وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری فلاح وبہبود نثارعلی فیضی نے کہا کہ قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے داعی اور امریکہ و اسرائیلی مفادات کے لئے ایک بڑا خطرہ تھے قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی شہادت کے بعد پاکستان میں تکفیری سوچ کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا آج اسلام کو سب سے بڑا چیلنج سلفیت و تکفیریت کی سوچ سے ہے یہ سوچ کہیں داعش کہیں طالبان اور کہیں عرب بادشاہوں کی شکل میں اسلام کے چہرے کومسخ کر رہی ہے اسی فکرکے علمبر دار جنت البقیع مدینہ میں مزارات کے انہدام سے شروع ہو کر آج عراق میں پیغمبروں اور اصحاب رسولﷺ کے مزاروں کو مسمار کر رہے ہیں آج سلفیت ،بربریت کی علمبر دار بن چکی ہے آج غزہ میں کربلا بپا ہے معصوم بچے ،بوڑھے،نوجوان اور خواتین صہیونی بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن ان سلفی و تکفیری عرب حکمرانوں نے صہیونیت کی خوشنودی کےلئے خاموشی اختیار کر کے ثابت کردیا کہ اُن کا اصل آقا امریکہ و اسرائیل ہے لیکن دوسری طرف انسانیت کا پرچم حق پسندوں اور حسین ؑ کے متوالوں نے اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا ہے اور اپنی بیداری ووحدت کی قوت کے ساتھ اس فکر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن چکے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی 26ویں برسی کے موقع پر اپنے ایک خصوصی بیان میں کیا۔

 

نثار علی فیضی نے کہا کہ پاکستان میں بھی اسوقت نواز حکومت سلفی حکومتوں کی اتحادی ہے جسکی موجودگی میں ظلم و بر بر یت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے سانحہ ماڈل ٹاﺅن نواز حکومت پر ایک بدنما داغ ہے جس سے نواز حکومت کی سلفی سوچ کھل کر سامنے ا ٓ گئی ہے انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان میں سنی شیعہ اتحاد پر ایمان رکھتی ہے سلفیت کے مقابلے میں آج یہ اتحاد عالم اسلام کے خلاف سازشوں کو پاکستان میں ناکام بنائے گا 5 اگست سے12 اگست تک ہفتہ شہداءمنا کر ہم اپنے شہداءکی اس رستے پر قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے اور بلخصوص اپنے محبوب قائد شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس ملک کو وحدت و اخوت اور امن کا گہوارہ بنائیں گے ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے پارا چنار کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقہ کے عمائدین اور علمائے کرام ملی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں، تشیع کے بنیادی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، تاہم اتحاو و وحدت کے ذریعے حقوق کا تحفظ ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارا چنار کی صورتحال کے حوالے سے ’’اسلام ٹائمز‘‘ کیساتھ ٹیلی فونک بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پارا چنار میں اپنی مرضی کی قومی انجمن چاہتی ہے، جو وہاں کے پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے شیعی مفادات کیخلاف اور حکومتی مفادات کے تحفظ کیلئے کام کرے، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ پارا چنار کے تمام عمائدین، مشران اور علمائے کرام قومی مفادات کی حفاظت پر متفق ہوں، اور کسی بھی بیرونی قوت کو ملت تشیع کے حقوق پر شب خون مارنے کا موقع نہ دیں، ان کا کہنا تھا کہ پارا چنار ایک حساس علاقہ ہے، اور دشمن کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ یہاں ملت تشیع کے مابین اختلافات کو فروغ دے، اور اسی قسم کی سازش ایک مرتبہ پھر کی جا رہی، تاہم عمائدین کو ان سازشوں کو اتحاد و وحدت کے ذریعے ہی ناکام بنانا ہوگا۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ  اپوزیشن  جماعتوں کے انقلاب مارچ کی بھرپور حمایت اور کلیدی کردار ادا کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، یوم شہداء میں بھرپور شرکت کرکے مظلوموں کیساتھ مکمل اظہار یکجہتی کریں گے،انقلاب مارچ پاکستان کےبیروزگاری، مہنگائی،لاقانونیت، بدامنی اور سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں یرغمال عوام کے لئے نوید سحر ثابت ہوگا،مرکزی و صوبائی کابینہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ملک پر قابض ان حکمرانوں نے عوام کو استحصالی سیاسی سسٹم  کے سوا کچھ نہیں دیا، اپوزیشن جماعتوں کے اصلاحی ایجنڈے میں پاکستان کے 66 سالوں سے آئینی حقوق سے محروم عوام کو مکمل آئینی حقوق دینے کی شق شامل کروائی ہے، جو پاکستان کی تاریخ میں گلگت بلتستان کے عوام کے حق میں قومی جماعتوں کی پہلی آواز ہے، غربت، مہنگائی، دہشت گردی، کرپشن اور استحصالی سیاسی نظام سے تنگ عوام تیاری کریں ، اسلام آباد کے رئیسانی کو گھر بھیجنے کا وقت آپہنچا ہےپاکستان کے عوام نے ان حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے، پاکستان میں شیعہ سنی اکٹھا ہو کر پاکستان پچانے کے لئے نکلیں گے، اہل سنت کے ساتھ اسٹریجیٹک پارٹنر شپ کے قیام سے شہید قائدعلامہ عارف حسین الحسینی کا دیرینہ خواب پورا کردیا۔

 

علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ان حکمرانوں کی آمرانہ پالیسیوں نے جمہوری اقدار کو داغ دار کر دیا ہے۔ ماڈل ٹاوُن کے شہداء ہمارے شہداء ہیں، ہم ان کے بے گناہ خون کو رائیگاں نہیں جانے دینگے۔ علامہ ناصر عباس جعفری کا مزید کہنا تھا کہ احتجاج، جلسے جلوس اور ریلیاں عوام کا جمہوری حق ہے اور حکمرانوں نے عوام کو ہراساں کرکے حالات خراب کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات اور ملک بھر سے آنے والے ردعمل کے ذمہ دار حکمران ہی ہونگے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے انقلاب مارچ میں حکومتی رکاوٹ کی صورت میں متنبہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پرامن عوام کو اپنی آئینی و قانونی حقوق کی جدو جہد سے روکا گیا تو ملک بھر کے شاہراہوں اور چوراہوں پر دھرنے دیے جائیں ملک بھر میں عوام پر کسی قسم کے تشدد یا ہراساں کرنے کی صورت میں پیش آنے والے واقعے کی ذمہ دار اس صوبے کی حکومت اور وفاقی حکمران ہونگے ، مجلس وحدت مسلمین کی یہ خواہش ہیں کہ تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر اس نظام کیخلاف نکلیں، تاہم ان اقتدار پر قابض لیٹروں کیخلاف ہم میداں خالی نہیں چھوڑیں گے، پاکستان کو حقیقی قائد کا پاکستان بنانے میں ہم بھرپور کردار ادا کریں گے، پاکستان کو ظالم ، جابر اور قابض سعودی نواز حکومت سے نجات دلوانے کے لئے مجلس وحدت مسلمین ،پاکستان عوامی تحریک ، سنی اتحاد کونسل اور مسلم لیگ ق مشترکہ طور ہر میدان میں نکلیں گی۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے قومی اپوزیشن پارٹیز کو پیش کیئے گئے چاروں اضافی نکات کے تسلیم ہونےکا باقائدہ نوٹس پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے جاری کردیا گیا ہے، نوٹس پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکریٹری جنرل خرم نواز گنڈہ پور کی جانب سے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی پولیٹیکل سیکریٹری ناصر عباس شیرازی کے نام جاری گیا گیا ہے، جس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مطالبات کو قومی اپوزیشن پارٹیز کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا حصّہ بنایا گيا ہے، ناصر شیرازی نے وحدت نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اپوزیشن پارٹیز کی جانب سےاصلاحاتی ایجنڈے میں  ایم ڈبلیوایم کے اضافی اصلاحاتی نکات کی شمولیت انقلابی تحریک میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی، ایم ڈبلیوایم نے ایجنڈے میں خطہ بے آئین گلگت بلتستان کےآئینی وسیاسی حقوق کے حصول کو سر فہرست رکھا ہے جو کہ   وہاں کہ عوام کا 66سالہ پرانا مطالبہ ہے، ناصر شیرازی کے مطابق ایم ڈبلیوایم کے تسلیم شدہ چارمطالبات درج ذیل  ہیں۔

 

۱)گلگت بلتستان کو پاکستان کے مکمل آئینی صوبے کی حیثیت دے کر قومی اسمبلی اور سینٹ میں گلگت بلتستان کی مکمل نمآئندگی یقینی بنای جاۓ گی۔

۲)تکفیریت آئینی اور قانونی جرم ہے، شیعہ و سنی مسلّمہ اسلامی مکاتب فکر ميں سے کسی کی بھی تکفیر ناقابل تلافی جرم قرار دی جاۓ گی اور اس کے حسبِ ضرورت آئینی ترامیم کی جائيں گی۔

۳) عسکری دہشت گردوں، جنہوں نے وطن عزیز کے اسٹریٹجک ایسٹس، پاک فوج اور بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہوۓ ہیں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف بھرپور کاروائی کی ج ضرورت ہے۔ بے لاگ احتسابی عمل کے ذریعے قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو قرار واقعی سزائيں دی جائيں گی۔

۴) اوقاف کے نظام میں انقلابی اصلاحات کرتے ہوۓ اس کے 2 الگ شعبہ قائم کیے جائیں گے۔ 1۔ شعبہ اوقاف اہلِ سنت 2۔ شعبہ اوقافِ اہل تشیع ان دونوں شعبہ جات کی گورننگ باڈی ميں ان مکاتب فکر کی نمائندہ جماعتوں کی بھرپور نمائندگی یقینی بنائی جاۓ گی۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصرعباس جعفری نے صوبائی سیکریٹریٹ پنجاب میں تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام اضلاع کو ہدایات جاری کی ہیں کہ قائد شہید سالار شہدائے پاکستان علامہ سید عارف حسین الحسینی کی 26ویں برسی کے موقع پر ملک بھر میں ہفتہ شہداء منایا جائے، قرآن خوانی ، مجالس عزااور سیمینار ز کے زریعے شہید قائد کی عظیم قربانی کو خراج تحسین پیش کیا جائے، ایم ڈبلیوایم 10اگست کو لاہور میں منعقدہ یوم شہداء میں بھر پور شرکت کرے گی، ماڈل ٹاون کے شہداء بھی ہمارے اپنے شہداء ہیں ، شہید قائد عارف حسینی نے عالمی استعماری قوتوں کےناپاک چہروں سے نقابیں نوچ کر انہیں رسوا کرنے کا عظیم کارنامہ انجام دیا، ملت پاکستان کو امریکی سامراجی تسلط سے نجات کے لئے کمر بستہ ہونے کی جرائت عطاکی ، مجلس وحدت مسلمین شہید قائد کی تعلیمات کی روشنی میں پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کی عملی کوششوں میں مصروف ہے،سنی اتحاد کونسل اور پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ برادرانہ سیاسی تعلقات شہید قائد کی سیرت کی عملی اتباءہے، پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اور ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے میں رکاوٹ بننے کے لئے ہمیں قائد شہید کے فرامین کا مطالعہ کرنا ہوگا، شہید قائد سرزمین پاکستان پر تنہا امام خمینی کے انقلابی پیامبر تھے، عالمی سامراجی ایجنٹوں نے شہید قائد کی مدبرانہ وشجاعانہ قیادت کو بھانپتےہوئے انہیں حالت وضو میں مسجد میں شہید کر دیا۔

وحدت نیوز(اسکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویژن کا ایک ہنگامی اجلاس ڈویژنل سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں بلتستان کی حالیہ کشیدہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بلتستان اور گنگچھے میں ہونے والے افسوسناک واقعات دراصل بیرونی خفیہ عناصر بالخصوص امریکی اداروں کی سازشوں کا شاخسانہ ہے اور اس سلسلے میں بلتستان انتظامیہ کی کارکردگی بھی افسوسناک رہی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویژن کے رہنماوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جب تمام مسلکی، علاقائی اور لسانی اختلافات داریل و چلاس سے گنگچھے تک مٹ گئے اور تمام مسلمان بھائی بھائی بن گئے تو یہ کام ملک دشمن عناصر سے ہضم نہیں ہو رہے تھے۔ دشمن کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ تمام اسلامی مکاتب آپس میں دست و گریباں رہیں اور خطے میں لسانی و علاقائی تعصب جاری رہے۔ بلتستان اور خپلو کے غیور عوام کو جاننا چاہیئے کہ جب سے یہاں کی عوام متحد ہو کر حقوق کی بات کرنے لگی ہے تو اس میں رخنہ ڈالنے والی مختلف مشنریاں سرگرم ہوئیں ہیں۔ جوانوں اور عوام کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ شیعہ، سنی، نوربخشی، اہلحدیث دراصل یہ سب ایک ہی باغ کے گلدستے ہیں۔ ان کے درمیان تفرقہ ڈالنا اسلام دشمن عناصر کا کام ہے۔ اسی طرح علاقائی اور لسانی بنیادوں پر تفرقہ حسینیوں کا شعار نہیں، اگر بلتستان انتظامیہ ان واقعات میں فوری اور منصفانہ اقدامات اٹھاتے تو معاملہ ہرگز نہیں بگڑتا۔

 

رہنماوں کا مذید کہنا تھا کہ بلتستان بھر کے جوانان کم از کم اس بات کا احساس کریں کہ ایک طرف غزہ میں مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی وحشیانہ مظالم جاری ہیں اور مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں تو دوسری طرف بلتستان اور گنگچھے میں ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے درپے ہیں جو کہ نہایت شرمناک عمل ہے۔ یہاں کی عوام اور جوان باشعور ہیں اور دینی جذبات رکھنے والے ہیں انہیں لسانی بتوں کو توڑ کر ملک و ملت کے لیے اپنی توانائیوں کو صرف کرنا چاہیئے۔ بلتستان میں پے در پے حملے اور افسوسناک واقعات ایک بڑی اور منظم سازش معلوم ہوتی ہے۔ حساس ادارے اپنا مثبت کردار ادا کریں اور لسانی، علاقائی اور مسلکی اختلافات کے ذریعے بلتستان کے امن کو تباہ کرنے والوں کا گھیرا تنگ کیا جائے۔ مجلس وحدت مسلمین بلتستان بھر میں امن اور بلتستان کے مثالی اتحاد کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو ہرگز کامیاب ہونے نہیں دے گی۔ شیعہ، سنی، نوربخشی، اہلحدیث، شینا، بلتی، گلگتی ، یشکن یہ سارے تفرقات اور تقسیم بندیوں کے نتیجے میں اسلام اور پاکستان نے کمزور ہونا ہے لہٰذا سب کا فرض بنتا ہے کہ مسلکی اور علاقائی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اسلام کی سربلندی اور وطن عزیز پاکستان کی استحکام کے لیے کام کریں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree