وحدت نیوز (آرٹیکل) مجلس وحدت مسلمین پاکستا ن اور سنی اتحاد کونسل نے طالبان کے ساتھ مزاکرات کرنے اور ہزاروں پاکستانیوں کے قاتلوں کو قانونی شیلٹر دینے کی پر زور مزمت کی تھی اور وزیرستان سمیت تمام علاقے جو دہشتگردوں کے قبضے میں ہیں اور وہاں پر حکومت کی رٹ نہیں ہے انہیں آزاد کرانے کی بات کی تھی۔ اور ملک کے طول و عرض میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ مزاکرات کی آڑ میں دہشتگردوں کو بچانے اور ملک سے فرار کرنے اور محفوظ مقامات پر اسلحہ منتقل کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ دوسری طرف سعودی اور بحرینی وفود کی غیر متوقع پاکستان آمد اور ان کی مالی امداد کے ذریعے ملک کے اندر دہشتگردوں اور تکفیریوں کی تقویت یا بین الاقوامی تکفیری دہشت گردی میں وطن عزیز کی ساکھ کو بچانے پر بھی زور دیا گیا۔ نواز لیگ حکومت کی طرف سے ماڈل ٹاون کے نہتے اور معصوم پر امن شہریوں کے خلاف احتجاجی تحریک دھرنوں اور احتجاجی ریلیوں میں بھرپور شرکت کی گئی اور 70دن تک مسلسل پاکستانی عوام کو پاکستان میں قائم ظالمانہ سسٹم اور ماضی کے ڈکٹیٹر شپ جنرل ضیاء الحق کی باقیا ت کی حقیقی منحوس چہروں سے پردہ اٹھایا گیا اس تمام تر عوامی پریشر اور تاریخی دھرنوں کے بعض اثرات اب ملک پاکستان کی عوام کے سامنے آچکے ہیں ان میں سے چند ایک حسب ذیل ہیں۔

 

(1)۔ دہشت گردوں کی سرپرست نواز لیگ حکومت کا کمزور ہونا
اگرچہ سیاسی مگرمچھوں نے مل کر گرتی ہوئی نواز حکومت کو سہارا دیا ہے اور حکومت اس بھر پور عوامی پریشر اور دھرنو ں سے نہیں گری لیکن اب وہ اس عوامی رائے عامہ کے سامنے حکومت کرنے کا جواز کھو چکے ہیں اور اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ خود اعتراف کر رہے ہیں کہ ہم امن وا مان کا مسئلہ حل کر نے سے عاجز ہیں اور دہشتگردی کو روکنا ہمارے بس میں نہیں اور اب انہوں نے اپنی کمزاوری اور بے بسی کا اظہار بار ہا کر رہے ہیں اور پاکستان آرمی کو آنکھیں دکھانے والے خود فوج سے درخواست کر رہے ہیں کہ فوجی عدالتیں قائم کریں کیونکہ سول عدالتیں ناکام ہو چکی ہیں ۔ انہوں نے ماضی میں ہزاروں دہشتگردوں کو بری کیا ہے اور اب بھی کبھی دھمکیوں اور کبھی بھاری رشوت سے عوام کے قاتلوں کو رہا کر دیتی ہیں۔ عملی طور پر اب نواز لیگ کی حکومت کے پاس آدھے اختیارات رہ چکے ہیں اور آج وزیر اعظم اور وزیر اعلی وہی بیانات دے رہے ہیں جو چند ماہ قبل مجلس وحدت مسلمین کی قیادت دیا کرتی تھی اب خود کہتے ہیں کہ کوئی اچھا اور برا طالبان نہیں بلکہ سب کے خلاف بلا تفریق کاروائی ہو گی۔
(2)۔ طالبان مخالف مظبوط سیاسی اتحاد
ابتداء میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور اس کی اتحادی جماعتیں طالبان کی مخالف تھیں اور تکفیریوں کے خلاف میدان میں آکر وطن عزیز اور پاکستانی عوام ک قاتلوں کے خلاف آواز بلند کر رہی تھیں لیکن اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں طالبان اور تکفیریت کے خلاف متحد ہیں اور تکفیری تنہا ہو چکے ہیں اور ان کے سر پرست کبھی ان کے خلاف بننے والے قوانین پر دستخط کر رہے ہیں اور کبھی اپنی گردن بچانے کے لئے انہی قوانین کی مخالفت کر رہی ہیں ۔ آج مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیاں ایک پیج پر نظر آرہی ہیں کیونکہ ان دھرنوں اور احتجاجات کی بدولت سول سوسائٹی بھی سڑکوں پر نکل آئی ہے اور ان سیاسی پارٹیوں کی مجبوری ہے کہ اپنی سیاسی بقاء کے لئے وہی فیصلے کریں جو پاکستانی عوام چاہتی ہے ۔ اس عوامی پریشر نے تکفیریوں اور طالبان کے خلاف مضبوط سیاسی اتحاد بنایا ہے۔
(3)۔ اکیسویں ترمیم اور دہشت گرد تختہ دار پر
ایک طویل عرصہ سے تکفیری دہشت گردوں اور عوام کے قاتلوں کو سزائے موت سنائی جا چکی تھی لیکن متواتر سیاسی حکومتوں نے بیرونی پریشر اور ملی بھگت اور خوف سے انہیں معطل کر رکھا تھا ۔ اب جب پاکستان میں بیداری کی لہر اٹھی اور احتجاجی دھرنوں نے عوامی پریشر کو مضبوط کیا تو آج قاتلوں کو قرار واقعی سزائیں مل رہی ہیں اور مجرم تختہ دار پر لٹک رہے ہیں مقتولین کے وارثوں کی دعائیں بلند ہور ہی ہیں اور ان کی بے چینی اور بے قراری کم ہورہی ہے۔ اب بھی ان دہشت گردون کے سرپرست ان بزدلوں کو بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن مظلوم اب سڑکوں پر آچکے ہیں وہ اپنا حق لے کے رہیں گے۔ اکیسویں ترمیم کا بل منظور ہونا مظلوموں اور ان کے وارثوں کی بہت بڑی کامیابی ہے اور اس ترمیم کی شقیں مندرجہ ذیل ہیں۔

 

سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق مندرجہ ذیل جرائم میں ملوث افراد کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا دی جا سکے گی۔
پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والے
فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے والے
اغواہ برائے تاوان کے مجرم
غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے والے
مذہب اور فرقے کے نام پر ہتھیار اٹھانے والے
کسی دہشت گرد تنظیم کے اراکین
سول اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے
دھماکہ خیز مواد رکھنے یا کہیں لانے یا لے جانے میں ملوث افراد
دہشت اور عدم تحفظ کا ماحول پیداکرنے والے افراد
بیرون ملک سے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے
آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ حکومت کی پیشگی منظوری کے بعد چلایا جائے گا اور فوجی عدالت کو مقدمے کی منتقلی کے بعد مزید شہادتوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت زیر سماعت مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں بھیج سکے گی۔ ایسے بھی کچھ دہشت گرد گروہ ہیں جو مذہب یا فرقے کا نام استعمال کر کے دہشت گردی کر رہے ہیں اور ان کے لوگ جب مسلح افواج یا دیگر سکیورٹی اداروں کے ساتھ لڑائی میں پکڑا جائے گا تو ان پر بھی خصوصی عدالتوں میں کیس چلایا جائے گا۔ ۔
(4) عملی وحدت ملی و اسلامی کا قیام
عموما وحدت ملی و اسلامی کے قیام کے لئے خواص طبقہ کے افراد مختلف ہوٹلوں اور کنونشن سنٹرز میں اکٹھا ہوتے تھے اور روائتی اتحاد و وحدت پر گفتگو ہوتی تھی لیکن انقلاب مارچ اور آزادی مارچ سے ایک بے نظیر عملی اور لیڈر شپ سے نچلی سطح تک ایک عملی وحدت ملی و اسلامی سر زمین پاکستان پر دیکھنے میں نظر آئی اور مختلف ادیان و مذاہب رکھنے اور مختلف قبائل و اقوام کے ہم وطن پارلیمنٹ کے سامنے متحد ہو کر ایک ہی مطالبہ کر رہے تھے کہ (گو نواز گو) یعنی وہ اب اس سیاسی نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں جس میں مخصوص لوگ باری باری حکومت میں آتے ہیں اور پاکستان کی ترقی کی بجائے نئے بحران کھڑے کر تے ہیں اور انہوں نے ملک کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ۔ پاکستان کی بدترین معاشی ، سیاسی ، امنیتی بحرانوں میں نالائق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کھڑا ہے اب اس کرپٹ سیاسی نظام کو جانا چاہیے۔ گو اس بھر پور عوامی جدوجہد اور دھرنوں سے نواز حکومت گری نہیں لیکن اس عوامی پریشر سے اس حکومت کی چولیں ہل گئی ہیں اور دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور اس کی طاقت ختم ہو چکی ہے اور اب یہ حکومت اپنی موت خود ہی مر جا ئے گی۔
(5)۔ بے مثال جشن عید میلاد النبی (ص) اور وحدت اسلامی کا روح پرور نظارہ
دشمن نے 35سال سے پاکستان کے اندر شیعہ سنی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے مختلف سازشیں کیں لیکن فرزندان رسالت نے عید میلاد کے موقع پر جس عملی وحدت کا ثبوت دیا وہ قابل دید ہے۔ پورے ملک کے اندر شیعہ سنی اجتماعات اور میلاد ریلیاں اس بات کا مظہر ہیں ۔ جس طرح سے لیڈر شپ نے پورے پاکستان میں اکھٹے ہو کر دشمن کے منہ پر وحدت اسلامی کا طمانچہ مارا ہے ویسے ہی عوامی حلقوں نے بھی عملی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ اور اس وحدت سے دشمن پاکستان و دشمن شیعہ و سنی کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے ہیں۔
(6) نئی ابھرتی ہوئی سیاسی پارٹیوں کی عوامی پزیرائی میں اضافہ

 

انقلاب مارچ اور دھرنوں سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان، پاکستان عوامی تحریک اور پی ٹی آئی کی شہرت اور عوامی حمایت میں بہت اضافہ ہوا ہے اور یہ ابھرتی ہوئی سیاسی پارٹیاں پاکستان کو مختلف بحرانوں سے نکالنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں ۔ اور نئے سیاسی توازن کو ایجاد کرنے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں ملت کی امیدیں ان سے وابستہ ہو چکی ہیں اور یہ سب کچھ بھر پور عوامی جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں تھا انہوں نے مل کر شاہراہ دستور پر حکومتی تشدد ،شیلنگ اور فائرنگ کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور یہ سیاسی پارٹیاں مل کر ملک بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور وہ وقت دور نہیں کہ جب یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

 


تحریر: علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

وحدت نیوز (آرٹیکل) پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ اپنے آپ کو مہذب اور تعلیم یا فتہ کہلانے والے اہل یورپ کس قدر درندہ صفت اور غیر مہذب لوگ ہیں جن میں نہ انسانیت ہے اور نہ ہی اپنی زبان اور وعدوں کا پاس و لحاظ، جب چاہیں وعدہ خلافی کریں اور جب چاہیں معاہدوں سے پھر جائیں جس کی مثال جنگ عظیم کے دوران ترکی ، جاپان ، روس او راپنے ہی اتحادی ودیگرممالک سے کئے گئے معاہدوں سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے اور یہی روش آج تک باقی ہے اور کمال مکر و فریب اور پروپیگنڈا سے اپنے آپ کو مہذب ،زبان کا سچا اور انسانیت کے حقوق کا علمبردار مشہور کردیا ہے اپنی وحشت اور بربریت کی خاطر بیسویں صدی کے دوران کئی کروڑ لوگوں کو بے دردی سے قتل کرچکے ہیں اور لاکھوں بچے اورخواتین ان کے بہیمانہ ظلم اور جبر کا شکار ہوئے ہیں جس میں ہیروشیما ناگاساکی جیسی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں جو دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی دہشتگردی کہی جائے تو بجا ہوگااس کے علاوہ اہل یورپ کی ایک روش یہ بھی رہی ہے کہ وہ صرف جنگ میں جسم ہی نہیں زخمی کرتے بلکہ نیچ اور پست لوگوں کی طرح لڑتے ہوئے روح پر بھی اپنے گھٹیا پن کی وجہ سے حملہ آور ہوتے ہیں جو برطانوی ،نازی، جرمن،امریکی ، فرانسیسی فوجوں کی لڑائی میں مخالف فوج اور سولیین کے ساتھ رویوں میں دیکھی جاسکتی ہیں جس کا بیان طول کا سبب ہوگا ۔ ان کے پاس مشہور ضرب لامثل ہے \"کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے\"
is fair in love and war Everything۔ اسی جملہ سے یورپین کی سوچ کا پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ نہ تو جنگ میں فیئر ہیں نہ پیار میں سچے ہیں یہ لوگ ماں باپ سے بھی اس وقت تک پیار کرتے ہیں جب تک ان سے مطلب ہوتا ہے ورنہ انہیں بھی اولڈہاؤس روانہ کردیتے ہیں۔

 

یورپ کے عام عوام پر پہلے جنگیں مسلط کیں اور یورپ میں اندرونی لڑائیاں جاری رکھیں جو تقریبا 500پانچ سو سال تک رہیں جس کا دورانیہ1000 عیسوی سے 1499 عیسوی تک ہے ا ن جنگوں کے حالات کا مشاہدہ کرکے ان کی نفسیات کو سمجھا جا سکتا ہے جس کے بعد انہوں نے عیسائی مذہب کے خلاف تحریک چلائی اور پھر یورپین کے اخلاق بگاڑ دیئے یوں یورپین کا مذہب و اخلاق بگاڑ کر ان کو ننگی تہذیب دے کر ان کی پوری آبادی کو اپنا نظریاتی غلام اور بے وقوف صارف بنا چکے ہیں یعنی ٰ ترقی کے نام پر پورے یورپ سے ان کی اپنی پسند اور نا پسند کا حق تک چھین لیا اور مارکیٹنگ اور ایڈورٹائیزنگ کے ذریعے ان کے پسند اور نا پسند کا تعین و معیارمعین کردیادنیا کے باقی ماندہ علائقوں پر ان کی ایسی ہی ورکنگ جاری ہے۔ یوں سرمایہ داروں اور حکمرانوں نے اہل یورپ سے ان کا مذہب چھیں لیا اور آزادی اور ترقی کے نام پر عریاں تہذیب دے دی اور اسی بہانے ان پر معاشرتی خرافات مسلط کی اور پورے یورپ کی آبادی کواپنا غلام اور بیوقوف صارف بنادیا حتیٰ کہ حکومتیں بھی شہریوں کو سٹیزن کے بجائے کسٹمر ز کے طور پر ٹریٹ کرنے لگیں ہیں۔

 

اسی گھٹیا اور نیچ پن کا یورپ کے ادارے مختلف اوقات میں عملی اظہار کرتے رہے ہیں جس میں گذشتہ یورپ کے دیگر ممالک میں اور حالیہ فرانس میں کی جانے والی توہیں رسالت ؐ کی مثال ثبوت ہے دیکھا جائے تو دہشتگرد بھی ان ہی کے ہیں اور ان کو اسلحہ دینے کا اعلان بھی امریکہ نے کیا ہے اور میگزین چھاپنے والا ادارہ فرانس کاہے او ر جھوٹ اور خرافات کو اظہار کی آزادی کا بہانہ بھی ان ہی نے بنایاہے۔ ورنہ ھولوکاسٹ پر بات کرنے ،تحقیق کرنے،نظر ثانی کرنے یا اظہار رائے پر یورپ کے 13 ممالک مین آج بھی پابندی ہے اورقانوناً قابل سزا جرم ہے ان تیرہ ممالک میں فرانس بھی شامل ہے پہلے فرانس اس پر تو پابندی ختم کرے پھر آزادی اظہاررائے کی بات کرے ورنہ فرانس میں آزادی اظہاررائے کے نام پر جمع ہونے والے تمام یورپین کیلئے برطانیہ کے مصنف rving David I کا آسٹریا کی جیل میں اظہاررائے کی آزادی کے حق کو استعمال کرنے کی پاداش میں سزاپانا ان کے منہ پر زور دار تمانچہ ہے۔

 

دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے ہاتھوں موسیٰ ؐ پسند یہودیوں کو قتل کرکے فرعوں پسند یہودیوں کی حکومت کا جواز فراہم کیا گیا لیکن ان نکات پر تحقیق کرنے پر پابندی ہے جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپی حکمران اور یہودی سرمائیداروں کے بیچ خفیہ معاہدے موجود ہیں ۔ اسی لئے بہت سی کتابوں پر یورپ میں پابندی لگائی گئی ہے جس میں خود فرانس کے مصنف کی کتاب The Drama Of The Europen Jews شامل ہے ۔اور بہت سے یورپی مصنف اسی وجہ سے اختلاف کرتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کے قتل کی بیان کردہ تعداد اور وجوہ صحیح نہیں اوران مصنفین میں یورپی اور دیگر خطوں کے مصنفین و محققین شامل ہیں جن کو Holocaust Dieniers کہا جاتا ہے اور ان کے اظہاررائے پر پابندی ہے ۔اگر یورپ کو اپنے کئے پر اتنی ہی شرمندگی تھی تو یہودیوں کو اپنے پاس یورپ میں کوئی علائقہ دیدیتے مسلم ممالک میں بھیجنا اور بے جا حمایت کرنا سازش کا کھلا ثبوت ہے۔

 

موجود ہ د ورمیں ان کے مظالم یورپ سے ایشیا ء کی طرف باقاعدہ منتقل ہو چکے ہیں جو کہ ان کا شروع ہی سے اصلی ہدف اور انتہائی گہری دلچسپی کا علائقہ رہا ہے جس کے بعد پوری دنیا پر ان کی بلا شرکت غیرے حکومت ہو جائے گی اس لئے انھوں نے ایشیائی ممالک خصوصاً مسلم ممالک کو اپنا ہدف بنایا ہوا ہے جس پر انھوں نے دہشتگردوں کے ذریعے جنگیں مسلط کی ہوئی ہیں اور مسلمانوں کے اخلاق ونظریات کو بگاڑنے کے لئے تمام تروسائل کو بروئے کار لایا جارہاہے ،گذشتہ حالات سے یورپ نے سیکھ لیا ہے کہ خود کو براہ راست جنگوں میں ملوث کرنے کے بجائے منافقانہ طور سے بالواسطہ دنیا پر جنگ مسلط کرنا چاہئے جس سے فوائد زیادہ اور نقصانات کم ہیں جس کا مطالعہ رچرڈنکسن کی کتاب Victory With out warsفتح بغیر جنگ سے کیا جا سکتا ہے اسی سوچ کے تحت انہوں نے پہلے اسلام کے نام سے نقلی اور جھوٹے مجاہد اور جہادی تیار کئے اور اپنے حریف روس کو نقصان پہنچایا اور پھر انہی کے ذریعے پوری دنیا میں جہاں چاہا وہاں اندرونی مداخلت کرنے لگے اور حکومتوں کو اپنی مرضی سے گرانے اور بنانے لگے جو کہ ان کی دیرینہ خواہش و پلاننگ تھی ۔

 

ماضی میں جس طرح انہوں نے پہلے یورپ میں جنگوں کے بعد عیسائیوں کو تحریف شدہ دین دکھا کرباقی ماندہ اصلی دیں کے اقدار بھی چھیں لیں اور مذہب سے لوگوں کو متنفرکرکے اپنی غلامی میں قید کیا اور آخرکار اسی مخصوص طبقے نے پورے یورپ پر بلا شرکت غیر ے حکومت حاصل کرلی اسی طرح اب مسلمانوں کو بھی نقلی اسلام دکھاکر اصلی اسلام سے متنفر کرکے اپنی غلامی کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کی ابتداء اندرونی جنگوں سے کی اور اب اپنی اسی تاریخی پست روی کے تحت وہ کائنات کی عظیم ہستی کی مسلسل توہیں کرکے لوگوں کو اسلام سے دور کرنے کی سازش کررہے ہیں۔

 

ایک طرف وہ انہی دہشتگردوں کے مخالف بنے پھرتے ہیں تو دوسری طرف ان کو مسلح اور طاقتورکرنے کے لئے کوششوں میں مصروف ہیں لیکن یہ مراعات ان دہشتگردوں کوحاصل ہیں جو فقط مسلم ممالک میں جہاد کے نام پر ان کے مفادات کی تکمیل کررہے ہیں ا ور جب انہی کا کیا خود ان کی طرف پلٹ کر آتاہے تو ان دہشتگردوں کے اعمال کو اسلام اصلی کے کھاتے میں ڈالتے ہیں اور رمحسن انسانیت محمدصلے اللہ علیہ واٰلہ وسلم جنہوں نے جنگوں کے دوران بھی انسانیت اور اخلاقیات کا دامن تھامے رہنے کی تلقین اور تعلیم فرمائی ہے البتہ یورپ میڈ اسلام میں یہ تعلیمات موجود نہیں ہیں جس کی بناء پر یہ دشمن انسانیت اسی محسن انسانیت کی توہین کرنے کے بہانے گھڑنے لگتے ہیں اور اسلام کے خلاف واویلا کرنے لگتے ہیںیہ مکاری اور فریب کاری کے ذریعے دنیا میں اسلام کو بدنام کرنے اور خود کو معصوم ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اصلی ہدف یعنی ٰ دنیا پر حکمرانی اخلاقیات کے بغیر،کیلئے کی جارہی ہے ،جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق جس طرح کسی بیگناہ کا قتل قابل مذمت ہے اسی طرح کسی کا قتل کسی بے گناہ کے سر تھوپنا بھی قابل مذمت ہے۔اگرحقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو فرانس میں 12 لوگوں کے مرنے پر وہ لوگ بھی احتجاج کرتے ہوئے دکھائی دینے لگے جو فلسطین میں خود ہزاروں بے گناہ انسانوں کے قاتل ہیں اوریہودیوں کے موقف کے مطابق یورپ کے حکمران خود بینجمن نیتن یاہو کی قوم یعنی ٰ یہودیوں کے سب سے بڑے قاتل رہے ہیں اور اس نفرت کے آثار اب بھی یہودیوں کے دلوں میں یورپ کے خلاف موجودہیں یہی دوہرا معیار ہے جو یورپ کے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنا ہواہے اور نہ صرف دنیا میں یورپین کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے بلکہ دنیامیںیورپ کے لئے نفرت بڑھتی جارہی ہے جس کی وجہ ہرمعاملے میں یورپ کا دوہرامعیاراور یہودیوں کے ہرناجائزعمل کی ناجائزحمایت کرنا ہے جس کا ادراک اب عام یورپی کو ہونے لگا ہے جس کا ثبوت ہے کہ خود یورپ کے شہری اپنی ہی حکومتوں کے باقی دنیا سے رویوں اور پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔

 

تحریر :عبداللہ مطہری

وحدت نیوز(آرٹیکل)پشاور کے واقعے کو آج آٹھ دن گذرنے کے باوجود ایسا لگ رہا ہے کہ شاید پاکستان کے پارلیمنٹرین کو سانپ سونگھ گیاہے ہکا بکا ہوکر صرف اجلاس ہی کر رہے ہیں احقرنے گذشتہ تحریر جوکہ پشاور واقعہ کی رات کو تحریر کی تھی میں لکھا تھا کہ یہ بڑے بڑے فیصلے ان چھوٹے لوگوں سے نہیں ہو پائیں گے۔


وزیراعظم پاکستان نے بہادرپارلیمنٹرین کا فوراَ APC کا اجلاس طلب کر لیا اور دہشتگردوں کا قلع و قمع کرنے کے لئے ملک کے بڑے بڑے لیڈر اکٹھے ہوکرغور و فکر کرنے لگے آخر کار وہ تمام بہادر لیڈر اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک کمیٹی بنائی جائے اور جو فیصلے ہم نہیں کر پارہے ہیں وہ اس کمیٹی سے کروائیں اوروہ کمیٹی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ایک ایکشن پلان بنائے اور اس کمیٹی کا سربراہ ملک کا سب سے بڑا بہادر جو کہ اسلام آباد، لاہور ، فیصل آباد، جیسے بڑے بڑے معرکہ سر کرچکا ہے اور پاکستان کے نہتے عوام سے نمٹنے کا خوب تجربہ رکھتاہے کوبنایا جائے اور اس کمیٹی کی صدارت کی ذمیدار ی اسی بہادر اور ذہین چوہدری نثار کو دی گئی اس بہادر سالار نے آخر کار اچوتھے روز معاملہ ہی حل کردیا اور قوم کو دہشتگردی ختم کرنے کے سنہری اصول اور ایکشن پلان دیدیا ، \"کہ تنودور والے کو زیادہ روٹیاں خرید کرنے والے پر نظر رکھنیٍ چاہئے اور میڈیا کو چاہئے کہ وہ دہشتگردوں کو بلیک لسٹ کر دے \"۔


واہ۔۔۔۔واہ۔۔۔۔ یقیناًایسے ہی عقلمند وں اور بہادروں کی پاکستان کو ضرورت ہے او ر ان فیصلوں کے بعد تو یقیناًدہشتگرد پاکستان چھوڑنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور ہوگئے ہونگے۔دوسری طرف ہمارے ہردلعزیز بہادر وزیر اعظم کیونکر خاموش رہ سکتے تھے انہوں نے بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالا اور فوراَ دہشتگردوں کو دی جانے والی پھانسیوں کو روک دیا ۔ اور فرمایا کہ دہشتگردی کے خلاف کاروائی کی قیادت میں خود کروں گا ، شاید ان کو دہشتگردی کے خلاف ہونے والی کاروائیوں پر اطمینان نہیں تھا ۔ پھر ہم نے دیکھا کہ وزیراعظم صاحب نے اجلاس طلب کیا اور فرمایا \"کہ وقت آگیا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف سخت فیصلے کئے جائیں ،لولے لنگڑے فیصلے کئے گئے تو تمام بوجھ ہم پر ہی پڑے گا، اس دہشتگردی کے اس واقعے نے پوری قوم کو یکجا کردیا ہے ،اگر کمزور فیصلے کئے گئے تو قوم مطمئن نہیں ہوگی \"


ترجمہ (عوامی زبان میں) : میری حکمت عملی اور آپ کے ساتھ سے اپنے دوستوں کو بچایا جاسکتاہے، دھرنے ختم ہوگئے میری حکومت بچ گئی اب اس الزام سے بچاؤ اور قوم کو بیانات بازی سے مطمئن کرو۔
اور سب جمہوریت کی طرح اس بار بھی اکٹھے ہوکر ایک دوسرے کو بچانے لگے۔
اس بیان کے باوجود اگر قوم نہ سمجھے تو اس قوم کی قسمت اتنا سچ بولنے والا وزیراعظم شاید پاکستان کے مقدرمیں پھر ہو۔



وزیر اعظم صاحب اور وزیر داخلہ صاحب آج تک یہ بتانے سے بھی قاصر اور معذور ہیں کہ ملک میں آخر دہشتگردی کر کون رہاہے جبکہ ان دونوں کے ناک کے نیچے اسلام آباد کی لال مسجد میں بیٹھا ہوا ملا عبدالعز یز کھلے عام طالبان اور داعش کی حمایت میں کام کر رہا ہے اور طالبان کھلے عام دہشتگردانہ کاروائیوں کی ذمیداری قبول بھی کر رہے ہیں اور پاک آرمی ان کے خلاف آپریشن بھی کررہی ہے مگر یہ بہادر رہنما ان کا نام بھی نہیں لے پارہے ہیں جو عورتوں والے پیرہن والوں سے ڈرتے ہوں وہ ہماری حفاظت کے اقدامات کیا کریں گے بلکہ ان کے اس کردار کی وجہ سے 790 مزید اسکولوں پر دہشتگردی کی کاروائی کی دھمکی موصول ہورہی ہے اور پنجاب کے ان تعلیمی اکیڈمیز کو بند کرنے کے نوٹیفیکیشن بھی جاری کئے گئے ہیں یہ ہے ان بہادر رہنماؤں کی کارکردگی۔

ملک میں جب اتنا کچھ ہورہاہو تو ہماری عدالتیں کیسے خاموش رہ سکتی ہیں کیونکہ ماضی میں ان کا کردار دہشتگردوں کو سزائیں دینے میں ناقابل فراموش رہاہے لہٰذا عدالتیں بھی حرکت میں آئیں اور وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا اس کارے خیر میں ساتھ دینے لگیں اور کئی قاتلان پاکستان کی سزائے موت قانونی پچیدگیوں کی وجہ سے ایک جیل سے دوسری جیل میں پھانسی دینے جیسے احکامات اور کچھ کی سزاہی کو معطل کردیا اور یہ سب اس وقت کیا گیا جب ان قاتلوں کو عدالتوں کی جانب سے دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد کیا جانا شروع ہونا تھا ۔



سیاسی جماعتیں بھی پھانسی کی سزاؤں کا سن کر اپنے اپنے کارکنوں کو بچانے میں لگ گئیں اور فوج کو چیخ چیخ کر بلانے والوں اور گھنٹوں ٹی وی پر فوج کو مشورے دینے والے اور خود کو طالبان کے سب سے بڑے مخالف کہلانے والوں نے بھی فوجی عدالتوں کے قیام کی مخالفت کردی ۔کیونکہ پوری قوم دیکھ چکی تھی کہ پھانسیاں صرف ان دہشتگردوں کو ہوئیں ہیں جن کی ڈیتھ وارنٹ پر چیف آف آرمی سٹاف نے سائن کئے تھے باقی سب دہشتگرد پھانسی کی سزا پانے کے باوجود فائیو اسٹار جیل میں عیاشی کی زندگی گذار رہے ہیں اور باہر والے دہشتگردوں کو جیل سے ہی کمانڈ کررہے ہیں دہمکیوں اور قانونی داؤپیچ سے نہ صرف جیل میں عیاشیاں کر رہے ہیں بلکہ سزائیں ختم کرواکر ضمانتوں پر آزاد بھی ہورہے ہیں ۔



ایک طرف تو ہم سب پاکستانی دہشتگردی کے ناسور میں مبتلاء ہیں تودوسری طرف ہمارے بہادر خان جو کہ ظلم کے خلاف دنیا کا طویل ترین دھرنا دیکر پاکستان میں تبدیلی کا داعی تھا پشاورمیں ان کی ہی حکومت بھی ہے نے اتنے دن گذرنے کے باوجود کوئی عملی قدم تو دور کی بات آج تک کوئی بیان یا پریس کانفرنس بھی نہیں کی ہے جس سے پشاور اور پاکستان کے عوام کے زخموں پر مرہم لگتی یا شاید ماضی کی طرح اب بھی خان صاحب طالبان کو پشاور میں دفتر اور دیگر مراعات دینے کے بارے میں سوچ رہے ہوں۔ایسے میں یورپی یونین کا پھانسیوں کی سزا پر تحفظات کی کیا بات کریں جب اپنوں کی ہی یہ حالت ہو ۔



ٹی وی کی ایک خبر کے مطابق حساس اداروں نے رپورٹ دی ہے کہ ایک بہت بڑے ہاؤسنگ اسکیم کے اونر جس کا ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ سے قریبی تعلق ہے طالبان کو رقم فراہم کرنے میں ملوث ہے اور وہ پارٹی کے سربراہ کے قریبی دوست بھی ہے اور اسی پارٹی نے خود اپنی حکومت کے دوران پھانسی کی سزا پر پابندی بھی لگائی ہو اور وہ پارٹی بھی اس اجلاس شریک ہواور ایسے ملا جو طالبان کے دہشتگردوں کو شہید کہ کر اپنے دین اور ایمان کا اظہار کرچکے ہوں وہ بھی اس اجلاس میں شریک ہوں جودن رات ان دہشتگردوں کے تحفظ ، مالی معاونت اور ان کا لٹریچر اپنے ہی مدارس سے بانٹ رہے ہوں اور کچھ دیگر ایسی ہی طالبان پرست شخصیات اس اجلاس میں شریک ہیں وہ دہشتگردوں کے خلاف ایکشن پلان بنائیں گے تو اس سے بڑاقوم کے ساتھ اور کیا دھوکہ ہوگا۔



جب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف کاروائی کرنے اور سفارشات مرتب کرنے کون لوگ بیٹھے ہیں تو ہمیں نظر آرہا ہے کہ یہ تو وہی لوگ ہیں جو طالبان کے خود حامی ہیں تو اس تمام صورت حال میں اگر ایک پاکستانی یہ سوچے کہ یہ طالبان کے ساتھ ماضی والی مزاکراتی کمیٹی اور آج کے اجلاس میں ایکشن پلان اور سفارشات مرتب کرنے والوں میں کوئی فرق نہیں ہے تو ایک عام پاکستانی کا ان سے مایوس ہونا فطری بات ہے اور سیاستدانوں سے ایسی مایوسی کی کیفیت، پشاور اسکول کے شہداء کے والدین کے جذبات ، ہونے والے اقدامات کے بارے میں سننے کے بعد مزید مستحکم ہوگئی اور ہم تمام پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہمارے ننھے معصوم بچوں کا خون ناحق بھی ان کے بکے ہوئے ضمیروں کو نہیں لوٹا سکا تو اب نہ جانے یہ خون آشام درندے اس قوم کا اورکتنا خون چوسیں گے۔



ایسے میں ایک ہی ادارے سے تمام پاکستانی امید یں وابستہ کئے ہوئے ہیں جبکہ ماضی میں اسی ادارے کے سربراہ نے جب طالبان کے
خلاف سیاستدانوں سے مایوس ہوکر پاکستان اور پاکستانیوں کے تحفظ میں کاروائی کی تھی تو اسے آج تک ان سیاستدانوں نے غداری اور دیگر مقدمات میں الجھا دیا اور اب بڑے بڑے تجزیہ کار یہ کہتے ہوئے پائے جارہے ہیں کہ وقت نے ثابت کیا کہ آپریشن کا فیصلہ درست تھا لیکن شاید سیاستدانوں نے تو اپنے مفادات کی خاطر سبق نہ لیا ہو مگر پاکستانی قوم کے مفاد میں تو سبق سیکھ لے ۔اور جمہوریت کے نام پر دھوکہ نہ کھائے اور ان جھوٹے جمہوریت بازوں کو پہچان لے اور آئیندہ فیصلہ کرتے وقت ان کے ماضی کو نہ بھولے۔




تحریر :عبداللہ مطہری

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک)بکرے کی سادگی کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے کہ ، جس نے رسی میں ہاتھ ڈالا یہ بچارا اس کے ساتھ چل پڑابغیر یہ سوچے سمجھے کہ رسی کسی چور کے ہاتھ میں ہے یا قصاب کے ہاتھ، اصلی مالک کے ہاتھ ہے یا کسی خریدار کے ہاتھ نہ ہی یہ سوچا کہ آگے جا کے یہ مجھے ذبح کرے گا یا بیچ دیگا بس ایک چال بے فکری کے ساتھ چلا جا رہا تھا ۔ جب نظر رسی پر پڑی تو اس کی بناوٹ سے نظر ہی نہیں ہٹ رہی تھی رسی کی خوبصورت بناوٹ پر بکرا بھلے ہی غو ر نہیں کر رہا تھا مگر دیکھنے والوں کے لئے وہ دلفریب تھی اور شاید وہ خوبصورت رسی بکرے کے فلاح و بہبود کے لئے نہی بنی تھی بلکہ دیکھنے والوں کے بہلاوے کے لئے ہی بنائی گئی تھی چلتے چلتے اگر کبھی فطری طور پر کوئی بکرا سرکشی کرتابھی تھا تو چارا دیکھ کے یا ہانکنے والے کی ہانک سن کر پھرچل پڑتا ، کہ اتنے میں ہمیں نظر آیا کہ یہ صفت صرف ایک بکرے میں نہیں بلکہ ایسی صفات کے حامل تو بہت سے اور بھی ہیں اور ایسی صفات کے حیوانوں سے پوری منڈی بھری پڑی ہے جہاں کسی کو نہ اپنی فکر تھی اور نہ ہی اپنے جیسے دوسروں کی ، اس منڈی میں فرق صرف قیمت اور جسم کی بناوٹ کی وجہ سے تھا کوئی بکرا بیل سے مہنگا تو کوئی بیل بکرے سے سستا۔



اس منڈی میں ایک طرف خریدار تھے تو دوسری طرف بیچنے والے بیوپاری ،بکروں بچاروں سے کوئی کچھ نہیں پوچھ رہا تھا کہ آیاوہ اس قیمت پر بکنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں تب ہمیں یہ احساس ہوا کہ جانوروں کے ایسے حقوق نہیں ہوتے اور یہ اسی طرح خریدے اور بیچے جاتے ہیں پھر سوچایہ رسم تو صدیوں سے یونہی چلی آرہی ہے یہاں پر خریدار کی کوئی اھلیت نہیں د یکھی جاتی ہے ، سوائے اس کے کہ اس کے پاس قیمت کے مطابق پاور آف پرچیز ہونا چاہئے یہ سب سوچتے ہوئے نہ جانے کیوں میری سوچ بار بار اپنے وطن میں رہنے والے لوگوں کی طرف جا رہی تھی کہ جہاں بہت سے انسانوں نے ان بکروں جیسا رویہ رکھا ہوا ہے کہ نہ تو وہ اپنے خریدار کو جانتے ہیں نہ اپنے بیو پاری کو اور نہ ہی اپنی قیمت سے آگاہ ہیں بس ایک خاص چال بے نیازی کے ساتھ چلے جا رہے ہیں بغیر یہ سوچے سمجھے کہ میرے ساتھ یا میرے جیسوں کے ساتھ آگے جا کر کیا ہونے والا ہے اے کاش کہ یہ بکرے نما انسان اپنے حقیقی مالک کو پہچان لیں اور اپنی قیمت سے آگاہ ہوجائیں تو نہ صرف خود خریداروں اور بیوپاریوں ، چوروں اور قصابوں سے بچ جائیں گے بلکہ اپنے جیسے کئی انسانوں کی نجات کا باعث بھی بن جائیں گے ۔ او ر یہ پہچان ناممکن نہیں بلکہ کسی حد تک آسان ہے بس اس پہچان کی ابتداء گلے میں پڑی رسی سے کرنی چاہئے کہ وہ کس کے ہاتھ میں ہے کسی بیوپاری کے ہاتھ ، کسی خریدار کے ہاتھ، کسی چور کے ہاتھ ،کسی قصاب کے ہاتھ یا مالک حقیقی کے نمائیندے کے ہاتھ اب یہ کیسے پہچانیں کہ رسی کس کے ہاتھ میں ہے تو ہمیں غور کرنا پڑے گا کہ اگر ہم نے فقط مالی فائدے کے لئے کسی کی اطاعت کی ہے تو ہم نے اپنی رسی بیوپاری کے ہاتھ میں دی ہے اگر ہم نے نفس کی کسی خواہش کو پورا کرنے کے لئے کسی کی اطاعت کی ہے تو ہم نے اپنی گردن میں بندھی رسی کسی خریدار کے ہاتھ دی ہے جس نے اس خواہش کے بدلے ہمیں خرید لیا ہے اگر ہم کسی اخلاقی کمزوری کی وجہ سے کسی کی اطاعت کررہے ہیں تو رسی ہم نے چور کے ہاتھ میں دی ہے اگر کسی کی طاقت سے مرعوب ہوکر اطاعت کررہے ہیں تو رسی قصاب کے ہاتھ میں دی ہوئی ہے ۔ اور اسی طرح باقی غلامیوں پر بھی غور کرتے جائیں۔اور اگر ہم ان بیوپاریوں،خریداروں ،چوروں، قصابوں سے اپنی گردن میں پڑی رسی چھڑانے میں کامیاب ہو جائیں گے تو مالک حقیقی کی رحمت کا سایہ خودہی آجائے گا اور ہمیں اس کے لئے مزید کسی زحمت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ورنہ ہماری حالت بکروں جیسی ہی رہے گی اور ہم ان شکم پرستوں کے دسترخوانوں کی زینت بنتے رہیں گے اور کئی مقامات پر بکرے ہم سے افضل رہیں گے قربانی کے لئے ذبح کئے گئے بکرے اپنے زندگی کے اعلیٰ مقصد تک پہنچ جاتے ہیں مگر ان سیاستدانوں کے پیچھے دوڑنے والے بکرے نما انسانوں کو مقصد حیات کے ساتھ ساتھ کمال انسانیت و شرف انسانیت سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے اور پاکستانی عوام کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوگی اور رائیونڈ میں ستر کھانوں کے دسترخواں سجائے جائینگے لوگ سیلاب میں ڈوب رہے ہونگے اور نانا ،باپ اور بیٹا نسل در نسل پانی میں پاوٗں بھگو کر سیاسی ہیرو بنتے رہیں گے،لوگ شہروں میں ٹارگیٹ کلنگ سے اور بم دھماکوں سے مارے جائیں گے اور یہ بیوپاری ا پنی سیکیورٹی پر کروڑوں روپیہ خرچ کرتے رہیں گے پاکستان میں بے گناہ مرنے والوں کا اور ان کے یتیموں کا کوئی مداوا کرنے والاپراسان حال بھی نہیں ہوگا اور ان کی سیکیورٹی اورشاہانہ اخراجات ان بکروں کی کھال اتار کر بھی پورا کیا جائے گا ان مسائل اور ان جیسے مسائل کا حل فقط مسائل کا رونا رونے سے نہیں ہوگا بلکہ اس کی ابتداء اپنے گلے میں بندھی رسی کواتار پھینکنے سے کرناہوگی ورنہ مشاہدہ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ہم ان کے دھوکوں میں نسل در نسل آتے رہے ہیں اور اب بھی اس دلفریب رسی کو اپنے گلے میں لٹکائے ہوئے بکروں سے بد تر زندگی گذار رہے ہیں۔اگر میری باتوں کا یقین نہ آئے تو گذشتہ دنو ں گرفتار ہونے والے ٹارگیٹ کلر کا بیان سن لین کہ جس نے کہا تھا کہ10000 سے 15000 روپیہ ماہانہ پر وہ انسان کا قتل کرتا تھا جبکہ ان تیں دنوں میں بکرے کا ٹنے والے بھی کم سے کم 200000 کمالیتے ہیں اب اس سے اندازہ لگائیں کہ بکرے کے گلے میں بندھی رسی نے اس کی قیمت بڑھا دی ہے اور انسان کے گلے میں بندھی رسی نے اس کی قیمت کتنی گھٹا دی ہے۔



تحریر:عبداللہ مطہری

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree