وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان میں ڈویثرنل رہنماؤں سید عباس علی، علامہ ولایت جعفری، رشید طوری اور دیگرنے کہا ہے کہ سنجیدہ تجزیے کی بنیاد غیر جانبدارانہ تحقیق ہوتی ہے۔ دلیل کی بنیا د پر آپ کسی بھی نکتے کو درست یا غلط ثابت کرتے ہیں اور جذباتیت سے کام نہیں لیتے ۔ پے در پے حادثوں اور فریب کاری نے ہمیں فکری اعتبار سے بانجھ کر دیا ہے۔ غیر یقینی صورتحال اس کا منطقی نتیجہ ہے۔ لیکن اس وقت درپیش مسئلہ انتہائی حساس ہے یعنی سعودی عرب اور یمن کے داخلی معاملات ہیں۔ فوج کو ہر ایشو اور محاذ پر الجھانا دانش مندی نہیں ہے۔ یمن اور سعودی عرب کی لڑائی میں حکومت پاکستان کو جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے ۔ ہمارا حق نہیں بنتا کہ سعودی حکمرانوں کی بادشاہت بچائیں۔ پاکستانی فوج اپنے ملک میں رہے کسی دوسرے ملک کی جنگ کا حصہ نہ بنے۔پاک افواج ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف پہلے ہی میدان عمل میں ہے۔ ذاتی دوستی ، روابط اور رشتہ داریوں کی بنیاد پر فیصلے کو ملک و قوم پر مسلط نہ کیا جائے۔یمن کے حالات میں براہ راست مداخلت کے منفی اثرات پاکستان کے اندرونی حالات اور خطے کی صورتحال کو متاثر کر سکتی ہے۔

 

رہنماؤں کا مزید کہناتھا کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ فیصلے ذاتی ، مفاداتی و جذباتی نہیں نظریاتی ہونے چاہیے۔یمن پر حملے کی حمایت غیر منطقی ہے۔ یمن سمیت دنیا کے کسی ملک میں فرقہ وارانہ لڑائی نہیں ہے ۔ حکومت نے یمن پر حملے کی تائید کرکے پاکستان کے امیج کو نقصان پہنچایا۔ حکمران اپنی غلط پالیسیوں سے فوج کو داغ دار کررہے ہیں۔ اسلام دشمن عالمی قوتیں عالم اسلام میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ مسلم امہ کو تقسیم کرنے کی سازشیں تیز ہوگئی ہے۔پاکستانی قوم پہلے ہی پرائی لڑائی میں ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکی ہے اور اب سعودی جنگ میں شمولیت سے ملک میں انتشار پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ ہمیں مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ہر قسم کی عملی شرکت سے گریز کرکے اپنے داخلی اتحاد کو بچانا ہوگا۔

وحدت نیوز (گلگت) سعودی عرب میں حرمین شریفین واقع ہونے کی وجہ سے آل سعود محترم نہیں ہونگے بلکہ سرزمین مکہ و مدینہ تمام مسلمانوں کے نزدیک محترم ہیں۔مقدس مقامات کی وجہ سے حکمران مقدس ہوتے ہیں تو پھر یہودی ریاست بھی محترم ہوتی، مقدس مقامات اور حجاز کے ناجائز حاکم کو الگ الگ تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ مجلس وحدت مسلمین نے یمن پر سعودی جارحیت کی مذمت میں ریلی نکالی اور مظلوم یمنی عوام کی حمایت کی ہے۔مجلس وحدت مسلمین کا نعرہ ہی ظالم سے نفرت اور بیزاری اور مظلوم کی حمایت اور داد رسی ہے چاہے ظالم شیعہ ہی کیوں نہ ہو اور مظلوم غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ نیئر عباس مصطفوی نے وحدت ہاؤس میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ نواز لیگ مجلس وحدت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہے اور بے بنیاد الزامات کی آڑ میں مجلس وحدت کے رہنماؤں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہمارا احتجاج نواز حکومت اور اس کے ہمدرد جارح سعودی حکمرانوں کے خلاف تھا جنہوں نے یمن کے عوام پر چڑھائی کی ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے ہیں جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ، اس احتجاجی مظاہر ے میں کسی بھی مکتب فکر کو نہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور نہ ہی دل آزار نعرے ۔محض سنی سنائی باتوں پر انسداد دہشت گردی کے کے دفعات لگاکر ایف آئی آر درج کروانے کے پیچھے ایک سیاسی جماعت کا ہاتھ ہے جو مجلس وحدت کی سیاسی مقبولیت سے خوفزدہ اور پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے خوف زدہ ہوکر ہم مظلوموں کی حمایت اور ظالموں سے اظہار نفرت کبھی ترک نہیں کرینگے۔

وحدت نیوز (کراچی ) مجلس وحدت مسلمین کراچی کے سیکرٹری جنرل علامہ حسن ہاشمی نے یمن پر سعودی و اتحادی شیوخ اور آمر عرب حکمرانوں کے حکم پر کی جانے والی فوجی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس یکطرفہ اسلام دشمن اور انسانیت دشمن جنگ کا کوئی کھوکھلا سا جواز یا بہانہ بھی نہیں تھا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز جنگ زدہ یمنی عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے منائے جانے والے یوم دفاع امت مسلمہ کے ایک اجتماع سے خطاب میں کیا۔یوم دفاع امت مسلمہ کے حوالے سے کراچی جامع مساجد میں یمن کے مظلوم عوام پر عرب ممالک کے جارحیت کی مذمت کی گئی اور مظلوم یمنی عوام کے حق میں خصوصی دعائیں بھی کی گئی ۔حسن ہاشمی نے مزید کہا کہ عرب لیگ اور او آئی سی کے قیام کا مقصد عربوں کا اور مسلمانوں کا تحفظ تھا اور اس کا بنیادی ترین ہدف مقبوضہ فلسطین کی آزادی اور ایک ایسی فلسطینی ریاست کا قیام تھا جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔انہوں نے کہا کہ القدس اور مسجد اقصیٰ مقبوضہ یروشلم یعنی بیت المقدس شہر میں غاصب و ناجائز جعلی ریاست اسرائیل کے قبضے میں ہے اور غزہ کی جنگ میں فلسطینیوں کا قتل عام کرنے والی اسرائیلی افواج تھیں۔لیکن نہ تو عرب لیگ اور خلیج فارس کی عرب تعاون کاؤنسل (جی سی سی) کے ممالک نے اور نہ ہی او آئی سی نے عربوں یا مسلمانوں کی مشترکہ افواج بنائی۔حالانکہ فلسطینی خواتین اور بچوں نے عربوں کی غیرت کو للکارا کہ تم ہماری مدد کو کیوں نہیں آتے لیکن کسی عرب حکمران کے کان پر جوں نہ رینگی۔اب امریکا اور اسرائیل کے دوست عرب حکمرانوں نے مسئلہ فلسطین کے دفن کرکے نئے مسائل ایجاد کرنے کے لئے پورے مشرق وسطیٰ اور نزدیکی عرب ممالک میں امریکا و اسرائیل کی نیابتی جنگیں شروع کردی ہیں۔

 

 انہوں نے کہا کہ مکہ و مدینہ کے تاریخی قبرستانوں میں امہات المومنین (س)، آئمہ اہلبیت (ع) اور صحابہ کرام (رض) کے مزارات کو اسی خائن حرمین شریفین آل سعود کی حکومت نے مسمار کیا تھا اور مقامات مقدسہ کو خطرہ بھی انہی سے تھا نہ کہ یمن یا دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک سے۔انکا کہنا تھا کہ اسلام دشمن امریکی پٹھو آل سعود کی بادشاہت کے خاتمہ کے دن آگئے ہیں امت مسلمہ حرمین الشریفین کی جنگ کے نام پر دھوکہ نہیں کھائے گی، حرمین شریفین کا دفاع ہر مسلمان پر واجب ہے پرو پگینڈا کرنے والے آل سعود کی نمک خواری میں اس جنگ کو مسلکی رنگ دے رہے ہیں یمن میں حوثی قبائل کی مزاحمت کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی سازش کو پاکستان کے شیعہ و سنی عوام یکسر مسترد کرچکے ہیں۔ حوثی قبائل کو باغی کہناٹھیک نہیں کیونکہ وہ ریاست یمن کے باغی نہیں ۔ غیر ملکی مداخلت کے باغی ہیں اور یمن کے صدر، وزیر اعظم اور ان کی عبوری حکومت جنوری میں ہی مستعفی ہوچکی تھی۔ اس وقت یمنی فوج ، حوثی اور شافعی سنی مسلمانوں پر سعودی وہابی افواج بمباری کررہی ہے۔بمباری یمن پر ہورہی ہے نہ کہ سعودی اتحادی ممالک پر۔ میڈیا سعودی ریالوں پر زرد صحافت سے گریز کرے۔خود سعودی حمایت یافتہ صدر علی عبداللہ صالح بھی زیدی شیعہ تھا جسے حوثیوں نے اقتدار سے عوامی طاقت کے ذریعے نکال باہر کیا۔ ایم ڈبلیو ایم حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ یمن میں موجود ہم وطنوں کی وطن واپسی کی یقینی بنائیں اور پرائی جنگ میں نہ کودے ۔

وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان خواتین ونگ کے کوارڈینیٹر عظیمہ نے وحدت ہاؤس گلگت میں خواتین ونگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک صالح معاشرے کے قیام میں خواتین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اسلام نے معاشرے میں خواتین کو جو عزت اور مقام عطا کی وہ کسی اور مذہب و مکتب نے عطا نہیں کر سکے۔ آج مغربی خواتین اسلام سے متاثر ہو کر جوق درجوق رجوع کر رہی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے معاشرے نے خواتین کو وہ عزت و وقار نہیں دیا جو اسلام نے دیا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے پلیٹ فارم سے گلگت بلتستان میں خواتین کے حقوق کیلئے بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ہی ہیں جو ایک فعال اور متحرک معاشرے کیلئے افرادی قوت فراہم کرتی ہیں، خواتین اگر اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں کوتاہی نہیں کرینگی تو معاشرہ کبھی بیمار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی خواتین کو اپنے حقوق کیلئے آگے آنا ہوگا اور ہم مجلس وحدت مسلمین کے پلیٹ فارم سے عنقریب خواتین کے حقوق کیلئے بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔

 

انہوں نے نام نہاد این جی اوز کی جانب سے حقوق نسواں کے نام پر بدترین استحصال کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نام نہاد ادارے علاقے میں مغربی سوچ اور تہذیب کو پروان چڑھانے کی سازشوں میں مصروف عمل ہیں جن کا مقابلہ اسلامی تہذیب و ثقافت کے زیور سے آراستہ خواتین ہی کر سکتی ہیں۔ انہوں نے ماروی میمن کے حالیہ دورے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نواز کی جانب سے ہمیں کسی بھیک کی ضرورت نہیں اور ماروی میمن الیکشن سے قبل علاقے کی غربت کا فائدہ اٹھا کر جھوٹے وعدوں سے الیکشن چرانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلسِ وحدت مسلمین شعبہ خواتین کراچی ڈویژن رضویہ یونٹ کی جانب سے  ''سعودی بمباری اور مظالم کا شکار '''یمن کی نہتی مظلوم عوام ''' کے حق میں اور دوشمن کے نیست و نابودی کے لیے '' دعائے جوشنِ صغیر'' کا اہتمام ، رضویہ امام بارگاہ '' شاہِ کربلا'' میں، ''جنت البقیع'' کے سامنے، صحنِ امام بارگاہ میں دعا کی قبولیت و باریابی کے لیے کھلے آسمان تلے کیا گیا. جسمیں علاقے کے علاوہ اور دوسرے یونٹز کی خواتین نے بھی بچوں کے ساتھ شرکت کی. دعائیہ پروگرام کا باقائدہ آغاز تلاوت حدیثِ کساء سے '' خواہر زرین'' نے کیا. پھر '' خواہر رجاء'' نے ''بارگاہ امامِ وقت،[ع] '' میں نذرانہ منقبت پیش کیا. جس کے بعد '' محترمہ خواہر سیما'' نے بارگاہِ خداوندی میں باقائدہ طور پہ دعا کا آغاز ''دعائے سلامتئ امام زمانہ[ع]'' سے کیا اور پھر '' دعاے جوشنِ صغیر'' کی تلاوت فرمائی. دورانِ دعا '' مصائبِ محمدﷺ وآلِ محمدﷺ'' بھی جاری رہیے.اور مسلسل ''مظلومینِ یمن'' کے لیے ، '''سعودی بربریت و ظلم و ستم'' سے نجات کے لیے گریہ و ذاری کے ساتھ ''فتح و کامیابی و کامرانی'' کی دعا جاری رکھی گئ.پروگرام کا اختتام  ''دعائے تعجیل امامِ زمانہ[ع] اور دعائے فرج'' سے کیا گیا.جسکے بعد شرکاء  میں تبرک تقسیم کیا گیا

وحدت نیوز (بغداد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ نجف اشرف کے وفد نےحزب الدعوة الاسلامیہ کے  موسسئہ البلاغ والارشاد الاسلامی کی دعوت پر الحفلہ للدعم الحشد الشعبی کے عنوان سے بغدادمیں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی، جس میں عراق کے وزیر أعظم ڈاکٹر حیدر العبادی کے علاوہ وزیر داخلہ اور دوسرے وزراء سمیت شیعہ اور سنی علما کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی.اس کانفرنس میں مقام معظم رہبری کے نمائندہ عراق حضرت آیت الله الشیخ محمد مہدی آ صفی نے خصوصی شرکت اور خطاب کیا،اس کے علاوہ حزب الدعوة الاسلامیہ کے سینیر عہدہ دران اور اور دوسرے سیاستدانوں نے بھی شرکت کی،مجلس وحدت مسلمین کے وفد کی سربراہی سیکرٹری جنرل حجتہ الاسلام و المسلمین علامہ الشیخ ناصر عباس النجفی صاحب نے کی،اس وفد میں سیکرٹری جنرل کے علاوہ سابق سیکرٹری جنرل حجتہ الاسلام والمسلمین علامہ السید مھدی رضوی صاحب،ڈپٹی سیکرٹری جنرل حجتہ الاسلام و المسلمین الشیخ ارشد علی خان الجعفری النجفی صاحب اور سیکرٹری نشر واشاعت حجتہ الاسلام و المسلمین علامہ عبد الحفیظ واعظی صاحب شامل تھے، ایم ڈبلیوایم کےوفد نےکانفرنس کے اختتام پر نمائندہ ولی فقہی عراق آ یت الله الشیخ محمد مھدی آ صفی صاحب سے خصوصی ملاقات کی

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree