وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصرعباس جعفری نے امام بارگاہ مدینتہ العلم میں مشرق وسطیٰ خصوصاًیمن پر سعودی جارحیت کے موضوع پر سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین پر لاکھوں جانیں قربان لیکن مسلمانوں کی قاتل بادشاہت کا دفاع حرام ہے، یمن ، عراق ، شام ، لبنان ، ایران اور بحرین کے خلاف گھڑے کھودنے والے خود اس میں گرنے کیلئے تیار رہیں ، پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی اثرورسوخ ختم ہوچکا ہے، یمن خطے میں اسٹریٹیجکل نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، احادیث کی روشنی میں اہل یمن کو صاحبان عقل وایمان کہا گیا ہے، جبکہ آل سعودونجدیوں کو شیطان کا سینگ کہا گیا ہے،یمن میں 50لاکھ حوثی سادات مقیم ہیں ، جو امام حسن وحسین علیہ السلام کی اولاد ہیں ، کل آبادی کا 60%زیدی فرقہ پر مشتمل ہے، جنہوں نے ایک ہزار برس یمن پر حکومت کی ، یمنی حوثی انقلابیوں کو باغی کہنا ان کی توہین ہے، حوثی یمن کی سیاسی حقیقت ہیں جو وہا ں سیاسی دہارے کا حصہ رہے ہیں ، معزول یمنی صدرعلی عبد اللہ صالح خود حوثی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے، یمن میں رہائش پزیر اثناعشری اور اسماعیلی تعداد میں کم ہیں ، اہل سنت آبادی شافعی مسلک کی پیروکارہے، جن کی اکثریت حوثی تحریک انصار اللہ میں شامل ہے،انصار اللہ کے یمن پر کنڑول کے بعد تاریخ ساز نماز جمعہ کے اجتماع میں تمام حوثیوں نے شافعی اہل سنت امام کی اقتداء میں ملین کی تعداد میں شرکت کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یمن میں کوئی فرقہ وارانہ لڑائی نہیں ، یمن میں موجود وہابی القاعدہ ، داعش، اخوان المسلمون اور سعودیہ کے حامی ہیں ، جو کہ یمن میں افراتفری اور انتشار کے خواہاں ہیں ، حوثی انقلابی تحریک انصار اللہ کسی صورت القاعدہ ، داعش یا بوکو حرام کی طرح دہشت گرد گروہ نہیں بلکہ عوامی جدوجہد سے مضبوط جمہوری حکومت کی تشکیل میں کوشاں ہے، جن کے نذدیک فقط یمن کی سلامتی ، استحکام اور بقاء اہمیت کی حامل ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ 31برس تک سعودی مداخلت سے تکفیری عناصرنے یمن میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی ،مجالس و محافل پر حملے ہوئے، مقتدر مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، سعودیہ نے یمن سمیت دنیا بھر ہو غیر مستحکم کرنے اور اپنی شہنشاہیت کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے القاعدہ کا ہیڈ کوارٹر یمن میں قائم کیا ، یمنی دارالخلافہ صنعاء میں سعودیہ نے اسلامک یونیورسٹی قائم کی گئی جس کا چانسلر اسامہ بن لادن کے استاد کو بنایا گیا، سعودیہ عرب جو آج یمن میں اپنی سرحدی سالمیت کے خاطر حملہ آور ہے کبھی غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں اسرائیل پر ایک پتھر تک نہ مارا،سلطنت عثمانیہ کے تخت کو تاراج کرنے میں کسی صہیونی اور امریکی ریاست نے نہیں بلکہ اسی سعودی حکومت نے اپنا کردار ادا کیا، مصر کی منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سرمایہ کاری کرکے مرسی کے اقتدار کا خاتمہ کرنے آمرجنرل سیسی کو برسراقتدار کرنے کاسہرا بھی اسی سعودی حکومت کے سر ہے، حرمین شریفین کا تحفظ کسی ایک مسلک نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ پر فرض ہے لیکن بے گناہ مسلمانوں کے قاتل نام نہاد خادم حرمین کا دفاع کسی صورت واجب نہیں ،سعودی سرحدوں کی حفاظت کے ٹھیکیدار اپنی اصلاح کرلیں یمنی مجاہدین نے سعودیہ پر حملہ نہیں کیا بلکہ سعودی افواج نے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے یمن میں فضائی بمباری کی سینکڑوں بے گناہ خواتین اور شیر خوار بچوں اور شہریوں کو بے دردی سے خاک وخون میں غلطاں کیا ہے، سعودی عرب کی خیانتوں اور جنایت کاریوں نے ثابت کردیا کہ وہ عالم اسلام کا اسرائیل ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ سعودیہ عرب ، امریکہ اور اسرائیل ہماری سیاسی طاقت سے خوفزدہ ہیں ، جس قوم کی سیاسی قوت نہیں ہوتی ٹھوکریں اس قوم کو مقدر ہوتی ہیں ، اگر آپ پاور کوریڈورمیں نہ ہوں تو آپ کی مرضی کے خلاف فیصلے ہونگے، انہوں نے کہا کہسید حسن نصراللہ نے مجھے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کا اسلحہ اٹھانا شرعاًحرام ہے،کیوں کہ بحیثیت سیکریٹری جنرل اگر ناصرعباس سے سوال ہو تو آپ کے سینے پر بوجھ نہ ہو، سید نے کہا کہ پر امن عوامی جدوجہد ہی حقوق کے حصول کا واحد راستہ ہے، ہمیں جمہوری جدوجہدسے اپنی فوج پر دہشت گردوں کے خلاف ملک گیر آپریشن کیلئے پریشر ڈالنا ہے، انہیں تکفیریت کے ناسور کے خاتمے پر مجبور کرنا ہے،یمنی حوثی بھی بالکل اسی انداز میں ڈیموکریٹک موومنٹ لیکر چلے ہیں جس میں یمن کی 90%عوام بلا تفریق ان کے شانہ بشانہ ظالم اور کرپٹ نظام حکومت سے نجات کی جدوجہدمیں مصروف ہیں ، یمنی لیڈر شپ اپنے وطن سے مخلص ہے، وطن سے محبت انکا خاصہ ہے، اسی بناء پر عوام کی اکثریت اور مسلح افواج تحریک انصار اللہ کی جدوجہد کو سپورٹ کررہے ہیں اور سعودی جارحیت کا منہ توڑ جواب بھی دے رہے ہیں ۔

 

انہوں نے کہا کہ علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبدالرب منصورہادی بر سراقتدار آیا لیکن استحصالی رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی ، عوامی مسائل جو کہ توں رہے، یمنی عوام نے نااہل حکومت کے خلاف قیام کیا، منصور ہادی کو فرار کے بعد سعودی عرب نے پناہ دی اور اب یمنی انقلابی تحریک سے خوفزدہ ہو کرجارحیت پر اتر آیا ہے، امریکی ایماء پر یمنی عوام کے خلاف اس سعودی جارحیت میں مزید نو ممالک بھی شامل ہیں ، مشہور مثل ہے کہ جو کسی کیلئے گڑھا کھودتا تھا ایک روز خود اس میں گرتا ہے، جبکہ خدا کے نذدیک مکافات عمل کا قانون بھی موجود ہے، لہذٰا یمن ، عراق ، شام ، لبنان ، ایران اور بحرین کے خلاف گھڑے کھودنے والے خود اس میں گرنے کیلئے تیار رہیں ، اگر ہماری پاکستانی افواج بھی اس ڈوبتی کشتی میں سوار ہونا چائیں گی تو سوائے بربادی کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا، جنرل راحیل خود کو جنرل ضیاء کی راہ پر چلنے سے بچائیں ،اگر پاک فوج نے یمن کے مظلوم عوام کے مقابل جارح سعودی حکومت کا ساتھ دیا تو دین اسلام کے ساتھ خیانت شمار ہوگی، ہم ایسا ہر گز نہیں ہونے دیں گے۔

وحدت نیوز (لاہور) پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں ناعاقبت اندیش حکمرانوں کو مشرق وسطیٰ کی،، پراکسی وار،، کو پاکستان لانے سے روکیں،افواج پاکستان کو عوام میں متنازعہ بنانے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دینگے،ہم نے ہمیشہ لوگوں کے مفادات کی جنگ لڑی جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے،پاکستان کو اس نازک دور میں جوش سے نہیں ہوش سے پالیسیاں بنانی ہوں گیں،قوم مزید پرائی آگ کا ایدھن بننے کے لئے تیار نہیں،پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے حکومت کومشرق وسطیٰ کی پراکسی وار سے دور رہنے کی تلقین خوش آئند ہے،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکریٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کے حکمران اسرائیل کو تحفظ دینے کے لئے مسلم امہ میں تفرقہ ڈال رہے ہیں،جہاں بھی اسرائیل مخالف حکومتیں ہیں وہیں ان ممالک نے دہشت گردوں کی حمایت کرکے ان کے خلاف سازشیں کی ہیں،غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی پر ان حکمرانوں کو یہ احساس نہیں ہوا کہ عرب سر زمین پر یہودی مسلمانوں پر شب خون مار رہے ہیں،مصر میں اخوان المسلمین کی منتخب حکومت کو گرا کر اسرائیل نواز ڈکٹیٹر کو مصری عوام پر مسلط کیا گیا،شام اور عراق میں النصرہ اور داعش کو مسلمانوں کے قتل عام اور اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لئے مالی امداد اور ٹریننگ دی گئی،اب جبکہ اُن ملکوں سے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا تو یمن میں مسلمانوں کیخلاف محاذ کھول دیے ہیں ،یمن میں جارحیت کی حمایت میں اسرائیل کے بیان پر مسلمانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیئں۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت ہوش کے ناخن لے اور پرائی آگ سے اپنے گھر کو جلانے کی کوشش نہ کر،پاکستان کی جن سیاسی مذہبی جماعتوں نے اس نازک صورت حال سے دور رہنے کی پالیسی پر دوک ٹوک الفاظ زمیں زوردیا وہ لائق تحسین ہیں،پاکستان اب کسی پراکسی وار کامتحمل نہیں،ہمیں اپنے گھر کو بچانا ہے،ہماری افواج ہمارا سرمایہ ہے ہم اپنی غیرت مند اور شجاع افواج کو کسی کی پراکسی وار میں دھکیلنے کی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ پاکستان کو سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری جنگ میں ثالثی کاکردار ادا کرنے کی ضرورت ہے،نواز شریف اور جنرل راحیل شریف پاکستانی افواج کو یمن میں لگی نا بجھنے والی آگ سے دور رکھیں، یمن میں فرقہ وارانہ جنگ کا شور مچانے والے حکمران اور میڈیااپنی تصحیح کرلیں حوثی قوم شافعی مسلک کے امام کی اقتدا ء میں نما زجمعہ ادا کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یمن کے نہتے مظلوم شہریوں پر سعودی اور اتحادی جارح افواج کی بمباری کے خلاف پاک محرم ہال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ان ہمراہ علامہ باقر عباس زیدی، علامہ مبشر حسن، علی حسین نقوی، علامہ صادق جعفری اور علامہ احسان دانش بھی موجود تھے۔

 

 علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ سعودی افواج نہتے معصوم بچوں، خواتین، بزرگوں کو میزائلوں کا نشانہ بنا رہی ہیں ،سعودی حکومت اگر خودکواتنا ہی جمہوریت پسندطاقت سمجھتی ہے تو غزہ کے عوام کی حمایت میں اسرائیل پر کیوں حملہ نہیں کرتی، یمن کا یہ محاذایسے وقت میں کھولا گیا ہے کہ جب عراق اور شام میں داعش کو عبرت ناک شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے، مشرق وسطی میں مسلمانوں کے درمیان نا امنی امریکی اور اسرائیلی ایجنڈہ ہے جس میں سعودیہ ان کا سپورٹر ہے، القائدہ کی حوثیوں کے ہاتھوں بد ترین شکست کے بعد بدلینے کیلئے سعودی افواج بارہا یمن پر حملے کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمنی حوثیوں کو باغی کہنا ان کی توہین ہے حوثی یمن کی پولیٹیکل پاور ہیں ، بیرونی جارحیت کے خلاف برسرپیکار کسی ملک کی اکثریت کو باغی نہیں کہا جاتا،یمن میں فرقہ وارانہ جنگ کا شور مچانے والے حکمران اور میڈیااپنی تصحیح کرلیں،حوثی قوم شافعی مسلک کے امام کی اقتدا ء میں نما زجمعہ ادا کرتے ہیں، غیر جانبدار میڈیا کے مطابق آج پوری یمنی قوم نماز جمعہ کے بعد سڑکوں پر موجود ہیں اور سعودی اور اتحادی افواج کی جارحیت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

 

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے پاک افواج کی یمن میں مداخلت کی مخالفت قابل ستائش ہے، پاک فوج کوئی کرائے پر دستیاب فوج نہیں جس کا جہاں دل چاہے استعمال کرے،اردن میں بے گناہ فلسطینیوں کا جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں قتل عام آج تک ہمارے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے،سعودی سرحدی سالمیت کے ٹھیکیدار خواجہ آصف بتائیں کیا یمنی عوام میزائلوں اور بموں کے بدلے پھولوں کے تحفے بھیجیں ؟کوئی سعودیہ کی سالمیت پر حملہ آور نہیں بلکہ سعودیہ یمن کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وحشیانہ بمباری میں مصروف ہے، امت مسلمہ کے خلاف مشرق وسطیٰ میں جاری سازشوں کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے، اگر نواز شریف نے اپنے ذاتی مقاصدکے حصول کیلئے فوج کو یمنی آگ میں جھونکنے کی کوشش کی توپاکستانی عوام اور پالیمانی قوتوں کے ساتھ ملکرجنگ مخالف اور امن بحالی تحریک کا آغا ز کریں گے، پاکستان کو سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری جنگ میں ثالثی کاکردار ادا کرنے کی ضرورت ہے،یمنی عوام باغی نہیں حریت پسند ہیں ، اگر وہ باغی ہیں تو امریکی استعماریت کے باغی ہیں ، اسرائیلی سازشوں کے باغی ہیں ، سعودی جارحیت کے باغی ہیں ، یمنی عوام اپنے ملک میں مضبوط جمہوری حکومت چاہتے ہیں ۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطی کے کسی بھی خطے میں مستحکم جمہوری حکومت سعودی مفادات کے خلاف ہے، جس سے سعودی شہنشایت کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں ، مصر میں مرسی کی منتخب جمہوری حکومت اسی سعودیہ عرب کی سازشوں کے نتیجے میں ختم ہوئی، یمنی عوام اور لیڈر شپ کے نزدیک سعودیہ انکا بدترین پڑوسی ہے، جو ان کی خودمختاری اور سالمیت کا سب سے بڑا دشمن ہے، نواز شریف اور جنرل راحیل شریف پاکستان کو یمن میں لگی نا بجھنے والی آگ سے دور رکھیں ،پاکستان کوئی سعودیہ کا پٹھو ملک نہیں، ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز ، دہشت گردی اور آپریشن ضرب عضب کسی صورت ہمیں یمن کی آگ میں کودنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں جا ری ٹارگٹڈ آپریشن بلاتفریق ہو نا چاہئے،سپریم کورٹ کی حکم کی روشنی میں دہشت گردی میں ملوث تمام سیاسی ومذہبی تنظیموں کے خلاف بے رحمانہ آپریشن کیا جائے۔

وحدت نیوز (نوشہروفیروز) حکمرانوں نے اپنی پرانی روش اختیار کرکے قومی ایکشن پلان کو ناکارہ بنا دیا ہے اور دہشتگردوں کے خلاف کوئی باضابطہ کارروائی نہیں کی جا رہی جس سے لگتا ہے کہ حکمران خود دہشتگردوں کے ساتھ ہیں. ان خیالات کا اظہار وارثان شہداء کمیٹی شکارپور کے چیئرمین علامہ مقصود ڈومکی نے وحدت ہاؤس نوشہروفیروز میں پریس کانفرنس کرتے ہوۓ کیا.  انہوں نے کہا کے صوبائی حکومت کی جانب سےشہداء کے لواحقین کو امدادی چیک دے کر ان کی ہمدردیاں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ وارثین حکومت پر عدم اعتماد کرتے ہوئے قاتلوں کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لانگ مارچ میں کئے گئے وعدے بھی اب تک پورے نہیں کئے گئے اس لئے ہم لبیک یا زینب (س) مارچ کا آغاز کرنے جا رہے ہیں. اس موقعے پر صوبائی سیکریٹری فلاح و بھبود سندھ سید امتیاز حسین، ضلعی سیکریٹری جنرل اعجاز ممنائی، ڈپٹی سیکریٹری وقار حیدر عابدی، مولانا یوسف حسینی، انصار الحسن میمن، اطہر علی مطہری اور دیگر موجود تھے۔

وحدت نیوز (نجف اشرف) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ نجف اشرف کے سیکریٹری جنرل علامہ الشیخ ناصرعباس النجفی  نے   یمن کے مظلوم مسلمانوں پر آل سعود اور اسرائیل سمیت بننے والے اتحادی ممالک کے حملے کی پر زور الفاظ میں مزمت کی ہے.وحدت ہاوس نجف اشرف سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ جزیرہ عرب میں سعودی عرب  فرقہ وارانہ جنگ کا آ غا ز کرکے عالم اسلام کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے.یمن میں شیعہ اور سنی مسلمانوں نے مل کر سعودی عرب کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ہے .اور اپنے وطن کی مٹی اور حرمت کی حفاظت کی قسم کھائی ہے.جنونی سعودی عرب یمن کی مظلوم شیعہ سنی عوام کے خلاف جنگ کرکے اپنی نابودی کا سامان خود مہیا کر رہا ہے.اب آل یہود اور سعود کی بربادی کا وقت قریب ہے.اب دنیا کی کوئی طاقت انھیں اس بربادی سے نہیں بچا سکتی.پاکستان اس فرقہ وارانہ جنگ کا حصہ نہ بنے.کیونکہ پاکستان شیعہ اور سنی مسلمانوں کا مشترکہ ملک ہے.فوج کا کام مملکت خدا داد پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے. عالمی میڈیا اور سعودی حکام کے مطابق پاکستان بھی اس جنگ کا حصہ ہے.اس سے عرب دنیا میں پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف بری تیزی سے نفرت پھیل رہی ہے.

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان میں ایم ڈبلیوایم کے کونسلرکربلائی عباس علی نے کہا ہے کہ انتہا پسندی سے پاک متحد اور خوشحال پاکستان ہماری منزل ہے سنجیدہ اور اصولی سیاست ہی مہذب قوموں کی پہچان ہے قیام امن کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو احتسابی عمل سے گزرنا ہوگا۔ قومی سطح کی پالیسیوں کو نہ صرف معاشرتی ضروریات اور موجودہ صورتحال کا عکاس ہونا چاہئے بلکہ عوام کے حقیقی مسائل و مشکلات کے پائیدا ر حل کا ضامن ہونا چاہئے یہ پالیسیاں محض فائلوں تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ ان پر عمل در آمد کر کے ان کے ثمرات عوام تک پہنچا نا ضروری ہے حقیقی جمہوریت کا مطلب عوام کے یکساں حقوق اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ معاشرے میں نا برابری کی صورتحال ہی پیدا نہ ہو ہمارا محور امن پسندی ، بھائی چارگی اور روا داری ہونا چاہئے۔ محاذ آرائی اور مفاد ات کی سیاست نے ہمیں پسماندگی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے ہمیں اپنے ماضی سے سبق لیتے ہوئے اپنے مستقبل کا از سر نوتعین کرنا ہوگا مفاہمتی سیاسی عمل کا تسلسل ترقی و خوشحالی کی کنجی ہے ۔ سیاست میں مثبت فیصلے آنے والے وقتوں میں یاد رکھا جائے گا ۔ غربت پسماندگی اور جہالت کی وجہ سے عوام معاشرتی برائیوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور فکری بے چینی کے اصل اسباب اور محرکات کو نظر انداز کر کے محض اپنے بیانات اور تقریروں کو رنگین بنانے کیلئے عوام کے مسائل اور ان کے درمیان اتحاد و اتفاق کی باتوں کا سہارا لینے سے عوام متحد نہیں ہونگے تقسیم در تقسیم کے عمل کے اصل اسباب کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ استحکام مادر وطن ہو یا بقائے جمہوریت ہو ہمیں ہر کٹھن گھڑی میں اپنا کلیدی کردار با طریق احسن ادا کرنا چاہئے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree