وحدت نیوز(آرٹیکل) ہاں ہم جذباتی قوم ہیں ہاں ہم جذباتی ہیں حرمت رسول ص کے بارے میں ہاں ہم جذباتی ہیں  عزادری سید الشہداء سے متعلق ہاں ہم جذباتی ہیں اپنے ارض پاک کے بارے میں ہاں ہم جذباتی ہیں اپنی پاک فوج کے بارے میں. ہاں ہم ہیں جذباتی کیوں کہ ہمیں اپنی مٹی سے پیار ہے ہمیں پاکستان سے عشق ہے اور اس وطن کے غیور بہادر سپوتوں اس وطن کے محافظوں سے جنون کی حد تک محبت ہے،ہاں ہم جذباتی قوم ہیں کیونکہ ہم اپنے وطن کیخلاف اور اپنے قومی  سلامتی کے ضامن اداروں کیخلاف کسی کی بکواس سننے کو قطعی طور پرتیار نہیں. ہاں ہم ہیں جذباتی کیوں کہ ہمیں اپنے نیشنل انٹرسٹ سے بڑھ کر اور کچھ عزیز نہیں،ہاں ہم جذباتی قوم ہیں مگر پاراچنار میں دہشتگردی کے واقعہ کے بعد ساوتھ افریقہ لندن بھارت اور ملک کے اندر موجود چند ضمیر فروشوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف چلائی جانے والی مہم اور انکے مذموم مقاصد سے بخوبی آگاہ ہیں،ہاں ہم جذباتی قوم ہیں مگر فورتھ جنریشن وار فیئر سے بخوبی آگاہ ہیں۔

ہاں ہم جانتے ہیں کہ امریکی اسرائیلی اور بھارتی خفیہ مشترکہ اتحاد پاکستان کے خلاف ایک ایسی جنگی حکمت عملی ترتیب دے چکا ہےجس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ھے اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف  محاذ بنانا ھے ۔ درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن ہے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ھے اور اب تک ھمارے  20 ہزار سے زائد فوجی جوان اس مٹی کا قرض چکانے اور پاکستان کی سالمیت کے لیئے ہمیں پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں جو پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔

اس جنگ کے لئے امریکہ اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ھے اور اسرائیل کی تیکنیکی مدد حاصل ھے۔ حال میں پاراچنار سمیت ملک کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کی وارداتیں کروائی گئیں جبکہ ماضی میں کرم ایجنسی اور ہنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کے لئے مجبوراً پاک فوج کو پہلی بار انکے خلاف ان وادیوں میں داخل ہونا پڑا ۔ پاک فوج نے عملی طور پر انکو پیچھے دھکیل دیا لیکن نظریاتی طور پر ابھی بھی انکو  بہت سے جاہلوں اور احمق نام نہاد فساد فی الارض کے متمنی مذہبی جنونی افرادکی حمایت حاصل ہے۔

فورتھ جنریشن وار (Fourth-generation warfare) ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جسکے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ہے، مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ہے ، صوبائیت کو ہوا دی جاتی ہے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے ۔ اسکے ذریعے کسی ملک کا میڈیا خریدا جاتا ہے اور اسکے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔

فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا کا حشر کر دیا اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان  پر آزمایا جا رھا ھے اور یہ ہماری خوش قسمتی ہیکہ اس میں انہیں ابھی تک وہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی جسکا وہ خواب دیکھ رہے تھے،پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں، باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے، آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لئے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائینگی جبکہ انڈیا کا پاکستانی میڈیا پر اثرورسوخ دیکھا جا سکتا ہے ، پاکستان کی ساری قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ہے۔

یہ واحد جنگ ھوتی ھے جسکا جواب فوج نے نہیں قوم نے دینا ہوتا ہے،فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ہوتی ہے اور اسکا جواب سول حکومتیں میڈیا اور محب وطن عوام دیتی ہے ۔ پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں سول حکومتوں سے کوئی امید نہیں اسلئے عوام میں سے ھر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ہوگا،اس حملے کا سادہ جواب یہی ہے کہ عوام ہر اس چیز کو رد کر دیں جو پاکستان ، نظریہ پاکستان اور دفاع پاکستان یا قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہو،اگر اس مٹی کا قرض اور اپنا فرض ادا کرنا ہے تو ہم سب محب وطن عوام پاکستان پر یہ واجب ہیکہ ہم من حیث القوم متحد ہوں پاکستان اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اس مسلط کردہ جنگ سے نجات کے لیئے اپنا اپنا کردار ادا کریں.اور تفرقہ پیدا کرنے والوں کو شٹ اپ کال دیں۔

 پاکستان پائندہ باد

تحریر۔۔۔سید علی حسین نقوی
(سیکریٹری امور سیاسیات ایم ڈبلیوایم صوبہ سندھ)

وحدت نیوز(مظفرآباد) مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کی ریاستی کابینہ کا انتہائی اہم اجلاس وحدت ہائوس مظفرآباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت ڈپٹی سیکرٹری سید طالب حسین ہمدانی نے کی۔اجلاس میںپاکستان و ریاست آزاد جموں و کشمیر میں ہوینوالے اہم واقعات پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید طالب حسین ہمدانی نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ایک با ر اپنی بے حسی اور بے غیرتی کی تمام حدیں پار کر دیں ہیں،سانحہ پاراچنار ،کوئٹہ اور ملک میں دیگر دہشت گردی کے واقعات پر مجرمانہ خاموشی حکومت پاکستان کا وطیرہ بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے ایک بار پھر عوام کے دل جیت لیے ہیں اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ملک کے اندر کوئی طاقت موجود ہے تو وہ صرف پاک افواج ہیں اور سیاسی جماعتیں پانامہ پانامہ کھیلنے میں مصروف ہیں۔وزیراعظم پاکستان کا پارا چنار کا دورہ کرنا تو درکنار وہاں کی مظلوم عوام سے ہمدردی کرنے کے لیے ایک لفظ بھی ادا نہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ نواز شریف کی کرپشن کا دیدہ دلیری سے دفاع کرنیوالے وفاقی وزراء بھی پاراچنار کے سانحہ پر خاموش رہے۔ وفاقی حکومت کا دہشت گردی کے واقعات کے خلاف منہ نہ کھولنا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ یہ خود ان واقعات میں ملوث ہے یا پھر دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوںنے کہا کہ آل شریف یاد رکھیں حکومت کفر سے تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں،پاکستان کو شیعہ سنی نے مل کر بنایا تھا انشااللہ ہم مل کر بچائیں گے،آرمی چیف نے پاراچنار میں مظلومین کے زخموں پر مرہم رکھ کر ثابت کیا کہ پاکستان اور پاکستانیوں کا اصل وارث کون ہے،انہوں نے کہا ہمیں محب وطن اور دہشتگردوں کے ہمدروں کے درمیان لکیر کھینچنا ہوگی،پاکستان کے مظلوم عوام لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکی ہے۔اجلاس میں بات کرتے ہوئے عابد قریشی نے کہا کہ آزاد حکومت کا حال بھی حکومت پاکستان جیسا ہے۔ خطہ میں وحدت کے لیے کوشاں شخصیت علامہ تصور جوادی اور ان کی اہلیہ پر دن دیہاڑے حملہ کر کے فرار ہونیوالے شر پسند عناصر کا قانون کی گرفت میں نہ آنا ریاستی حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ہم نے صبرو تحمل سے انتظامیہ کے ساتھ تعا ون کیا لیکن انہوں نے سخت مایوس کیا۔لہذا اب ہم بھی پاراچنار کے غیور عوام کی طرح سڑکوں پر نکلیں گے اور اپنے ساتھ ہونیوالی نا انصافی پر صدائے احتجاج بلند کریں گے۔  انہوں نے کہا کہ اب ہمارا احتجاج صرف مظفرآباد کی حد تک محدود نہ ہو گا بلکہ اس کو پاکستان تک پھیلایا  جائے گا۔

وحدت نیوز (قم) جمعہ الوداع کے دن پارا چنار میں قیامت صغریٰ بپا ہوئی اور سیکڑوں خاندان ایک لمحے میں اجڑ گئے،عصر حاضر کے خوارج نے یکے بعد دیگرے دو دھماکوں سے بیگناہ انسانیت کا قتل عام کیا،لیکن پاراچنار کے غیرتمند جوانوں اور تمام شہریوں نے مسلسل ایک ہفتہ دھرنا دیکر بزدل دہشتگردوں اور انکے سہولتکاروں کو پوری دنیا میں رسوا کیااور خون کو تلوار پر فتح نصیب ہوئی،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری امور خارجہ علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے وارثان شہدائے پاراچنار کے دھرنے کے کامیاب اختتام پر اپنے تہنیتی پیغام میں کیا ۔

انہوں نے مذید کہا کہ اس پوری جدوجہد میں عنایت الٰہی شامل تھی، پاکستانی حکمرانوں، سیاستدانوں، اور قومی ومذہبی لیڈروں اور میڈیا کی زبان گنگ تھیکہ ہمیشہ کی طرح دشمن کے سامنے ہراول دستے کی قیادت کرنے والا ناصر ملت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اپنی ٹیم اور کارکنان کے ساتھ میدان میں اترا اور سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانے کے لئے اسلام آباد میں پاراچنار کے بہادر اور غیور لوگوں کی بھرپور حمایت کے لئے خیمہ احتجاج نصب کیاتاکہ زمانے کا یزید ان مظلوموں کے بہنے والے اس بیگناہ خون کو ان بلند وبالا پہاڑوں کے درمیان وادی کرم میں دبا نہ دے اور انکی حوصلہ افزائی اور غمزدہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کے لئے تمام تر خطرات کے باوجود بائی روڈ اپنے باوفا ساتھیوں کے ساتھ پارا چنار پہنچ گئے، ملک کا وزیراعظم اور اسکی حکومت کے تمام زمہ داران مجرمانہ خاموشی سے زخموں پر نمک چھڑک رہے تھے. ہمدرد لیڈر بھی متذبذب نظر آتے تھےکہ ملک کے سیکڑوں شہروں میں اور بیرون ملک احتجاج اور مظلوموں کی حمایت کرنے والے سوشل میڈیا کے مجاہدوں نے خاموشی کا طلسم توڑ دیااور پوری قوم سراپا احتجاج بن گئی اور مظلوموں کا خون رنگ لایا،ہم خداوند تبارک وتعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے کہ جس نے یہ نصرت فتح عطا کی ،اس کامیابی میں ایک اہم بنیادی کردار ہمارے مخلص وبہادر لیڈر، مرد میدان، عالم باعمل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا ہے،اللہ تعالیٰ ان کا سایہ اس مظلوم ملت پر مستدام فرمائے۔

علامہ شفقت شیرازی کا کہنا تھا کہ  دنیا بھر کے مختلف ممالک اور شہروں میں جہاں بھی ہم وطنان عزیز اور مومنین وعلماء کرام نے پاکستان کے ہائی کمیشنز اور سفارت خانوں کے سامنے مظاہرے کئے اور اپنی بیداری اور انسانی ہمدردی کے جذبے کا ثبوت دیتے ہوئے پارا چنار کے شہداء کے ساتھ ایفاء عہد کیا یا انکے لئے مجالس ترحیم وقرآن خوانی کا اہتمام کیااور انکے غمزدہ خانوادوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا یا کلمہ حق کی الیکٹرانک فورس کے رضا کار جنہوں نے سوشل میڈیا پرحق کی آواز دبانے والوں کی چیخیں نکال دیں اور میڈیا سے پابندیاں اٹھانے پر مجبور کیا ،  ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ان سب کے بیحد ممنون ومشکور ہیں ،  آپکی کوششوں اور ملک بھر میں ہونے والے علامتی دھرنوں اور مظاہروں کی بدولت وطن عزیز پاکستان کو بڑی  کامیابی ملی اور دشمنانِ ملت و وطن تکفیری  دہشتگرد ذلیل اور رسوا ہوئےاور ہمارا ایمان ہے کہ سب مسلمانان پاکستان و بالخصوص ملت تشیع اور باقی بھی تمام ادیان ومذاہب کے پاکستانی بھائی وحدت ملی سے ہر دشمن کو شرمناک شکست دے سکتے ہیں اور سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین ، سول سوسائٹی اور پاکستانی اسٹبلشمنٹ کا ہمیشہ اسی طرح کا ان صہیونی وآل سعود وآل ہنود کے ایجنٹوں کے خلاف مشترکہ اسٹینڈ پاکستان کے استقلال اور استحکام کی ضمانت ہے، اللہ تعالیٰ وطن عزیز پاکستان اور سب اہلیان پاکستان کو ہر دشمن بالخصوص ان تکفیریوں کے شر سے محفوظ رکھے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری تربیت علامہ اعجاز حسین بہشتی کا جامع مسجد کچورا میں نماز جمعہ کے خطبے میں سانحہ پاراچنار کے حوالے سے کہنا تھا کہ ہم آج جمعہ کی اس عظیم اجتماع سے خانوادہ شہداء پاراچنار اور جوانوں کے صبر و استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے آٹھ دنوں سے پر امن دھرنا دیا ہوا ہے اور حکومت وقت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خون اور دھمکیوں سے مکتب تشیع کو ہراساں نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہم چودہ سو سالوں سے ہمیشہ مقتل میں قیام پذیر ہیں۔ ہم نے ہر زمانے میں مظلومین کی حمایت اور ظالموں سے مقابلہ کیا ہے اور مظلوم کی فریاد پر لبیک کہنے کو ہم اپنا شرعی فریضہ سمجھتے ہیں۔

علامہ اعجاز حسین بہشتی کا مزید کہنا تھا کہ پاراچنار کے غیور اور محب وطن عوام  نے سو لاشوں کے ساتھ پر امن دھرنا دے کر مفادات کی دنیا میں مست حکمرانوں اور ملک کے سیکورٹی ذمہ داروں کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ بے حس حکمرانوں کو چائیے تھا کہ اسی دن اس سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرتے مگر افسوس کہ ان کو پانچ دن بعد خیال آیا کہ پاراچنار بھی پاکستان کا حصہ ہیں۔ میں سلام پیش کرتا ہوں پاراچنار کے عوام کو اور مکتب تشیع کے جوانوں کو جنہوں نے وزیر داخلہ کے متعصبانہ بیان کے باوجود آواز شہدا کو پاراچنار کی پہاڑوں سے نکال کر پوری دنیا تک پہنچا دیا اور حکومت کو مجبور کیا کہ وہ مظلومین کے جائز مطالبات کو تسلیم کریں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے متاثرین پاراچنار کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ملک بھر میں جاری دھرنے اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ضیا الحق کی پالیسیوں نے ہم سے قائد اعظم کا پاکستان چھین لیا ہے۔ہمیں وہ پاکستان واپس چاہیے جس کے لیے قائد اعظم نے جدوجہد کی ۔اس ملک کو انتہا پسندوں کی جاگیر نہیں بننے دیا جائے گا۔دہشت گردی کا نشانہ بننے والے کسی مسلک کے شہید نہیں بلکہ پاکستانی شہدا ء ہیں۔یہ وطن کے بیٹے ہیں۔ملک دشمن عناصر وطن کے بیٹوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ہمارے ریاستی ادارے بالخصوص سیاسی حکومتیں ناکام ہو چکی ہیں۔پورے ملک میں احتجاج گزشتہ نو دنوں سے جاری ہے لیکن سیاسی حکومت نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور پارا چنار نہ گئی ۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حالات کی سنگینی کے پیش نظر خود پارا چنار کا دورہ کیا اور الحمد اللہ حفاظتی حوالے سے تمام امور طے ہو گئے ۔پاراچنار کے لوگ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ۔ان کو دیکھتے ہوئے ہم نے بھی ملک بھر میں دھرنے ختم کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں شیعہ سنی اتحاد مثالی ہے۔شیعہ سنی مکاتب فکر کے علما ء و مشائخ قومی سلامتی کے امور میں ہم خیال اور یکجا ہیں ۔وحدت و اخوت کے اس عملی مظاہرے سے دشمن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔پاکستان میں شیعہ سنی مسالک میں مذہبی منافرت پیدا کرنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔پاکستان کی سرزمین پر پیدا ہونے والا ہر فرد بلاتخصیص مذہب و مسلک ہمارا پاکستانی بھائی ہے۔پاکستان کی سرزمین پر امریکہ اور اسرائیل اپنے آلہ کاروں پر بھرپور سرمایہ کاری کر کے بھی نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔پاکستان کو مسلکی ریاست بنانے کی مذموم کوششیں شیعہ سنی اتحاد کی بدولت اپنی موت آپ مر رہی ہیں۔اب امریکہ اور ملک دشمن قوتیں پاکستان میں داعش کو منتقل کر کے ملک کو انتشار کا شکار بنانا چاہتی ہیں ۔ہم ملک دشمن عناصر کو کسی بھی ناپاک مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 41ممالک کے اتحاد کو سنی الائنس کا نام دیا جا رہا ہے حالانکہ متعدد سنی ممالک اس میں شامل نہیں ۔دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں بننے والا یہ اتحاد اسرائیل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔حکومت کو اس الائنس کا حصہ نہیں بننے دیا جائے۔جنرل راحیل کے جانے سے پاکستان کے قومی مفاد کو نقصان پہنچا ہے۔

سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے مجلس وحدت مسلمین کے پُرعزم اور ذمہ دارانہ کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے اتنے ظلم و ستم کے باوجود ہمیشہ پرتشدد اور انتشار کی سیاست کی حوصلہ شکنی کی ہے۔اس جماعت نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے آئینی راہ اختیار کی۔پاکستان کی دوسری بڑی اکثریت اہل تشیع ہیں ۔ جب کسی ملک کی اکثریت کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے تو معاملات بگڑتے ہیں۔

علامہ ناصر عباس نے میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا کی طرف سے دباؤ ہونے کے باوجود میڈیا نے پارا چنار کے حوالے سے شاندار صحافتی کردار ادا کیا ہے اس کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں پارا چنار کے حق میں مظاہرے کرنے والوں ،این جی اوز، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں تحسین کا مستحق قرار دیا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سانحہ پارہ چنار کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام آج ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔آئمہ مساجد نے جمعہ کے خطبات میں سانحہ پارہ چنار پر حکومتی بے حسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارا چنار کے معاملے پروزیر اعظم کی خاموشی تکفیری قوتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہے۔ریاست کے شہریوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔جو حکومت عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی اس کے پاس اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔اگر پارا چنار کے لوگوں کے مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جاتا تو آج اس علاقے کو دہشت گردی کا المناک واقعات کاسامنا نہ کرنا پڑتا ۔پارہ چنار کے عوام سے حب الوطنی کی بھار ی قیمت وصول کی جا رہی ہے۔

نماز جمعہ کے بعد اسلام آباد، لاہور،کراچی،کوئٹہ،ملتان، گلگت بلتستان  اور پشاور سمیت ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں جن میں سینکڑوں کی تعداد دمیں لوگوں نے شرکت کی۔شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر پارا چنار کی عوام کی حمایت اور حکومت کے خلاف نعرے درج تھے،اسلام آباد میں مرکزی ریلی امام بارگاہ اثنا عشری G-6/2 سے نکالی گئی جس کی قیادت مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماؤں نے کی۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ اصغر عسکری نے کہا نواز شریف نے پارا چنار کو نظر انداز کر کے وزارت عظمی کے عہدے سے غداری کی ہے۔وزیر اعظم کا تعلق کسی مخصوص فکر یا طبقے سے نہیں ہوتا بلکہ پورے ملک کی عوام سے ہوتا ہے۔پارا چنار کے لوگوں کی تضحیک ناقابل برداشت ہے پارا چنار کے لوگ مظلوم ہیں مگر حق کے لیے آواز بلند کرنا جانتے ہیں۔ ان مظلومین کی آواز کو طاقت یا اختیارات کے ناجائز استعمال سے دبایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اور پارا چنار کے عوام اپنے آئینی حق کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ہم پورے عزم کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ان کے مطالبات کی منظور ی بغیر ہم اپنے اصولی موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارا چنار جا کر یہ ثابت کیا ہے انہیں عوامی مسائل کا بخوبی درک ہے ۔دہشت گردی کے خلاف ان کی بلاتفریق کوششیں لائق ستائش ہیں۔

دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہرقائم دھرنا کیمپ پانچویں روز بھی جاری رہا  ، دھرنے میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینٹر تاج حیداور فرحت اللہ بابر، معروف مذہبی اسکالر علامہ شیخ شفا ءنجفی اور علامہ محمد حسین اکبر  بھی شریک تھے، جنہوں نے علامہ راجہ ناصرعباس جعفری سے ملاقات کی اور اپنے اپنے خیالات کا اظہاربھی کیا۔

Page 1 of 3

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree