وحدت نیوز(لاہور) مرکزی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان قائد وحدت علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی تحریک انصاف کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل اعجاز چوہدری کے گھر آمد، ان کے والدمحترم کی وفات پراظہار تعزیت کیا اور فاتحہ خوانی کی،اس موقع پرتحریک انصاف سندھ کےجنرل سیکریٹری اور سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈرحلیم عادل شیخ،مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ناصر عباس شیرازی،مرکزی سیکرٹری سیاسیات اسد عباس نقوی،مرکزی معاون سیکرٹری سیاسیات محسن شہریار،صوبائی سیکرٹری سیاسیات حسن رضاکاظمی اور راناماجدبھی موجود تھے،رہنمائوں کے درمیان موجودہ ملکی سیاسی صورت حال پر تفصیلی بات چیت بھی ہوئی، پی ٹی آئی کے رہنما اعجاز چوہدری نے علامہ راجہ ناصرعباس جعفری اور ایم ڈبلیوایم کے وفد کی آمد پر شکریہ اداکیا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) ساہیوال واقعہ کے متاثر ین کے ساتھ ہیں، حکومت سی ٹی ڈی کے طریقہ کار کو تبدیل کرے، یہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے میڈیا سیل سےجاری بیان میں کیا ۔انہوں نے کہاکہ سی ٹی ڈی نے جو کچھ ساہیوال میں کیا اور اس کے بعد جو وضاحتیں دی جا رہی ہیں وہ نہایت شرم نا ک ہیں ،اس ادار ے کی ماورائے عدالت کاروائیوں کی داستانیں زبان زد عام ہیں ۔ساہیوال واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔اس سے پہلے بھی سی ٹی ڈی نے بے شمار لوگوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایاہے اور بے گناہوں پر ایف آئی آرز کاٹیں ہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ سی ٹی ڈی کا ادارہ حکومت کے ماتحت نہیں بلکہ شتر بے مہار آزاد ہے اور اسکا جو جی میں آئے کر گزرتا ہے ۔حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ساہیوال واقعے کی شفاف انکوئری کروائی جائے ، مجرمان کو قرارواقعی سزا دی جائے اور حکومت واقعے میں متاثرہ بچوں کی مکمل کفالت کرے ۔

وحدت نیوز(لاہور)علمائے کرام معاشرے کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کریں ،دشمن ہمیں داخلی اختلافات میں الجھانے کی سازشیں کر رہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پنجاب کے اراکین صوبائی شوری کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ محراب و ممبر اپنے اپنے فرائض ادا کریں دشمن کی کوشش ہے کہ عوام کو علما اور مذہبی قیادت سے دور کریں ۔معاشرہ سازی کا عمل علما کی ذمہ داری ہے ۔ علما اپنے علم وعمل کے زریعے قوم کی تربیت کریں ۔ہمیں ملکی ترقی و سلامتی کے لئے جدو جہد جاری رکھنا ہے اور ہماری جدوجہد کے مراکز مساجد ہونی چاہیے ان مراکز سے انتہا پسندی تکفیریت کو پرموٹ کرنے کے بجائے باہمی وحدت اخوت اور محبت کا پیغام عام ہو نے چاہیں۔

وحدت نیوز(کراچی) سانحہ سہون شریف کے شہداء کی دوسری برسی کے موقعہ پر درگاہ حضرت لعل شہباز قلندر پر 24 فروری بروز اتوارار کو عظیم اجتماع ہوگا۔ برسی کے موقعہ پر اجتماع کے سلسلے میں صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے مشاورت سے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ جس میں برادر یعقوب حسینی, برادر سیدعلی حسین نقوی ,برادر ظہیر حیدر ,آغا منور جعفری اور برادر شفقت لانگاہ شامل ہوں گے۔ جبکہ ضلعی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالستار بوذری اور ڈپٹی سیکریٹری سید غلام شاھ اس کمیٹی میں ضلع کی نمائندگی کریں گے۔ برادر شفقت لانگاہ پروگرام (اجتماع) کے انچارج ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام تنظیمی دوستوں کی جدوجہد کے نتیجہ میں اس سال درگاہ شہباز قلندر رح پر عظیم الشان اجتماع منعقد ہوگا۔

وحدت نیوز (مٹیاری) مجلس وحدت مسلمین ڈسٹرکٹ مٹیاری کا ضلعی شوریٰ کا اجلاس منعقدہوا، اجلاس میں ڈسٹرکٹ مٹیاری کے 24 یونٹس میں سے 18 یونٹس کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مولانا سید عباس علی شاہ کو اکثریت رائے سے مٹیاری ڈسٹرکٹ کا سیکرٹری جنرل منتخبکرلیاگیا۔ مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ دوست علی سعیدی نے منتخب سیکرٹری جنرل مولانا سید عباس علی شاہ سے حلف لیا، اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکرٹری تنظیم سازی آغا منور جعفری بھی موجود ہیں۔

اٹکی ہوئی سوئیاں اور دشمن

وحدت نیوز(آرٹیکل) استاد نے بچے کو کلاس سےنکال دیا، والدین پریشان ہوئے، استاد سے استفسار کیا تو استاد نے کہا کہ آپ کا بچہ مزید تعلیم کے قابل نہیں رہا، وجہ یہ بتائی گئی کہ اس کے دماغ کی سوئی ایک جگہ اٹک گئی ہے۔استاد نے سوئی اٹکنے کی دلیل یہ دی کہ یہ ہر موضوع پر ایک ہی طرح کا مضمون لکھتا ہے۔ مثلا میں نے اسے آم پر مضمون لکھنے کو کہا تو اس نے اس طرح سے لکھا کہ آم پھلوں کا بادشاہ ہے، لیکن یہ عرب میں نہیں پایا جاتا ، یہ عرب کے بدو کیا جانیں کہ آم کیا ہوتا ہے ۔ یہ غیر مہذب عرب  آج بھی۔۔۔

پھر میں نے اسے اونٹ پر مضمون لکھنے کو  کہا تو اس نے لکھا کہ اونٹ عرب میں پائے جاتے ہیں، عرب کے بدو اونٹوں پر سواری کرتے ہیں اور اونٹوں کی طرح کینہ رکھتے ہیں، یہ غیر مہذب عرب  آج بھی۔۔۔

پھر میں نے اسے قلم  پر مضمون لکھنے کو کہا تو اس نے لکھا کہ قلم میں بڑی طاقت ہے لیکن عرب اس طاقت سے غافل ہیں، یہ غیر مہذب عرب  آج بھی۔۔۔

پھر میں نے اسے علم پر مضمون لکھنے کو دیا تو اس نے اس طرح سے مضمون باندھا کہ  علم نور ہے، علم روشنی ہے لیکن عرب اس روشنی کے بجائے عیاشی کے پیچھے لگے ہیں، یہ غیر مہذب عرب  آج بھی۔۔۔یہ بچہ ہر مسئلے کو موڑ کر اپنے من پسند موضوع میں ڈھال دیتا ہے۔

یاد رہے کہ سوئی کے اٹک جانے کا باعث اندھے تعصب کے علاوہ معلومات کی کمی بھی ہے۔اگر آپ توجہ فرمائیں تو  ہمارے ہاں اکثر لوگوں کی سوئی اٹکی ہوئی ہوتی ہے۔ آپ حکمرانوں کی  کرپشن کی بات کریں  تو وہ فوراً کہیں گے کہ لوگ بھی تو چور ہیں، آپ کرایوں میں اضافے کی بات کریں تو وہ آگے سے پھر کہیں گے لوگ بھی تو چور ہیں، آپ مہنگائی کی بات کریں تو پھر یہی جواب ملے گا کہ لوگ بھی تو چور ہیں۔۔۔یہ مسائل کو گھما کر لوگوں کی طرف لے جائیں گے۔

اسی طرح بعض لوگوں کی سوئی شیعہ سنی فساد پر اٹکی ہوتی ہے، آپ میانمار کی بات کریں یہ شیعہ سنی مسائل کو ابھارنا شروع کر دیں گے ، آپ ملک میں اسلامی اقدار کی بات کریں انہیں شیعہ سنی جھگڑے یاد آجائیں گے، آپ جہان اسلام میں اتحاد کی بات کریں یہ شیعہ سنی مناظروں پر اتر آئیں گے۔۔۔یہ ہر مسئلے کو گھسیٹ کر شیعہ سنی جھگڑوں کے ساتھ جوڑیں گے۔

اسی طرح کچھ لوگوں کی سوئی اپنے علاقائی مسائل پر اٹک جاتی ہے، آپ کہیں اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کر رہا ہے یہ  بغیر کسی موازنے اور تجزیے کے کہیں گے کہ ہم بلوچی بھی تو مظلوم ہیں، انہیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ  اسرائیل کے مظالم کی نوعیت کیا ہے اور فلسطینیوں کی مظلومیت کی انتہا کیا ہے۔یہ سارے مسائل کو بلوچستان کے مسائل کے ساتھ منسلک کریں گے۔

اسی طرح اگر آپ کہیں کہ کشمیر میں ہندوستان ظلم کر رہا ہے تو یہ کہیں گے کہ ہم سندھی بھی تو مظلوم ہیں، یہ کشمیر میں ہندوستان کے مظالم سے یا تو بے خبر ہوتے ہیں اور یا پھر علاقائی تعصب میں اندھے۔یہ کشمیر کےمسائل کو بھی سندھ کے گرد گھمائیں گے۔

اگر آپ کہیں کہ  یمن میں ظلم ہو رہا ہے تو یہ کہیں گے ہمارے خیبر پختونخواہ میں بھی ظلم ہو رہا ہے، کیا آپ بھول گئے کہ اے پی ایف میں کیا ہوا تھا! یہ لوگ یمن پر ہونے والے ظلم کو یا تو جانتے نہیں اور یا پھر علاقائی تعصب نے انہیں اندھا کر رکھا ہوتا ہے۔یہ سارے مسائل کی جڑیں خیبر پختونخواہ میں ڈھونڈتے ہیں۔

اگر آپ کہیں کہ سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور مسلمانوں کو لڑواکر کمزور کرنے میں غیر مسلم طاقتوں کا ہاتھ ہے تو یہ  لوگ مختلف  فرقہ پرست مولویوں کی اشتعال انگیز تقریریں اکھٹی کر کے لے آئیں گے کہ غیر مسلموں کا کوئی ہاتھ نہیں بس یہ مولوی ہی کرتا دھرتا ہیں۔

حتی کہ اگر آپ  یہ دعویٰ کریں کہ دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان سائنسدانوں کو اسرائیل  کی خفیہ ایجنسی موساد نے قتل کیا ہے تو یہ چونک کر کہتے ہیں نہیں یہ ممکن ہی نہیں مسلمانوں کو تو فقط تکفیری قتل کرتے ہیں۔۔۔

آپ لاکھ کہیں کہ تکفیری عناصر کی فکری تربیت اور مالی اعانت را اور موساد جیسی  ایجنسیاں کرتی ہیں لیکن ان کے نزدیک تکفیریت کی نشونما میں را اور موساد کا کوئی ہاتھ ہی نہیں۔

اگر آپ یہ کہیں کہ موساد کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی ایک مختصر رپورٹ یہ ہے  کہ 21 اپریل 2018 کو کوالامپور میں فلسطینی راکٹ انجنیئر کو قتل کیا گیا۔ 13 فروری کو حسن علی خیرالدین نامی پی ایچ ڈی انجنئر کو کینیڈا میں قتل کیا گیا۔ 28 فروری کو لبنان سے تعلق رکھنے والے فزکس کے طالب علم کو فرانس میں قتل کیا گیا۔ 25 مارچ کو فلسطینی نوجوان سائنسدان کو اسرائیلی فوجیوں نے قتل کیا۔ موساد کی جانب سے مسلمان سائنسدانوں کے قتل کا سلسلہ پرانا ہے۔ ان میں چند مندرجہ ذیل ہیں۔ حسن رمال فزکس کے میدان کے مانے ہوئے سائنسدان جنہیں 1991میں قتل کیا گیا۔

سعید بدیر میزائل ٹیکنالوجی میں ماہر تھے انہیں 1989 میں قتل کیا گیا۔ سمیر نجیب نامی مصری سائنسدان ایٹمی ٹیکنالوجی میں معروف تھے انہیں 1967 میں قتل کیا گیا۔ سلوی حبیب نامی محققہ جو کہ صہیونی سازشوں کو بے نقاب کرتی تھیں، انہیں اپنے ہی فلیٹ میں بیدردی سے ذبح کیا گیا۔ حسن کامل الصباح لبنانی سائنسدان جنہیں عرب کا ایڈیسن کہا گیا انہیں امریکہ میں قتل کیا گیا۔ مصطفیٰ مشرفہ نامی ماہر فزکس کو زہر دیکر فرانس میں قتل کیا گیا۔

 ڈاکٹر نبیل القلینی نامی سائنسدان جن کا تعلق مصر سے انہیں 1975 میں اس طرح جبری لاپتہ کیا گیا کہ آج تک ان کا سراغ نہ مل سکا۔ ڈاکٹر سامعیہ میمنی نامی ڈاکٹر کہ جن کی تحقیق نے دل کے آپریشن کے زاویے ہی بدل دیئے، انہیں 2005 میں قتل کرکے ان کے ایجاد کردہ آلے اور علمی تحقیقاتی مسودات کو بھی چرالیا گیا۔ یحییٰ المشدنامی جوہری سائنسدان کو فرانس میں قتل کیا گیا۔ سمیرہ موسیٰ نامی سائنسدان کہ جنہوں نے ایٹمی توانائی کے طبی مقاصد میں استعمال سے متعلق ایجادات اور تحقیق کی، انہیں بھی قتل کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایران کے متعدد سائنسدان بالخصوص دفاعی ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد کو موساد کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔اس کا کوئی جواب ان کے پاس نہیں ہوگا لیکن اس کے باوجود وہ کوشش کریں گے کہ یہ ملبہ بھی کسی نہ کسی طرح تکفیریوں پر ہی ڈال دیا جائے۔

جب تک ہم  فرقوں کی منافرت، مقامی مسائل، گلی محلے کی لڑائیوں اور انتقامی سوچ سے باہر نہیں نکلتے ، تب تک ہم استشراق، دشمن کے جاسوسی اداروں اور استعمار و استکبار کی سازشوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ عصر حاضر میں امت مسلمہ کا دشمن کون ہے!اس کی تاریخ کیا ہے؟ اس کے اہداف کیا ہیں، اس کا طریقہ واردات کیا ہے؟دشمن کس طرف مورچہ زن ہے ؟ اور دشمن کی سپلائی لائن کہاں ہے؟ ان سب باتوں کو سمجھے بغیر  دشمن کی سازشوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔


تحریر:نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Page 1 of 259

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree