستانی حکمرانوں، سیاستدانوں، اور قومی ومذہبی لیڈروں اور میڈیا کی زبان گنگ تھیکہ ہمیشہ کی طرح دشمن کے سامنے ہراول دستے کی قیادت کرنے والا ناصر ملت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اپنی ٹیم اور کارکنان کے ساتھ میدان میں اترا اور سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانے کے لئے اسلام آباد میں پاراچنار کے بہادر اور غیور لوگوں کی بھرپور حمایت کے لئے خیمہ احتجاج نصب کیاتاکہ زمانے کا یزید ان مظلوموں کے بہنے والے اس بیگناہ خون کو ان بلند وبالا پہاڑوں کے درمیان وادی کرم میں دبا نہ دے اور انکی حوصلہ افزائی اور غمزدہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کے لئے تمام تر خطرات کے باوجود بائی روڈ اپنے باوفا ساتھیوں کے ساتھ پارا چنار پہنچ گئے، ملک کا وزیراعظم اور اسکی حکومت کے تمام زمہ داران مجرمانہ خاموشی سے زخموں پر نمک چھڑک رہے تھے. ہمدرد لیڈر بھی متذبذب نظر آتے تھےکہ ملک کے سیکڑوں شہروں میں اور بیرون ملک احتجاج اور مظلوموں کی حمایت کرنے والے سوشل میڈیا کے مجاہدوں نے خاموشی کا طلسم توڑ دیااور پوری قوم سراپا احتجاج بن گئی اور مظلوموں کا خون رنگ لایا،ہم خداوند تبارک وتعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے کہ جس نے یہ نصرت فتح عطا کی ،اس کامیابی میں ایک اہم بنیادی کردار ہمارے مخلص وبہادر لیڈر، مرد میدان، عالم باعمل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا ہے،اللہ تعالیٰ ان کا سایہ اس مظلوم ملت پر مستدام فرمائے۔

علامہ شفقت شیرازی کا کہنا تھا کہ  دنیا بھر کے مختلف ممالک اور شہروں میں جہاں بھی ہم وطنان عزیز اور مومنین وعلماء کرام نے پاکستان کے ہائی کمیشنز اور سفارت خانوں کے سامنے مظاہرے کئے اور اپنی بیداری اور انسانی ہمدردی کے جذبے کا ثبوت دیتے ہوئے پارا چنار کے شہداء کے ساتھ ایفاء عہد کیا یا انکے لئے مجالس ترحیم وقرآن خوانی کا اہتمام کیااور انکے غمزدہ خانوادوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا یا کلمہ حق کی الیکٹرانک فورس کے رضا کار جنہوں نے سوشل میڈیا پرحق کی آواز دبانے والوں کی چیخیں نکال دیں اور میڈیا سے پابندیاں اٹھانے پر مجبور کیا ،  ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ان سب کے بیحد ممنون ومشکور ہیں ،  آپکی کوششوں اور ملک بھر میں ہونے والے علامتی دھرنوں اور مظاہروں کی بدولت وطن عزیز پاکستان کو بڑی  کامیابی ملی اور دشمنانِ ملت و وطن تکفیری  دہشتگرد ذلیل اور رسوا ہوئےاور ہمارا ایمان ہے کہ سب مسلمانان پاکستان و بالخصوص ملت تشیع اور باقی بھی تمام ادیان ومذاہب کے پاکستانی بھائی وحدت ملی سے ہر دشمن کو شرمناک شکست دے سکتے ہیں اور سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین ، سول سوسائٹی اور پاکستانی اسٹبلشمنٹ کا ہمیشہ اسی طرح کا ان صہیونی وآل سعود وآل ہنود کے ایجنٹوں کے خلاف مشترکہ اسٹینڈ پاکستان کے استقلال اور استحکام کی ضمانت ہے، اللہ تعالیٰ وطن عزیز پاکستان اور سب اہلیان پاکستان کو ہر دشمن بالخصوص ان تکفیریوں کے شر سے محفوظ رکھے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری تربیت علامہ اعجاز حسین بہشتی کا جامع مسجد کچورا میں نماز جمعہ کے خطبے میں سانحہ پاراچنار کے حوالے سے کہنا تھا کہ ہم آج جمعہ کی اس عظیم اجتماع سے خانوادہ شہداء پاراچنار اور جوانوں کے صبر و استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے آٹھ دنوں سے پر امن دھرنا دیا ہوا ہے اور حکومت وقت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خون اور دھمکیوں سے مکتب تشیع کو ہراساں نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہم چودہ سو سالوں سے ہمیشہ مقتل میں قیام پذیر ہیں۔ ہم نے ہر زمانے میں مظلومین کی حمایت اور ظالموں سے مقابلہ کیا ہے اور مظلوم کی فریاد پر لبیک کہنے کو ہم اپنا شرعی فریضہ سمجھتے ہیں۔

علامہ اعجاز حسین بہشتی کا مزید کہنا تھا کہ پاراچنار کے غیور اور محب وطن عوام  نے سو لاشوں کے ساتھ پر امن دھرنا دے کر مفادات کی دنیا میں مست حکمرانوں اور ملک کے سیکورٹی ذمہ داروں کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ بے حس حکمرانوں کو چائیے تھا کہ اسی دن اس سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرتے مگر افسوس کہ ان کو پانچ دن بعد خیال آیا کہ پاراچنار بھی پاکستان کا حصہ ہیں۔ میں سلام پیش کرتا ہوں پاراچنار کے عوام کو اور مکتب تشیع کے جوانوں کو جنہوں نے وزیر داخلہ کے متعصبانہ بیان کے باوجود آواز شہدا کو پاراچنار کی پہاڑوں سے نکال کر پوری دنیا تک پہنچا دیا اور حکومت کو مجبور کیا کہ وہ مظلومین کے جائز مطالبات کو تسلیم کریں۔

Page 1 of 3

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree